مسیح دجال کا ظہور
مسیح دجال کا ظہور
قیامت کی بڑی نشانیاں
کچھ اس باب کے بارے میں
قیامت کی چھوٹی اور بڑی نشانیوں کی تقسیم کے بارے میں پہلے گزر چکا۔ اورہم نے قیامت کی ایک سو اکتیس چھوٹی نشانیاں بیان کردی ہیں ۔ اب معاملہ صرف بڑی نشانیوں کے بیان کاہے جو کہ قیامت کے قائم ہونے سے کچھ ہی پہلے پیش آئیں گی۔ قیامت کی بڑی نشانیاں ایسے پے درپے واقع ہوں گی جیسے ہار کے موتی۔ جیسے ہی ان میں سے ایک نشانی گزرے گی فوراً دوسری نشانی ظاہر ہوجائے گی۔ ان میں سے پہلی نشانی امام مہدی کا خروج ہے، اور باقی نشانیاں اس کے فوراً بعد پیش آئیں گی۔
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’قیامت کی نشانیاں لڑی میں پروئے ہوئے دانوں کی طرح ہوں گی، جب لڑی ٹوٹ جائے تو ایک کے پیچھے دوسرا (دانہ گرتا ) جاتا ہے۔‘‘ (مسند احمد)
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’قیامت کی نشانیاں ایک کے بعد دوسری ایسے ظاہر ہوں گی جیسے موتی لڑی میں ہوتے ہیں ۔‘‘ (طبرانی)
اس بات میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ قیامت کی بعض بڑی نشانیاں چھوٹی نشانیوں کے ساتھ مل جائیں ۔ مثال کے طور پر امام مہدی کا ظہور ہو، پھر کئی ایک چھوٹی نشانیاں پیش آئیں اور ان کے بعد دجال کا خروج ہو، ایسے بھی ہوسکتا ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔
مسیح دجال کا ظہور
کچھ اس باب کے متعلق
اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور جسے چاہتاہے قیامت کی نشانی کے طو ر پر اختیار کرتا ہے ؛ جو کہ قیامت کے عنقریب واقع ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ان ہی نشانیوں میں سے ایک مسیح دجال ہے۔ دجال سے متعلقہ چند سوال اور پھر ان کے مفصل جوابات درج ذیل ہیں :
٭ مسیح دجال کون ہے ؟
٭ کیا وہ آج کے دن موجود ہے ؟
٭ کیا اس سے پہلے کسی نے اسے دیکھا ہے ؟
٭ اس دجال کی علامات کیا ہیں ؟
٭ اس کے خروج کے اسباب کیا ہوں گے ؟
٭ وہ کون سی چیز ہے جو اسے غصہ دلائے گی ؟
٭ دجال کے متعلق غلط عقائد کیا کیا ہیں ؟
دجال کون ہے ؟
یہ بنی آدم میں سے ایک انسان ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسی قدرات عطا کی ہیں جو اس کے علاوہ کسی اور بشر کو حاصل نہیں ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے اسے یہ قدرت لوگوں کے امتحان اورآزمائش کے لیے دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گمراہی میں اس کے پیروکاروں سے خبردار کیا، اور ہمیں اس کی اخلاقی اورپیدائشی صفات سے آگاہ کیا ہے۔
اب دجال کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں
کسی چیز کے بارے میں علم ہوجانا اس کے متعلق جہالت سے زیادہ بہتر ہے۔ سیّدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے بارے میں اس لیے دریافت فرمایا کرتے تھے کہ ’’کہیں وہ شر میں واقع نہ ہوجائیں ۔ ‘‘ (بخاری)
دجال چونکہ سب سے بڑا فتنہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے اپنی امت پر خوف محسو س ہورہا تھا، اس لیے آپ نے اس سے آگاہ کیا، اس کا خوف دلایا اور اس سے ڈرایا۔ اس لیے کہ دجال کے ساتھ بہت سارے فتنے اور شبہات ہوں گے اور اس کے ساتھ ہی دجال یہ دعویٰ بھی کرے گا کہ وہ تمام جہانوں کا رب ہے۔ جب ہمیں دجال کی صفات اور اس سے بچنے کے طریقے معلوم ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے شر سے محفوظ رکھے گا۔
المسیح الدجال نام کی وجہ
اس کا نام مسیح اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس کی ایک بائیں آنکھ مسح شدہ ( کانی ) ہے۔ وہ کانا ہے، صرف ایک ہی آنکھ سے دیکھ سکتا ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ دجال کانا م (المِسِّیح )ہے، اور اسے (المِسِّیخ ) بھی کہا گیا ہے ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے مسیح اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ ساری زمین کامسح کرے گا، او رپوری روئے ارض پر گھومے گا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے چہرے کا ایک پہلو جس میں آنکھ ہے ، نہ ہی پلکیں اور بھنویں ۔
اس کا نام دجال اس وجہ سے رکھا گیا ہے کہ یہ مکار ؛ حقیقت کو چھپانے والا ہوگا۔ دجل سے مراد بڑا جھوٹ ہے۔ یہ بہت بڑا دجال اور جھوٹا مکار ہوگا۔
دجال کی جمع دجالون اور دجاجلہ آتی ہے۔
دجال کس چیز کا دعویٰ کرے گا
دجال دعویٰ کرے گا کہ وہ تمام جہانوں کا رب ہے اورلوگوں کو اس دعویٰ پر ایمان لانے کا کہے گا۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ بے شک دجال کانا ہے، اور تمہار ار ب کانا نہیں ہے ۔‘‘ (بخاری) اس کی تفصیل آگے آئے گی۔
اور اس کے ساتھ بہت سارے شبہات اور فتنے ہوں گے جن کی وجہ سے لوگوں کو گمراہ کرے گا۔
ابن صیاد کا قصہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ منورہ میں ایک یہودی لڑکا رہتا تھا، جس کا نام ابن صیاد تھا، اس کا معاملہ مشتبہ ہوگیا، اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شک ہوا کہ کہیں یہی دجال نہ ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کا ایک واقع بھی پیش آیا جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے :
سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جماعت میں ابن صیاد کی طرف نکلے ؛یہاں تک کہ اسے بنی مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا۔ ابن صیاد ان دنوں قریب البلوغ تھا (یعنی اس کی عمر تقریباً پندرہ سال ہونے کو تھی) اور اسے کچھ معلوم نہ ہو سکا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی کمر پر ضرب لگائی؛ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا :کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟
ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھ کر کہا:’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امیوں کے رسول ہیں ۔ ‘‘
پھر ابن صیاد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا : میں ایمان لایا اللہ پر اس کے رسولوں پر۔
پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو کیا دیکھتا ہے ؟
ابن صیاد نے کہا : میرے پاس سچا بھی آتا ہے اور جھوٹا بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تجھ پر اصل معاملہ تو پھر مشتبہ ہوگیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں نے تجھ سے پوچھنے کے لیے ایک بات چھپائی ہوئی ہے؟ تو ابن صیاد نے کہا: وہ دخ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: دور ہو تو اپنے اندازہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔
پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :مجھے اجازت دیں اے اللہ کے رسول! میں اس کی گردن مار دوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر یہ وہی ہے تو تم اس پر مسلط نہ ہو سکو گے اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اس کے قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے۔‘‘ (مسلم)
سیّدنا سالم بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا :
’’اس واقعہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جناب ابی بن کعب انصاریٰ رضی اللہ عنہ اس باغ کی طرف چلے جس میں ابن صیاد تھا۔ یہاں تک کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ میں داخل ہوئے تو کھجوروں کے تنوں میں چھپنے لگے؛ تاکہ ابن صیاد کے دیکھنے سے پہلے اس کی کچھ گفتگو سن سکیں ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ : وہ اپنی ایک چادر میں لپٹا لیٹا ہوا ہے ؛اور کچھ گنگنا رہا ہے۔ پس ابن صیاد کی والدہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے تنوں کی آڑ میں چھپتے ہوئے دیکھ لیا تو اس نے ابن صیاد سے کہا :اے صاف ! یہ ابن صیاد کا نام تھا ؛یہ محمد ہیں تو ابن صیاد فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو وہ کچھ بیان کر دیتا۔‘‘ (مسلم)
سیّدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ کے راستوں میں سے کسی راستہ میں ابن صیاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جناب ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا:
’’کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟
اس نے کہا : کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایمان لایا اللہ پر اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو نے کیا دیکھا؟
اس نے کہا : میں نے پانی پر تخت دیکھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھا ہے۔اور کیا دیکھا ؟
اس نے کہا : میں نے دو سچوں اور ایک جھوٹے یا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو دیکھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس پر اس کا معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے، اس لیے اسے چھوڑ دو۔‘‘ (مسلم)
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
’’ہم حج یا عمرہ کرنے کی غرض سے چلے اور ابن صیاد ہمارے ساتھ تھا۔ ہم ایک جگہ اترے تو لوگ منتشر ہو گئے میں اور وہ باقی رہ گئے۔ اور مجھے اس سے سخت وحشت و خوف آیا ؛جو اس کے بارے میں کہا جاتا تھا۔ اور اس نے اپنا سامان لا کر میرے سامان کے ساتھ رکھ دیا۔ تو میں نے کہا گرمی سخت ہے ؛اگر تو اپنا سامان درخت کے نیچے رکھ دے تو بہتر ہے، پس اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر ہمیں کچھ بکریاں دکھائی دیں ۔ وہ گیا اور ایک بھرا ہو پیالہ لے آیا۔ اور کہنے لگا: اے ابوسعید! پیو۔ میں نے کہا : گرمی بہت سخت ہے اور دودھ بھی گرم ہے۔دودھ کے ناپسند کرنے کے سوائے اس کے ہاتھ سے بچنے کی اور کوئی بات نہ تھی؛ یا کہا اس کے ہاتھ سے لینا ہی ناپسند تھا۔
تو اس نے کہا :اے ابوسعید !میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک رسی لے کر درخت کے ساتھ لٹکاؤں ، پھر اپنا گلا گھونٹ لوں اس وجہ سے جو میرے بارے میں لوگ باتیں کرتے ہیں ۔
