قرب قیامت میں آسمانی بجلی کی کثرت
قرب قیامت میں آسمانی بجلی کی کثرت
یہ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے کہ آسمانی بجلی کی وجہ سے کثرت کے ساتھ لوگوں کی موت واقع ہوگی۔ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’قرب قیامت میں آسمانی بجلی کا گرنا بہت زیادہ ہوجائے گایہاں تک کہ کوئی شخص اپنی قوم کے پاس آئے گا اور پوچھے گا : آج صبح تمہاری طرف کون سا شخص بجلی سے مراہے ؟ تو وہ کہیں گے : فلاں او رفلاں شخص۔‘‘ (مسند احمد)
نوٹ :… حدیث میں وارد لفظ ’’ صاعقہ ‘‘ کا ترجمہ آسمانی بجلی سے کیا ہے، جس کی ایک جھلک آسمان میں گرج کے ساتھ نظر بھی آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے قوم ِ ثمود کو آسمانی گرج کے ساتھ ہلاک کیا تھا۔ ارشاد الٰہی ہے :
’’رہے قوم ثمود، سو ہم نے ان کی بھی راہبری کی ،پھر بھی انہوں نے ہدایت پر اندھے پن کو ترجیح دی جس بنا پر انہیں سراپا ذلت کے عذاب، کی کڑک نے ان کے کرتوتوں کے باعث پکڑ لیا۔‘‘ (فصلت: ۱۷)
نیز ارشاد ِ الٰہی ہے:
’’اب یہ روگردان ہوں تو کہہ دیجئے! کہ میں تمہیں اس کڑک (عذاب آسمانی) سے ڈراتا ہوں جو مثل عادیوں اور ثمودیوں کی کڑک کے ہوگی۔‘‘ (فصلت: ۱۳)
اس کڑک (بجلی ) کی قوت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کا نام طاغیہ ( سر کش ) رکھا ہے ؛ ارشاد الٰہی ہے:
’’ رہے ثمود کی قوم ؛ تو ہم نے انہیں ’’طاغیہ ‘‘ آسمانی کڑک سے ہلاک کیا ہے۔‘‘ (الحاقۃ: ۵)