عیسیٰ علیہ السلام کانزول
عیسیٰ علیہ السلام کانزول
کچھ اس باب کے متعلق
عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبیوں میں سے ایک اولو العزم اور مقرب نبی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس خاصیت سے نوازا تھا کہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ محترمہ حضرت مریم علیہاالسلام بھی کئی صلاحیتوں کی وجہ سے ایک ممتاز مقام رکھتی تھی۔ وہ محراب میں اللہ کی بندگی کرتی رہتی۔ اور اللہ تعالیٰ اسے روزی دیتا۔ فرمان الٰہی ہے:
’’ جب زکریا مریم کے پاس حجرے میں جاتا تو وہاں کھانا موجود پاتا (بے فصل کا میوہ) پوچھا اے مریم! یہ کھانا تیرے پاس کہاں سے آتا ہے؟ مریم نے جواب دیا: اللہ کے پاس سے آتا ہے۔ بے شک اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب روزی دیتاہے۔‘‘ ( آل عمران: ۳۷)
زکریا علیہ السلام نے بی بی مریم کے لیے مسجد میں ایک مقام خاص کردیا تھا ؛ جہاں ان کے علاوہ کوئی اور نہیں جاتا تھا۔ اس گوشے میں بی بی مریم شب و روز اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتی رہتی تھیں ۔ حضرت زکریا علیہ السلام جب بھی ان کی عبادت کی جگہ بی بی مریم کے پاس تشریف لے جاتے تو دیکھتے کہ ان کے پاس گرمیوں کا پھل سردیوں کے موسم میں موجود ہے۔ اور سردیوں کا پھل گرمیوں میں ۔تو آپ پوچھتے : یہ کھانا تیرے پاس کہاں سے آتا ہے؟ تو بی بی مریم جواب دیتی:’’ اللہ کے پاس سے آتا ہے۔‘‘یعنی یہ اللہ کا رزق ہے جو اس نے مجھے دیا ہے:’’بے شک اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب روزی دیتاہے۔‘‘فرشتوں نے بی بی مریم رضی اللہ عنہا کو بشارت دی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’اور جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! اللہ تعالیٰ نے تجھے برگزیدہ کر لیا اور تجھے پاک کر دیا اور سارے جہان کی عورتوں میں سے تیرا انتخاب کر لیا۔اے مریم تم اپنے رب کی اطاعت کرو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔‘‘ (آل عمران :۴۲۔۴۳)
اللہ تعالیٰ بیان فرمارہے ہیں کہ بے شک ملائکہ نے بی بی مریم کو اس زمانے کی سب عورتوں میں سے ؛ اللہ کے ہاں ان کے چنے جانے کے متعلق خبر دی۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ایسے بیٹے کی پیدائش کے لیے چن لیا ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوگا۔اور یہ بھی بشارت دی کہ وہ بچہ ایک محترم نبی ہوگا جو…
’’ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی ۔‘‘ (آل عمران: ۴۶)
یعنی چھوٹی عمر میں بھی انہیں اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف دعوت دے گا۔اور ایسے ہی اپنی ادھیڑ عمر میں بھی۔ یہ آیت اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ آپ ادھیڑ عمر کو پہنچیں گے، اور اس وقت بھی لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں گے۔ انہیں کثرت کے ساتھ عبادت کرنے رکوع و سجود کرنے کا حکم دیا گیا تھا تاکہ آپ اس کرامت کو پانے کی اہل ہوسکیں ؛ اور اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں ۔ کہا جاتا ہے کہ آپ جب نماز میں کھڑی ہوتیں تو اتنی دیر کھڑی رہتی کہ آپ کے پاؤں پھٹ جاتے۔اللہ تعالیٰ ان پر اوران کے ماں باپ پر رحم کرے۔
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے (اتباع و اقتدا کرنے) کے لیے چار عورتیں ہی کافی ہیں ۔ مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اور فرعون کی بیوی آسیہ۔‘‘ (یہ حدیث صحیح ہے۔)
حضرت مریم علیہا السلام کے حمل کا قصہ
جب ملائکہ نے حضرت مریم علیہا السلام سے گفتگو کی، اورانہیں ان کے منتخب کیے جانے کے بارے میں خبر دی، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایک ایسا پاکباز بچہ دے گا جو کہ ایک نبی ہوگا، پاک او رعزت والا ہوگا۔اور معجزات سے اس کی تائید کی جائے گی تو آپ کو باپ کی موجودگی کے بغیر بچہ ہونے کی خبر پر تعجب ہوا۔ اس لیے کہ آپ کا شوہر نہیں تھا۔ سوملائکہ نے انہیں بتایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اور جب وہ کسی چیز کے بارے میں فیصلہ کرلیتا ہے تو اس سے کہتا ہے ہو جا، اور وہ ہوجاتی ہے۔
وہ اس پر دل برداشتہ ہوئیں ، توبہ کی، اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا۔ آپ جانتی تھیں کہ اس میں ان کے لیے بہت بڑی آزمائش ہے۔ اور اس وجہ سے لوگ آپ پر باتیں بنائیں گے، اس لیے کہ ان کوحقیقت کی خبر نہیں ۔ بلکہ وہ ظاہری حالت کی طرف بغیر کسی تدبر و تفکر کے دیکھتے ہیں ۔
آپ مسجد سے صرف حیض کے دوران یا کسی ضروری حاجت جیسے پانی یا غذا کے حصول کے لیے نکلتی تھیں ۔
آپ مسجد سے کسی کام سے نکلیں ؛ اور اکیلی دور چلی گئیں ، یعنی مسجد اقصیٰ کے مشرقی حصہ میں اکیلی گوشہ نشین ہوگئیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف جبرئیل امین کو بھیجا ؛ جو(ان کے سامنے ایک بشر کی صورت میں پیش ہوئے ) جب مریم نہیں انہیں دیکھا تو کہا: ’’میں تجھ سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو کچھ بھی اللہ سے ڈرنے والا ہے۔‘‘ (مریم) یعنی اگر تو متقی انسان ہے، اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتا ہے تو اپنے متعلق میری اس پناہ کو قبول کر، اورمجھ سے دور ہوجا۔ تو اس نے جواب دیا کہ’’ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں ، تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں ۔‘‘ فرشتے نے ان سے یہ کہتے ہوئے خطاب کیا: ’’ میں انسان نہیں ہوں ، بلکہ میں ایک فرشتہ ہوں ، جسے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، تا کہ میں تمہیں ایک پاکیزہ بچہ دوں ۔‘‘ تو کہنے لگیں : ’’بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘ میرے ہاں بچہ کیسے ہوسکتا ہے جب کہ ’’مجھے تو کسی انسان کا ہاتھ تک نہ لگا اور نہ میں بدکار ہوں ۔‘‘ یعنی نہ ہی تو میرا شو ہر ہے، اورنہ ہی میں فحاشی کے کام کرنے والی ہوں ۔ تو فرشتے نے کہا بات تو یہی ہے، لیکن تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ ’’وہ مجھ پر بہت ہی آسان ہے۔‘‘ یعنی فرشتے نے ان کے تعجب پر جواب دیتے ہوئے کہا : یہ تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے، بے شک وہ تم سے ایک بچہ پیدا کرے گا۔ اورایسا کرنا اس پر بہت آسان ہے۔ اوروہ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ اور اس کا فرمانا ہے: ’’ ہم تو اسے لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دیں گے۔‘‘ تاکہ اس کی پیدائش ہماری کمال قدرت کی دلیل بن جائے، اس لیے کہ
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا۔
اماں حوا کو بغیر عورت کے پیدا کیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر مرد کے پیداکیا۔
اور باقی تمام مخلوق کومردو عورت سے پیدا کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’مریم بنت عمران کی جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی پھر ہم نے اپنی طرف سے اس میں جان پھونک دی۔‘‘ (التحریم: ۱۲)
یعنی جبرئیل امین نے ان کے گلے میں پھونک ماری، یہ پھونک ان کی حیا تک اتر گئی۔ جس کے فوراً بعد انہیں ایسے حمل ہوگیا جیسے عورت کوشوہر سے ہم بستری کرنے کے بعد حمل ہوتا ہے۔ جب روح پھونکی گئی تو فرشتہ ان کی حیا کے سامنے نہیں آیا، بلکہ اس نے قمیض گلے سے نیچے کی طرف پھونک ماری؛ جو کہ نیچے تک پہنچ گئی۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ہم نے اپنی طرف سے اس میں جان پھونک دی۔‘‘ پھر فرمایا:
’’پس وہ حمل سے ہوگئیں اور اسی وجہ سے وہ یکسو ہو کر ایک دور کی جگہ چلی گئیں ۔‘‘ (مریم: ۲۲)
اس لیے کہ مریم علیہا السلام جب حمل سے ہوگئیں تو وہ بہت گھٹن محسوس کرنے لگیں ، اس لیے کہ آپ جانتی تھیں کہ اب لوگ ان کے بارے میں باتیں بنائیں گے۔ جب ان پر حمل کے آثار ظاہر ہوگئے ؛ تو لوگوں سے چھپ کر ایک دور کی جگہ میں گوشہ نشین ہوگئیں ۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’پھر درد زہ اسے ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا، بولی کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہو جاتی۔‘‘ ( مریم: ۲۳)
یعنی درد کی شدت کی وجہ سے بیت اللحم میں کھجور کے تنے کے پاس چلی گئی اور موت کی تمنا کرنے لگی۔ اس لیے کہ آپ کو علم تھا کہ لوگ انہیں جھٹلائیں گے،او ران کی بات کی تصدیق نہیں کریں گے۔ بلکہ جب وہ اپنے ہاتھوں میں ایک بچہ لیے ہوئے جائیں گی تو لوگ ان پر تہمتیں لگائیں گے۔
