ایسا زمانہ جب پڑھنے والے زیادہ ہوں گے علماء اور فقہاء کم ہوں گے

ایسا زمانہ جب پڑھنے والے زیادہ ہوں گے علماء اور فقہاء کم ہوں گے

بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر بھی دی تھی کہ قرب قیامت میں (کتابیں ) پڑھنے والے زیادہ ہوجائیں گے مگر فقہاء اور علماء کم ہوجائیں گے۔ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب پڑھنے والے زیادہ ہوجائیں گے، اور فقہاء کم ہوجائیں گے، علم اٹھا لیا جائے گا، اور ہرج بہت زیادہ ہوجائے گا۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! یہ ہرج کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: تمہارا آپس میں قتل کرنا، پھر اس کے بعد ایسا زمانہ آئے گا جب قرآن ایسے لوگ پڑھیں گے کہ (قرآن ) ان کے حلق سے تجاوز نہیں کرے گا، پھر اس کے بعد ایسا زمانہ آئے گا جب منافق کافر اوراللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والا مومن سے اس جیسی باتیں کرکے ہی جھگڑا کرے گا۔‘‘ (مستدرک حاکم) اس معاملے کی قباحت اور برائی اس وقت اور بھی بڑھ جائے گی جب علماء کو موت دے کر علم اٹھالیا جائے گا تو کوئی عالم باقی نہیں رہے گا؛ تو لوگ جہلاء کو اپنا سردار بنالیں گے، جب ان سے سوال کیا جائے گا تو بغیر علم کے جواب دیں گے، خود بھی ( جہالت کی وجہ سے ) گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ بندوں (کے سینوں سے)نکال لے بلکہ علما کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو جاہلوں کو سردار بنالیں گے اور ان سے (دینی مسائل) پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسرں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘ (متفق علیہ) ان سابقہ احادیث میں علم کے قبض ہونے مراد مطلق علم کا اٹھالیا جانا ہے ؛ یہ مراد نہیں ہے کہ علم حفظ کرنے والوں کے سینوں سے مٹادیا جائے گا، بلکہ مراد یہ ہے کہ اہل علم لوگ مر جائیں گے، اور لوگ جہلاء کو اپنا بڑا بنالیں گے، وہ اپنی جہالت کے مطابق لوگوں کے مابین فیصلے کریں گے، وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ ماضی کے ان دس سالوں میں امت اسلامیہ کو ناگہانی طور پر کئی ایک ایسے علماء امت کی اموات کے صدمے اٹھانے پڑے جن کا امت کی تعلیم و تربیت میں بہت بڑا اثر تھا۔ ۱۔ امام علامہ ابن باز رحمہ اللہ رئیس ہئیۃ کبار العلماء ( سعودی عرب ) کا انتقال ۲۔ علامہ محمد بن صالح ابن العثیمین کا انتقال ۳۔ محدث العصر علامہ ناصر الدین الالبانی کا انتقال اور ان کے علاوہ دیگر اہم ترین علماء کا انتقال انہی سالوں میں ہوا جو کہ علم کے ستون تھے۔ جو کوئی اگر آج کل امت کے حالات پر غور کرے تو دیکھے گا کہ بہت سے نوجوان اور عام لوگ قرآن کو ترتیل کے ساتھ اور گاکر پڑھنے میں اور اپنی آواز کو خوبصورت بنانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جارہے ہیں ۔ جب کہ علم ِ شریعت کی طلب اور اس میں پختگی حاصل کرنے سے غافل ہیں ۔اگر آپ ان میں سے کسی ایک سے طہارت یا سجدہ سہو کے متعلق سوال کریں گے تو اسے علم سے کورا پائیں گے۔