لوگوں کاموت کی تمنا کرنا
لوگوں کاموت کی تمنا کرنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا زمانہ آنے کی خبر دی تھی جس میں ظلم اور فتنے اور آزمائشیں اس قدر بڑھ جائیں گے کہ کوئی انسان اپنے کسی دوست کی قبر پر سے گزرے گا توتمنی کرے گا : اے کاش! وہ اس قبر میں اپنے ساتھی کی جگہ ہوتا ؛ وہ ایسی تمنا شدید آزمائشوں کی وجہ سے کرے گا تاکہ وہ ان سختیوں او رپریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کرے جن کی تلخی موت سے بھی بڑھ کر ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے! دنیا ختم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی قبر کے قریب سے گزرے گا تو اس پر لیٹے گا اور کہے گا اے کاش اس قبر کی جگہ میں ہوتا ۔‘‘ ( متفق علیہ)
سیّدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اگر کوئی انسان موت کو بکتا ہوا پائے تو اسے خرید لے۔‘‘
اس حدیث کا ان احادیث سے کوئی تعارض نہیں ہے جن میں موت کی تمنا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :
’’تم میں سے کوئی ایک پریشانی پیش آنے کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے۔‘‘ ( مسلم)
اس لیے کہ جس چیز کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تذکرہ فرمایا ہے کہ آخری زمانے میں واقع ہوگی، وہ صریح طور پر مرنے کی دعا اور تمنا نہیں ہے، بلکہ وہ دل کے اندر معاشرہ میں پھیلے ہوئے گناہوں ؛ مصائب اور برائیوں سے چھٹکارا پانے کی ایک تمنا ہے، خواہ موت کے ذریعہ ہی کیوں نہ حاصل ہو۔
اس میں یہ شرط بھی نہیں ہے کہ یہ شعور آخری زمانے میں ہر مسلمان کے دل میں پیدا ہو۔ بلکہ ایسے ہوسکتا ہے کہ یہ بعض ممالک کے مسلمانوں کے دل میں تمنا پیدا ہو؛ اور دوسرے ممالک میں ایسے حالات نہ ہوں ۔ یا بعض خاص قسم کے حالات میں دل میں اس قسم کی خواہش پیدا ہو، اور بعض عام حالات میں یہ کیفیت نہ پیدا ہو، اس لیے کہ ایمان میں لوگوں کے مراتب ؛ مصائب میں ان کے صبر و تحمل اور برائیوں پربرداشت کی قوت کے مدارج مختلف ہیں ۔