آپ ان لوگوں میں مسجد میں عبادت کرنے والی عابدہ و زاہدہ خاتون تھی۔ جن کا تعلق خاندان ِ نبوت کے ایک دین دار گھرانے سے تھا۔ جب حاملہ ہوگئیں تو اسی وجہ سے موت کی تمنا کریں لگیں ، اگر انہیں اس حال پر پہنچنے سے پہلے موت آجاتی ؛ وہ پیدا ہی نہ ہوئی ہوتیں :
’’اتنے میں اسے نیچے سے ہی آواز دی کہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آواز دی:) آزردہ خاطر نہ ہو، تیرے رب نے تیرے پاؤں تلے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، یہ تیرے سامنے ترو تازہ پکی کھجوریں گرا دے گا۔ اب چین سے کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔اگر تجھے کوئی انسان نظر پڑ جائے تو کہہ ینا کہ: میں نے اللہ رحمان کے نام کا روزہ رکھا ہے۔ میں آج کسی شخص سے بات نہ کروں گی۔ ‘‘ (مریم)
یعنی کھاؤ اور پیو، پھر اپنے بچے کو اٹھا کر اپنی قوم کے پاس چلی جاؤ۔ اگر لوگوں میں سے کوئی ایک تجھے دیکھے تو منہ سے نہیں بولنا، بلکہ اشارے سے کہہ دینا میں نے اللہ کے لیے خاموشی کا روزہ رکھا ہوا ہے، (لہٰذا میں کسی سے بات نہیں کروں گی)۔ ’’اب حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام )‘‘ کو لیے ہوئے وہ اپنی قوم کے پاس آئیں ۔ سب کہنے لگے: مریم تو نے بڑی بری حرکت کی۔اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی۔‘‘ (مریم)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام گود میں گفتگو کرتے ہیں
جب مریم علیہا السلام پر گھٹن بہت سخت ہوگئی ؛ اور قوم کی باتیں بہت گراں گزریں تو’’مریم نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کیا۔‘‘کہ اس بچے سے بات کرو، (یہ خود تمہیں جواب دے گا)اس پر وہ سب کہنے لگے :’’ لو بھلا ہم گود کے بچے سے باتیں کیسے کریں ؟‘‘ یعنی تم کیسے اشارہ کرتی ہو کہ بچے سے بات کرو، جو دودھ پیتا بچہ ہے جسے کسی چیز کی کوئی تمیز نہیں ۔ اس وقت ’’بچہ بول اٹھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں ۔ اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے۔اور اس نے مجھے بابرکت کیا ہے جہاں بھی میں ہوں ، اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے جب تک بھی میں زندہ رہوں ۔ اور اس نے مجھے اپنی والدہ کا خدمت گزار بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بد بخت نہیں کیا۔اور مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوبارہ زندہ کھڑا کیا جاں گا، سلام ہی سلام ہے۔‘‘ (مریم: ۲۹۔۳۳)
یہ پہلے جملے ہیں جو عیسیٰ نے اپنی زبان سے ادا کیے۔ ’’انہوں نے کہا:میں اللہ کابندہ ہوں ۔‘‘یہ نہیں کہا کہ میں اللہ کا بیٹا ہوں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ نہ ہی اس نے کسی کو بیوی بنایا ہے اورنہ ہی بیٹا۔ پاکیزگی ہے اس ذات کے لیے جس نے مخلوق کو پیدا کیا اور پھر انہیں اچھا کیا، اور ہرجی کو ہدایت دی۔
یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’یہ ہے صحیح واقعہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا، یہی ہے وہ حق بات جس میں لوگ شک شبہ میں مبتلا ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد کا ہونا لائق نہیں ، وہ بالکل پاک ذات ہے، وہ تو جب کسی کام کے سر انجام دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا، وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔‘‘ ( مریم: ۳۴۔۳۵)
نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کی مثال ہوبہو آدم علیہ السلام کی مثال ہے جسے مٹی سے بنا کر کے کہہ دیا کہ ہوجا پس وہ ہوگیا۔‘‘ (آل عمران:۵۹)
اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام پر بڑا انعام کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’جب کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم ! میرا انعام یاد کرو جو تم پر اور تمہاری والدہ پر ہوا جب میں نے تم کو روح القدس علیہ السلام سے تائید دی۔ تم لوگوں سے کلام کرتے تھے گود میں بھی اور بڑی عمر میں بھی جب کہ میں نے تم کو کتاب اور حکمت کی باتیں اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی اور جب کہ تم میرے حکم سے گارے سے ایک شکل بناتے تھے جیسے پرندے کی شکل ہوتی ہے، پھر تم اس کے اندر پھونک مار دیتے تھے جس سے وہ پرندہ بن جاتا تھا میرے حکم سے اور تم اچھا کر دیتے تھے مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو میرے حکم سے جب کہ تم مردوں کو نکال کر کھڑا کر لیتے تھے میرے حکم سے ؛ اور جب کہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے؛ پھر ان میں جو کافر تھے انہوں نے کہا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں ۔ اور جب کہ میں نے حواریوں کو حکم دیاکہ : تم مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لا انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور آپ شاہد رہئے کہ ہم پورے فرماں بردار ہیں ۔‘‘ (المائدہ: ۱۱۰۔۱۱۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دیتے ہیں :
’’اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا اے میری قوم، بنی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے والا ہوں جن کا نام احمد ہے۔ پھر جب وہ ان کے پاس کھلی دلیلیں لائے تو کہنے لگے، یہ تو کھلا جادو ہے۔‘‘ (الصف :۶)
عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی ہیں ۔انہوں نے اپنی قوم کو اس خاتم النبیین کی خبر دی تھی جو تمام قوموں کی طرف آئیں گے اور انہوں نے اس نبی کانام بھی بتایا۔ان کی کچھ صفات بھی بیان کیں تاکہ وہ انہیں پہچان لیں اوران کی اتباع کریں اور گواہی دیں ۔ تاکہ ان لوگوں پر حجت قائم ہوجائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر احسان تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’جو لوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں وہ ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو حلال بناتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے ان کو دور کرتے ہیں ۔ سو جو لوگ اس نبی پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں ۔‘‘ (الاعراف: ۱۵۷)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہمیں کچھ اپنے بارے میں بتائیں ؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں ، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں ،جب میرے ماں مجھ سے حمل سے ہوئیں تو انہوں نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام میں بصری کے محل روشن ہوگئے ۔‘‘ (مسند احمد)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر اٹھایا جانا
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی (مکر) خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ بہتر جاننے والا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں ۔‘‘ (آل عمران: ۵۴۔۵۵)
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
’’اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا حالانکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا ؛ بلکہ ان کے لیے (عیسیٰ) کا شبیہ بنا دیا گیا تھا ؛یقین جانو کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام ) کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں ، انہیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے ؛ اتنا یقینی ہے کہ انہوں نے انہیں قتل نہیں کیابلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔اور اللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والا ہے۔اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لا چکے۔ اور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘ (النساء: ۱۵۷۔۱۵۹)
اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ بے شک عیسیٰ علیہ السلام کو نیند کی حالت میں آسمانوں کی طرف اٹھایا گیا ہے، اور ان لوگوں سے آپ کو نجات دی ہے جو یہودی آپ کوتکلیف دینے کا ارادہ رکھتے تھے ؛ جنہوں نے اس وقت کے بادشاہ کے پاس جا کر آپ کی شکایتیں لگائی تھیں ۔ پس اس بادشاہ نے آپ کو قتل کرنے اور سولی چڑھانے کا حکم دیا۔ انہوں نے بیت المقدس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گھر کا گھیراؤ کر لیا۔ جب آپ کو گرفتار کرنے کے لیے گھر کے اندر داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت موجود ان کے ساتھیوں میں سے ایک کو آپ کی شکل میں تبدیل کردیا۔اور عیسیٰ علیہ السلام کو گھر کی دیوار میں موجود ایک روشندان سے آسمانوں پر اٹھالیا اور گھر والے آپ کو اوپر جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