اے ابوسعید !جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مخفی ہے ان کی تو الگ بات ہے۔ اے انصار! کی جماعت تجھ پر تو پوشیدہ نہیں ہے کیا تو لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ کی حدیث کو جاننے والا نہیں ۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دجال کافر ہوگا‘‘ اور میں مسلمان ہوں ۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا :وہ بانجھ ہوگا کہ اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی۔ حالانکہ میں اپنی اولاد مدینہ میں چھوڑ کر آیا ہوں ۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ وہ مدینہ اور مکہ میں داخل نہ ہوگا۔ حالانکہ میں مدینہ سے آرہا ہوں اور مکہ کا ارادہ ہے۔ ‘‘
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: قریب تھا کہ میں اس کے عذر قبول کر لیتا۔
پھر اس نے کہا :اللہ کی قسم! میں اسے پہچانتا ہوں اور اس کی جائے پیدائش سے بھی واقف ہوں ۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔
میں نے اس سے کہا: تیرے لیے سارے دن کی ہلاکت و بربادی ہو۔‘‘ (مسلم)
اہل علم کا صحیح قول…بے شک یہ ابن صیاد وہ دجال یعنی مسیح دجال نہیں ہے، مگر یہ دوسرے مکار دجالوں کے ضمن میں ایک دجال ہے۔ اس کے پاس کہانت اورشیطان تھے جن کی وجہ سے وہ مختلف باتوں کی خبریں دیا کرتاتھا۔اس کی آخری زندگی میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور دوسرے لوگوں کے ساتھ کچھ واقعات پیش آئے ہیں ۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے توبہ کرلی تھی اور اپنی اصلاح کرلی تھی۔ واللہ اعلم
قرآن میں دجال کا ذکر نہ ہونے کی حکمت
دجال ہی وہ سب سے بڑا فتنہ تھا جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کا خوف رکھتے تھے۔اسی لیے تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی امتوں کو اس سے ڈرایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ہر نمازکے آخر میں دجال کے فتنہ سے پناہ مانگا کریں ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قیامت کی کئی ایک چھوٹی بڑی نشانیاں بیان کی ہیں ، جیسے کہ سورج کا دو ٹکڑے ہونا :
’’قیامت قریب آگئی ہے، اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا ہے۔‘‘ (القمر: ۱)
اورایسے ہی یاجوج ماجوج کا ذکر بھی قرآن میں آیا ہے؛ فرمان ِالٰہی ہے:
’’جب تک یا جوج ماجوج (ذوالقرنین کی روک سے)کھول دیئے جائیں (یعنی قیامت قائم ہو)حرام (ناممکن )ہے اوروہ چڑھاؤ سے دوڑ پڑیں گے۔‘‘ (الانبیاء: ۹۶)
ان کے علاوہ دیگر بھی کئی نشانیاں بیان ہوئی ہیں ، مگر اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ نام لے کر دجال کا ذکر قرآن میں نہیں کیا۔ اس میں کیا حکمت ہے ؟
اس میں کئي باتیں ہیں ، پہلی بات کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں اس کا ذکر کیا ہے، فرمان الٰہی ہے:
’’جس دن تیرے مالک کی کچھ نشانیاں آجائیں گی تو جو شخص اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو۔‘‘(الانعام: ۱۵۸)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ تین چیزیں نکلنے کے بعد کسی کا ایمان لانا اس کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا۔ دجال، دابۃ الارض اور مغرب کی جانب سے سورج کا طلوع ہونا۔‘‘ (یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
’’اور کوئی کتاب والا ایسا نہیں جوان کے مرنے سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘ (النساء: ۱۵۹)
نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’اور جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ مسیح) کاحال بیان کیاگیا تو تیری قوم کے لوگ (خوشی سے) چلاّ اٹھے۔ اورکہنے لگے کیاہمارے دیوتا اچھے ہیں یا عیسیٰ یہ بات انھوں نے صرف جھگڑے کے لیے تجھ سے بیان کی بات یہ ہے کہ وہ بڑے جھگڑا لو لوگ ہیں ۔ عیسیٰ تو ہمارا ایک بندہ تھا جس پر ہم نے (اپنا فضل کیا تھا اورکچھ نہیں اوربنی اسرائیل کے لیے ا س کو ہم نے (اپنی قدرت کا) ایک نمونہ بنایا تھا۔ اوراگر ہم چاہیں تو تم میں سے فرشتے پیدا کردیں جو زمین میں تمھاری جگہ رہیں ۔ اور بے شک عیسیٰ (کا اترنا) قیامت کی ایک نشانی ہے تو(اے پیغمبر لوگوں سے)کہہ دیجیے تم قیامت میں شک مت کرو … ‘‘ (الزخرف: ۵۷-۶۱)
یہ بات صحیح احادیث میں ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے؛ تو اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر دجال کے ذکر کو متضمن ہے۔
دجال کے قیامت کی نشانی ہونے پر دلالت کرنے والی احادیث
سیّدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’قیامت ہرگز قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم اس سے پہلے دس علامات دیکھ لوگے:
۱۔ دھواں
۲۔دجال
۳۔ دابۃ الارض (چوپایہ )
۴۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔‘‘ (مسلم)
(مسلم)ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ تین نشانیاں ایسی ہیں ، جب ظاہر ہوجائیں گی تو کسی ایسے نفس کو ایمان لانا فائدہ نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا، یا ایمان میں کوئی بھلائی کا کام نہیں کیا۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال اور دابۃ الارض ۔‘‘ (مسلم)
روئے زمین کا سب سے بڑا فتنہ دجال ہے
سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ حضرت آدم کی پیدائش سے لے کر قیامت تک پیدا ہونے والی کوئی بھی مخلوق دجال سے بڑی نہیں ہے۔‘‘ (مسلم)
سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے بعد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے مجمع میں کھڑے ہو کر سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف و تو صیف کی اور پھر دجال کا تذکرہ کرکے فرمایا:
’’میں تمہیں دجال سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے؛ لیکن میں ایسی بات بھی بتائے دیتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی سنو وہ بات یہ ہے کہ دجال کانا ہوگا اور اللہ تعالیٰ یک چشمی نہیں ہے۔‘‘ (مسلم)
سیّدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میں تمہارے بارے میں دجال کے علاوہ دوسرے فتنوں کا زیادہ خوف کرتا ہوں اگر وہ میری موجودگی میں ظاہر ہوگیا تو تمہارے بجائے میں اس کا مقابلہ کروں گا اور اگر میری غیر موجودگی میں ظاہر ہوا تو ہر شخص خود اس سے مقابلہ کرنے والا ہوگا اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ اور نگہبان ہوگا ۔‘‘ (مسلم)
دجال کے خروج سے پہلے کے واقعات
سیّدنا نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’تم جزیرۂ عرب میں جہاد کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں فتح عطا فرمائے گا، پھر تم اہل فارس سے جنگ کرو گے ان پر بھی اللہ تمہیں فتح عطا فرمائیں گے، پھر تم روم سے جہاد کرو گے اور اللہ تعالیٰ اس پر بھی تمہیں فتح عطا فرمائیں گے، پھر تم دجال سے جنگ کرو گے اس پر بھی اللہ تمہیں فتح عطا کریں گے۔‘‘ (مسلم)
یعنی اس جگہ جہاں دجال ہے اوران لوگوں سے جو دجال کے ساتھ ہیں ۔ سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’بیت المقدس کی آبادی مدینہ کی تخریب کا سبب ہے؛ اورمدینہ کی تخریب جنگ وجدال کا سبب ہے۔ اورجنگ وجدال قسطنطنیہ کی فتح کا سبب ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کے نکلنے کا سبب ہے۔‘‘ (ابو داؤد)
دجال کے نکلنے سے پہلے مسلمانوں اور رومی عیسائیوں کے مابین بہت سخت جنگیں ہوں گی جن میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوگی۔ حضرت ذی مخبر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’تم لوگ عنقریب اہل روم سے معاہدہ صلح کرو گے امن کا، پھر تم اور وہ مل کر اپنے پیچھے سے آنے والے دشمن سے جنگ کروگے، پس تمہاری مدد کی جائے گی۔ اور تمہیں مال غنیمت ملے گا ، تم سلامتی کے ساتھ واپس لوٹ آ گے یہاں تک کہ تم ٹیلے والی چراگاہ میں اترو گے تو ایک نصرانی شخص صلیب اٹھائے گا اور کہے گا کہ صلیب غالب آگئی تو مسلمانوں میں سے ایک شخص غضبناک ہو کر اسے مارے گا اس وقت غداری کریں گے اہل روم اور جنگ کے لیے جمع ہوجائیں گے۔‘‘ (ابو داؤد)
بعض روایات میں یہ الفاظ زیادہ ہیں : ’’ پھر مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف دوڑیں گے اور لڑائی کریں گے تو اللہ تعالیٰ شہادت عطا فرما کر بزرگی اور عزت دے گا۔‘‘ (ابو داؤد)
دوسری حدیث میں اس جگہ کی تفصیل ہے
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ رومی اعماق یا دابق میں اتریں ۔ ان کی طرف ان سے لڑنے کے لیے ایک لشکر مدینہ روانہ ہوگا ؛اور وہ ان دنوں زمین والوں میں سے نیک لوگ ہوں گے۔ جب وہ صف بندی کریں گے تو رومی کہیں گے کہ تم ہمارے اور ان کے درمیان دخل اندازی نہ کرو؛ جنہوں نے ہم میں سے کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا ہے ہم ان سے لڑیں گے۔‘‘ (یہ جملہ مسلمانوں اور رومیوں کے مابین ان سابقہ جنگوں کے پیش آنے پرجن میں مسلمانوں کو عیسائیوں پر فتح ہوگی، وہ ان کے لوگوں کو قیدی بنائیں گیاور وہ قیدی اسلام قبول کرکے جہاد کرتے ہوئے میدان میں آئیں گے)
مسلمان کہیں گے : نہیں ؛اللہ کی قسم !ہم اپنے بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے کہ تم ان سے لڑتے رہو۔
بالآخر وہ ان سے لڑائی کریں گے؛ بالآخر ایک تہائی مسلمان بھاگ جائیں گے ؛جن کی اللہ کبھی بھی توبہ قبول نہیں کرے گا۔ اور ایک تہائی قتل کیے جائیں گے؛ جو اللہ کے نزدیک افضل الشہدا ء ہوں گے اور ایک تہائی فتح حاصل کرلیں گے، انہیں کبھی آزمائش میں نہ ڈالا جائے گا، پس وہ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے، جس وقت وہ آپس میں مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے اور ان کی تلواریں زیتون کے درختوں کے ساتھ لٹکی ہوئی ہوں گی ؛ تو اچانک شیطان چیخ کر کہے گا : تحقیق مسیح دجال تمہارے بال بچوں تک پہنچ چکا ہے۔ وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوں گے: لیکن یہ خبر باطل ہوگی۔ جب وہ شام پہنچیں گے تو اس وقت دجال نکلے گا۔‘‘[1]
دجال سے پہلے کے دوسرے واقعات
سیّدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’دجال کے نکلنے سے تین برس پہلے قحط ہوگا۔ ان تینوں سالوں میں لوگ بھوک سے سخت تکلیف اٹھائیں گے۔ پہلے سال میں اللہ تعالیٰ یہ حکم کرے گا آسمان کو کہ دو تہائی بارش روک لے ؛اور زمین کو یہ حکم کرے گا تہائی پیداوار روک لے۔ پھردوسرے سال میں اللہ تعالیٰ آسمان کو یہ حکم کرے گا کہ: دو تہائی بارش کو روک لے اور زمین کو حکم دیا گا دو تہائی پیداوار روک لے۔ پھرتیسرے سال میں اللہ تعالیٰ آسمان کو یہ حکم کرے گا کہ بالکل پانی نہ برسائے ایک قطرہ بارش نہ ہوگی اور زمین کو یہ حکم ہوگا کہ ایک دانہ نہ اگائے ۔پھر گھاس تک نہ اگے گی نہ کوئی سبزی۔ آخر گھر والا جانور (جیسے گائے بکری) تک کوئی بھی باقی نہ رہے گا، سب مرجائیں گے مگر جو اللہ چاہے ۔‘‘
لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ !پھر لوگ کیسے جئیں گے اس زمانہ میں ؟ آپ نے فرمایا: جو لوگ لا اِلہ اِلا اللّٰہ اور اللّٰہ اکبر اور سبحان اللّٰہ اور الحمد لِلّٰہِ کہیں گے ان کو کھانے کی حاجت نہ رہے گی ؛یہ تسبیح اور تہلیل کھانے کے قائم مقام ہوگی۔‘‘ (ابن ماجہ)
دجال کے نکلنے سے پہلے کیا ہوگا؟
حضرت راشد بن سعد کہتے ہیں :’’ جب اصطخرفتح ہوا تو ایک منادی نے آواز لگائی : خبردار دجال نکل چکاہے۔ پس پھر صعب بن جثامہ انہیں ملے، اور فرمایا: اگر تمہاری باتوں کا اندیشہ نہ ہو تو میں تمہیں خبر دو ں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے : ’’دجال اس وقت تک نہیں نکلے گا یہاں تک کہ لوگ اس کا ذکر کرنا بھی بھول جائیں گے۔ اوریہاں تک کہ ائمہ منبروں پر اس کا تذکرہ کرنا چھوڑ دیں گے ۔‘‘
دجال کی پیدائشی صفات
٭ چھوٹے قدکا پھیلی ہوئی ٹانگوں والا ہو گا۔ (پنڈلیوں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کے چلنے میں عیب ہوگا)
٭ اکڑے ہوئے بالوں والا ہوگا، اس کے بالوں میں نرمی نہیں ہوگی۔
٭ ایک آنکھ انگور کے دانے کی طرح ابھری ہوئی ہوگی اور بائیں آنکھ کانی ہوگی۔
٭ سفید رنگ ہوگا۔
٭ پیشانی چوڑی ہوگی۔
٭ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا؛ جسے ہر لکھا پڑھا اور ان پڑھ مومن پڑھ لے گا۔
٭ وہ بانجھ ہوگا؛ اس کی اولاد نہیں ہوگی۔
امکانی طور پر اس کاوصف یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ اس کا قد چھوٹا ہوگا، بڑی جسامت ہوگی؛ سر بھی کافی بڑا ہوگا، اس کی دونوں آنکھوں میں عیب ہوگا۔ دائیں آنکھ پھولی ہوئی ہوگی جیسے انگور کا دانہ، اور بائیں آنکھ پر چمڑی لٹک رہی ہوگی یعنی کانا ہوگا۔اس کے بال سخت، گھنے اور گھنگھریالے ہوں گے، چمڑی سفید ہوگی، دونوں پنڈلیوں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہوگا اور دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا۔
دجال کے خروج کی جگہ
سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا :
’’دجال مشرق کے ایک علاقہ سے نکلے گا جس کا نام ’’خراسان‘‘ ہے۔ اس کے ساتھ ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے گویا تہہ بہ تہہ ڈھالیں ہیں ، یعنی چپٹے اور پرگوشت۔‘‘ (ابن ماجہ)
اس کے ظاہر ہونے کا سب سے پہلے اعلان شام اور عراق کے درمیان ہوگا۔
سیّدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے متعلق فرمایا:
’’ بے شک وہ عراق اور شام کے درمیانی علاقہ میں نکلے گا۔‘‘ (مسلم )
جسّاسہ اور دجال کا قصہ
جناب عامر بن شراحیل شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے کہا، مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کرو، جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، اور اس کی نسبت کسی اور کی طرف نہ ہو، فرمانے لگیں : اگر تم چاہتے ہو تو میں ایسا ضرور کروں گی۔ انہوں نے کہا : بہت خوب، مجھ سے حدیث بیان کرو۔ تو سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ندا دینے والے کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا :نماز کی جماعت ہونے والی ہے۔ پس میں مسجد کی طرف نکلی ؛اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی۔ اس حال میں کہ میں عورتوں کی اس صف میں تھی جو مردوں کی پشتوں سے ملی ہوئی تھی۔‘‘ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو مسکراتے ہوئے منبر پر تشریف فرما ہوئے تو فرمایا:
’’ ہر آدمی اپنی نماز کی جگہ پر ہی بیٹھا رہے ؛ پھر فرمایا کیا : تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کیوں جمع کیا ہے؟‘‘
صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم! میں نے تمہیں کسی بات کی ترغیب یا اللہ سے ڈرانے کے لیے جمع نہیں کیا ؛میں نے تمہیں صرف اس لیے جمع کیا ہے کہ تمیم داری نصرانی آدمی تھے؛ پس وہ آئے اور اسلام پر بیعت کی اور مسلمان ہو گئے؛ اور مجھے ایک بات بتائی جو اس خبر کے موافق ہے جو میں تمہیں دجال کے بارے میں پہلے ہی بتا چکا ہوں ۔ چنانچہ انہوں نے مجھے خبر دی کہ وہ بنو لخم اور بنو جذام کے تیس آدمیوں کے ساتھ ایک بحری کشتی میں سوار ہوئے، پس انہیں ایک ماہ تک بحری موجیں دھکیلتی رہیں ؛ پھر وہ سمندر میں ایک جزیرہ کی طرف پہنچے؛ یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ؛ تو وہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ کے اندر داخل ہوئے؛ تو انہیں وہاں ایک جانور ملا جو موٹے اور گھنے بالوں والا تھا۔ بالوں کی کثرت کی وجہ سے اس کا اگلا اور پچھلا حصہ وہ نہ پہچان سکے۔
تو انہوں نے کہا : تیرے لیے ہلاکت ہو تو کون ہے؟
اس نے کہا:میں جساسہ ہوں ۔ انہوں نے کہا : جساسہ کیا بلا ہے ؟ تو اس نے کہا :
اے قوم! اس آدمی کی طرف گرجے میں چلو ؛کیوں کہ وہ تمہاری خبر کے بارے میں بہت شوق رکھتا ہے، پس جب اس نے ہمارا نام لیا تو ہم گھبرا گئے؛ کہ وہ کہیں جن ہی نہ ہو ؛پس ہم جلدی جلدی چلے یہاں تک کہ گرجے میں داخل ہوگئے؛ وہاں ایک بہت بڑا انسان تھا کہ اس سے پہلے ہم نے اتنا بڑا آدمی اتنی سختی کے ساتھ بندھا ہوا کہیں نہ دیکھا تھا۔ اس کے دونوں ہاتھوں کو گردن کے ساتھ باندھا ہوا تھا؛ اور گھٹنوں سے ٹخنوں تک لوہے کی زنجیروں سے جکڑا ہوا تھا۔
ہم نے کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو تو کون ہے ؟ اس نے کہا :تم میری خبر معلوم کرنے پر قادر ہو ہی گئے ہو تو تم ہی بتا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا :ہم عرب کے لوگ ہیں ؛ہم دریائی جہاز میں سوار ہوئے ؛پس جب ہم سوار ہوئے تو سمندر کو جوش میں پایا ؛پس موجیں ایک مہینہ تک ہم سے کھیلتی رہیں ؛ پھر ہمیں تمہارے اس جزیرہ تک پہنچا دیا؛ پس ہم چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں سوار ہوئے اور جزیرہ کے اندر داخل ہو گئے؛ تو ہمیں بہت موٹے اور گھنے بالوں والا جانور ملا؛ جس کے بالوں کی کثرت کی وجہ سے اس کا اگلا اور پچھلا حصہ پہچانا نہ جاتا تھا۔
ہم نے کہا :تیرے لیے ہلاکت ہو تو کون ہے ؟ اس نے کہا: میں جساسہ ہوں ۔
ہم نے کہا: جساسہ کیا ہوتا ہے ؟ اس نے کہا :گرجے میں اس آدمی کا قصد کرو ؛کیوں کہ وہ تمہاری خبر کا بہت شوق رکھتا ہے ؛پس ہم تیری طرف جلدی سے چلے؛ اور ہم گھبرائے اور اس سے پر امن نہ تھے کہ وہ جن ہو۔
اس نے کہا: مجھے بیسان کے باغ کے بارے میں خبر دو ؟
ہم نے کہا :اس کی کس چیز کے بارے میں تم خبر معلوم کرنا چاہتے ہو؟
اس نے کہا: میں اس کی کھجوروں کے پھل کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں ؟
ہم نے اس سے کہا: ہاں پھل آتا ہے۔
اس نے کہا: عنقریب یہ زمانہ آنے والا ہے کہ وہ درخت پھل نہ دیں گے۔
اس نے کہا :مجھے بحیرہ طبریہ کے بارے میں خبر دو؟
ہم نے کہا: اس کی کس چیز کے بارے میں تم خبر معلوم کرنا چاہتے ہو ؟
اس نے کہا: کیا اس میں پانی ہے ؟
ہم نے کہا : اس میں پانی کثرت کے ساتھ موجود ہے ؟
اس نے کہا: عنقریب اس کا سارا پانی ختم ہو جائے گا۔
اس نے کہا : مجھے زغر کے چشمہ کے بارے میں بتا ؤ ؟
ہم نے کہا: اس کی کس چیز کے بارے میں تم معلوم کرنا چاہتے ہو ؟
اس نے کہا : کیا اس چشمہ میں پانی ہے اور وہاں کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں ؟
ہم نے کہا : ہاں یہ کثیر پانی والا ہے اور وہاں کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں ۔
پھر اس نے کہا: مجھے امیوں کے نبی کے بارے میں خبر دو کہ اس نے کیا کیا ؟
ہم نے کہا: وہ مکہ سے نکلے اور یثرب یعنی مدینہ میں اترے ہیں ۔
اس نے کہا :کیا اس نے اہل عرب کے ساتھ جنگ کی ہے ؟
ہم نے کہا : ہاں ۔
اس نے کہا: اس نے عربوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
ہم نے اسے خبر دی کہ: وہ اپنے ملحقہ حدود کے عرب پر غالب آگئے ہیں اور انہوں نے اس کی اطاعت کی ہے۔ اس نے کہا: کیا ایسا ہو چکا ہے ؟
ہم نے کہا: ہاں ؟
اس نے کہا :ان کے حق میں یہ بات بہتر ہے کہ وہ اس کے تابعدار ہو جائیں ۔ اور میں تمہیں اپنے بارے میں خبر دیتا ہوں کہ : میں مسیح دجال ہوں ؛ عنقریب مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے گی۔
پس میں نکلوں گا اور میں زمین میں چکر لگاؤں گا؛ اور چالیس راتوں میں ہر ہر بستی پر اتروں گا مکہ اور مدینہ طبیہ کے علاوہ کیوں کہ ان دونوں پر داخل ہونا میرے لیے حرام کردیا گیا ہے۔ اور جب بھی میں ان میں سے کسی ایک بستی میں داخل ہونے کی کوشش کرو ں گا تو اس سے مجھے روکا جائے گا؛ اور اس کی ہر گھاٹی پر فرشتے پہرہ دار ہوں گے۔
پھر سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو منبر پر چبھویا اور فرمایا : یہ طبیہ ہے یہ طبیہ ہے یہ طیبہ ہے یعنی مدینہ ہے؛ کیا میں نے تمہیں یہ باتیں پہلے ہی بیان نہ کر دیں تھیں ۔
لوگوں نے عرض کیا :جی ہاں ، فرمایا :بے شک مجھے تمیم کی اس خبر سے خوشی ہوئی ہے کہ وہ اس حدیث کے موافق ہے جو میں نے تمہیں دجال اور مدینہ اور مکہ کے بارے میں بیان کی تھی۔ آگاہ رہو دجال شام یا یمن کے سمندر میں ہے، نہیں بلکہ مشرق کی طرف ہے وہ مشرق کی طرف ہے وہ مشرق کی طرف ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا، پس میں نے یہ حدیث رسول اللہ سے یاد کر لی۔‘‘ (مسلم )
میں نے دجال کے متعلق بعض مؤلفین کاکلام پڑھا ہے ؛ جس میں انہوں نے دجال کی موجودگی کی جگہ کو مثلث برمودا کے ساتھ مربوط کیا ہے۔ مثلث برمودا ابھی تک ایک راز ہی ہے جس کا انکشاف نہیں ہوسکا۔
مثلث برمودا کی حقیقت اوراس کا دجال سے تعلق
مثلث برمودا کے متعلق گفتگو بھی ایسے ہی ہے جیسے کسی خرافات یا خیالی قصے کا بیان ہو۔
