کتابت (کتابوں )کی کثرت اور انتشار

کتابت (کتابوں )کی کثرت اور انتشار

کتاب اور کتابت اتنے پھیلے ہوئے نہیں تھے۔ بلکہ عوام میں نہ لکھنا (پڑھنا) غالب اور مروج تھا۔ سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردی ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ قلم ظاہر ہوگا، کتاب اور کتابت پھیل جائیں گے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک قیامت سے پہلے یہ نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ جان پہچان کے لوگوں کو سلام کہنا، تجارت کا عام ہونا یہاں تک کہ عورت اپنے شوہر کی تجارت میں مددگار ہوگی، قطع رحمی، جھوٹی شہادت،سچی گواہی کا چھپانا اور قلم کا ظاہر ہونا۔‘‘ (مسند احمد ، شیخ شعیب ارناؤوط نے حسن کہا ہے۔ ) شاید کہ قلم ظاہر ہونے سے مراد یہ ہوکہ : کتابت اور کتاب پھیل جائیں گے ؛ بہت ساری کتابیں طبع و نشر کی جائیں گی۔یہاں تک کہ لوگوں کی غالب تعداد کے پاس کتاب میسر ہوگی۔ اس لیے کہ کتاب کی طباعت، تصور اور نشرو اشاعت کے جدید ترین وسائل میسر ہوں گے۔ مگر اس کے باوجود آپ دیکھیں گے کہ لوگوں میں اپنے دین سے جہالت اور امورِ شریعت سے بے خبری منتشر ہے۔ اس کی تائید سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ جہالت غالب ہوگی، علم کم ہوجائے گا، زنا زیادہ ہونے لگے گا اور شراب پی جائے گی، مرد کم ہو جائیں گے اور عورتیں اتنی زیادہ ہو جائیں گی کہ پچاس عورتوں کا نگران ایک مرد ہوگا۔‘‘ ( متفق علیہ) یہ نشانی ظاہری طور پر ہر اس انسان کو نظر آسکتی ہے جو ذرا بھر بھی لوگوں کے ان کے دین سے متعلق احوال میں غور وفکر کرے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ سب کو دین کی سمجھ عطا فرمائے۔