اندلس پر موحدین کی حکومت

امام غزالی کی پیش گوئی

سیدنا امام غزالیa کی خدمت ہیں بھی حاضری کا شرف حاصل کیا۔ ایک روز جب کہ امام غزالی کی خدمت میں ابن تومرت بھی موجود تھا۔ کسی نے عرض کیا کہ آپ کی کتابوں کو امیر المسلمین علی بن یوسف بن تاشفین فرماں روائے مراکش و اندلس نے جلا ڈالنے کا حکم دیا ہے‘ سیدنا امام ممدوح نے فرمایا کہ اس کا ملک برباد ہو جائے گا۔ اور میرا خیال ہے کہ اس کے ملک و سلطنت کی بربادی اسی شخص کے ذریعہ عمل میں آ جائے گی جو اس وقت ہماری مجلس میں موجود ہے۔ امام موصوف نے یہ الفاظ فرماتے ہوئے ابن تومرت کی طرف اشارہ کیا۔ اسی روز سے ابن تومرت کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا۔ کہ مرابطین کی سلطنت کو مٹایا جائے جو تقلید جامد کی حامی اور روشن خیالی کی دشمن ہے۔ چنانچہ ابن تومرت اپنے وطن کی طرف متوجہ ہوا راستے میں اسکندریہ میں چند روز قیام کیا اور وہاں امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے باز نہ رہا۔ والی اسکندریہ نے اپنے شہر سے نکلوا دیا۔ غرض ابن تومرت کی یہ صفت خاص طور پر قابل تذکرہ ہے۔ کہ وہ لوگوں کو نصیحت کرنے‘ اور برائیوں سے روکنے میں مطلق باک نہ کرتا تھا۔ عابد زاہد اور نہایت باخدا شخص تھا۔ ابن تومرت کے مذہبی عقیدے کی نسبت کہا جاسکتا ہے کہ اشاعرہ متکلمین اور امامیہ کا مجموعہ تھا۔ ابن تومرت کی نسبت ابن خلکان لکھتا ہے کہ وہ کامل متقی و پرہیز گار شخص تھا۔ نہایت زاہدانہ زندگی بسر کرتا۔ اس کی پوشاک و غذا نہایت سادہ ہوتی تھی۔ وہ ہمیشہ خوش نظر آتا اور ریاضت و نفس کشی کی جانب مائل رہتا تھا۔ ابن تومرت نہایت فصاحت کے ساتھ عربی زبان بولتا تھا۔ مراکشی زبان تو اس کی مادری زبان تھی۔ ۵۱۵ھ میں وہ اپنے وطن میں آیا۔ اور لوگوں کو وعظ و پند کرنے لگا۔