ننگے پاؤں اور ننگے سر چلنے والوں کا بڑی عمارتوں کی تعمیرمیں فخر کرنا

ننگے پاؤں اور ننگے سر چلنے والوں کا بڑی عمارتوں کی تعمیرمیں فخر کرنا

قیامت کی وہ نشانیاں جو کہ پیش آچکی ہیں اور جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی تھی ان میں سے ایک نشانی لوگوں کا بڑی شاندار اوربلند و بالا عمارتوں پر فخر کرنا ہے۔ جب کہ اس سے پہلے وہ لوگ ننگے پاؤں چلنے والے اور بکریاں چرانے والے ہوں گے۔ یہ مسلمانوں کو فتوحات حاصل ہونے اوران میں مال و دولت کی کثرت ہوجانے ؛ اوردنیا کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے پر سبقت بازی کی فضاء قائم ہوجانے کے بعد ہوگا۔ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے حدیث جبرئیل میں مروی ہے، جب جبرئیل امین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اورآپ سے ایمان،اسلام اورقیامت کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قیامت کی نشانیوں کے بارے میں خبر دی ؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ قیامت کی علامات میں سے یہ بات ہے کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی اور تو دیکھے گا کہ ننگے پاں ننگے جسم تنگ دست چرواہے بڑی بڑی عمارتوں پر اترائیں گے۔‘‘ (مسلم ) اور ایک روایت میں ہے : ’’ جب آپ دیکھیں کہ ننگے پاؤں چلنے والے، بھوکے اور بے کس(فقیر) لوگ، لوگوں کے سردار بن جائیں تویہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ آپ سے پوچھا گیا : یا رسول اللہ! یہ بھوکے فقیر کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا: ’’عرب۔ ‘‘ (مسند احمد ، البانی نے صحیح کہا ہے۔ ) اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلندو بالا عمارتیں تعمیر کرنا حرام نہیں ہیں جب کہ ان میں لوگوں کا فائدہ ہو، اوریہ تکبر، فخر اور ایک دوسرے پر اترانے کے لیے نہ بنائی جائیں ۔ عمارتوں کے بنانے میں (تطاول) یعنی انہیں اونچا اور لمبا کرنااس وقت ممکن ہوگا جب بہت زیادہ منزلیں تعمیرکی جائیں اورانہیں اوپر اٹھایا جائے اور عمارتوں کو خوبصورت اور پائیدار بنایاجائے، گھروں کو وسیع کیا جائے اور ان میں مجالس اور مرافقین(ہم راہیوں و ہم نشینوں ) کی کثرت ہو۔ یہ تمام باتیں ہمارے زمانے میں اس وقت پیش آچکی ہیں جب کہ لوگوں کے پاس مال بہت زیادہ ہوچکا ہے ؛ اور ان پردنیا کے دروازے ہر طرح سے کھول دیے گئے ہیں ۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ بکریاں چرانے والے بادیہ نشین بادیہ چھوڑ دیں گے اور بڑی بڑی عمارتوں کی تعمیر پر توجہ دینے لگیں گے؛ اپنی عمارتوں اورگھروں ؛برج اور ٹاورز کی تعمیر پر ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہوئے تکبر و فخر کا اظہار کریں گے۔ ان میں سے ہر ایک اس طرح تعمیرکرے گا کہ اس کی عمارت دوسرے کی عمارت سے بلند ہو۔ اونچی اونچی عمارتوں کا تعمیر کرنا آج کل عربوں میں اور غیرعربوں میں عام ہے۔ یہاں تک حکومتیں اونچی عمارتیں تعمیر کرنے میں آپس میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے لگی ہیں ؛ اور اس میں ایک دوسرے پر فخر کا اظہار کرتی ہیں ۔