جب پولیس والے گھر میں داخل ہوئے تو انہیں وہاں پر وہی نوجوان ملا جو آپ کی شکل کے مشابہ کردیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ سوچ کر اسے پکڑ لیا کہ یہی عیسیٰ ہے۔ انہوں نے اس کوپھانسی دے دی۔ اور اسے ذلیل کرنے کے لیے اس کے سر پر کانٹے ڈالے۔ اوروہ عیسائی جنہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ کا مشاہدہ نہیں کیا تھا، یا اس وقت وہاں پر موجود نہ تھے، انہوں نے یہودیوں کے سامنے سر تسلیم خم کرلیا۔ اس کی وجہ سے وہ کھلم کھلا گمراہ ہوئے، اور بہت دور کی فحاشی میں جاگرے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں خبر دی ہے :’’اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لا چکے۔‘‘ یعنی آخری زمانے میں قیامت سے پہلے ؛ان کے زمین پر نازل ہونے کے بعد۔ بے شک آپ ضرور نازل ہوں گے۔ خنزیر کوقتل کریں گے، اور صلیب کو توڑ ڈالیں گے، جزیہ ختم کردیں گے، اور لوگوں سے اسلام کے علاوہ کچھ بھی قبول نہ کریں گے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام مسیح رکھنے کی وجہ ؟
مسیح ’’ فعیل ‘‘ کے وزن پر ہے، اس سے مراد کبھی فاعل لیا جاتا ہے، یعنی مسح کرنے والا اور کبھی اس سے مراد مفعول ’’ممسوح ‘‘ لیا جاتا ہے، یعنی جس کو چھوا گیا ہو۔
حضرت عیسیٰ کو مسیح بمعنی مسح کرنے والے کے اس لیے کہتے ہیں کہ :
’’آپ کسی بھی بیماری والے کوچھوتے تھے تو اسے صحت مند کردیتے تھے۔یہی آپ کایہ نام رکھنے کی ظاہری وجہ ہے۔اورکہاگیا ہے کہ’’ ممسوح ‘‘ اس لیے نام رکھا گیاہے کہ جب آپ پیداہوئے تو آپ کوتیل لگاہوا تھا۔
یہ بھی کہاگیا ہے : ’’اس لیے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے آپ کو چھوا تھا۔ ‘‘
اور یہ بھی کہاگیا ہے : ’’اس لیے کہ آپ نے ساری زمین کو مسح کیا۔( یعنی سیاحت کی تھی )
یہ بھی کہا گیا ہے : آپ کی پنڈلی پر ابھرا ہوا گوشت نہیں تھا، بالکل برابر تھی؛ اس لیے مسیح کہا گیا ہے۔ (تاج العروس للزبیدی: ۱/۱۷۵۰)
اور کہا گیا ہے : مسیح بمعنی صدیق، ( دوست کے معنی میں ہے )
(انہوں نے)آپ کو قتل نہیں کیا
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو موت نہیں آئی بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ اس موقع پر کچھ ایسی آیات ہیں جن کے معانی لوگوں پر مشتبہ ہوجاتے ہیں ۔
۱۔ ’’جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے عیسی!میں تجھے پورا لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے تابعداروں کو کافروں کے اوپر غالب کرنے والا ہوں ۔‘‘
( آل عمران:۵۵)
تجھے پورا لینے والاہوں : اس کے لیے قرآن میں لفظ استعمال ہوا ہے : ﴿إِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ﴾ یہ حقیقی وفات کے معنی میں نہیں جیسا کہ بعض منکرین دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔بلکہ یہ نیند کے معنی میں ہے جیسے کہ فرمان الٰہی ہے:
’’اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے۔‘‘ ( الزمر: ۴۲)
نیز فرمان الٰہی ہے:
’’اور وہ ایسا ہے کہ رات میں تمہاری روح کو (ایک گونہ) قبض کر دیتا ہے۔‘‘ ( انعام: ۶۰)
اس آیت ﴿إِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ﴾کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ : میں تجھے جمع کرنے والا ہوں اور اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں ۔ عرب کہتے ہیں : ((توفّٰی فلان دینہ )) فلاں نے اپنا قرض پورا پورا لے لیا۔ جب وہ اسے اپنے قبضہ میں لے لے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں دونوں معانی پائے جائیں ، کوئی چیز اس میں مانع نہیں ۔
۲۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
’’ہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لا چکے اور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘ (النساء: ۱۵۹)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا : ﴿قَبْلَ مَوْتِہٖ﴾ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ؛ یعنی آخری زمانے میں آپ کے آسمانوں سے نازل ہونے کے بعد کوئی بھی اہل کتاب ایسا نہیں رہے گا جو آپ پر ایمان نہ لائے۔اس لیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام لوگوں سے اسلام کے علاوہ کچھ بھی قبول نہیں کریں گے۔ اور کوئی بھی کافر باقی نہیں بچے گا جس تک آپ کی سانس پہنچے مگر وہ مر جائے گا۔ (اس کے بارے میں آگے تفصیل کے ساتھ آرہا ہے)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ﴿قَبْلَ مَوْتِہٖ﴾ اس کی موت سے پہلے، اس سے مراد اہل کتاب کا آدمی ہے، یعنی اہل کتاب میں سے جب بھی کسی کی موت کا وقت قریب آجاتاہے، تو اس کے لیے موت کے وقت یہ واضح ہوجاتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول اور بشر ہیں ۔ معبود نہیں ہیں ۔ پس کتابی (اہل کتاب ) مرنے سے پہلے آپ کی تصدیق کرے گا۔ اگرچہ اس وقت کا ایمان لانا اسے کوئی بھی فائدہ نہیں دے گا، اس لیے کہ سانس اکھڑ جانے کے بعد توبہ کرنا فائدہ نہیں دیتا۔
سوال: …حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں اور باقی انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگیوں میں کیا فرق ہے ؟ حدیث میں آتا ہے:’’انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں ۔‘‘ (سنن الکبری للبیہقی)
جواب :…عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی یہ ہے کہ انہیں آسمانوں کی طرف اٹھایا گیا ہے۔ آپ اپنے روح اور جسد کے ساتھ آسمانوں میں حقیقی زندگی گزار رہے ہیں ۔ جب کہ باقی انبیاء کرام علیہم السلام کی قبروں میں زندگی ایک خاص قسم کی برزخی زندگی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں کہ انہیں قبر میں داخل کیا گیا ہو، یا انہیں برزخی زندگی حاصل ہو۔ وہ اللہ کے پاس آسمانوں میں اپنے جسد اور روح کے ساتھ موجود ہیں ۔
جب کہ باقی انبیاء کرام علیہم السلام انہوں نے سکرات موت کو دیکھ لیا ؛ ان کی روحیں ان کے بدنوں سے جدا ہوچکیں ۔ ان کے لیے قبروں میں ایک خاص قسم کی زندگی ہے۔ ( جس کی حقیقی کیفیت کا ادراک ہمیں اس دنیا میں نہیں ہوسکتا )
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے پر دلائل
اس سے پہلے گزر چکا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پراس وقت اٹھالیا جب یہودی آپ کو قتل کرنے کی نیت سے آئے۔اور شرعی دلائل بھی اس پر دلالت کرتے ہیں کہ عنقریب آخری زمانے میں آپ نازل ہوں گے۔ اور آپ کا نازل ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اورآخری زمانے میں آپ کے نازل ہونے کی دلیلیں کثرت کے ساتھ ہیں ۔ ان میں سے :
قر آن سے دلائل:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی تو اس سے تیری قوم چیخنے لگی ہے۔اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں جھگڑالو۔عیسیٰ ( علیہ السلام ) بھی صرف بندہ ہی ہے جس پر ہم نے احسان کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے نشان قدرت بنایا۔ اگر ہم چاہتے تو تمہارے عوض فرشتے کر دیتے جو زمین میں جانشینی کرتے۔ اور یقینا عیسی( علیہ السلام ) قیامت کی نشانی ہے پس تم (قیامت)کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو یہی سیدھی راہ ہے۔‘‘ (الزخرف: ۵۷۔۶۱)
اللہ تعالیٰ کا فرمان:’’یقینا عیسی( علیہ السلام ) قیامت کی نشانی ہے۔‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں ۔ جو کہ قیامت کے عنقریب واقع ہونے کی دلیل ہیں ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے : ’’یقینا عیسی( علیہ السلام ) قیام کی نشانی ہے پس تم (قیامت)کے بارے میں شک نہ کرو۔‘‘یعنی میرے بارے میں شک نہ کرو ’’اور میری تابع داری کرو یہی سیدھی راہ ہے۔ ‘‘
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
’’ یقینا عیسی( علیہ السلام ) قیامت کی نشانی ہے‘‘… یعنی قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا نازل / خارج ہونا قیامت کی نشانی ہے ۔‘‘ (مسند احمد)
امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’اس کا معنی یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا ظاہر ہونا ایسی نشانی ہے جس کی وجہ سے قیامت کا قریب ہونا جان لیں گے۔اس لیے کہ آپ کا ظہور قیامت کی نشانیوں میں سے اور آپ کا زمین پر نازل ہونا دنیا کے ختم ہونے او ر آخرت کے واقع ہونے کی دلیل ہے۔‘‘
