قتل و غارت کی کثرت
قتل و غارت کی کثرت
قیامت کی جو نشانیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی ہیں ، ان میں سے ایک قتل و غارت کی کثرت ہے۔ یہاں تک کہ کوئی آدمی کسی کو قتل کرے گا تو اسے معلوم نہیں ہوگا، کہ وہ کیوں قتل کررہا ہے، اورنہ ہی مقتول کو علم ہوگا کہ اسے کیوں قتل کیا جارہا ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے! دنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ لوگوں پر ایسا دن آئے گا کہ قاتل نہ جان سکے گا کہ اس نے کس وجہ سے قتل کیا اور نہ مقتول ، کہ اسے کس وجہ سے قتل کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:ایسا کیسے ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا: بکثرت خون ریزی ہوگی اور قاتل ومقتول دونوں آگ میں ہوں گے۔‘‘ (مسلم )
یہ قتل و غارت امیر المؤمنین سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے قتل سے شروع ہوا۔ اور یہ لڑائیاں بغیر کسی تشفی بخش سبب کے روز بروز بڑھتی ہی رہیں ۔ جن کی بھینٹ ہزاروں لوگ چڑھ گئے۔ حتی کہ ہمارے اس دور میں جب کہ تباہ کن اسلحہ ایجاد ہوچکا ہے؛ جو کہ انتہائی خونریز معرکوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ( تو بم گرانے والے کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس کو اور کیوں مار رہا ہے، اور نہ ہی قتل ہونے والے کو علم ہوتا ہے کہ اسے کیوں قتل کیا جارہا ہے ۔)
بعض جنگوں میں قتل ہونے والوں کی تعداد:
٭ پہلی عالمی جنگ میں ایک کروڑ پچاس لاکھ لوگ مارے گئے۔
٭ دوسری عالمی جنگ میں ساڑھے پانچ کروڑ لوگ مارے گئے۔
٭ ویت نام کی جنگ میں تیس لاکھ لوگ مارے گئے۔
٭ روس کی داخلی سرد جنگ میں ایک کروڑ لوگ مارے گئے۔
٭ اسپین کی جنگ میں ایک کروڑ بیس لاکھ لوگ مارے گئے۔
٭ ایران وعراق (پہلی خلیجی ) جنگ میں دس لاکھ لوگ مارے گئے۔
٭ عراق پر امریکی حملے میں دس لاکھ لوگ مارے گئے۔
اگرچہ ان میں سے بعض جنگوں پر یہ حدیث صادق نہیں آتی کہ قاتل کو علم نہیں ہوگا کہ وہ کیوں قتل کررہا ہے۔ مگر پھر بھی میں نے یہ عدد اس لیے یہاں پر بیان کیا ہے تاکہ قتل و غارت پھیل جانے کا علم ہوسکے۔