تین گرہن
تین گرہن
کچھ اس باب کے متعلق
قیامت کی جن بڑی نشانیوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہیں ، ان میں سے تین جگہ پرخسف (زمین کے دھنسنے )کے واقعات ہیں ۔ جس سے لوگ ہیبت کھا جائیں گے، اور ان کے دلوں میں ان نشانیوں کا بہت بڑا اثر ہوگا۔
خسف کا معنی
خسف کا معنی ہے زمین کا پھٹ جانا، اور جو کچھ اس کے اوپر ہے وہ زمین کے اندر چلا جانا۔ ماضی اور حاضر میں کئی قسم کے خسف کے واقعات پیش آچکے ہیں ؛ جو کہ اپنی قوت اور حجم کے لحاظ سے مختلف تھے۔ مگر جن خاص قسم کے خسوف (دھنسنے کے واقعات ) کی خبر حدیث میں ہے، ان کی ایک بہت ہی عجیب کیفیت ہوگی، اور ان کی خبر ہر طرف پھیل جائے گی۔ وہ تین دھنسنے کے واقعات جوکہ احادیث میں وارد ہوئے ہیں ؛ جو کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں اور آخری زمانے میں ہوں گے، ان پر بہت ساری نصوص دلالت کرتی ہے۔
خسف کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث
سیّدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہم باہم گفتگو کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کس بات کا تذکرہ کر رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’وہ ہرگز قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم اس سے پہلے دس علامات دیکھ لوگے پھر آپ نے ذکر کیا:
۱۔ دھواں
۲۔دجال
۳۔ دابۃ الارض (چوپایہ )
۴۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
۵۔سیّدنا عیسیٰ بن مریم کا نازل ہونا
۶۔ یاجوج ماجوج
تین جگہوں کے دھنسنے کے واقعات:
۷۔ ایک دھنسنا مشرق میں
۸۔ ایک دھنسنا مغرب میں
۹۔ ایک دھنسنا جزیرۃ العرب میں ۔
۱۰۔یمن سے نکلنے والی آگ جو لوگوں کوحشر( جمع ہونے کی جگہ) کی طرف لے جائے گی۔‘‘ (مسلم)
عمومی خسف کے بارے میں احادیث
بعض احادیث مبارکہ میں ان تین میں سے ایک خسف کی تحدید وارد ہوئی ہے جس میں خسف کی جگہ اور سبب مقرر ہے، یہ خسف جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ سیّدہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ ایک خلیفہ کی موت کے وقت لوگوں میں (اگلاخلیفہ منتخب کرنے میں )اختلاف ہوجائے گا؛ اس دوران ایک آدمی مدینہ سے نکل کر مکہ کی طرف بھاگے گا۔ لوگ اسے خلافت کے لیے نکالیں گے؛ لیکن وہ اسے ناپسند کرتا ہو گا۔ پھر لوگ ان کے ہاتھ پر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کریں گے۔ پھراہل شام ان کی طرف ایک لشکربھیجیں گے ؛تو وہ لشکر’’ بیداء‘‘ کے مقام پر زمین میں دھنس جائے گا (جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے )جب لوگ اس لشکر کو دیکھیں گے تو اہل شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں ان کے پاس آئیں گی ان سے بیعت کریں گی۔‘‘ (ابن حبان ، ابو داؤد)
خسف کے بارے میں چند دیگر احادیث
یہ واقعات لوگوں کی نافرمانیوں کی وجہ سے پیش آئیں گے۔
سیّدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ اس امت کے کچھ لوگ رات کھانے پینے پر اور لغو باتوں ( کھیل ومستی )میں گزاریں گے، اور جب صبح ہوگی تو ان کی شکلیں بندر اور خنزیر کی شکلوں سے بدل دی جائیں گی۔اور ضرور بالضرور قبیلوں کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، اور ان کے گھروں کو بھی زمین میں دھنسا دیا جائے گا؛ یہاں تک کہ صبح ہوگی تو لوگ کہیں گے : آج رات بنی فلاں کو زمین میں دھنسا دیا گیا۔ آج رات فلاں قوم کی بستی کو زمین میں دھنسا دیا گیا۔ اور ان پر پتھر برسانے والی ہوا مسلط کی جائے گی۔ اوران پر آندھی کے جھکڑ چلائے جائیں گے۔ (وہ ہوا)انہیں ایسے اکھیڑ کر رکھ دے گی جیسے ان سے پہلے لوگوں کو اکھیڑ کر رکھ دیا تھا شراب پینے، سود کھانے اور ریشم پہننے ؛ گانے بجانے والیاں رکھنے اور قطع رحمی کرنے کی وجہ سے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور نشانی بھی ذکر کی تھی جو کہ میں بھول گیا ۔‘‘ (مستدرک حاکم )