٭ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا حالانکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا ؛ بلکہ ان کے لیے (عیسی) کا شبیہ بنا دیا گیا تھا ؛یقین جانو کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام ) کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں ، انہیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے ؛ اتنا یقینی ہے کہ انہوں نے انہیں قتل نہیں کیا۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیااور اللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والا ہے۔اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لا چکے۔ اور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘ (النساء: ۱۵۷۔۱۵۹)
اللہ تعالیٰ کا فرمان: ’’جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لا چکے۔‘‘ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ اس سے مراد جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں ۔ (تفسیر طبری: ۹/۳۷۹، تفسیر بغوی: ۲/۳۰۷، تفسیر ابن کثیر: ۱/۴۸۷ )
ابو مالک : اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’بے شک ہر ایک اہل کتاب اس کے مرنے سے پہلے اس پر ایمان لائے گا‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :’’ یہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ہوگا، جب کوئی بھی اہل کتاب آپ پر ایمان لائے بغیر نہیں رہے گا۔‘‘ (طبری: ۹/۳۸۰)
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ معاملہ ایسے نہیں تھا، بلکہ ان پر مشتبہ کردیا گیا۔ پس انہوں نے اس آدمی کو قتل کردیا جس کو حضرت عیسیٰ کا شبیہ بنادیا گیا تھا۔ اوروہ اس میں تمیز نہ کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھالیا ہے۔ اور آپ زندہ وسلامت موجود ہیں ۔ آپ قیامت سے پہلے نازل ہوں گے، جیسا کہ احادیث متواترہ اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ جنہیں ہم عنقریب بیان کریں گے۔ آپ گمراہی کے مسیح یعنی دجال کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ دیں گے ؛ خنزیر کو مار ڈالیں گے۔ اور جزیہ لینا بند کردیں گے۔ یعنی کسی بھی دوسرے دین و الے سے جزیہ قبول نہیں کریں گے۔ بلکہ اسلام یا تلوار کے علاوہ کسی سے کچھ بھی قبول نہیں کریں گے۔ اس آیت میں خبر دی گئی ہے کہ اس وقت تمام اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے اورآپ کی تصدیق سے ان میں کوئی ایک بھی پیچھے نہیں رہے گا۔‘‘ (ابن کثیر: ۲/۴۵۴)
سنت سے دلائل
سیّدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہم باہم گفتگو کر رہے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم کس بات کا تذکرہ کر رہے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا:’’ ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں ۔‘‘’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’وہ ہرگز قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم اس سے پہلے دس علامات دیکھ لوگے۔‘‘ پھر آپ نے ذکر کیا:
۱۔ دھواں ۲۔دجال
۳۔ دابۃ الارض(چوپایہ ) ۴۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
۵۔سیّدنا عیسیٰ بن مریم کا نازل ہونا ۶۔ یاجوج وماجوج
تین جگہوں کے دھنسنے کے واقعات:
۷۔ ایک دھنسنا مشرق میں
۸۔ ایک دھنسنا مغرب میں
۹۔ ایک دھنسنا جزیرۃ العرب میں ۔ (مسلم)
٭ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے !عنقریب ابن مریم تمہارے درمیان نازل ہوں گے انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے والے ہوں گے صلیب توڑ ڈالیں گے خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے جزیہ ختم کر دیں گے (کیوں کہ اس وقت سب مسلمان ہوں گے)اور مال بہتا پھرے گا حتی کہ کوئی اس کا لینے والا نہ ملے گا اس وقت ایک سجدہ دنیا و مافیھا سے بہتر سمجھا جائے گا، پھر ابوہریرہ کہتے ہیں اگر اس کی تائید میں تم چاہو تو یہ آیت پڑھو کہ اور کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہوگا جو عیسیٰ کی وفات سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے دن عیسیٰ ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘ (متفق علیہ)
٭ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اللہ کی قسم حضرت عیسیٰ ابن مریم ضرور اتریں گے وہ انصاف کرنے والے حاکم ہوں گے وہ صلیب توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ موقوف کریں گے اور جوان اونٹنیاں چھوڑیں گے مگر ان پر کوئی متوجہ نہیں ہوگا یعنی ان سے بار برداری کے لیے کام نہیں لے گا لوگوں کے دلوں سے کینہ بغض اور حسد ختم ہو جائے گا اور وہ لوگوں کو مال کی طرف بلائیں گے مگر کوئی بھی مال قبول نہیں کرے گا۔‘‘ (مسلم)
حدیث کا معنی :
(صلیب کو توڑدیں گے): صلیب مشہور کراس کا نشان ہے۔ اس کے بارے میں عیسائی گمان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس پر سولی پر لٹکایا گیا۔ یہ عیسائیوں کا مارکہ ہے، جسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ختم کردیں گے۔
(خنزیر[1] کو مار ڈالیں گے): خنزیر ایک مشہور جانور ہے۔ اس کا کھانا اسلام میں حرام ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اس کو ختم کرنے کا حکم دیں گے۔ جو اس کے حرام ہونے کے حکم میں بطور مبالغہ کے ہوگا۔
[1] (جزیہ ختم کردیں گے): جزیہ اس مال کو کہتے ہیں جو مسلمان ملکوں میں بسنے والے اہل کتاب سے ان کی حفاظت اور ملک کی طرف سے ان کو مختلف قسم کی خدمات پیش کرنے کے عوض لیا جاتا ہے۔یہ عدل کی انتہاء ہے۔ جیسے مسلمان تاجروں سے زکوٰۃ وصول کی جاتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے بعد آپ لوگوں میں اپنا حکم چلائیں گے۔ اور کسی بھی انسان سے اسلام کے علاوہ کوئی چیز قبول نہیں کریں گے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور کریں گے بلکہ وہ اپنی رضامندی سے اسلام میں داخل ہوں گے۔ یہ اس لیے بھی ہوگا کہ عیسائی گمان کرتے ہیں کہ عیسائیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دین ہے۔ جب وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نازل ہوتے دیکھ لیں گے، اور آپ ان سے بات چیت کریں گے،توان کے دلوں سے یہ اعتقاد ختم ہوجائے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں ۔ اب وہ صحیح دین پر ایمان لے آئیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’ اور کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہوگا جو عیسیٰ کی وفات سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے۔‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے بعد آپ کی موت سے پہلے تمام اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے۔ اور جو ایمان نہیں لائیں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام انہیں قتل کردیں گے۔
ایک روایت میں ہے :’’اس وقت دعوت ایک ہی ہوگی۔‘‘ (مسند احمد)
یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں صرف ایک ہی دعوت ہوگی۔یعنی اسلام کی دعوت۔ اس کے ساتھ نہ ہی کوئی دین باقی رہے گا اور نہ ہی دوسری ملت۔ نہ کوئی ہندو، نہ کوئی عیسائی، نہ کوئی یہودی نہ کوئی مجوسی سب ختم ہوجائیں گے۔
(ایک سجدہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہوگا): یعنی لوگوں کی رغبت نماز اور دوسرے تمام اطاعت کے کاموں میں بڑھ جائے گی؛ کیونکہ ان کی امیدیں کم پڑجائیں گی، اور لوگ اس دنیا سے بے نیاز ہوں گے،اس لیے کہ ان کوقیامت کے قریب ہونے کا یقین ہوچکا ہوگا۔اور اس لیے بھی کہ اس دور میں رزق وافر ہوگا، جس کی وجہ سے مسلمان اپنی عبادت چھوڑ کر معاش میں مشغول نہیں ہوگا۔
(قلاص چھوڑ دي جائیں گی…): قلاص نو جوانی کے عمر میں پہنچے ہوئے اونٹ کوکہتے ہیں ۔ یہ بہت ہی مرغوب چیز ہے۔ عربوں کے ہاں محبوب ترین مال تصور کیا جاتا ہے۔ لوگ انہیں چھوڑ دیں گے، اور ان کی تربیت کا خیال نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی ان کے کھانے یا ان کی تجارت کرنے میں کوئی رغبت باقی رہے گی۔سیّدناجابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے، مسلمانوں کا امیر کہے گا :آئیے! ہمیں نماز پڑھائیے۔ آپ فرمائیں گے : نہیں بلکہ تمہارے بعض دوسروں کے امام ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کی عزت افزائی ہوگی۔‘‘ (المنار المنیف ، مسند حارث بن اسامہ)
