۴۶۔لونڈیوں، ریشم، شراب، گانے بجانے کے آلات کو حلال سمجھنا
۴۶۔لونڈیوں، ریشم، شراب، گانے بجانے کے آلات کو حلال سمجھنا
واضح ترین حرام چیزوں میں سے، جن کے حرام ہونے سے کوئی بھی مسلمان انجان نہیں ہے، زنا، شراب نوشی، اورانتہائی بیہودہ قسم کا میوزک اور مردوں کا ریشم پہنناہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی خبر دی تھی کہ آپ کی امت میں آخری زمانے میں ایسا گروہ ضرور آئے گا جو ان حرام چیزوں کو حلال سمجھے گا۔ اور اسے قیامت کے قریب ہونے کی نشانیوں میں سے ایک شمار کیا ہے۔
ان حرام چیزوں کو حلال سمجھنے سے مراد دوباتوں میں سے ایک ہے :
۱۔ ان امور کو حلال سمجھنے کا عقیدہ رکھنا کہ یہ چیزیں حرام نہیں ہیں ۔
۲۔ ان حرکات کے ارتکاب کا عادی ہوجانا او ر ان کا لوگوں کے مابین ایسے پھیل جانا کہ نہ ہی دل ان پر انکار کریں اور نہ ہی زبان سے ان کا انکار کیا جائے۔ یہاں تک کہ لوگوں کو ان حرکات کا ارتکاب کرتے ہوئے ان کی حرمت کا احساس اور شعور بھی نہیں ہوگا۔ سیّدنا ابو عامر اور ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم اور شراب اور گانے بجانے کے آلات کو حلال سمجھیں گے۔ اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر چلے جائیں گے، چرواہے صبح و شام ان کے مویشی لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تووہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے : ’’ کل آنا۔ ‘‘ لیکن اللہ تعالیٰ رات ہی رات ان کو ان کی اس سرکشی کی وجہ سے ہلاک کردے گا۔ پہاڑ کو ان پر گرادے گا اوران میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے سور او ربندر کی شکل میں بگاڑ دیا جائے گا ۔‘‘ (بخاری )
آج کل کے اس دور میں بہت سارے اسلامی ممالک میں لوگ زنا اور شراب کے بارے میں انتہائی سستی کا شکار ہیں ۔ اور حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ قبحہ خانوں اور میکدوں کو قانونی تحفظ حاصل ہورہا ہے۔ اور سرکاری تقریبات میں زانیہ عورتوں کو پورے پروٹوکول کے ساتھ مدعو کیا جارہا ہے۔ جب کہ شراب کا معاملہ تو بہت ہی آگے بڑھ چکا ہے۔ اسلامی ممالک کی بڑی تجارتی منڈیوں میں اس کی دن دیہاڑے سرے عام خرید و فروخت ہورہی ہے۔ سیّدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے مگر اس کا نام کچھ اور رکھ دیں گے۔ اور ان کی سر پرستی میں باجے بجیں گے اور گانے والیاں گائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے بعض کی شکلوں کو بگاڑ کر خنزیر اور بندر بنادے گا۔‘‘(حدیث صحیح ، ابن ماجہ )
آج کے اس دور میں خطرناک ترین اللہ تعالیٰ کی نافرمانی جس سے لوگوں کو آزمایا جارہا ہے وہ گانوں کا سننا اور آلات طرب کا عام ہونا ہے۔ جو کہ دل میں پیدا ہونے والے امراض کے بڑے اسباب میں سے ایک ہے۔ جن سے انسان اللہ تعالیٰ کی یاد اور نماز کی ادائیگی ؛ قرآن پاک کی تلاوت اور اس سے فائدہ حاصل کرنے سے رک جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں کہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ ‘‘ (لقمان: ۶)
مفسرین نے لغو باتوں کی تفسیر گانے بجانے کے آلات سے کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گانے بجانے کے آلات، زنا کاری اور شرب نوشی کو ایک ہی جگہ ملا کر بیان کیا ہے، فرمایا:
’’میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم ، شراب اور گانے بجانے کے آلات کو حلال سمجھیں گے۔‘‘ (اس کی وجہ ان چیزوں کا بنا کسی روک ٹوک کے عام ہوجاناہے۔)
آج کل کے دور میں گانے بجانے کا عام ہونا کسی بیان کا محتاج نہیں رہا۔ ایسے ٹی وی چینل قائم کیے گئے ہیں جو صرف اور صرف مختلف قسم کے میوزک اور گانے بجانے پیش کرتے رہتے ہیں ۔ اور ایسے بہت سے ٹی وی چینلز ایسے ہیں جن کاکام چوبیس گھنٹے موسیقی اور گانے پیش کرنا ہے۔اس میں کوئی وقفہ نہیں ہوتا ؛ نہ ہی خبر و اخبار کے لیے نہ ہی تلاوت قرآن کے لیے۔یہ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے سچے ہونے کی ایک دلیل ہے۔ مسلمان پر واجب ہوتا ہے کہ وہ ان چیزوں سے بچ کررہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’بے شک گانا بجانا دل میں نفاق کو ایسے پیدا کرتا ہے جیسے پانی سے فصلیں اگتی ہیں ۔ ‘‘