عبدالرحمن ثالث

خلیفہ حکم بن عبدالرحمن ثالث کی تخت نشینی

اپنے باپ کی وفات کے تیسرے روز خلیفہ حکم ۵ رمضان المبارک ۳۵۰ھ کو بہ عمر ۴۸ سال قصر الزہرا میں تخت خلافت پر بیٹھا۔ وزراء‘ سپہ سالاران فوج‘ امراء‘ علماء اور اراکین سلطنت بیعت کے لیے حاضر دربار ہوئے۔ قاضی القضاۃ اور دوسرے قاضیوں نے اول بیعت کی‘ اس کے بعد خلیفہ کے بھائیوں اور شہزادوں نے رسم بیعت ادا کی۔ اس کے بعد وزراء و امراء اور اراکین سلطنت نے اقرار اطاعت کیا۔ صوبوں کے عامل جو قرطبہ میں حاضر ہو سکے تھے۔ انہوں نے اصولتاً شرف بیعت حاصل کیا۔ باقی لوگوں کے پاس ملک کے صوبوں اور بڑے بڑے شہروں میں بیعت لینے کے لیے خلیفہ نے وکلاء روانہ کئے قصر شاہی کے خادموں اور غلاموں نے بھی بیعت کی۔ تخت نشینی کی رسم بڑی دھوم دھام اور شان و شکوہ کے ساتھ ادا ہوئی۔ خلیفہ حکم ثانی نے اپنا لقب مستنصر باللہ تجویز کیا۔ جعفر مصحفی کو اپنا حاجب مقرر کیا۔