سچی گواہی کا چھپانا

سچی گواہی کا چھپانا

اللہ عزوجل نے مسلمان کو حکم دیا ہے کہ اپنے بھائی کی مدد کی جائے، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ؛سوجتنا ممکن ہوسکے ظالم کو اس کے ظلم سے روکا جائے، اور مظلوم کو اس کاحق دلوایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے گواہی چھپانے کو حرام ٹھہرایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ اور (دیکھنا) شہادت کو مت چھپانا، جو اُس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہو گا۔‘‘ (البقرہ: ۲۸۳) آخری زمانے میں لوگ آپس میں ایک دوسرے کے حقوق ماریں گے، اور جو لوگ اس کی حقیقت کو جانتے ہوں گے، وہ بیان کرنے سے خاموش رہیں گے، وہ قدرت ہونے کے باوجود حق بات کہنے سے باز رہیں گے، اس کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ گواہی کے ادا کرنے پر اپنی ذاتی مصلحتوں پر ترجیح دیں گے۔ یہ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے جیسا کہ پہلی حدیث میں گزر چکا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ بے شک قیامت سے بیشتر کچھ نشانیاں ظاہر ہوں گی … اوران میں سے ایک نشانی بتائی کہ… اورلوگ سچی گواہی کو چھپائیں گے۔‘‘ (مسند احمد ،شعیب ارناؤوط نے حسن کہا ہے۔)