دھواں
دھواں
کچھ اس باب کے متعلق
قیامت کی نشانیاں کئی طرح کی ہیں ۔ ان میں سے کچھ زمین سے تعلق رکھتی ہیں ، جیسے کہ زمین کا دھنسنا، او رقحط سالی، اور ان میں سے کچھ لوگوں سے متعلق ہیں ، جیسے عورتوں کی کثرت اور مرد وں کی قلت، اور ان میں سے کچھ اخلاق سے متعلق ہیں جیسے زنا کا پھیل جانا اور ان میں سے کچھ فلک اور آسمان سے تعلق رکھتی ہیں ؛ ان میں سے ایک دھواں ہے۔
٭ دھویں سے مراد کیاہے ؟
٭ کیا یہ نشانی پیش آچکی ہے ؟
٭ اس میں کیا حکمت ہے ؟
اس نشانی کے قیامت کی نشانی ہونے کے بارے میں اصل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :
’’(اے پیغمبر ) اس دن کاانتظار کیجیے جب آسمان سے ایک کھلا دھواں اٹھے گا۔لوگوں پر چھاجائے گا (کہیں گے) یہ تو تکلیف کاعذاب ہے۔اے مالک! ہمارے یہ عذاب ہم پر سے ٹال دے ہم ایمان لائیں گے۔ان کو (اس دھوئیں سے) کہاں نصیحت ہوگی اور (ان کاتو حال یہ ہے) ان کے پاس ایک پیغمبر آچکا جس نے کھول کر سنادیا۔ (سب باتیں بتادیں )‘‘ (الدخان: ۱۰-۱۳)
دھویں کے بارے میں علمائے کرام کے دو اقوال
بعض علمائے کرام کا خیال یہ ہے کہ یہاں پر دھویں سے مراد وہ قحط سالی اور بھوک و تنگی ہے جو قریش پر مسلط ہوئی تھی۔ یہ اس وقت ہوا تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش پر بددعا کی تھی؛ جب انہوں نے آپ کی دعوت کو قبول نہیں کیا تھا؛ تو حالات ایسے ہوگئے کہ وہ لوگ اگر آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تو انہیں شدت آزمائش کی وجہ سے دھویں کے سوا کچھ بھی نظر نہ آتا۔ یہی قول حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اختیار کیا ہے، اور سلف صالحین کی ایک جماعت ان کی اتباع کی ہے۔ اور علامہ ابن جریر طبری نے اسے راجح قرار دیاہے۔
سیّدنا مسروق بن اجدع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ’’ ہم جناب عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے( اور وہ ہمارے درمیان لیٹے ہوئے تھے کہ) ان کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا: ’’اے ابوعبدالرحمن ! ایک قصہ گو بیان کر رہا ہے اور گمان کرتا ہے؛ کہ قرآن میں جو دھوئیں کی آیت ہے وہ دھواں آنے والا ہے، پس وہ کفار کی سانسوں کو روک لے گا؛ اور مومنین کے ساتھ صرف زکام کی کیفیت پیش آئے گی۔‘‘
حضرت عبد اللہ غصہ سے اٹھ بیٹھے؛ پھر فرمایا: اے لوگو ! اللہ سے ڈرو تم میں سے جو کوئی بات جانتا ہو تو وہ اپنے علم کے مطابق ہی بیان کرے؛ اور جو بات نہیں جانتا تو کہے: اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ کیوں کہ تم میں سب سے بڑا عالم وہی ہے جو جس بات کو نہ جانتا ہو اس کے بارے میں کہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے، پس بے شک اللہ رب العزت نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا:
’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیں میں تم سے اس بات پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں سے بعضوں کی رو گردانی دیکھی تو فرمایا:
’’ اللہ نے اس پر سات سالہ قحط نازل فرمایا جیسا کہ یوسف کے زمانہ میں سات سالہ قحط نازل ہوا تھا۔‘‘
’’( ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا )پس ان پر ایک سالہ قحط آیا جس نے ہر چیز کو ملیا میٹ کر دیا یہاں تک کہ بھوک کی وجہ سے چمڑے اور مردار کھائے گئے۔ اور ان میں سے جو کوئی آسمان کی طرف نظر کرتا تھا تو دھوئیں کی سی کیفیت دیکھتا تھا۔‘‘ [1]
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ بھی فرماتے ہیں :
’’(پانچ باتیں گزر چکی ہیں :
۱۔لزام :[اس پکڑ سے مراد بدر کے دن کی پکڑ ہے]
۲۔اور روم [مراد روم کی فتح ہے ]
۳۔ بطشۃ (پکڑ ) [مقصود غزوہ بدر کی پکڑ ہے ]
۴۔ چاند [مراد چاند کا دو ٹکڑے ہونا ہے ]