٭ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ میری امت میں زمین میں دھنسنے، شکلیں بگڑنے اور آسمانوں سے پتھر برسنے کے واقعات ہوں گے ۔‘‘ (حاکم)
٭ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ ایک شخص اپنی ازار تکبر سے لٹکائے ہوئے جا رہا تھا کہ زمین میں دھنس گیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔‘‘ (متفق علیہ)
٭ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:
’’اے انس! بے شک لوگ شہروں کو آباد کریں گے اور بے شک ان شہروں میں ایک شہر ایسا ہے جسے بصرہ یا بصیرہ کہا جائے گاپس اگر تو اس کے پاس گزرے یا اس میں داخل ہو تو اس کی رطوبت والی(نمکین) زمین سے بچ کر رہنا اور اس کی ’’کلَّا ‘‘ (جگہ کا نام ہے) سے اور اس کے بازاروں سے اور اس کے امرا ء کے دروازوں سے بچتے رہنا۔ اور تمہارے اوپر لازم ہے کہ اس کے جنگلات ومضافات کا رخ کرنا اس لیے کہ وہاں زمین میں دھنسنے، پتھر برسنے، زلزلے واقع ہونے عذاب نازل ہوں گے اور ایک قوم رات گزرے گی اور جب صبح ہوگی تو وہ بندر اور خنزیر ہوجائیں گے۔‘‘ (ابو داؤد)
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ لوگ نئے شہر آباد کریں گے، ان میں سے ایک شہر ایسا ہوگا جسے بصرہ کہا جائے گا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا انس کو خبر دار کیا اگر وہ اس شہر میں چلے جائیں تو وہاں کی نمکین زمین سے بچ کر رہیں ۔ اوراس کے ’’کلَّا ‘‘ نامی مقام اوربازاروں سے بچ کر رہنا جہاں پر لوگ خرید و فروخت کے لیے جمع ہوتے ہیں ، اور وہاں کے ظالم امراء کے دروازوں پر جانے سے منع کیا ؛ اس لیے کہ اس شہر میں دھنسنے، آسمانوں سے پتھر برسنے، شکلیں بگڑنے اور زلزلہ آنے کے واقعات پیش آئیں گے۔
آپ نے رہنمائی فرمائی کے اس کے گرد و نواح اور آس پاس میں رہیں ، اس لیے کہ یہ مقام ہلاکت سے دور ہیں ۔
٭ سیّدنا نافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ بے شک ایک آدمی جناب ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اور عرض کرنے لگا :
’’ فلاں نے آپ کو سلام کہا ہے۔ فرمایا مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے دین میں نئی بات ایجاد کی ہے اگر واقعی اس نے بدعت ایجاد کی ہے تو اسے میری طرف سے سلام مت کہنا کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ میری امت (یا اس امت) میں صورتیں بگڑیں گی اور زمین میں دھنسایا جائے گا اور سنگباری ہوگی اور یہ سب کچھ منکرین تقدیر کے ساتھ ہوگا۔‘‘ (سنن ابن ماجہ ، ترمذي)
ان احادیث مبارکہ میں زمین میں دھنسنے کے کئی قسم کے واقعات کے بارے میں خبریں وارد ہوئی ہیں ۔
رہے وہ تین بڑے خسوف (زمین میں دھنسنے) کے واقعات جو کہ آخری زمانے میں ہوں گے تو ان میں سے ایک واقعہ کے بارے میں گزر چکا جس میں جگہ اور تعین کا سبب موجود ہے۔ جب کہ دوسرے دو واقعات آخری زمانے میں ہوں گے، لیکن مجھے کوئی ایسی حدیث نہیں ملی جس میں ان کی جگہ یا سبب کا تعین ہو۔ واللہ اعلم