محل وقوع
محیط انٹلاٹک کے مغرب میں امریکی ریاست فلوریڈا کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔اس جگہ کی تحدید کے ساتھ یہ علاقہ مثلث کی شکل اختیار کرتے ہوئے خلیج میکسیک سے مغرب کی جانب جنوب میں جزیرہ لیورڈ تک ہے۔ پھر برمودا ۳۰۰ چھوٹے چھوٹے جزیروں کا مجموعہ ہے جس کی مجموعی آبادی ۶۵۰۰۰ افراد پر مشتمل ہے۔ پھر یہ خلیج میکسیک سے لے کر جزر باہاماتک پھیلا ہوا علاقہ ہے۔
برمودا میں خفیہ مرکز
بحیرہ انٹلاٹک (بحر سارجاسو) کے شمال مغرب میں ایک متعین جگہ کا پانی اپنے اندر ایک خاص قسم کے سمندری حامل کی وجہ سے ممتاز ہے، اس سمندری حامل کو ’’سارجاسام‘‘ کہتے ہیں ۔ جوکہ سطح سمندر پر تودوں کی شکل میں پھیلا ہوا ہے، جس کی وجہ سے سمندری جہازوں کی نقل و حرکت میں دشواری پیش آتی ہے۔
بحر سارجاسو اپنے ٹھہراؤ کی وجہ سے بھی جداگانہ مقام رکھتا ہے۔ یہاں پر ہوائیں ختم ہوجاتی ہیں ۔ اس پر بحر رعب اور انٹلاٹک مقبرہ کے ناموں کا اطلاق بھی کیا جاتا ہے۔ بعض ریسرچ کرنے والوں نے یہاں پر سمندر کی انتہائی گہرائی میں جہازوں اور آبدوزوں کی موجودگی کا پتہ بھی دیا ہے؛ جن کی تاریخ زمانے کے مختلف اوقات سے تعلق رکھتی ہے۔
برمودا میں گم ہونے کے واقعات کی ابتدا
۱۸۵۰ ء میں اس جگہ پر یا اس کے قریب ۵۰ کے قریب سمندری جہاز غائب ہوگئے۔ جن میں سے بعض جہازوں کے ملاح خطرے کے لمحات میں انتہائی مبہم قسم کے پیغامات اپنے مرکز میں بھیجنے میں کامیاب رہے۔ مگر یہ پیغامات اس قدر مبہم تھے کہ کوئی بھی انہیں سمجھ نہیں سکا۔ ان غائب ہونے والے سمندری جہازوں میں سے اکثر کا تعلق امریکہ سے ہے۔ ان میں سب سے پہلا جہاز ’’ انسر جنٹ‘‘ تھا جو کہ غائب ہوگیا، اس پر ۳۴۰ آدمی سوار تھے۔ اس کے بعد آبدوز ’’اسکور بیون‘‘ ۱۹۶۸ ء میں غائب ہوئی، اس پر ۹۹ سمندری غوطہ خور اور ملاح سوار تھے۔
ہوائی جہازوں کے غائب ہونے کی ابتدا
اچک لیے جانے یا غائب ہونے کا یہ سلسلہ بحر انٹلاٹک کی فضاؤں تک پہنچ گیا کہ مثلث برمودا کی فضاؤں میں پرواز کرتے ہوئے جہاز غائب ہوگئے۔
۱۹۴۵ ء میں فلوریڈا سے پانچ ہوائی جہازوں نے اڑان بھری، یہ پانچوں طیارے قریب قریب اور مثلث کی شکل میں پرواز کررہے تھے۔ فضائی کنٹرول سنٹر میں ان کی لینڈنگ اور مقام تک پہنچنے کے پیغام وصول کیے جانے کاانتظار کیا جارہا تھا کہ اس دوران ایک جہاز کے پائلٹ چارلس ٹیلر کی جانب سے یہ پیغام موصول ہوا :
’’ہم ایمرجنسی کی حالت میں ہیں اور لگتا ہے کہ ہم اپنے روٹ سے بالکل باہر آچکے ہیں ۔ یہاں سے میں زمین کو نہیں دیکھ سکتا اور نہ ہی جگہ کے بارے میں کچھ بتا سکتا ہوں ۔ مجھے یقین ہورہا ہے کہ ہم فضاؤں میں گم ہوگئے ہیں ۔ یہاں پر ہر ایک چیز عجیب و غریب اور تشویشناک ہے۔ میں اپنی سمت متعین کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوں یہاں تک کہ محیط ہمارے سامنے عجیب و غریب شکل میں ظاہر ہورہا ہے، جس کی تحدید کی طاقت نہیں رکھتا ۔‘‘ اس کے بعد اس فضائی بیڑے اور کنٹرول سنٹر کے درمیان تمام رابطے ختم ہوگئے۔
ایسے ہی دوسرے جہاز بھی یہاں پر غائب ہوئے ہیں ۔
اس مثلث کی وضاحت
زلزلوں کانظریہ اور ان کا مثلث برمودا میں پیش آنے والے واقعات سے تعلق : …کہتے ہیں کہ اس محیط کی حدود میں زمین پر آنے والے زلزلے ان اچانک اٹھنے والی سخت اور سرکش قسم کی موجوں کا نتیجہ ہیں جو جہازوں کو اس طرف کھینچ لیتی ہیں ، اور وہ جہاز انتہائی سختی کے ساتھ بہت ہی کم لمحات میں اس تہہ میں چلے جاتے ہیں ۔
جب ہوائی جہازوں کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ ان جھٹکوں کی وجہ سے فضاء میں موجیں پیدا ہوتی ہیں ، جن کی وجہ سے پائلٹ جہاز پر اپنا کنٹرول برقرار نہیں رکھ سکتا، اور جہاز کا توازن خراب ہوجاتا ہے۔
مقناطیسی کھینچاؤ کا نظریہ اور اس کا مثلث برمودا کے واقعات سے تعلق:…جہاز میں مختلف قسم کے پیمائشی آلات مثلث برمودا کے اوپر سے گزرتے وقت مضطرب ہوجاتے ہیں ، اور انتہائی اچانک حرکت میں آجاتے ہیں ، ایسے ہی سمندری جہازوں کے آلات بھی حرکت میں آجاتے ہیں ۔ جو یہاں پر مقناطیسی قوت یا انتہائی سخت اور عجیب و غریب قسم کی قوت جذب پر دلالت کرتے ہیں ۔
مسیح دجال کے خروج سے پہلے لوگوں کے احوال
عربوں کی قلت
سیّدہ ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ لوگ دجال سے پہاڑوں کی طرف بھاگیں گے ۔‘‘
ام شریک نے عرض کیا : ’’اے اللہ کے رسول! ان دنوں عرب کہاں ہوں گے ؟‘‘
آپ نے فرمایا: ’’ وہ بہت کم ہوں گے۔‘‘ (مسلم)
جنگ اور قسطنطنیہ کی فتح
سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’بیت المقدس کی آبادی مدینہ کی تخریب کا سبب ہے؛ اورمدینہ کی تخریب جنگ وجدال کا سبب ہے۔ اورجنگ وجدال قسطنطنیہ کی فتح کا سبب ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کے نکلنے کا سبب ہے۔‘‘ (ابو داؤد)
فتوحات
جناب نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں شریک تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مغرب کی طرف سے ایک قوم آئی جن پر سفید اونی کپڑے تھے ؛اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ٹیلے کے پاس ملے وہ کھڑے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ مجھے میرے دل نے کہا کہ: تو بھی ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جا کر کھڑا ہو کہ کہیں وہ دھوکہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ ہی نہ کردیں ۔ پھر میں نے کہا: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کوئی راز کی بات کر رہے ہوں ۔ بہر حال پھر میں ان کے پاس آیا؛ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان کے درمیان کھڑا ہوگیا؛ اور اسی دوران میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چار کلمات یاد کیے؛ جنہیں میں نے اپنے ہاتھوں پر شمار کرلیا۔ آپ نے فرمایا : ’’تم جزیرۂ عرب میں جہاد کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں فتح عطا فرمائے گا ؛ پھر تم اہل فارس سے جنگ کرو گے ان پر بھی اللہ تمہیں فتح عطا فرمائیں گے ؛ پھر تم روم سے جہاد کرو گے اور اللہ تعالیٰ اس پر بھی تمہیں فتح عطا فرمائیں گے ؛ پھر تم دجال سے جنگ کرو گے اس پر بھی اللہ تمہیں فتح عطا کریں گے ۔‘‘ (مسلم)
بارش اور نباتات کا روک دیا جانا
سیّدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’دجال کے نکلنے سے تین برس پہلے قحط ہوگا۔ ان تینوں سالوں میں لوگ بھوک سے سخت تکلیف اٹھائیں گے۔ پہلے سال میں اللہ تعالیٰ یہ حکم کرے گا کہ دو تہائی بارش روک لے ؛اور زمین کو یہ حکم کرے گا کہ : تہائی پیداوار روک لے۔ پھردوسرے سال میں اللہ تعالیٰ آسمان کو یہ حکم کرے گا کہ: دو تہائی بارش کو روک لے ؛ اور زمین کو حکم دیا گا کہ : دو تہائی پیداوار روک لے۔ پھرتیسرے سال میں اللہ تعالیٰ آسمان کو یہ حکم کرے گا کہ: بالکل پانی نہ برسائے ایک قطرہ بارش نہ ہوگی: اور زمین کو یہ حکم ہوگا کہ: ایک دانہ نہ اگائے ؛تو گھاس تک نہ اگے گی نہ کوئی سبزی۔ آخر گھر والا جانور (جیسے گائے بکری) تو کوئی باقی نہ رہے گا سب مرجائیں گے مگر جو اللہ چاہے ۔‘‘ (ابن ماجہ)
فتنوں کی کثرت
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ ایک طویل حدیث بیان کرتے ہیں :
’’… پھر اس کے بعد سراء کا فتنہ ہے؛ جس کا دھواں ایک ایسے آدمی کے پیر کے نیچے سے نکلے گا جو میرے اہل بیت والوں میں سے ہوگا؛ وہ یہ گمان کرے گا وہ مجھ سے ہے ؛ لیکن مجھ سے نہیں ہوگا؛ اور بے شک میرے ولی دوست تو وہی ہیں جو متقی ہیں ۔ پھر لوگ ایک شخص پر اعتماد کریں جیسے کہ سرین، پسلی کے اوپر یعنی ایک کجی والے شخص پر اتفاق کریں گے۔(حدیث میں وارد لفظ ’’ورک ‘‘ سرین کے بالائی حصے کو کہتے ہیں ۔یعنی لوگ اس آدمی پر اعتماد کرکے اسے بادشاہ بنائیں گے، مگر وہ اپنی جہالت کی وجہ سے اس اعتماد کے قابل نہیں ہوگا۔اورنہ ہی وہ معاملات کو درست طریقے سے چلا سکے گا۔ جیسے کہ سرین کا موٹا حصہ باریک اور ٹیڑھی پسلی پر نہیں رک سکتا)۔ پھر آپ نے فرمایا : پھر وہیما (اندھا) کا فتنہ ہوگا اور اس میں امت میں کسی کو نہیں چھوڑے گا مگر یہ کہ اسے ایک طمانچہ مارے گا۔ جب لوگ کہیں گے کہ فتنہ ختم ہوگیا؛ تو وہ مزید ابھرے گا اور بڑھے گا۔ اس فتنہ میں آدمی صبح کو مومن ہوگا تو شام کو کافر ہوگا ؛یہاں تک کہ لوگ دوخیموں کی طرف نہ ہوجائیں :ایک ایمان کا خیمہ جس میں نفاق نہیں ہوگا ؛اور دوسرا نفاق کا خیمہ جس میں ایمان نہیں ہوگا۔ پس اگر تم اس وقت ہو تو اس دن یا اس سے اگلے دن دجال کا انتظار کرو۔‘‘ (ابو داؤد)
تیس دجالوں کا خروج
سیّدنا جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’بے شک قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس جھوٹے دجال نکلیں گے ان میں آخری کانا دجال ہوگا جس کی بائیں آنکھ کانی ہوگی۔‘‘ (مسند احمد، ابن حبان)
دجال کیسے نکلے گا ؟
جناب تمیم داری رضی اللہ عنہ والی روایت میں دجال اور جساسہ کا قصہ گزر چکا۔ یہ کہ ابھی تک وہ بحری جزیروں میں سے ایک جزیرے میں قید ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں وہ زندہ تھا۔وہ جسمانی لحاظ سے بہت بڑا انسان ہے۔ اسے جناب تمیم داری رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا؛ ان کے ساتھ تیس افراد دیگر بھی تھے۔ انہوں نے اسے دیکھا تھا کہ وہ زنجیروں میں بندھا ہوا ہے۔ اور ان کے مابین ایک طویل مکالمہ بھی ہوا تھا۔ اور اس نے ان لوگوں کو بتایا تھا کہ وہ دجال ہے، اور وہ عنقریب ایک غصہ دلانے والی چیز کی وجہ سے نکلے گا جو اسے غضبناک کرے گی اور زنجیریں ٹوٹ جائیں گی۔
اس کے نکلنے کا سبب
سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی ابن صیاد سے مدینہ کے کسی راستہ میں ملاقات ہوگئی ؛تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے ایسی بات کہی جو اسے غصہ دلانے والی تھی، پس وہ اتنا پھولا کہ راستہ بھر گیا؛ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہ ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور انہیں یہ خبر مل چکی تھی؛ تو انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے! آپ نے ابن صیاد کے بارے میں کیا ارادہ کیا تھا؛ کیا تو نہیں جانتا تھا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ دجال کسی پر غصہ کرنے کی وجہ سے ہی نکلے گا۔‘‘ (مسلم)
