محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ
انہیں ایام میں انس بن رافع اپنی قوم بنو عبدالاشہل کے چند لوگوں کو ہمراہ لے کر مدینہ سے مکہ میں اس لئے آیا کہ قریش مکہ سے قوم خزرج کے مقابلہ میں معاہدہ کرے اور قریش کو اپنی قوم کا ہم عہد بنائے‘ اس وفد کے آنے کی خبر سن کی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم سب سے پہلے ان کے پاس پہنچ گئے‘ ابھی وہ سردارن قریش سے ملنے اور اپنا مقصد بیان کرنے نہ پائے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جاتے ہی ان سے کہا کہ میرے پاس ایسی چیز ہے جس میں تم سب کی بہتری مضمر ہے‘ اگر تم چاہو تو میں پیش کروں‘ انہوں نے کہا بہت اچھا آپ صلی اللہ علیہ و سلم پیش کریں‘ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میں لوگوں کی ہدایت و رہبری کے لئے رسول مبعوث ہوا ہوں شرک سے منع کرتا‘ اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کا حکم دیتا ہوں‘ مجھ پر اللہ تعالی نے کتاب نازل کی ہے‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسلام کے اصول بتائے اور قرآن مجید پڑھ کر سنایا۔
مدینہ کے اس وفد میں انس بن رافع کے ہمراہ ایک نوجوان ایاس بن معاذ بھی تھا‘ ایاس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی باتیں اور قرآن مجید کی آیتیں سن کر بے تابانہ کہا کہ اے میری قوم! تم جس مقصد کے لئے مدینہ سے آئے ہو باللہ تعالیٰ یہ چیز اس سے اچھی ہے‘‘ امیر وفد انس بن رافع نے ایاس بن معاذ کو ڈانٹا اور کہا ہم اس کام کے لئے نہیں آئے‘ ایاس خاموش ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم وہاں سے خاموش اٹھ کر چلے آئے‘ نتیجہ یہ ہوا کہ مدینہ کا وفد ناکام مکہ سے واپس آ گیا‘ اور کوئی معاہدہ قریش سے نہ ہو سکا‘ مدینہ میں جا کر چند روز کے بعد سیدنا ایاس رضی اللہ عنہ بن معاذ کا انتقال ہوا اور انہوں نے مرنے سے پہلے اپنے اسلام اور ایمان کا اظہار فرمایا۔۲؎