سب سے گھٹیا انسان کا سب سے خوش قسمت ہوجانا
سب سے گھٹیا انسان کا سب سے خوش قسمت ہوجانا
قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ایسا وقت آئے گا جس میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا تصورکیا جائے گا۔ خائن کو امین بنایا جائے گا اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا۔ لوگوں کا معاملہ بیوقوفوں کے ہاتھ چلا جائے گا۔ عہد امارت غیر اہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں گے۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دن اور راتیں گزر جائیں گے ( یعنی ایک وقت ایسا آئے گا)کہ لوگوں میں سب سے معزز دنیا کے لحاظ سے لکع ابن لکع ہو گا۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’قریب ہے کہ لکع ابن لکع دنیا پر غالب آجائے گا۔‘‘
یہ بھی ارشاد ہے: ’’دنیا ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ وہ لکع ابن لکع ہو جائے گی۔‘‘
(لکع ابن لکع) بیکار چیز: مخلوق کے ہاں جس کی کوئی تعریف اور قدر نہیں ۔ اہل عرب کے ہاں بہرے آدمی کو کہتے ہیں ۔ لکع حمقاء اور جہلاء پر دلالت کے لحاظ سے مستعمل ہے۔اسی لیے آدمی کو ’’ لکع ‘‘ کہا جاتا ہے اور عورت کو لکاع (کمینہ مرد، کمینی عورت)یہ اس وقت ہو گا جب لوگوں میں جاہ ، جلال ، خوبصورت سواریوں اور بڑے بڑے گھروں کے لحاظ آدمی دنیا میں معزز ہو گا کیونکہ وہ کمینہ ہے۔ ہر طریقے سے (حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر) مال کمائے گا اور لوگوں کے ساتھ مل کر ان کی خواہشات کے مطابق خرچ کرے گا تو وہ دنیا سے الگ ہو گیا۔