زمین میں اس کی تیز رفتاری
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کی تیز رفتاری کے بارے میں سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا:
’’ان بادلوں کی طرح ہوگی جنہیں ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں ۔‘‘ (مسلم)
اس کا معنی یہ ہے کہ دجال زمین میں انتہائی رفتاری سے گھومے گا، اور روئے زمین کے ہر کونے میں پہنچے گا۔ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’دجال دین کے کم ہونے اور علم کے اٹھ جانے کے زمانے میں نکلے گا،وہ چالیس دن تک زمین میں پھرے گا۔ ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا اور ایک دن مہینہ کے برابر اور ایک دن ہفتہ کے برابر ہوگا اور باقی ایام تمہارے عام دنوں کے برابر ہوں گے۔ اور اس کا ایک گدھا ہوگا، جس کے کانوں کے درمیان چالیس گز کا فاصلہ ہوگا۔ وہ لوگوں کے پاس آئے گا او رکہے گا : میں تمہارارب ہوں ۔ اور بے شک تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اوراس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا (ک ف ر ) جسے ہر مومن پڑھ سکے گا، خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ وہ ہر پانی اورگھاٹ پر گزرے گا سوائے مکہ اور مدینہ کے، اللہ تعالیٰ نے انہیں حرام ٹھہرایا ہے، اور ان کے دروازوں فرشتے کھڑے ہیں [جو ان شہروں کی حفاظت کررہے ہیں ]۔‘‘ (مسند احمد ، مستدرک حاکم)
وہ جگہیں جہاں پر دجال آئے گا
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’کوئی بھی شہر ایسا نہیں مگر اسے دجال روند ڈالے گا، سوائے مکہ اور مدینہ کے ۔‘‘ (متفق علیہ)
یعنی دجال کو مکہ اورمدینہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ مدینہ کے راستوں پر فرشتے کھڑے ہیں ، اس شہر میں طاعون اوردجال داخل نہیں ہوسکیں گے ۔‘‘ (متفق علیہ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’دجال مشرق کی طرف سے آئے گا، اس کا ارادہ مدینہ منورہ کا ہوگا،جب وہ احد کے پہاڑکے پیچھے تک آئے گا۔‘‘
ایک اور روایت میں ہے :
’’ وہ احد پہاڑ پر چڑھے گا، اور مسجد نبوی کو دیکھے گا؛ اور جو لوگ اس کے آس پاس ہوں گے، ان سے کہے گا؛ یہ سفید گھر ہے، (یعنی مسجد نبوی ) یہاں تک کہ جب احد کے پیچھے پہنچے گا، وہاں فرشتے اس کی راہ میں کھڑے ہوں گے، جو اس کا چہرہ شام کی طرف موڑ دے گا۔ وہ وہاں پہنچ کر ہلاک ہوگا، وہاں پہنچ کر ہلاک ہوگا۔‘‘ (مسلم)
ایک دوسری روایت میں محجنبن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں خطبہ دیا اور فرمایا:
’’ نجات کا دن، اورکیا معلوم یوم نجات کیا ہے ؟ نجات کا دن، اورکیا معلوم یوم نجات کیا ہے ؟نجات کا دن، اورکیا معلوم یوم نجات کیا ہے ؟ تین بار فرمایا۔ آپ سے پوچھا گیا : یوم نجات کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’دجال آئے گا، وہ احد کے پہاڑ پر چڑھے گا ؛ پھر مدینہ کی طرف دیکھے گا، اور اپنے ساتھیوں سے کہے گا : کیا تم اس سفید محل کو دیکھ رہے ہو؟ یہ احمد کی مسجد ہے۔ پھر وہ مدینہ کی طرف رخ کرے گا، اس کے ہر راستے پر فرشتے کو تلوار لیے ہوئے پائے گا۔ پھر جرف کی شوریدہ زمین پر آئے گااور وہاں پر اپنا پڑاؤ ڈالے گا۔ پھر سر زمین مدینہ میں تین بار زلزلہ آئے گا۔پھر کوئی بھی منافق مرد و عورت اورفاسق مرد و عورت باقی نہیں بچے گا مگر وہ دجال کی طرف نکل پڑے گا، یہی نجات کا دن ہے ۔‘‘ (مسند احمد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’کوئی بھی شہر ایسا نہیں ہوگا جسے دجال روند نہ ڈالے سوائے مکہ اور مدینہ۔ ان شہروں کا کوئی بھی راستہ نہیں مگر اس پر فرشتے تلوار لٹکائے اس کی حفاظت کررہے ہیں ۔ پھر(دجال) نمکین زمین میں اترے گا۔ ایک روایت ہے میں ہے: جرف کی نمکین (شوریدگی والی) زمین میں اترے گا۔ اور وہاں پر پڑاؤ ڈالے گا۔‘‘
ایک روایت میں ہے :
’’یہاں تک کہ دجال مدینہ کے قریب سرخ پتھروں والی جگہ، شوریدگی والی زمین کے قریب پڑاؤ ڈالے گا۔ مدینہ میں تین بار زلزلہ آئے گا؛ جس سے ہر کافر اور منافق اس کی طرف نکل پڑے گا ۔‘‘ (ابن ماجہ)
(شوریدہ زمین) : عام طورپر یہ نمکین (یا دلدلی )جگہ کے لیے بولا جاتا ہے۔ مدینہ کی ساری زمین ہی تقریباً نمکین ہے ؛ مگر زیادہ سخت نمک والی زمین شمال کی طرف پائی جاتی ہے۔
(جرف): یہ مدینہ کا نواحی علاقہ ہے، جو مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر شمال کی جانب میں واقع ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جرف شام کی طرف قصاصین نامی جگہ کے مابین پایا جاتا ہے۔ اس علاقے کو آج کل ڈسٹرک ازھری کہا جاتاہے۔ لیکن ابھی تک جو دلائل ہم نے پیش کیے ہیں ان کی روشنی میں ظاہر ہوتا ہے کہ جرف کا قنات کی گزر گاہ تک پھیلا ہوا ہے۔
قنات سے مراد وادی حمض ہے۔ جس میں مجمع اسیال کو شامل ہے۔ یہ تمام نام یمنی بادشاہ تبع نے رکھے ہیں ۔سابقہ کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ مسیح دجال احد کے پیچھے دلدلی جگہ پر اترے گا۔ اس کا لشکر وہاں پر پڑاؤ ڈالے گا۔جو کہ جبل ثور کا آخری کونہ سمجھا جاتا ہے۔ اس علاقے میں چھوٹے چھوٹے سرخ پہاڑ ہیں ، جو بھی انہیں دیکھتا ہے، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد آجاتی ہے۔ سیّدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کے دجال اور جساسہ کے ساتھ ملاقات کے قصہ میں ہے: دجال نے حضرت تمیم داری اور ان کے ساتھیوں سے کہا تھا:
’’ عنقریب مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے گی، پس میں نکلوں گا اور میں زمین میں چکر لگاؤں گا؛ اور چالیس راتوں میں ہر ہر بستی پر اتروں گا مکہ اور مدینہ طبیہ کے علاوہ۔ کیوں کہ ان دونوں پر داخل ہونا میرے لیے حرام کردیا گیا ہے اور جب بھی میں ان میں سے کسی ایک بستی میں داخل ہونے کی کوشش کرو ں گاتو ایک تلوار لٹکائے ہوئے فرشتہ میرا استقبال کرے گا، اوراس سے مجھے روکا جائے گا؛ اور اس کی ہر گھاٹی پر فرشتے پہرہ دار ہوں گے ۔‘‘ (مسلم)
دجال کے بعض فتنے
اس کی فتنوں میں سے سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اس[ دجال ] کے ساتھ جنت او رجہنم ہوں گے ۔‘‘ ( مسلم)
اور فرمایا: ’’بے شک اس کے ساتھ آگ او رپانی ہوں گے؛ اس کا پانی جہنم کی آگ ہوگا؛ او راس کی آگ ٹھنڈا پانی ہوگا ۔‘‘ (متفق علیہ)
سیّدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میں خوب جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی نہریں ہوں گی، ان میں سے ایک کا پانی دیکھنے میں سفید ہوگا اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوئی آگ ہوگی۔ پس اگر کوئی آدمی اس کو پا لے تو اس نہر میں جائے جسے بھڑکتی ہوئی آگ تصور کرے اور آنکھ بند کر کے اپنے سر کو جھکائے؛ پھر اس سے پئے بے شک وہ ٹھنڈا پانی ہوگا ۔‘‘ (مسلم)
اور ایک روایت میں ہے:
’’پس لوگ جسے پانی تصور کریں گے وہ جلادینے والی آگ ہوگی؛اور جس چیز کو لوگ آگ تصور کریں گے ؛وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہوگا، پس تم میں سے جو اسے پالے تو اسی میں کود جائے جسے آگ تصور کرے کیوں کہ وہ ٹھنڈا میٹھا اور پاکیزہ پانی ہوگا ۔‘‘ (مسلم)
جمادات اور حیوانات میں اس کي تاثیر:… سیّدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں دعوت دے گا تو وہ اس پر ایمان لے آئیں گے۔ اور اس کی دعوت قبول کرلیں گے، پھر وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین سبزہ اگائے گی۔ اور اسے چرنے والے جانور شام کے وقت آئیں گے، تو ان کے کوہان پہلے سے لمبے، تھن بڑے اور کوکھیں تنی ہوئی ہوں گی۔ پھر وہ ایک اور قوم کے پاس جائے گا اور انہیں دعوت دے گا وہ اس کے قول کو رد کر دیں گے۔ تو وہ اس سے واپس لوٹ آئے گا، پس وہ قحط زدہ ہو جائیں گے کہ ان کے پاس دن کے مالوں میں سے کچھ بھی نہ رہے گا اسے کہے گا کہ اپنے خزانے کو نکال دے تو زمین کے خزانے اس کے پاس آئیں گے۔‘‘ (مسلم)
یہ بھی اس کا فتنہ ہوگاکہ ایک گنوار دیہاتی سے کہے گا :دیکھ اگر میں تیرے ماں باپ کو زندہ کروں جب تو مجھ کو اپنا رب کہے گا؟ وہ کہے گا بے شک پھر وہ شیطان دجال کے حکم سے اس کے ماں باپ کی صورت بن کر آئیں گے اور کہیں گے بیٹا اس کی اطاعت کر یہ تیرا رب ہے ۔‘‘ (ابن ماجہ )
ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک گبھروجوان کوبلائے گا، اوراسے تلوار سے دو ٹکڑے کردے گا۔ پھر دجال لوگوں سے کہے گا : میرے اس بندے کی طرف دیکھو! اگر میں اس کو دوبارہ زندہ کردوں تو وہ گمان کرے گا کہ اس کا رب میرے علاوہ کوئی اور ہے۔ پھر دجال اس آدمی کو حکم دے گا اور وہ زندہ کھڑا ہوجائے گا۔ وہ اٹھے گا، اور اسے اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا ہوگادجال نے نہیں ۔ لیکن دجال گمان کرے گا کہ اس نے زندہ کیا ہے۔ پھر اس کے دونوں پہلو آپس میں مل جائیں گے، پھر وہ خبیث (دجال) کہے گا: ’’تیرا رب کون ہے ؟ ‘‘وہ کہے گا:’’ میرا رب اللہ ہے، اورتو اللہ کا دشمن دجال ہے ۔‘‘ تفصیلی قصہ آگے آرہا ہے۔
دجال کے متعلق خطا پر مبنی عقائد
دجال کے ساتھ روٹی اورکھانے کا پہاڑ ہوگا اور دنیا اس وقت بھوک کی حالت میں ہوگی۔
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دجال کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے جتنے سوال کیے اور کسی نے نہیں کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ’’اے بیٹے! تجھے اس کے بارے میں کیا فکر ہے وہ تجھے کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ میں نے عرض کیا: لوگ گمان کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ پانی کی نہریں اور روٹی کے پہاڑ ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ کے نزدیک یہ بار اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔‘‘ (مسلم)
دجال کے پیرو کار