۵۔ دھواں [کی علامات کی نشانیاں گزر چکی ہیں ]‘‘ (مسلم)
بہت سارے علمائے کرام کا خیال ہے کہ دھواں ان نشانیوں میں سے ہے جو ابھی تک پوری نہیں ہوئیں ، اور قرب قیامت میں یہ نشانی بھی پوری ہوگی۔ یہی قول حضرت علی بن ابو طالب، ابن عباس اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم اجمعین کا قول ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے آیات و احادیث سے استدلال کرتے ہوئے اسی قول کو راجح قرار دیا ہے۔ ان احادیث کا ذکر گزر چکا ہے۔
بعض علمائے کرام نے ان دونوں اقوال کے مابین جمع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دھویں سے مراد دو دھوئیں ہیں ۔ ان میں سے ایک دھواں ظاہر ہوچکا ہے (جیسا کہ ابن مسعود کا قول ہے ) ؛ او ردوسرا دھواں ابھی ظاہر ہونا ہے جو کہ آخری زمانے میں ہوگا، پہلی جو نشانی ظاہر ہوچکی وہ وہی ہے جو قریش میں دھویں کی شکل میں ظاہر ہوئی، یہ وہ حقیقی دھواں نہیں ہے جو کہ قرب ِ قیامت میں اس وقت ظاہر ہوگاجب باقی نشانیاں بھی ظاہر ہوں گی۔ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی یہی فرمایا کرتے تھے کہ ’’وہ دو قسم کے دھویں ہوں گے، ایک قسم کا دھواں گزر چکا ہے، اور جو دھواں باقی رہتا ہے وہی ہے جو آسمان اور زمین کو بھر دے گا، مومن کو اس سے صرف زکام جتنا احساس ہوگا، جب کہ کافر کے کانوں میں سوراخ ہوجائیں گے۔‘‘ (التذکرہ ازامام قرطبی: ۵۵ ۶)
اس میں راجح قول یہی ہے کہ یہ دھواں ان نشانیوں میں سے ایک ہے جن کاانتظار کیا جارہا ہے اورابھی تک یہ نشانی پیش نہیں آئی۔ اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مفہوم ہے :
’’تو (اے پیغمبر ) اس دن کاانتظار کر جب آسمان سے ایک کھلا دھواں اٹھے گا۔‘‘ (الدخان: ۱۰)
یعنی آسمان میں ایسا صاف اور واضح دھواں ظاہر ہوگا جسے ہر کوئی دیکھ سکے گا ( کسی کی آنکھوں سے اوجھل نہیں رہے گا ) رہا سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا وہ قول جو کہ انہوں نے قریش کے بارے میں بیان کیاہے ؛ بے شک وہ ایک خیال ہے، جو کہ وہ بھوک کی شدت او رقحط سالی کی وجہ سے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ایسے ہی ہے : ’’وہ لوگوں کو ڈھانک لے گا۔‘‘…یعنی حقیقی طور پر ان کو گھیر لے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : ’’یہ دردناک عذاب ہے۔‘‘… یعنی لوگوں سے کہا جائے [کہ یہ دردناک عذاب ہے ] اور دھویں نے ان کو خوفزدہ کررکھا ہوگا، یہی دردناک عذاب ہوگا۔
دھویں کے بارے میں وارد احادیث
٭ سیّدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہم باہم گفتگو کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم کس بات کا تذکرہ کر رہے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ وہ ہرگز قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم اس سے پہلے دس علامات دیکھ لوگے پھر دھوئیں دجال…‘‘ (مسلم)
٭ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ چھ باتوں سے پہلے پہلے اعمال کرنے میں جلدی کرو سورج کے مغرب سے طلوع ہونے دھوئیں دجال دابہ تم میں سے کسی خاص کی موت یا سب کی موت یعنی قیامت سے پہلے۔‘‘ ( مسلم)
٭ جناب عبد اللہ بن ابو ملیکہ فرماتے ہیں : ایک صبح میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا،تو انہوں نے کہا : آج رات میں ایک پل بھی نہیں سویا یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ میں نے کہا : وہ کیوں ؟ فرمانے لگے: ’’ (آج رات ) ایک دم دار ستارہ طلوع ہوا ؛ میں ڈر گیا کہ کہیں یہی دھواں نہ چھوڑ دیا گیا ہو، تو میں سو نہیں سکا یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس اثر میں محل شاہد دھویں سے ان کا خوف ہے۔ اس لیے کہ دھواں قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