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ہم میں سے ایک آدمی ہوگا جس کے پیچھے عیسیٰ بن مریم نماز پڑھیں گے ۔‘‘ (فیض القدیر: ۶/۱۷)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ناز ل ہونے کے دلائل متواتر ہیں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر احادیث منقول ہیں ۔ اس تواتر کے ذکر کرنے والوں میں : امام احمد بن حنبل،[1] ابو الحسن اشعری ؛[2] امام طبری،[3] ابن کثیر[4]اورعلامہ سفارینی[5] رحمۃ اللہ علیہم ہیں ۔ علامہ شوکانی نے بھی اپنی کتاب ’’التوضیح فی ماجاء فی المنتظر والدجال المسیح‘‘میں بھی یہی مذہب اختیار کیا ہے۔[6]
حضرت علامہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث کے متعلق لکھتے ہیں :
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول یہ احادیث حد ِ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں ۔ ان احادیث میں آپ کے نازل ہونے کی کیفیت اورجگہ پر دلائل موجود ہیں ۔ اور یہ کہ بے شک آپ شام کے علاقہ میں ، بلکہ دمشق شہر میں ، مشرقی منارہ کے پاس نازل ہوں گے اور آپ کا نزول صبح کی نماز کے لیے اقامت کے وقت ہوگا۔ پس آپ خنزیر کوقتل کریں گے۔ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، اور جزیہ ختم کردیں گے۔وہ لوگوں سے اسلام کے علاوہ کوئی چیزنہیں قبول کریں گے، جیساکہ صحیحین کی احادیث میں پہلے گزر چکا۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی خبریں ہیں ۔ اور اس زمانے کے لحاظ سے تشریح و تسویغ ہے۔ جب کہ تمام علتیں ختم ہوجائیں گی اور تمام شبہات خود بخود دم توڑ دیں گے۔اس لیے تمام لوگ خود ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیروی کرتے ہوئے؛اور آپ کے ہاتھ پر اسلام لاتے ہوئے دین اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لا چکے۔ اور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘(النساء: ۱۵۹)
یہ آیت بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے:
﴿وَ اِِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ ﴾ (الزخرف:۶۱)
’’بے شک آپ قیامت کا علم ہیں ۔‘‘
اس آیت کو ’’لَعَلَماً‘‘ بھی پڑھا گیا ہے جس کا معنی ہے نشانی، یعنی آپ کا نزول قرب ِ قیامت کی نشانی ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول مسیح دجال کے خروج کے بعد ہوگا۔اور ان کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ دجال کا خاتمہ کر یں گے۔ اوران ہی (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام )کے دنوں میں اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھی نکالے گا، جنہیں پھر آپ علیہ السلام کی دعاؤں کی برکت سے ہلاک کردے گا۔
امت اسلامیہ کا اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس میں کچھ شاذ لوگوں کے علاوہ کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی، اور مخالفت کرنے والے لوگ ایسے ہیں جن کی بات کی کوئی اہمیت کسی طرح بھی نہیں ہے۔
اشکال :…کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام شریعت محمدی کے مطابق فیصلے کریں گے یا کوئی نئی شریعت لے کر آئیں گے؟
جواب:…امام سفارینی رحمہ اللہ آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’تمام امت اسلامیہ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر اجماع ہے۔ اہل شریعت میں سے کسی ایک نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی۔ مخالفت کرنے والے فلاسفہ اور ملحدین ہیں ؛ جن کے اختلاف کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس بات پر امت کا اجماع ہوچکاہے کہ آپ نازل ہوں گے، اور شریعت محمدی کے مطابق فیصلے کریں گے۔آسمان سے نازل ہونے کے وقت آپ کوئی نئی یا علیحدہ شریعت لے کر نہیں آئیں گے۔ اگرچہ وہ شریعت آپ کے نام پر قائم ہو، اور آپ کو صاحب ِشریعت ہونے سے موصوف کیا جاتاہو۔‘‘ (لوامع الأنوار البہیۃ: ۱/۹۴-۹۵)
نواب صدیق حسن خان صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’آپ کے نازل ہونے کے بارے میں احادیث بہت زیادہ ہیں ۔ ان میں سے امام شوکانی رحمہ اللہ نے انتیس احادیث ذکر کی ہیں ۔ جن میں صحیح، حسن، اور قابل قبول ضعیف احادیث بھی ہیں ۔ ان میں سے بعض وہ احادیث ہیں جن میں دجال کا تذکرہ بھی ہے۔ اوربعض میں امام مہدی منتظر کا ذکر ہے۔ اور ان کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے وارد وہ آثار بھی ملتے ہیں جن کا حکم مرفوع حدیث کا ہے۔ اس لیے کہ اس مسئلہ میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہیں ۔ -پھر وہ آثار نقل کیے ہیں ،پھر فرمایا۔ یہ تمام روایات جو ہم نے نقل کی ہیں ، یہ حد ِ تواتر کوپہنچتی ہیں ، جو کہ اہل علم پر کسی طرح بھی مخفی نہیں ہیں ۔‘‘ (الاذاعۃ لما کان و ما یکون بین یدي الساعۃ ۶۰)
شیخ احمد شاکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
’’آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ ایسا مسئلہ ہے جس میں مسلمانوں نے کبھی اختلاف نہیں کیا، اس لیے کہ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث وارد ہیں ۔ اور یہ بات دین میں ضرورت کے تحت معلوم شدہ ہے، ان کا انکار کرنے والا مومن نہیں ہوسکتا۔‘‘ ( تفسیر الطبری تعلیق احمد شاکر: ۶/۴۶۰)
علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ جان لیجیے کہ احادیث ِ دجال، اور نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام متواتر ہیں اوران پر ایمان رکھنا واجب ہے۔اور اس بارے میں احادیث آحاد کادعویٰ کرنے والوں کی باتیں آپ کو دھوکہ نہ دیں ۔ اس لیے وہ اس علم سے جاہل ہیں ۔ ان میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو احادیث کے طرق میں مزید تلاش کرتا تو اس پر واضح ہوجاتا کہ یہ احادیث متواترہ ہیں ۔ جیساکہ اس علم کے ائمہ نے اس بات کی گواہی دی ہے۔ جیسے کہ حافظ ابن حجر، وغیرہ۔ حقیقت میں یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ بعض لوگ ایسے علم میں کلام کرنا شروع کردیتے ہیں جو ان کا فن و اختصاص نہیں ہے۔ (یعنی اس علم میں مہارت نہیں رکھتے ) اور خصوصاً پھر یہ معاملہ بھی دین اورعقیدہ کا ہے ( اس میں بغیر علم کے بات کرنا زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے )‘‘
فائدہ: …کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شمار امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوگا؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی اور اولو العزم رسولوں میں سے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کا بہت بلند مقام ہے۔ اور آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہونے کاشرف بھی حاصل ہے، معراج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی ملاقات آپ پر ایمان کی حالت میں ہوئی تھی۔ اور اسی ایمان پر ان کی موت بھی آئے گی۔
حدیث معراج میں ہے :
’’ پھر ہم دوسرے آسمان پر پہنچے پوچھا گیا کون ہے جواب ملا جبرائیل پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ پوچھا گیا کہ: انہیں بلایا گیا ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ۔کہا گیا: مرحبا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کتنی بہترین ہے۔جب میں یہاں سے فارغ ہوا تو اچانک حضرت عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام کے پاس آیا؛ یہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں ۔جبرئیل نے کہا: یہ یحییٰ اور عیسیٰ ہیں ، ان دونوں کو سلام کرو۔ میں نے انہیں سلام کیا، ان دونوں نے میرے سلام کا جواب دیا،پھر انہوں نے کہا: مرحبا اے ہمارے نیک بھائی اورنیک نبی مرحبا ۔‘‘ (متفق علیہ)
عیسائیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے متعلق عقیدہ
عیسائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں ۔ (اللہ تعالیٰ ان باتوں سے بہت بلند اور پاک ہے۔) اور یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کردیے گئے اور پھانسی چڑھا دیے گئے ہیں ۔ اور آپ کی پھانسی کے تین دن بعد آپ کو آسمانوں پر چڑھا دیا گیا۔ اوروہ اپنے باپ (یعنی رب ) کے دائیں جانب بیٹھ گئے۔ اور آپ عنقریب آخری زمانے میں نازل ہوں گے۔