اس میں کوئی شک نہیں کہ دجال اپنی ان قدرات اور مختلف فتنوں ؛ اورلوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ان فتنوں کے استعمال کرنے کے مختلف اسالیب لوگوں کو اس کی اتباع کی طرف کھینچ لائیں گے اوراس کے بارے میں الوہیت کا اعتقاد رکھیں گے۔ اس وجہ سے بھی بہت سے لوگ گمراہ ہوں گے کہ جو کچھ (مال و دولت )اس کے پاس ہے، اس میں رغبت رکھتے ہوں ، یا دجال سے خوفزدہ ہوکر بھی اس کی اتباع کریں گے یا کچھ لوگ اس وجہ سے بھی اس کی پیروی کریں گے کہ وہ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف جنگ کرکے انہیں ختم کرنا چاہتے ہوں گے۔ اس لحاظ سے اس کے پیروکاروں میں بذیل اقسام کے لوگ ہوں گے۔
یہودی:…
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’اصبہان [1] کے ستر ہزار یہودی دجال کے پیروکار ہو جائیں گے جن پر طیالسے(جبے) ہوں گے۔‘‘ (مسلم)
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’دجال ضرور بالضرور خوز اورکرمان کے علاقوں میں ستر ہزار یہودیوں کے ساتھ اترے گا،ان کے چہرے [المجان المطرقۃ] چپٹے ہوں گے جیسے ہتھوڑے ۔‘‘ (مسند احمد)
[ المجان المطرقۃ] یعنی ان کے سر چھوٹے ہوں گے اور چہرے بیضوی یا گول ہوں گے۔ اسی لمحے وہ برابر بھی ہوں گے۔ اس کی وجہ رخساروں کا ابھرنااورہڈیوں کا برابر ہونا ہوگا۔ آنکھیں اور ناک تکوینی ہوں گے۔ جن سے آنکھوں کا محور بالکل صاف طور پر معلوم ہوگا۔
[ المجان] مجان مجن کی جمع ہے۔ عربی میں اس کا معنی ہے ’’ تُرس ‘‘ یعنی ڈھال۔
[المطرقۃ] وہ چمڑا جو ڈھال کی پشت پر چڑھا یا جاتا ہے۔
ان لوگوں کے چہروں کوچمڑہ چڑھے ڈھال سے تشبیہ اس لیے دی گئی ہے ان کے چہرے گول، اور گوشت کی کثرت کی وجہ سے سخت ہوں گے۔
مسئلہ : …دجال کے پیروکار کثرت کے ساتھ یہودی کیوں ہوں گے؟
جواب:…اس لیے کہ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیح دجال ہی وہی مسیح ہے جس کا انتظار یہودی کررہے ہیں ۔ یہودی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ داؤد علیہ السلام کی نسل میں سے ایک آدمی کو ملک عطا کیا جائے گا۔ یہی داؤدی منتظر آئے گا اور ان کے لیے ملک قائم کرے گا اس کانام ان کی کتابوں میں : المیسیاہ لکھا گیا ہے۔
یہودی طقوس(مناجات)میں سے : ایک وہ دعا بھی ہے جس میں وہ دجال کے جلدی نکل آنے کے لیے دعا کرتے ہیں ۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے یہودی عید فصح [1] کے روز خاص دعائیں مقرر کررکھی ہیں ۔
تلمود میں ہے
’’جب مسیح آئے گا زمین فطیرے (ایک قسم کا کھانا ) اور کپڑے نکالے گی، گندم کے اتنے بڑے بڑے دانے اگیں گے جو کسی بڑے صحت مند بیل کے گردوں کے برابر ہوں ، اس وقت یہودیوں کی حکومت انہیں مل جائے گی۔ تمام امتیں اس مسیح کی خدمت کریں گی؛ اور اس کی فرمانبرداری کریں گی۔ اس وقت ہر یہودی کے لیے دو ہزار آٹھ سو غلام ہوں گے جو اس کی خدمت کریں گے۔ تین سو دس کون اس کی حکومت کے ماتحت ہوں گے۔ مسیح نہیں آئے گا مگر شریر لوگوں کی حکومت ختم ہونے کے بعد۔ اور اس یہ منتظر یہودیوں کے لیے ان کے ملک اسرائیل کو سچ کر دکھائے گا۔ اور اس کے آنے پر یہی امت باقی تمام امتوں پر مسلط ہوگی۔‘‘ (کنز المرصود فے قواعد التلمود، فصل نمبر ۷)
کافر اور منافق
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مکہ اور مدینہ کے علاوہ ہر شہر کو دجال روند ڈالے گا اور مکہ مدینہ کے ہر راستے پر فرشتے پہرہ دینے کے لیے صف باندھے کھڑے ہوئے ہوں گے پھر وہ دلدلی زمین میں اترے گا اور مدینہ تین مرتبہ لرزے گا اور مدینہ سے ہر کافر منافق نکل کر دجال کی طرف چلا جائے گا۔‘‘ (متفق علیہ)
اس حدیث کے معانی کا بیان پہلے گزر چکاہے۔
جاہل دیہاتی
سیّدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے ایک لمبی روایت مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اس کا فتنہ یہ ہوگا کہ ایک گنوار دیہاتی سے کہے گا :دیکھ اگر میں تیرے ماں باپ کو زندہ کروں جب تو مجھ کو اپنا رب کہے گا؟ وہ کہے گا بے شک پھر وہ شیطان دجال کے حکم سے اس کے ماں باپ کی صورت بن کر آئیں گے اور کہیں گے بیٹا اس کی اطاعت کر یہ تیرا رب ہے ۔‘‘ (ابن ماجہ )
چپٹے مونہوں والی قوم
سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا :
’’ دجال مشرق کے ایک علاقہ سے نکلے گا جس کا نام خراسان ہے، اس کے ساتھ ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے گویا تہہ بہ تہہ ڈھالیں ہیں ۔‘‘(یعنی چپٹے اور پرگوشت) (ابن ماجہ )
عورتیں
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’دجال قنات کے راستے پر دلدلی جگہ پر اترے گا تو اس کی طرف نکلنے والوں کی اکثر تعداد عورتوں کی ہوگی۔ یہاں تک کہ کوئی انسان اپنے کسی قریبی کی طرف لوٹے گا، یا اپنی ماں ، اپنی بیٹی، اپنی بہن یا اپنی پھوپھی کی طرف پلٹے گا او راس خوف سے باندھ دے گا تاکہ کہیں وہ دجا ل کی طرف نہ نکل جائے ۔‘‘ (مسند احمد )
دجال کے ٹھہرنے کی مدت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کی مدت قیام کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا:
’’وہ چالیس دن تک زمین میں رہے گا؛ایک دن سال کے برابر ہوگا، (یعنی پہلا دن، اس طرح گزرے گا جیسے سال) اور ایک دن ایک مہینے کے بر ابر ہوگا۔(یہ اس کا دوسرا دن ہوگا ) او رایک دن ایک ہفتہ کے برابر ہوگا (یہ تیسرا دن ہوگا ) باقی (سینتیس ) ایام تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے ان دنوں کے بارے میں پوچھا :’’ کیا اس ایک دن میں ایک دن کی نماز کفایت کرجائے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ نہیں ، بلکہ اس (دن نمازوں کے اوقات )کااندازہ لگاؤ گے۔ ‘‘ (متفق علیہ)
فتنہ ء دجال سے نجات کا طریقہ
اس سے ملنے سے دور رہا جائے
سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ر وایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جو کوئی دجال کے بارے میں سنے، اسے چاہیے کہ وہ اس سے دور رہے، اللہ کی قسم ! اس کے پاس کوئی آدمی آئے گا، وہ سمجھ رہا ہوں گا کہ میں مومن ہوں ، تو اس کے ساتھ جو شبہات دے کر بھیجا گیا ہے ان کی پیروی کرنے لگ جائے گا ۔‘‘ (ابوداؤد، مستدرک حاکم)
اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جو کوئی دجال کے نکلنے کے بارے میں سنے، اسے چاہیے کہ وہ اس سے دور رہے، اس کے قریب نہ جائے کیونکہ کوئی انسان دجال کے پاس جائے گا، وہ گمان کرتا ہوگا کہ وہ بڑے مضبوط ایمان والا ہے ؛ پھر اچانک وہ بھی اس کی اتباع کرنے والوں اور اس کے مدد گاروں میں سے ہوگا۔کیونکہ دجال کے پاس ایسے شبہات اور مشکلات ہوں گی جیسے جادو، اور مردے کو زندہ کرنا وغیر ہ کہ ان کے سامنے انسان اپنے ایمان پر قائم نہیں رہ سکے گا۔
سیّدہ ام شریک رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ لوگ دجال سے پہاڑوں کی طرف بھاگیں گے ۔‘‘ (مسلم)
اس زمانے میں مسلمانوں کے لیے ایک عادل خلیفہ ہوگا، یعنی مہدی ۔
اللہ تعالیٰ سے مدد کی طلب
سیّدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ جو کوئی اس کی آگ سے آزمایا جائے، اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے ۔‘‘ (ابن ماجہ)
اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی معرفت
اس لیے کہ دجال کانا ہے، اللہ تعالیٰ کانا نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے، اور ہر قسم کے عیب اور نقص سے پاک ہے، فرمان الٰہی ہے :
’’ اس کی مانندکوئی چیز نہیں اورسنتا جانتا ہے۔‘‘ (الشوری: ۱۱)
سور ت کہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت
اس سے مراد پہلی دس آیات ہے۔ ابودرداء سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جو آدمی سور کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کر لے گا وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا ۔‘‘ (مسلم)
وہ دس آیات یہ ہیں :
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا(۱)ط قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا حَسَنًا(۲) مَّاکِثِیْنَ فِیْہِ اَبَدًا(۳) وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا(۴)مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِھِمْ کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا کَذِبًا (۵) فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا(۶) اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّھَالِنَبْلُوَھُمْ اَیُّھُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا(۷) وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَاعَلَیْھَا صَعِیْدًا جُرُزًا(۸)اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْکَھْفِوَ الرَّقِیْمِ کَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا(۹) اِذْ اَوَی الْفِتْیَۃُ اِلَی الْکَھْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً وَّ ھَیِّیْٔ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا(۱۰)﴾ (الکہف: ۱۔۱۰)
’’ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کو سزاوار ہے جس نے اپنے بند ے (محمد )پر قرآن اتارا اوراس میں کسی طرح کسر نہیں رکھی۔ سیدھا صاف اس لیے کہ (کافروں کو) اس سخت عذاب سے ڈرائے جو اس کی طر ف سے آنے والا ہے اورمسلمانوں کوجو نیک کام کرتے ہیں یہ خوشخبری دے کہ ان کو اچھی مزدوری (بہشت )ملے گی۔جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔اوران لوگوں کو(بھی ) ڈرائے جوکہتے ہیں اللہ اولاد رکھتاہے نہ ان کے پاس اس بات کی کوئی سند ہے نہ ان کے باپ دادا کے پا س تھی۔بڑی (سخت )باپ بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے (معاذ اللہ کہ اللہ اولاد رکھتاہے )بالکل جھوٹ کہتے ہیں تو(اے پیغمبر )اگر یہ (کافر) اس قرآن پر یقین نہ لائیں توان کے پیچھے رنج کے مارتے شاید اپنی جان گنوائے گا(اپنے تئیں ہلاک کرے گا)۔ہم نے جو کچھ زمین پر بنایا اس کی رونق کے لیے (مثلاً باغ مکانات کھیتی باڑی وغیرہ )اس لیے کہ ہم لوگوں کو جانچیں ان میں اچھے کام کرتاہے۔اور ایک دن ہم جوکچھ اس پر ہے(صاف کر کے )چیٹل میدان بنادیں گے۔اور(اے پیغمبر )کیا تو یہ سمجھا ہے کہ غار اور تختے والے ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی تھی۔جب ان جوانوں نے(ایک پہاڑ کی غار (کھوہ ) میں پناہ لی پھر دعا کرنی لگی مالک ہمارے ہم کو اپنی رحمت عنایت فرما اور ہمارا کام اچھی طرح سے بنادے۔ (ہم اپنے مقصد میں آسانی کے ساتھ کامیاب کردے) تو ہم نے کان تھپک دے۔‘‘ (ان کو سلادیا کئی برس تک سوتے رہے )
سیّدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ جوکوئی دجال کو پالے، اسے چاہیے کہ سورۃ البقرہ کی شروع کی دس آیات پڑھے ۔‘‘ (مسلم)
اس کا سبب : …کہا گیا ہے کہ : اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے غار والے ان مومن نوجوانوں کا ذکر کیا ہے جنہیں اس وقت کے جابر حکمران نے پکڑنے کا ارادہ کیا تھا،مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دس آیات اہل کہف اور ان کی نجات کے عجیب و غریب قصہ پر مشتمل ہیں ، تومسلمان کو چاہیے کہ دجال سے مقابلہ کے وقت ان آیتوں کویاد کرے۔
پوری سورۂ کہف کا پڑھنا
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ جو کوئی سورت کہف کو ایسے ہی پڑھے جیسے نازل ہوئی ہے، پھر اسے دجال پالے، تووہ اس انسان پر مسلط نہ ہوسکے گا اورنہ ہی اس پر کوئی راہ پائے گا۔‘‘ (مستدرک حاکم)
حرمین میں سے کسی ایک میں پناہ گزین ہونا
اس لیے کہ دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔
نماز کے آخر میں دجال سے پناہ مانگنا
یعنی نماز کے آخری تشہد میں سلام سے پہلے، یہ الفاظ کہے:
((اَللّٰہُمَّ اِنِّیٓ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ۔))
’’ اے اللہ میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے؛ اور زندگی اور موت کے فتنہ (آزمائش )سے ؛ اور مسیح دجال کے فتنہ سے۔ ‘‘
لوگوں کی حفاظت کے لیے دجال کے معاملہ کی وضاحت کرنا
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ دجال اس وقت تک نہیں نکلے گا یہاں تک کہ لوگ اس کا ذکر کرنا بھی بھول جائیں گے ۔‘‘ (اسے عبد اللہ بن احمد نے روایت کیا۔)
مراد یہ ہے کہ کوئی دجال کا نام بھی نہیں لے گا، اور نہ ہی اس کا ذکر کیا جائے گا؛ پھر لوگ اسے بھول جائیں گے، اور اس کی صفات بھی بھول جائیں گے، (اس وقت دجا ل ظاہر ہوگا) اس لیے اس کا تذکرہ کرتے رہنا اور اس کے خطرہ سے خبردار رہنا ضروری ہے۔
شرعی علم کا حصول
شرعی علم اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ ہر فتنے کے مقابلہ میں ایک مضبوط اسلحہ ہے۔ ان ہی فتنوں میں سے ایک دجال کا فتنہ بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے اس نوجوان ہیروکا ذکر کیاہے جو دجا ل کا مقابلہ کرے گا، اس قصہ سے فتنہ کے زمانہ میں ایمان کی حفاظت کے لیے شرعی علم کی ضرورت و اہمیت ہمارے لیے واضح ہوتی ہے۔
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’دجال نکل کر آئے گا( اس کا ارادہ ہوگا کہ مدینہ منورہ جائے)مگر وہ شہر اس پر حرام کردیا گیا ہے؛ پھر وہ مدینہ کے قریب ایک نمکین (شورے والی ) زمین میں ناز ل ہوگا؛ پھر اس کی طرف مومنین میں سے ایک آدمی؛جوکہ اس زمانے کے لوگوں میں سب سے بہتر انسان ہوں گا؛ متوجہ ہوگا۔ اور وہ کہے گا : میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک تو وہی دجال ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردی ہے۔
پھر دجال اس کے ہمراہیوں سے کہے گا : کیا تم دیکھتے ہو،اگر میں اس انسان کو قتل کردوں اور پھر زندہ کردوں ؛ تو پھر بھی تم میرے معاملہ میں شک کروگے؟ وہ کہیں گے : نہیں ۔
پھر وہ اسے قتل کرے گا اور پھر زندہ کرے گا، ایک روایت میں ہے اسے تلوار سے مارے گا، اور دو ٹکڑے کردے گا، پھر وہ اسے بلائے گا، اور وہ لا إلہ إلا اللّٰہ کہتے ہوئے مسکراتے ہوئے اس کے سامنے جائے گا اور اس سے کہے گا : اللہ کی قسم ! میں تمہارے بارے اس سے بڑھ کر بصیرت پر پہلے کبھی بھی نہیں تھا ۔‘‘
ایک روایت میں ہے :
’’ جب دجال نکلے گا تو مومنین میں ایک آدمی کی طرف متوجہ ہوگا ؛تو اس سے دجال کے پہرہ دار ملیں گے؛ وہ اس سے کہیں گے: کہاں کا ارادہ ہے؟
وہ کہے گا :میں اس (دجال )کی طرف کا ارادہ رکھتا ہوں جس کا خروج ہوا ہے۔
وہ اس سے کہیں گے: کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں لاتے ؟
وہ کہے گا: ہمارے رب میں تو کوئی پوشیدگی نہیں ہے ؟
تو وہ کہیں گے: اسے قتل کر دو۔
پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے :کیا تم کو تمہارے رب نے منع نہیں کیا کہ تم اس کے علاوہ کسی کو قتل نہ کرنا۔
پس وہ اس کو دجال کی طرف لے جائیں گے۔
جب مومن اسے دیکھے گا تو کہے گا: اے لوگو! یہ دجال ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا تھا۔
پھر دجال اس کے سر پھاڑ نے کا حکم دے گا تو کہے گا: اسے پکڑ لو اور اس کا سر پھاڑ ڈالو؛ پھر اس کی کمر اور پیٹ پر سخت ضرب لگوائے گا۔
پھر دجال اس سے کہے گا: کیا تو مجھ پر ایمان نہیں لاتا؟
تو وہ کہے گا : تو مسیح الکذاب ہے۔
پھر دجال اسے آرے کے ساتھ چیرنے کا حکم دے گا؛ اور اس کی مانگ سے شروع کر کے اس کے دونوں پاؤں تک کو آرے سے چیر کر جدا کردیا جائے گا۔ پھر دجال اس کے جسم کے دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا۔
پھر کہے گا :کھڑا ہو جا۔ تو وہ سیدھا ہو کر کھڑا ہو جائے گا۔
پھر اس سے کہے گا :کیا تو مجھ پر ایمان نہیں لاتا ؟
تو وہ کہے گا: مجھے تیرے بارے میں پہلے سے زیادہ بصیرت عطا ہوگئی ہے۔ پھر وہ کہے گا: اے لوگو !یہ دجال میرے بعد کسی بھی اور آدمی سے ایسا نہ کر سکے گا۔ پھر دجال اسے ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا اس کی گردن اور ہنسلی کے درمیان کی جگہ تانبے کی ہو جائے گی؛ اور اسے ذبح کرنے کا کوئی راستہ نہ ملے گا؛ پھر وہ اس کے ہاتھ اور پاؤں پکڑ کر پھینک دے گا تو وہ لوگ گمان کریں گے کہ اس نے اسے آگ کی طرف پھینکا ہے؛ حالانکہ اسے جنت میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’یہ آدمی رب العالمین کے ہاں سب سے بڑی شہادت کا حامل ہوگا۔‘‘ (مسلم)
فائدہ :…یہ حدیث شرعی علوم سیکھنے کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے۔ اگر اس نوجوان کے پاس پہلے سے دجال کے بارے میں علم نہ ہوتا تو اسے علم نہ ہوسکتا کہ یہ دجال ہے۔ اسی باطل کا مقابلہ کرنے والے ہر انسان پر واجب ہوتا ہے کہ وہ علم شرعی سے لیس ہو۔ اس نوجوان کو یقین ہوچکا تھا کہ یہی دجال ہے ؛ اور یہ قتل اس کے بغیر کوئی نہیں کرسکے گا۔ اس لیے کہ یہ ایسا نوجوان ہوگا جس نے احادیث پڑھ رکھی ہوں گی۔اور وہ جانتا ہوگا کہ وہی نوجوان آج کے دن کے لیے مطلوب ہے۔
دجال سے جنگ کی تیاری
جیسے کہ اس زمانے کے مومنین کریں گے۔ سیّدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’وہ جہاد کے لیے تیاری کر رہے ہوں گے اور صفوں کو سیدھا کررہے ہوں گے کہ نماز کے لیے اقامت کہی جائے گی اور عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔‘‘ (مسلم)
سیّدناحذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خروج دجال ، مہدی اور ان کے ساتھیوں کی دجال سے جنگ کی تیاری کے متعلق فرمایا:
’’یہاں تک کہ دجال مدینہ آئے گا، وہ اس کے بیرونی علاقے پر غالب آجائے گااور اندرون شہر داخل ہونے سے اسے روک دیا جائے گا۔ پھر (بیت المقدس میں ) جبل (پہاڑ) ایلیاء کے علاقے میں آئے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس کا محاصرہ کرے گی۔ مسلمان بہت سخت کا سامنا کریں گے، پھر ان کاامیر ان سے کہے گا : تم صرف اس سرکش سے قتال کا انتظار کررہے ہو یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملے گا۔ یا اللہ تعالیٰ فتح دے دے۔ وہ آپس میں مشورہ کریں گے، جب صبح کریں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے ساتھ (نازل ہوچکے ) ہوں گے۔‘‘ (مستدرک حاکم)
دجال کے سامنے کے وقت کیا کیا جائے؟
سیّدناابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ بے شک اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان یہ لکھا ہوگا ’’کافر۔‘‘ اس کو ہر ایک مومن (بقدر الٰہی) پڑھ لے گا (خواہ لکھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو ) جو کوئی اسے پائے اسے چاہیے کہ اس کے چہرے پر تھوکے اور سورۂ کہف کی پہلی دس آیات کی تلاوت کرے۔ بے شک اسے بنی آدم میں سے ایک آدمی پر مسلط کیا جائے گا، وہ اسے قتل کرے گا، اور پھر زندہ کرے گا ۔‘‘ (مستدرک حاکم )
ابوقلابہ ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ پھر بے شک تمہارے بعد(یا فرمایا) تمہارے پیچھے ایک گمراہ کذاب (آنے والا)ہے۔ بے شک اس کے سر کے پچھلے حصہ کے بال بہت سخت (اورگھنگھریالے) ہوں گے۔ اور بے شک وہ کہے گا : میں تمہارا رب ہوں ۔ جس کسی نے ( اس کے جواب میں ) یہ کہا : تم جھوٹ بولتے ہو، تم ہمارے رب نہیں ، بلکہ اللہ ہمارا رب ہے۔ اورہم اسی پر توکل کرتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں ؛ اور تجھ سے پناہ مانگتے ہیں ۔ فرمایا: اس انسان پر دجال کوئی راہ نہیں پائے گا۔‘‘ (مسند احمد )
دجال کی ہلاکت شام کے علاقے میں
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ دجال مشرق کی طرف سے آئے گا، اس کا ارادہ مدینہ منورہ کا ہوگا،جب وہ احد کے پہاڑکے پیچھے تک آئے گا، وہاں فرشتے اس کی راہ میں کھڑے ہوں گے، جو اس کا چہرہ شام کی طرف موڑ دے گا۔ وہ وہاں پہنچ کر ہلاک ہوگا ۔‘‘ (مسلم)
دجال کا قاتل
دجال کو قتل کرنے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔ جناب مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ابن مریم دجال کو باب ’’لُد ‘‘کے مقام پر قتل کریں گے ۔‘‘ (مسلم)
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ مسلمان جنگ کے لیے اپنی صفوں کو درست کررہے ہوں اورنماز کے لیے اقامت ہوجائے گی تو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے۔‘‘ (مسلم)
ایک روایت میں اس طرح ہے:’’ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہلکے زرد رنگ کا جوڑا پہنے جامع مسجد دمشق کے سفید مشرقی مینارہ پر اس حالت میں اتریں گے کہ ان کے ہاتھ دو فرشتوں کے بازں پر رکھے ہوں گے۔ جب آپ سر نیچا کریں گے تو ان کے بالوں سے نورانی قطرات ٹپکیں گے ؛ اور جب سر اوپر اٹھائیں گے تو موتیوں کی مثل سفید چاندی کے دانے جھڑتے ہوں گے۔ جس کافر تک آپ کے سانس کی ہوا پہنچے گی، مر جائے گا اور آپ کی سانس کی ہوا حد نگاہ تک پہنچتی ہوگی۔‘‘ (ترمذی)
