مکہ مکرمہ میں بلند و بالا بلڈنگیں
مکہ مکرمہ میں بلند و بالا بلڈنگیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درو میں مکہ مکرمہ کے باشندگان کی تعداد بہت تھوڑی تھی، اور یہاں پر عمارتیں بھی کم تھیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس کے پہاڑوں پر بلند و بالا عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔
ابن ابی شیبہ نے اپنی سند سے یعلی بن عطا ء سے نقل کیا ہے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں :
’’ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو کی سواری کی لگام پکڑے ہوئے تھا۔ تو آپ نے فرمایا:
اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم اس گھر کو گرادو گے اور اس کے کسی پتھر پر کوئی پتھر باقی نہیں چھوڑو گے؟ میں نے کہا :اورکیا اس وقت ہم اسلام پر ہوں گے ؟ فرمایا: ہاں ، آپ اسلام پر ہوں گے۔ میں نے کہا تو پھر کیا ہوگا ؟ فرمایا : پھر پہلے سے خوبصورت تعمیر کی جائے گی۔ جب تم دیکھو کہ مکہ میں زیر زمین گڑھے کھودے جائیں ( سرنگیں لگائی جائیں ) اورمکہ کے پہاڑوں پر بلند وبالا عمارتیں تعمیر ہوں ، توسمجھ لو کہ قیامت تمہارے سر پر سایہ کیے ہوئے ہے ۔‘‘[1] (مصنف ابن ابی شیبہ)