آپ کے آسمانوں پر اٹھائے جانے کا تذکرہ پہلے گزر چکاہے کہ آپ کو نہ ہی تو قتل کیا گیااور نہ ہی پھانسی دی گئی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شکل کا مشابہت رکھنے والا ایک انسان بنادیا۔
اہل کتاب کے ہاں مسیح
اہل کتاب دو مسیح کے اثبات پر متفق ہیں :
۱۔ مسیح ہدایت جو کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی نسل سے ہوگا؛ اوروہ ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔
۲۔ گمراہی کا مسیح جس کے متعلق اہل کتاب کہتے ہیں کہ یہ حضرت یوسف علیہ السلام کی نسل سے ہوگا، یہی مسیح دجال ہے۔
عیسائی اوراسلامی عقیدہ میں اختلاف
(اس ضمن میں )عیسائی اور اسلامی عقیدہ میں بذیل امور میں اختلاف پایا جاتا ہے :
۱۔ عیسائیوں کا عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں ۔ یہ باطل عقیدہ ہے، صحیح یہ ہے کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔
۲۔ عیسائیوں کا عقیدہ کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا اور پھانسی دے دی۔ یہ باطل عقیدہ ہے، صحیح بات یہ ہے کہ یہودی نہ ہی آپ کو قتل کرسکے ہیں اور نہ پھانسی دے سکے ہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا تھا۔
۳۔ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی کے تین دن بعد آسمانوں پر چڑھا لیا گیا، یہ باطل ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے (اسی روز) بغیر قتل اور پھانسی کے آپ کو آسمانوں پر چڑھا لیا تھا۔
وہ احوال جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے
اس وقت مسلمان عیسائیوں کے ساتھ ایک بہت بڑا معرکہ لڑنے کے لیے نکلے ہوں گے، اور انہوں نے قسطنطنیہ کو فتح کرکے اس کی حکومت کو عیسائیوں سے دوبارہ حاصل کرلیا ہوگا۔ اور یہ بھی گزر چکاہے کہ مسلمان اس شہر کو تکبیر و تہلیل سے فتح کریں گے ؛نہ کہ اسلحہ کے زور پر۔ اور شیطان آواز لگائے گاکہ دجال نکل چکاہے، پس مسلمان قسطنطنیہ سے دمشق واپس پلٹیں گے، اس لیے کہ مسلمانوں کے لشکر کا بیس کیمپ دمشق میں ہوگا۔ اس کے بعد گمراہی کا مسیح یعنی دجال حقیقت میں نکلے گا۔ وہ زمین میں گھومتا پھرے گا، اور بہت بڑا فتنہ برپا ہوگا۔ (جیساکہ قیامت کی بڑی نشانی نمبر ۱ میں گزر چکا ہے۔)
ایک دوسری تفصیلی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے متعلق کلام کرتے ہوئے فرمایا:
’’دجال مدینہ کی بنجر زمین میں اترے گا۔
دجال پر حرام ہوگا کہ وہ مدینہ کے راستوں میں داخل ہو۔ اس وقت مدینہ کے رہنے والوں پر ایک یا دو زلزلے آئیں گے۔ پس ہر ایک منافق مرد اور عورت دجال کی طرف نکل پڑے گا۔ پھر دجال کوشام کی طرف پھیر دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ شام کے بعض پہاڑوں پر آئے گا۔ اوران کا محاصرہ کرلے گا۔ اور باقی مسلمان شام کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کی چوٹی پر ہوں گے۔ دجال اس پہاڑ کے نچلے حصے میں آئے گااور ان کا محاصرہ کرلے گا۔ یہاں تک کہ جب ان پر آزمائش کی گھڑی بہت سخت ہوجائے گی تومسلمانوں میں سے ایک انسان کہے گا: اے مسلمانوں کے گروہ ! کب تک تم ایسے رہوگے؟ اور اللہ کا دشمن تمہاری زمین پر یوں پڑاؤ ڈالے ہے؟ تم صرف دوبھلائیوں میں سے ایک کو ہی اختیار کرسکتے ہو۔ یا تو یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہیں شہادت سے سرفراز کردے۔ یا یہ کہ اللہ تمہیں اس دشمن پر غلبہ عطا کردے۔ پھر مسلمان موت پر بیعت کریں گے، جس کو اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ ان کے دلوں سے سچی بیعت ہوگی۔ پھر ان کے ہاں ایک اندھیرا پھیل جائے گا[1]جس کوئی انسان اپنے ہاتھ کو بھی نہیں دیکھ سکے گا۔ اس وقت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے۔ان کی آنکھوں کے سامنے سے وہ اندھیرا دور کردیا جائے گا۔پس ناگہاں ان کے درمیان ایک آدمی موجود ہوگا، جس پر اس کا سامان جنگ بھی ہوگا۔ وہ کہیں گے : اے اللہ کے بندے ! تم کون ہو؟ وہ کہے گا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ؛اس کی روح اور کلمہ عیسیٰ بن مریم ہوں ۔ تم تین باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلو :
۱:… یہ کہ اللہ تعالیٰ دجال اور اس کے لشکر پر آسمانوں سے کوئی عذاب نازل کردے۔
۲:…یا اللہ تعالیٰ اسے زمین میں دھنسا دے۔
۳:… یاپھر ان پر اللہ تعالیٰ تمہارے اسلحہ کو مسلط کردے اور تم سے ان کے اسلحہ کو روک دے۔
وہ لوگ کہیں گے : اے اللہ کے رسول ! یہ آخری بات ہمیں منظور ہے، یہ ہمارے سینوں اور دلوں کے لیے زیادہ شفا کا باعث ہے۔ اس دن آپ دیکھیں گے کہ ایک بہت بڑا لمبا تڑنگا بہت زیادہ کھانے پینے والا یہودی اس کا ہاتھ تھرتھراہٹ(کپکپی ) کے باعث اپنی تلوار نہیں اٹھا سکے گا۔ وہ دجال سے مقابلہ کے لیے کھڑے ہوں گے۔ اور انہیں اس پرغلبہ دیا جائے گا۔ جب دجال ابن مریم کو دیکھے گا تووہ ایسے پگھلے گا جیسے نمک پگھلتا ہے۔ یہاں تک کہ عیسیٰ بن مریم اس کے پاس جا پہنچیں گے، اوراسے قتل کردیں گے۔‘‘( اس حدیث کو جامع معمر بن راشد رحمہ اللہ میں نقل کیا گیا ہے۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ہمارے شیخ علامہ ذہبی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یہ حدیث قوی سند والی ہے۔پورا قصہ تفصیل کے ساتھ قیامت کی بڑی نشانی نمبر ا میں گزر چکاہے۔ )
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہاں اور کیسے نازل ہوں گے ؟
آپ کا نزول جامع دمشق کے مشرقی منارے پر ہوگا۔ آپ پر دو چادریں ہوں گی جنہیں ورس ( ایک قسم کی بوٹی ہے ) اور زعفران سے رنگا گیا ہوگا۔ آپ دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے نازل ہوں گے۔
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’آپ کے نزول کی جگہ کے بارے میں مشہور بات یہی ہے کہ آپ جامع دمشق کے مشرقی منارے پر نازل ہوں گے۔ آپ جس وقت نازل ہوں گے اقامت کہی جاچکی ہوگی۔ مسلمانوں کا امام کہے گا: اے روح اللہ ! آگے بڑھئے اورہمیں نماز پڑھائیے۔ آپ فرمائیں گے : نہیں آپ نماز پڑھائیں یہ اقامت آپ کے نماز پڑھانے کے لیے کہی گئی ہے۔‘‘
ایک روایت میں ہے:
’’ تم میں بعض ،بعض کے امیر ہو، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کی عزت افزائی ہے ۔‘‘
امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ہمارے زمانے میں ۷۴۱ ہجری میں اس منارہ کی تجدیدسفید پتھروں سے کی گئی ہے۔ اور اس کی تعمیر ان نصاریٰ کے اموال سے کی گئی ہے جنہوں نے اس جگہ پر موجود مینار کو جلادیا تھا۔ شاید کہ یہ بات نبوت کے کھلے ہوئے معجزات میں سے ایک ہو؛ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے موقع دیاکہ اس مینار کو عیسائیوں کے مال سے تعمیر کیا جائے جہاں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ وہ خنزیر کو قتل کریں گے، اور صلیب کو توڑ دیں گے، اور کسی سے جزیہ قبول نہیں کریں گے۔ ‘‘ (النہایۃ فی الفتن و الملاحم: ۱/۱۹۲)
میں نے بذات خود جامع دمشق کے سفید مشرقی مینار کی زیارت کی۔ جس کے متعلق لوگوں میں مشہور ہے کہ اس مینار پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، اور میں نے اس مینار کی تصویریں بنائیں ۔یہ مینار بازار کے داخلی راستے پر ہے، مسجد میں نہیں ۔ جس محلے میں یہ مینار واقع ہے اس کے رہنے والے اکثر عیسائی ہیں ۔ میں اس کی تصویر یہاں پر لگارہا ہوں ۔ خواہ یہ وہی مینارہو جس پرعیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے، یا کوئی دوسرا مینار۔ واللہ اعلم
یہ بھی کہا گیاہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کی جامع مسجد اموی کے میناروں میں سے ایک مینار پر ہوگا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، میں یہاں پر کسی چیز کے بارے میں دو ٹوک طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائشی صفات
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اوصاف بیان کیے ہیں اور وہ احوال بیان فرمائے ہیں جن میں آپ کا نزول ہوگا۔ تاکہ آپ کا معاملہ لوگوں کے سامنے واضح ہواور کسی کو کوئی دھوکہ نہ لگے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام :
٭ درمیانی قامت کے ہوں گے۔ نہ ہی بہت طویل ہوں گے اورنہ ہی چھوٹے قد کے۔
٭ آپ کی جلد کا رنگ سرخ اور سفیدی مائل ہوگا۔
٭ آپ کا سینہ کشادہ ہوگا۔
٭ آپ کے بال لمبے ہوں گے،گویا کہ آپ کے سر سے قطرے ٹپک رہے ہوں ، حالانکہ ان کو نمی نہیں پہنچی ہوگی۔
٭ سیّدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے زیادہ مشابہ ہوں گے۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کے بیان میں فرمایا :