اس کا معنی یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے دائرہ نگاہ کے نصف کافر مرجائیں گے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر بھی دی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت مسلمان نماز کی تیاری کررہے ہوں گے، ان کا قائد اور امام مہدی ہوگا۔ان کا امام نماز پڑھانے کے لیے مصلے پر جا چکا ہوگا، او روہ صبح کی نماز شرع ہی کرنے والا ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ یہ امام اپنی جگہ سے ایڑیوں کے بل پلٹے گا تاکہ عیسیٰ علیہ السلام نمازپڑھائیں چونکہ وہ افضل ہیں ۔ وہ پیچھے کی طرف جائیں گے۔ مگر عیسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ ان کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھیں گے اور پھر کہیں گے: آگے بڑھیے اور نماز پڑھائیے، بے شک یہ جماعت آپ کے لیے ہی کھڑی کی گئی ہے۔ (یعنی تکبیر تیری ہی امانت کی نیت سے ہوئی تھی۔خیر وہ امام لوگوں کو نماز پڑھائے گا؛ جب نماز سے فارغ ہوگا حضرت عیسیٰ )مسلمانوں سے فرمائیں گے:(جو قلعہ یا شہر میں محصور ہوں گے اور دجال ان کو گھیرے ہوگا) دروازہ قلعہ کا یا شہر کا کھول دو۔ دروازہ کھول دیا جائے گا؛ وہاں پر دجال ہوگا ستر ہزار یہودیوں کے ساتھ جن میں سے ہر ایک کے پاس تلوار ہوگی اس کے زیور کے ساتھ اور چادر ہوگی۔ جب دجال حضرت عیسیٰ کو دیکھے گا تو ایسا گھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتاہے ؛ اور بھاگے گا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام (فرمائیں گے :میری ایک مار تجھ کو کھانا ہے تو اس سے بچ نہ سکے گا) آخر باب لد کے پاس (جو کہ مشرق کی طرف ہے ؛ یہ ایک مشہور جگہ ہے، وہیں پر آج کل یہودیوں کا آرمی بیس کیمپ ہے) اس کو پائیں گے؛ اور اس کو اپنے ہاتھ میں موجود نیزہ ماریں گے، (اورقتل کریں گے)پھر اپنے ساتھیوں کو اپنے نیزے پر اس کے خون کے نشانی دیکھائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ یہودیوں کو شکست دے گا۔ یہ حال ہو جائے گا کہ یہودی اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے جس چیز کی آڑ میں چھپے گا ؛اس چیز کو اللہ بولنے کی طاقت دے گا پتھر ہو یا درخت یا دیوار یا جانور سو ایک درخت کے جس کو غرقد کہتے ہیں (وہ یہودیوں کا درخت ہے ؛ اس لیے نہیں بولے گا ؛جس کی آڑ میں یہودی چھپے گاکہے گی: اے اللہ کے مسلمان بندے! یہ یہودی ہے تو آ اور اس کو مار ڈال)۔‘‘ (ابن ماجہ)
ایک روایت میں سیّدنامجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’یہاں تک کہ دجال مدینہ آئے گا، وہ اس کے بیرونی علاقے پر غالب آجائے گااور اندرون شہر داخل ہونے سے اسے روک دیا جائے گا۔ پھر (بیت المقدس میں ) جبل (پہاڑ) ایلیاء کے علاقے میں آئے گا، مسلمانوں کی ایک جماعت اس کا محاصرہ کرے گی۔ مسلمان بہت سخت کا سامنا کریں گے، پھر ان کاامیر ان سے کہے گا : تم صرف اس سرکش سے قتال کا انتظار کررہے ہو یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جاملے گا۔ یا اللہ تعالیٰ فتح دے دے۔ وہ آپس میں مشورہ کریں گے۔ جب صبح کریں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے ساتھ (نازل ہوچکے ) ہوں گے۔ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھائے گا، اور سمع اللّٰہ لمن حمدہ کہے گا، تواللہ تعالیٰ دجال کو قتل کر ے گا ؛ مسلمان غالب آئیں گے۔ دجال کو قتل کیا جائے گا؛ اس کے ہمراہی شکست کھائیں گے۔ یہاں تک کہ درخت پتھر مٹی کے ٹیلے سب پکار کر کہیں گے : اے مومن ! یہ یہودی میرے پاس ( چھپا ہوا ہے ) آؤ اور اسے قتل کردو۔‘‘ (مستدرک حاکم )
ایک روایت میں ہے:
’’یہاں تک کہ ابن مریم دجال کو باب ’’لُد ‘‘ کے مقام پر قتل کریں گے ۔‘‘ (مسلم)
پھر عیسیٰ علیہ السلام ایک ایسی قوم کے پاس آئیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے دجال کے شر سے محفوظ رکھا ہوگا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے چہروں سے غبار صاف کریں گے، اورانہیں جنت میں ان کے درجات بیان کریں گے۔ وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کریں گے :
’’بے شک میں نے اپنے ایسے بندوں کو نکالا ہے جن سے جنگ کرنے پر کسی کا بس نہیں چلے گا ؛ پس میرے بندوں کو لے کر طور کی طرف چلے جاؤ۔‘‘ (دیکھیں قیامت کی بڑی نشانیاں نمبر ۴)
یعنی اس وقت یاجوج ماجوج نکل پڑیں گے۔ جن کا تفصیلی ذکر آگے آرہا ہے۔
دجال پر سب سے بھاری انسان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بنو تمیم کے حق میں تین باتیں سنی ہیں انہیں برابر دوست رکھتا ہوں ، بنو تمیم میری امت میں دجال کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت ہیں ۔‘‘
جب ان کے صدقات کا مال آیا تو آپ نے فرمایا :’’یہ میری قوم یا فرمایا قوم کا صدقہ ہے۔‘‘
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس قوم کی ایک باندی تھی ،تو آپ نے فرمایا :’’اسے آزاد کردو کیوں کہ یہ اولاد اسماعیل میں سے ہے ۔‘‘ (متفق علیہ)
عکرمہ بن خالد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی نے مجھے بیان کیا : ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنو تیمیم کا ذکرکیا گیا تو ایک آدمی نے کہا : اس قبیلے نے اس حکم میں بنو تیمیم سے دیر کی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید (قبیلے)کی طرف دیکھا تو کہا: ان لوگوں سے زیادہ کسی قوم نے دیرنہیں کی ، اور آدمی نے کہا: اس قوم نے بنو تیمیم سے صدقات میں دیر کی ہے۔ تو بنو تمیم کے لیے سرخ اور سیاہ اونٹ انعام کے طور پر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ میری قوم کی دولت ہے ۔ ‘‘ بنو تمیم کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا: ’’ بنو تمیم کے لیے خیر کے سوا کچھ نہیں ، وہ نیزوں کے لحاظ سے دجال پر زیادہ لمبے ہیں ۔‘‘ (یعنی ان کے نیزے زیادہ لمبے ہوں گے)‘‘
خروج دجال کے منکرین
پرانے دور میں بعض گمراہ فرقوں نے دجال کا انکار کیا ہے جیسے جہمیہ اور معتزلہ۔ جدید دور میں جن لوگوں نے دجال کا انکار کیا ہے، ان میں سے :
شیخ محمد عبدہ :ان کا کہنا ہے کہ دجال دجل و فریب، خرافات اور شعبدہ بازی سے کنایہ ہے۔ (ان کا یہ قول رشید رضا نے تفسیر منار ۳/۳۱۷ پر نقل کیا ہے ) محمد عبدہ بن حسن خیر اللہ آل ترکمانی ؛ اپنے زمانے میں مصر کے مفتی اعظم تھے۔۱۹۰۵ ء میں اسکندریہ میں انتقال ہوا، اور قاہرہ میں تدفین ہو ئی۔ (الاعلام از زرکلی: ۶/۲۵۲)
محمد فہیم ابو عیبۃ :انہوں نے ابن کثیر رحمہ اللہ کی کتاب ’’ الفتن و الملاحم ‘‘ میں دجال کے بارے میں احادیث پر تعلیق لگاتے ہوئے کہا ہے : ’’یہ شر اور فساد کا پھیل جانا (مراد )ہے ۔‘‘ (کتاب الفتن والملاحم کی تحقیق ۱/۱۱۸)
بعض دوسرے لوگ :بعض لوگوں نے کہا ہے : دجال ظاہر تو ہو گا، مگر اس کے ساتھ جنت و جہنم نہیں ہوں گے۔ اس قول کے کہنے والوں میں سے محمد رشید رضا بھی ہیں ۔[1]
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
’’سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا:
’’ خبردار تمہارے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو رجم، دجال، شفاعت اور عذاب قبر کو جھٹلائیں گے؛ او ران لوگوں کا انکار کریں گے جنہیں جہنم کے عذاب سے کوئلہ ہوجانے کے بعد نکالا جائے گا۔‘‘ (مسند احمد )
رجم کو جھٹلائیں گے : یعنی شادی شدہ زانی کے لیے شرعی حد سنگسار کا انکار کریں گے۔
جہنم کے عذاب سے کوئلہ ہوجانے: یعنی موحدین کے ایک گروہ کے لیے شفاعت کا انکار کریں گے، جنہیں جہنم میں ڈالا گیا ہوگا ؛ کہ انہیں (کسی بھی سبب کی بنا پر) جہنم سے نکالا جائے گا۔
خاتمہ کلام
آخر میں پانچ مسائل بیان کرتے ہوئے دجال کے بارے میں اپنی گفتگو کو ختم کروں گا۔
۱۔ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دوں جو تمہارے بارے میں مجھ پر مسیح دجال سے زیادہ خوفناک ہے ؟ (وہ ) شرک خفی ہے۔ یہ کہ کوئی آدمی کھڑا ہو اورنماز پڑھے، وہ اپنی نماز کو صرف اس لیے مزین کرے کہ کوئی آدمی اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہا ہے ۔‘‘ (مسند احمد )
پس ریاکاری ایک بہت ہی خطرناک معاملہ ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی انسان کوئی نیک عمل اس لیے کرے کہ لوگ اسے دیکھیں اور اس کی تعریف کریں ۔ ریاکا ری خفیہ شرک ہے، جس سے نیک اعمال تباہ ہوجاتے ہیں ۔ قیامت کے دن ریاکاروں سے کہا جائے گا: ’’ ان لوگوں کے پاس چلے جاؤ جنہیں تم دنیا میں اپنے اعمال دیکھایا کرتے تھے؛ دیکھو کیا تم ان کے پاس کوئی بدلہ پاتے ہو ؟ ۔‘‘ (مسند احمد )
۲۔ سیّدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ دجال کے علاوہ جن کے بارے میں مجھے اپنی امت پر دجال سے بڑھ کر خوف ہے، وہ گمراہ ائمہ ہیں ۔‘‘ (مسند احمد ، سلسلۃ الصحیحہ : ۱۹۸۹)
امت پر گمراہ ائمہ اور قیادت کا خطرہ بہت بڑا ہے۔ جب لوگوں کے بڑے اورسردار لوگ باقی عوام جن کے سائے میں چلتے ہوں ، وہ خود گمراہ ہوں تو جو ان کے نیچے کے لوگ ہوں گے، وہ خود بخود گمراہ ہوجائیں گے۔ گمراہ ائمہ سے مراد کبھی دنیاوی امام لیے جاتے ہیں جیسے بادشاہ، شہزادے، سردار اور وزیر۔ کبھی ان سے مراد دینی ائمہ ہوتے ہیں : جیسے علماء، دعاۃ وغیرہ۔ جب لوگ گمراہ ائمہ کے پاس آنا جانا شروع کردیں گے تو تمام کے تمام لوگ گمراہ ہوجائیں گے۔
۳۔ سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ ایسا رہے گا جو حق پر قتال کرتا رہے گا، وہ اپنے مخالفین پر غالب رہیں ، یہاں تک کہ ان کا آخری انسان مسیح دجال سے جنگ کرے گا ۔‘‘ ( مسند احمد ، ابو داؤد )
۴۔ فتنوں کے وقت ثابت قدم رہنا شریعت کے اصولوں میں سے ہے، اسی لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کا ذکر کیا تو فرمایا : ’’اے اللہ کے بندو ! ثابت قدم رہو ۔‘‘ (مسلم)
ہمیں چاہیے کہ ہم بد شگونی نہ لیں اور فتنوں کے بارے وارد احادیث پر اپنے ایمان میں کمزور نہ ہونے دینے۔ بلکہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارا ایمان اور زیادہ ہو ؛ اور ہمیں ثابت قدمی نصیب ہو۔
۵۔ دجال کے بارے میں وارد احادیث میں ہم ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ آخری زمانے میں جنگ سفید اسلحہ سے ہوگی۔ سفید اسلحہ سے مراد تیر و تلوار نیزے اورگھوڑے وغیرہ ہیں ۔