عبدالرحمن ثالث
وفات
خلیفہ عبدالرحمن ثالث المقلب بہ ناصرلدین اللہ نے مرتے وقت سلطنت اندلس کو اس حالت میں چھوڑا کہ عیسائی سلاطین جو سرحد پر تھے اپنی سینکڑوں برس کی جدوجہد کے بعد مایوس و ناکام ہو کر سلطنت اسلامیہ اندلس کی غلامی و فرماں برداری کا اقرار کرنے پر مجبور ہو کر اطاعت گزاری پر ہمہ وقت مستعد نظر آتے تھے اور غلاموں کی طرح دربار قرطبہ میں عرضیاں بھیجتے اور التجائیں کرتے تھے۔ جو عیسائی بادشاہ دور دراز کے ملکوں پر قابض و فرماں روا تھے۔ وہ بھی خلیفہ اندلس کو رضا مند رکھنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے اور دربار قرطبہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا ہونے پر فخر کرتے تھے۔ مراکش کا ملک اندلس کی حکومت میں شامل تھا۔ تمام بحر روم اور دوسرے سمندروں پر بھی اندلس کے بیڑہ کی حکومت تھی۔ اور سمندروں میں کوئی طاقت اندلس کے جہاز کو نہیں ٹوک سکتی تھی۔ کوئی اندرونی خطرہ بھی باقی نہ رہا تھا۔