’’میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا ، اورعیسیٰ علیہ السلام سے ملا؛ آپ کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تو وہ میانہ قد سرخ رنگ کے تھے، ایسا معلوم ہوتا تھاجیسے وہ ابھی حمام سے نکلے ہیں ۔‘‘ (متفق علیہ)
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میں نے عیسیٰ، موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو (شب معراج میں ) دیکھا عیسیٰ تو سرخ رنگ پیچیدہ بال اور چوڑے چکلے سینہ کے آدمی تھے ۔‘‘ (بخاری)
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میں نے اپنے آپ کو حطیم میں دیکھا اور قریش مجھ سے میرے معراج پر جانے کے بارے میں سوال کر رہے تھے۔ تو قریش نے مجھ سے بیت المقدس کی چند ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا جن کو میں دوسری اہم چیزوں میں مشغولیت کے باعث محفوظ نہ رکھ سکا تھا، مجھے اس کا اتنا زیادہ افسوس ہوا کہ اتنا اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کے درمیان پردے اٹھا کر میرے سامنے کردیا۔ میں نے اسے دیکھ کر جس کے بارے میں سوال کرتے وہ انہیں بتلا دیتا۔ اور میں نے اپنے آپ کو انبیاء علیہم السلام کی ایک جماعت میں دیکھا۔ اور حضرت موسی علیہ السلام کو کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا گویا کہ وہ گٹھے ہوئے جسم اور گھنگریالے بالوں والے آدمی ہیں گو یا کہ وہ قبیلہ شنوہ کے ایک آدمی ہیں ۔ اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا ؛تو لوگوں میں سب سے زیادہ ان سے مشابہ عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا لوگوں میں سے زیادہ ان کے مشابہ تمہارے صاحب ہیں ۔ اس کے بعد نماز کا وقت آیا تو میں امام بنا۔ پھر میرے نماز سے فارغ ہونے پر ایک کہنے والے نے کہا کہ: اے محمد ! یہ مالک داروغہ جہنم ہے؛ اس پر سلام کیجئے میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو پہلے اس نے مجھے سلام کیا ۔‘‘ (مسلم)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ میں نے بیت اللہ کے پاس ایک گندم گوں آدمی کو دیکھا اس کے بال نکلے ہوئے تھے؛ اس کے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے۔ اس کے سر سے پانی بہہ رہا تھا یا اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے: تو لوگوں نے کہا کہ یہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں ۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ان کے پیچھے ایک دوسرا آدمی نظر آیا جس کا رنگ سرخ، بال گھنگریالے اور دائیں آنکھ سے کانا تھا میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں اس سے سب سے زیادہ مشابہ ابن قطن تھا ؛میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ: یہ مسیح دجال ہے ۔‘‘ (متفق علیہ)
اشکال:…بعض لوگوں پر یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور دجال کیسے ایک جگہ جمع ہوسکتے ہیں ، جب کہ دجال جب آپ کو دیکھے گا تو ایسے پگھل جائے گا جیسے نمک پگھلتا ہے؟
بلکہ دجال کیسے کعبہ میں داخل ہوسکتا ہے جب کہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونا اس پر حرام کردیا گیا ہے ؟
جواب:…یہ ایک خواب ہے جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تھا، حقیقت واقع نہیں ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں ہونے والے اعمال
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے، آپ کے دجال کو قتل کرنے، مسلمانوں کے لیے امن و امان قائم کرنے بعد آپ کے ذمہ کئی کام ہوں گے۔ جو آپ کے عہد میں پورے کیے جائیں گے؛ ان میں سے:
٭ اسلامی حکومت قائم کرنا، لوگوں کو اس کا تابع بنانا۔ اور اسلام کے علاوہ باقی تمام تحریف شدہ ادیان کو ختم کرنا۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! عنقریب تم میں ابن مریم اتریں گے وہ منصف حاکم ہوں گے صلیب توڑ دیں گے اور خنزیر کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔‘‘ (متفق علیہ)
٭ اللہ کے دین کی سر بلندی، یہودو نصاریٰ کی دعوت کو ختم کرنا اور جزیہ کو موقوف کرنا۔
٭ مسیح دجال کو قتل کرنا۔
٭ لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلے کرنا؛ عدل و انصاف اور امن پھیلانا، سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’تمام انبیاء باپ زاد بھائی ہیں ۔ ان کی مائیں علیحدہ علیحدہ ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔ اور میں لوگوں میں سب سے زیادہ ابن مریم کے قریب ہوں ۔ اس لیے کہ میرے اور ابن مریم کے درمیان کوئی نبی نہیں ۔ اور بے شک آپ (یعنی ابن مریم ) نازل ہونے والے ہیں ۔ جب تم اسے دیکھو تو پہچان لینا؛ وہ درمیانے قد کے آدمی ہیں ، سفید سرخی مائل رنگ ہے؛ اور ان پر دو ہلکے پیلے رنگ کی چادریں ہوں گی۔ گویا کہ آپ کے سر مبارک سے قطرے گر رہے ہوں گے، مگر ان کو نمی بھی نہیں پہنچی ہوگی۔ وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے۔ اور خنزیر کو مار ڈالیں گے اس کا کھانا بند کرا دیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔ لوگوں کواسلام کی دعوت دیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے زمانے میں تمام ملتوں کو ہلاک کردے گا سوائے اسلام کے۔ آپ کے زمانے میں اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کرے گا۔ اور زمین میں امن و امان قائم ہوجائے گا۔ یہاں تک کہ اونٹ شیر کے ساتھ چرے گااور گائے چیتے کے ساتھ، بکریاں اوربھیڑیے ایک ساتھ چریں گے۔ بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے، وہ انہیں کوئی نقصان نہیں دیں گے۔ آپ چالیس سال زمین میں رہیں گے، پھر آپ کی وفات ہوگی؛ اورمسلمان آپ کی نمازجنازہ پڑھیں گے۔‘‘ (مسند احمد ، مستدرک حاکم)
٭ آسودگی اورامن و امان پھیل جائے گا۔
٭ قریشیوں کی حکومت ختم ہوجائے گی۔سیّدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ حضرت عیسیٰ میری امت میں ایک عادل حاکم اور منصف امام ہوں گے اور صلیب کو (جو نصاریٰ اپنی گردنوں میں لٹکائے رہتے ہیں ) توڑ ڈالیں گے۔ اور خنزیرکو مار ڈالیں گے ؛اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔ زکوٰۃ لینا ترک کردیں گے۔ تو نہ بکریوں پر نہ اونٹوں پر کوئی زکوٰۃ لینے والا مقرر کریں گے۔ اور آپس میں لوگوں کے کینہ اور بغض اٹھ جائے گا۔ اور ہر ایک زہریلے جانور کا زہر جاتا رہے گا۔ یہاں تک کہ بچہ اپنا ہاتھ سانپ کے منہ میں دے دے گا وہ کچھ نقصان نہ پہنچائے گا۔ اور ایک چھوٹی بچی شیر کو بھگا دے گی وہ اس کو ضرر نہ پہنچائے گا۔ اور بھیڑ یا بکریوں میں اس طرح رہے گا جیسے کتا، جو ان میں رہتا ہے۔ اور زمین صلح سے بھر جائے گی جیسے برتن پانی سے بھرجاتا ہے۔ اور سب لوگوں کا کلمہ ایک ہو جائے گا سوائے اللہ کے کسی کی پرستش نہ ہوگی (تو سب کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھیں گے)اور لڑائی اپنے سب سامان ڈال دے گی۔ (یعنی ہتھیار اور آلات اتار کر رکھ دیں گے مطلب یہ ہے کہ لڑائی دنیا سے اٹھ جائے گی) اور قریش کی سلطنت جاتی رہے گی اور زمین کا یہ حال ہوگا کہ جیسے چاندی کی سینی (طشت)وہ اپنا میوہ ایسے اگائے گی جیسے آدم کے عہد میں اگاتی تھی۔ (یعنی شروع زمانہ میں جب زمین میں بہت قوت تھی)یہاں تک کہ کئی آدمی انگور کے ایک خوشے پر جمع ہوں گے اور سب سیر ہو جائیں گے(اتنے بڑے انگورکے خوشے ہوں گے) اور کئی کئی آدمی انارکے ایک دانے پر جمع ہوں گے اور سب سیر ہو جائیں گے۔ اور بیل بھاری رقم خرچ کر کے خریدے جائیں گے(کیوں کہ لوگوں کی زراعت کی طرف توجہ ہوگی تو بیل مہنگا ہوگا) اور گھوڑا تو چند روپوں میں بکے گا۔‘‘ (ابن ماجہ)
٭ بغض ختم ہوجائے گا، اور حسد وخود غرضی لوگوں کے دلوں سے ختم کردیے جائیں گے۔ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’حضرت مسیح کے بعد والی زندگی مبارک ہو جب آسمان کو پانی برسانے کا حکم دیا جائے گا، اورزمین کو نباتات اگانے کا حکم ملے گا۔ یہاں تک اگر کسی چٹیل پہاڑ پر بھی دانہ بودیا جائے تو وہ وہاں بھی اگ آئے۔ یہاں تک کوئی انسان کسی شیر پر گزرے گا وہ اسے کوئی تکلیف نہ دے گا۔ اور سانپ کو روند ڈالے گامگر وہ اسے کوئی نقصان نہ دے گا۔ اور نہ ہی خود غرضی ہوگی، نہ ہی حسد اور نہ ہی بغض ۔‘‘ (مسند دیلی ، سلسلۃ الصحیحۃ: ۱/۵۵۹)
