جھوٹی گواہی

جھوٹی گواہی

جھوٹی گواہی یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے پر گواہی دیتے ہوئے جھوٹ سے کام لے۔اور وہ بہتان تراشی کرتے ہوئے اور جھوٹ بولتے ہوئے گواہی دے کہ فلاں کا فلاں پر حق ہے۔ایسا کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ حدیث میں آتا ہے: ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا کیا میں تم لوگوں کو سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے جواب دیا: ہاں یا رسول اللہ!کیوں نہیں ۔ (ضرور بتائیے)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا والدین کی نافرمانی کرنا ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے ؛ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا :’’سن لو! جھوٹ بولنا [بہت بڑاگناہ ہے ]۔‘‘ (متفق علیہ) جھوٹ کا لوگوں کے مابین پھیل جانا، اوراس کے بارے میں سستی کرنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ جیسا کہ سابقہ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بے شک قیامت سے بیشتر کچھ نشانیاں ظاہر ہوں گی …اوران میں سے ایک نشانی بتائی کہ…اور جھوٹی گواہی عام ہو جائے گی۔‘‘ (مسند احمد ، شعیب ارناؤوط نے حسن کہا ہے۔) جھوٹی گواہی جج یا فیصلہ کرنے والے حاکم کے پاس ہی بیان کرنے کے لیے خاص نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہر قسم کی گواہی کے لیے عام ہے، جیساکہ بعض لوگ آپس میں ایک دوسرے کے پاس گواہی دیتے ہیں ۔ اور ملازمین اپنے کارخانوں یا کمپنیوں کے ذمہ داروں کے سامنے جھوٹی گواہی دیتے ہیں ۔ ایسے ہی سکولوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علموں کی ایک دوسرے کے خلاف جھوٹی گواہی اور والدین کے سامنے اولاد کی گواہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹی گواہی دینے اور جھوٹی قسم کھا کر یا بہتان باندھ کر لوگوں کا مال ناحق کھانے سے منع کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو کوئی جھوٹی قسم سے کسی مسلمان کا حق مارتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوں گے، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ’’ جو لوگ اللہ کے اقراروں اور اپنی قسموں ( کو بیچ ڈالتے ہیں اور اُن ) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں اُن کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ، اُن سے اللہ نہ کلام کر ے گا اور نہ قیامت کے روز اُن کی طرف دیکھے گا اور نہ اُن کو پاک کرے گا اور اُن کو دردناک والا عذاب ہو گا ۔‘‘ ( آل عمران: ۷۷) سیّدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جوکوئی جھوٹی قسم اٹھاکر کسی مسلمان کا حق مارتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو واجب کردیتے ہیں اور جنت کو اس کے لیے حرام کردیتے ہیں ۔‘‘ ایک آدمی نے کہا : یارسول اللہ ! اگرچہ وہ بہت تھوڑی چیز ہی کیوں نہ ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خواہ اراک (ایک درخت کانام ) کی ایک ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (رواہ مسلم)