محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

طفیل بن عمر و دوسی رضی اللہ عنہ

نواح یمن میں قبیلہ دوس آباد تھا‘ اس قبیلہ کا سردار طفیل بن عمرو رئوسا یمن میں شمار ہوتا تھا‘ طفیل علم و دانش مندی کے علاوہ بہت مشہور اور زبردست شاعر بھی تھا اسی سال یعنی ۱۱ نبوی میں وہ اتفاقاً مکہ کی طرف آیا‘ طفیل بن عمرو کے آنے کا حال سن کر سردار ان قریش استقبال کے لئے مکہ سے باہر نکلے اور بڑی عزت و تعظیم کے ساتھ شہر میں لائے‘ قریش کو اس بات کا اندیشہ ہوا کہ کہیں محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے طفیل کی ملاقات نہ ہو جائے‘ اور طفیل پر ان کا جادو نہ چلے‘ چنانچہ انہوں نے مکہ میں داخل ہوتے ہی طفیل سے کہا کہ آج کل ہمارے شہر میں ایسا جادو گر پیدا ہو گیا ہے جس نے تمام شہر کو فتنہ میں ڈال دیا ہے‘ باپ بیٹے سے‘ بیٹا باپ سے‘ بھائی بھائی سے اور خاوند بیوی سے جدا ہو گیا ہے‘ آپ چونکہ ہمارے معزز مہمان ہیں لہذا آپ بھی احتیاط رکھیں اور کوئی کلمہ اس ساحر یعنی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان سے نہ سنیں‘ قریش کے بار بار اور باصرار خوف دلانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ طفیل نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اچانک محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز اس کے کانوں میں پڑ جائے۔ ایک روز علی الصبح طفیل اپنے کانوں میں روئی ٹھونس کر خانہ کعبہ میں پہنچے۔ وہاں آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نماز فجر پڑھ رہے تھے‘ نماز پڑھنے کا طریقہ جو آنکھوں سے نظر آتا تھا طفیل کو اچھا معلوم ہوا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب چلے گئے‘ وہاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی قرات کی آواز بھی کچھ کچھ سنائی دینے لگی‘ اب طفیل کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ آخر میں بھی شاعر ہوں‘ عقلمند ہوں‘ اگر اس شخص کی باتیں اچھی ہوں گی تو مان لوں گا‘ اگر بری ہیں تو انکار کر دوں گا یہ خیال آتے ہی روئی کانوں سے نکال کر پھینک دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نماز ختم کر کے اپنے گھر کی طرف چلے تو طفیل بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے پیچھے ہو لئے اور کہا کہ مجھ کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی باتیں سنائیں‘ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن مجید پڑھ کر سنایا‘ طفیل اسی وقت مسلمان ہو گئے اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم دعاء کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ میرے قبیلہ والوں کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دے‘‘ طفیل رضی اللہ عنہ مکہ سے اپنے گھر آئے اور تبلیغ اسلام شروع کر دی‘ سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ مکہ والے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو بہت ستاتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہجرت فرمائیں اور میرے گھر چل کر رہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ مجھ کو ہجرت کا حکم دے گا تب ہی ہجرت کروں گا اور جس جگہ کے لئے حکم ہو گا اسی جگہ ہجرت کر کے جائوں گا۔۱؎