٭ جنگیں اور لڑائیاں ختم ہوجائیں گی۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’عیسیٰ بن مریم ایک عادل حاکم اور منصف امام کی حیثیت سے نازل ہوں گے اور صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو مار ڈالیں گے ؛امن امان لوٹ آئے گا؛ اور تلواروں کی درانتیاں بنالی جائیں گی اور ہر ایک زہریلے جانور کا زہر جاتا رہے گا۔ آسمان اپنا رزق نازل کرے گا، زمین اپنی برکت نکالے گی۔ یہاں تک کہ بچہ سانپوں کے ساتھ کھیلے گا، اور بھیڑیابکریاں چرائے گا، اور انہیں کوئی نقصان نہ دے گا، اور شیربکریاں چرائے گا انہیں کوئی نقصان نہ دے گا۔‘‘ (مسند احمد )
ان لوگوں کا مقام جوکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوں گے
سیّدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ سے بچالیا ہے۔ ایک گروہ جو ہندوستان پر لشکر کشی کرے گا؛ اور دوسرا گروہ جو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔‘‘ (سنن النسائی)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے میں حکمت
اشکال:…شاید کہ آپ کے دل میں سوال پیدا ہوتا ہو کہ باقی انبیاء کرام علیہم السلام کو چھوڑ کر صرف حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو آخری زمانے میں دوبارہ نازل ہونے کے لیے کیوں چنا گیا ہے ؟
جواب: …علمائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے باقی انبیاء کرام علیہم السلام کو چھوڑ کر صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل میں حکمتیں ذکر کی ہیں ،ان کے بعض اقوال یہ ہیں :
٭ یہودیوں پر رد کرنا مقصود ہے جویہ گمان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا ہے، اللہ تعالیٰ ان کے اس جھوٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔
اس لیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان یہودیوں کو اور ان کے بڑے سردار مسیح دجال کو قتل کریں گے۔ اس قول کو حافظ ابن حجر نے راجح قرار دیا ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انجیل میں امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت معلوم ہوئی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اورانجیل شریف میں ان کی مثال ایک کھیتی کی سی بیان کی گئی ہے جس نے زمین سے اپنی سوئی نکالی(مولکہ یا پٹھا )پھر اس کو زور دارکیا وہ وہ موٹی ہوگئی اب نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی ۔‘‘ (الفتح: ۲۹)
توحضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ آپ کوبھی اس امت میں سے بنا دے، اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور آپ کوزندگی دے دی، یہاں تک کہ آپ آخری زمانے میں نازل ہوں گے۔ اور اس دین کی تجدید کریں گے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔
٭ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں سے نازل ہونا آپ کی اجل کے قریب آجانے کی دلیل ہے تاکہ آپ کو زمین میں دفن کیا جائے۔ اس لیے کہ کوئی بھی مخلوق ایسی نہیں ہے جسے مٹی سے پیدا کیاگیا ہومگر اس کی موت بھی زمین میں آئے گی؛ اور اسی میں دفن کیا جائے گا۔پس آپ کا نزول دجال کے خروج کے ساتھ ساتھ ہوگاتاکہ آپ اسے بھی قتل کردیں ۔
٭ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نصاریٰ کی تکذیب کے لیے نازل ہوں گے۔ ان کے دعوے کا بودا پن اور جھوٹا ہونا کہ : حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں ، ظاہر ہوجائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ آپ کے زمانے میں تمام ملتوں کو ہلاک کردیں گے سوائے ملت ِ اسلام کے۔ آپ صلیب کوتوڑیں گے، خنزیر کوقتل کریں گے، اور جزیہ ختم کردیں گے۔
٭ ان دونوں نبیوں یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین ایک تعلق ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ میں عیسیٰ بن مریم کے زیادہ قریب ہوں ، اور میں میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے ۔‘‘پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسیٰ کے لیے لوگوں میں سب سے بڑھ کر خاص قریبی ہیں ۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی بشارت دی تھی۔ اور لوگوں کو آپ پر ایمان لانے اور آپ کی تصدیق کرنے کی دعوت دی تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ور اے پیغمبر ؐ! ان لوگوں کووہ وقت یاد دلاؤ جب عیسیٰ بن مریم نے کہا:اے گروہ بنی اسرائیل ! بے شک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں ۔ اور اپنے سے پہلے (نازل ہونے والی کتاب ) تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور میں (تم کو) ایک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری دیتاہوں جو میری بعد آئے گا ا س کا نام احمد ہوگا، پھر جب وہ(یعنی عیسیٰ ) ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو کہنے لگے یہ توصریح جادو ہے۔‘‘ (الصف: ۶)
اور حدیث میں ہے : صحابہ کرام نے عرض کیا : یارسول اللہ !ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں ،عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں ۔‘‘ (مسنداحمد )
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ان کا سلام پہنچایا جائے
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’عنقریب ابن مریم تمہارے درمیان نازل ہوں گے انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے والے حاکم اور عدل کرنے والے امام ہوں گے۔وہ صلیب توڑ ڈالیں گے خنزیر کو قتل کر ڈالیں گے ؛جزیہ ختم کر دیں گے۔ اس وقت ایک ہی دعوت ہوگی، اسے قبول کرنا۔ اور ان تک رسول اللہ کا سلام پہنچانا؛ اور ان سے یہ بیان کرنا وہ میری تصدیق کریں گے۔‘‘
جب سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آگیا تو انہوں نے فرمایا: ’’انہیں میری طرف سے سلام پہنچانا۔‘‘ (مسند احمد)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میں امید کرتا ہوں کہ اگر میری عمر لمبی ہوگئی تو میں عیسیٰ بن مریم کو پالوں گا اگر میری موت نے جلدی کی، تو جو کوئی ان سے ملے وہ ان تک میرا سلام پہنچائے۔‘‘ (مسند احمد )
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ناز ل ہونے کے بعد زمین میں مدت قیام
حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین میں رہیں گے۔ جس میں لوگ امن و امان اور عدل و انصاف کی زندگی گزار یں گے۔اس پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’تمام انبیاء باپ زاد بھائی ہیں ۔ ان کی مائیں علیحدہ علیحدہ ہیں اور ان کا دین ایک ہے اور میں لوگوں میں سب سے زیادہ ابن مریم کے قریب ہوں ۔ اس لیے کہ میرے اور ابن مریم کے درمیان کوئی نبی نہیں ۔ …یہاں تک کہ آپ نے فرمایا:… آپ چالیس سال زمین میں رہیں گے، پھر آپ کی وفات ہوگی؛ اورمسلمان آپ کی نمازجنازہ پڑھیں گے۔‘‘ (مسند احمد، مستدرک حاکم )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
﴿وَ اِِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ ﴾ (الزخرف:۶۱)
’’بے شک آپ قیامت کا علم ہیں ۔‘‘
اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کا خروج ہے ؛ آپ چالیس سال تک زمین میں رہیں گے۔ یہ چالیس سال ایسے ہوں گے جیسے چار سال، آپ حج اور عمرہ کریں گے۔‘‘
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حج
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! عیسیٰ بن ضرور بالضرور فج روحاء (ایک جگہ کانام ہے) سے تلبیہ کہیں گے حج کا ؛ یا عمرہ کا یا حج اورعمرہ دونوں کا ۔‘‘ (مسلم)
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام فج روحاء سے حج کے لیے تلبیہ کہیں گے۔ فج روحاء مکہ مدینہ روڈ پر ایک جگہ کا نام ہے۔
آپ یا تو حج تمتع کریں گے۔ تو عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دیں گے اور حلال ہوجائیں گے۔ یہ حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھیں گے،تو حج قران کریں گے۔
ایک روایت میں ہے کہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ابن مریم ضرور بالضرور نازل ہوں گے انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے والے حاکم اور عدل کرنے والے امام ہوں گے۔اور ضرور حج کے لیے یا عمرہ کے لیے یا ان دونوں کی نیت سے راستے پر چلیں گے۔ اور وہ ضرور میری قبر پر آئیں گے؛ تاکہ وہ مجھ پر سلام کریں ؛ اور میں ضرور ان کے سلام کا جواب دوں گا۔‘‘
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے میرے بھتیجو! اگر تم عیسیٰ بن مریم کودیکھو! تو ان سے کہنا کہ ابو ہریرہ آپ کو سلام دے رہا تھا ۔‘‘ (مستدرک حاکم)