لباس پہنے ہوئے مگر ننگی عورتیں

لباس پہنے ہوئے مگر ننگی عورتیں

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک بے پردگی اور حیا باختگی کا عام ہوجانا ہے۔ عورتیں ایسے تنگ لباس پہن کر نکلیں گی جن سے ان کے جسم کی پوری پوری حالت و کیفیت معلوم ہو رہی ہو گی۔ یا پھر ان کے لباس اتنے باریک اور تنگ ہوں گے جن سے اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ان کا ستر صاف کھلا ہوا نظرآرہا ہوگا۔ وہ ظاہری طور پر تو لباس پہنے ہوئے ہوں گی، مگر وہ حقیقت میں اپنے لباس کے تنگ اورشفاف ہونے کی وجہ سے ننگی ہوں گی؛ کیونکہ اس لباس سے ان کے فتنہ پھیلانے والے اعضاء صاف نظرآرہے ہوں گے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’دوزخیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ انہیں میں نے نہیں دیکھا ایک قسم تو اس قوم کے لوگوں کی ہے کہ جن کے پاس گایوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے اور وہ لوگوں کو ان کوڑوں سے ماریں گے، اور دوسری قسم ان عورتوں کی ہے کہ جو لباس پہننے کے بادجود ننگی ہوں گی دوسرے لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود بھی مائل ہوں گی ان کے سر بختی اونٹوں کی کوہان کی طرح ایک طرف کو جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پائیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی انتی مسافت سے آتی ہو گی۔‘‘ (مسلم )