محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
ضماد ازدی
مادازدی عرب کا مشہور افسوں گر اور یمن کا باشندہ تھا وہ ایک مرتبہ مکہ میں آیا ‘ یہاں قریش سے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر جنات کا اثر ہے‘ بولا کہ میں اپنے منتر سے ابھی اس شخص کا علاج کئے دیتا ہوں‘ چنانچہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ میں تم کو اپنا منتر سناتا ہوں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ پہلے مجھ سے سن لو پھرتم سنانا‘ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے خطبہ کے ابتدائی کلمات اس طرح شروع کئے۔
الحمدللہنحمدہونستعینہمنیھداللہفلامضللہومنیضللہفلاھادیلہواشھدانلاالہالااللہوحدہلاشریکلہواشھدانمحمداعبدہورسولہ۔۱؎امابعد
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی قدر الفاظ ابھی بیان فرمائے تھے کہ ضماد بے اختیار بول اٹھا‘ یہی کلمات پھر دوبارہ بیان کیجئے‘ چنانچہ کئی مرتبہ اس نے یہی کلمات آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پڑھوائے اور پھر کہا کہ
میں نے بہت سے کاہن‘ ساحر‘ شاعر دیکھے‘ اور ان کا کلام سنا لیکن ایسا جامع و مانع اور لطیف و بلیغ کلام کبھی نہیں سنا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا اپنا ہاتھ بڑھائیے میں مسلمان ہوتا ہوں اور اسلام کے لئے بیعت کرتا ہوں۔۲؎