اندلس پر موحدین کی حکومت
ابو یعقوب
اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ابویعقوب یوسف تخت نشین ہوا اور یہ مہم جس کو عبدالمومن پورا کرنا چاہتا تھا۔ بعض اندرونی پیچیدگیوں کے سبب ناتمام رہی۔ عبدالمومن کی وفات کے بعد عیسائیوں کو موقعہ ملا کہ انہوں نے اندلس کے بعض مغربی اضلاع پر قبضہ کر لیا اور ان کا کوئی تدارک نہ ہو سکا۔ ادھر مردینش حاکم جیاں و مرسیہ نے خود مختاری کا اعلان کر کے عیسائیوں کو تقویت پہنچائی۔ ابو یعقوب نے مراکش سے دس ہزار فوج ہمراہ لے کر اندلس کا قصد کیا۔ اور اشبیلیہ میں آ کر مقیم ہوا۔ ابویعقوب یوسف کے اشبیلیہ آنے کے بعد ہی مردینش حاکم مرسیہ و جیان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بیٹوں نے آ کر اپنے باپ کا تمام علاقہ ابو یعقوب یوسف کی نذر کر دیا اور اطاعت و فرماں برداری کی گردنیں جھکا دیں۔ ابویعقوب یوسف نے بھی ان کے ساتھ بڑی رعایت و مروت کا برتائو کیا اور ان کے باپ کے علاقے پر ان کو حاکم مقرر کر دیا۔ اس کے بعد اس نے مغربی عیسائیوں کی طرف متوجہ ہو کر تمام علاقہ جو انھوں نے دبا لیا تھا چھین لیا۔ اس کے بعد اس نے مغربی عیسائیوں کی طرف متوجہ ہو کر تمام علاقہ جو انھوں نے دبا لیا تھا چھین لیا۔ اس کے بعد طیطلہ کا محاصرہ کیا۔ لیکن چند روز کے بعد کسی ضرورت کی وجہ سے محاصرہ اٹھا کر مراکش چلا گیا۔ ۵۸۰ھ میں شہر شنترین کے عیسائیوں نے پھر بغاوت کی امیر المومنین ابو یعقوب یوسف سخت بیمار و علیل ہو کر ۷ ماہ رجب ۵۸۰ھ بروز شنبہ فوت ہو گیا۔ اس کی لاش اشبیلیہ پھر اشبیلیہ سے مراکش لیجا کر سپرد خاک کی گئی۔