محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی مدینہ میں کامیابی
مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں پہنچ کر نہایت کوشش و جانفشانی اور قابلیت کے ساتھ تبلیغ کا کام شروع کر دیا‘ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مدینہ کے لوگوں کی سعادت ازلی کا اظہار ہوا‘ اور قبیلے کے قبیلے اسلام میں داخل ہونے شروع ہوئے۔
مدینہ میں قبیلہ اوس کی شاخوں میں قبیلہ بنو عبدالاشہل اور قبیلہ بنو ظفر بہت مشہور و طاقتور تھے ‘ سعد بن معاذ قبیلہ بنو عبدالاشہل کے سردار ہونے کے علاوہ تمام قبائل کے سردار اعظم بھی تھے‘ اسید بن حضیر قبیلہ بنو ظفر کے سردار تھے‘ ان کا باپ جنگ بعاث میں تمام قبائل کا سردار اعظم تھا‘ اور اسی لڑائی میں مارا گیا تھا‘ جس کے بعد وہ قبائل اوس میں بہت بااثر اور چوٹی کے سردار مانے جاتے تھے‘ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ جن کے مکان پر مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مقیم تھے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی تھے۔
ایک روز مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ بنی عبدالاشہل کے محلوں میں چاہ مرق پر بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے‘ سعد بن معاذ کو ان کا اپنے محلہ میں آنا اور تبلیغ اسلام کرنا ناگوار تھا‘ سعد رضی اللہ عنہ نے اسید بن حضیر کو بلا کر کہا کہ اسعد رضی اللہ عنہ چونکہ میرا خالہ زاد بھائی ہے اس لئے میں تو ذرا احتیاط کرتا ہوں‘ تم جائو اور سختی سے کہہ دو کہ ہمارے محلوں میں کبھی نہ آیا کریں‘ یہ ہمارے لوگوں کو بہکانے اور بے دین بنانے کے لئے آتے ہیں۔
اسید تلوار لے کر چلے اور اسعد و مصعب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر ان کو برا بھلا کہا‘ اور نہایت سختی و درشتی کے ساتھ ڈانٹا‘ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا‘ اگر آپ ذرا بیٹھ جائیں اور ہماری دو باتیں سن لیں تو کوئی نقصان آپ کا نہ ہو گا‘ اس کے بعد پھر آپ جو چاہیں حکم فرمائیں ۔۔۔۔۔ اسید ’’بہت اچھا‘‘ کہہ کر بیٹھ گئے‘ سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ نے اسلام کی حقیقت بیان کی اور قرآن مجید پڑھ کر سنایا‘ اسید رضی اللہ عنہ خاموشی سے سنتے رہے‘ جب مصعب رضی اللہ عنہ سنا چکے تو اسید رضی اللہ عنہ نے کہا میں اسلام قبول کرتا ہوں‘ چنانچہ اسی وقت ان کو مسلمان بنایا گیا‘ اسید رضی اللہ عنہ نے کہا ایک شخص اور ہے اگر وہ بھی مسلمان ہو گیا تو پھر کوئی تمہاری مخالفت نہ کرے گا‘ میں جا کر ابھی اس کو بھی تمہارے پاس بھتیجا ہوں۔
چنانچہ اسید وہاں سے اٹھ کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے‘ سعد رضی اللہ عنہ پہلے ہی سے اسید کے منتظر تھے‘ پوچھا بتائو کیا کہہ آئے۔؟ اسید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان دونوں نے وعدہ کر لیا ہے کہ تمہارے منشاء کے خلاف کچھ نہ کریں گے‘ لیکن وہاں ایک اور حادثہ پیش آ گیا‘ بنو حارثہ کے چند نوجوان آ گئے اور وہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنا چاہتے تھے‘ یہ سنتے ہی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور تلوار لے کر وہاں پہنچے دیکھا تو اسعد رضی اللہ عنہ اور مصعب رضی اللہ عنہ دونوں اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہیں‘ یہ دیکھ کر سعد رضی اللہ عنہ کو شبہ گذرا کہ اسید نے مجھ کو دھوکہ سے یہاں بھیجا ہے کہ میں بھی ان کی باتیں سنوں‘ یہ خیال آتے ہی سعد رضی اللہ عنہ نے دونوں کو گالیاں دینی شروع کیں‘ او اسعد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھ کو صرف رشتہ داری کا خیال ہے ورنہ تمہاری کیا مجال تھی کہ ہمارے محلہ میں آ کر لوگوں کو بہکاتے‘ مصعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیے میں کچھ عرض کرتا ہوں اگر میری بات معقول ہو تو آپ قبول فرمائیے ورنہ رد کر دیجئے۔
سعد رضی اللہ عنہ اپنی تلوار رکھ کر بیٹھ گئے‘ مصعب رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو بھی وہی باتیں سنائیں جو اسید رضی اللہ عنہ کو سنا چکے تھے ‘ سعد رضی اللہ عنہ بھی اسی وقت مسلمان ہو گئے اور واپس آتے ہی اپنے قبیلے کے تمام لوگوں کو جمع کر کے کہا کہ تم مجھ کو کیا سمجھتے ہو سب نے ایک زبان ہو کر کہا کہ آپ ہمارے سردار ہیں اور آپ کی رائے ہمیشہ قابل عمل ہوتی ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب تک تم مسلمان نہ ہو جائو میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں‘ یہ سنتے ہی تمام بنو عبدالاشہل مسلمان ہو گئے‘ ۱؎ اسی طرح مدینہ کے دوسرے قبائل میں بھی اسلام پھیلتا رہا۔ یہ نبوت کا تیرہواں سال تھا۔
ادھر معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو کامیابی حاصل ہو رہی تھی‘ ادھر مکہ میں قریش کے مظالم مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہوتے جاتے تھے‘ ۱۳ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کا ماہ ذی الحجہ آیا تو مدینہ سے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بہتر ۷۲ مرد اور دو عورتوں کے مسلم قافلہ کو لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے‘مدینہ کے مسلمانوں نے اس قافلہ کو اس لئے بھی بھیجا تھا تاکہ زیارت نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے مشرف ہو کر آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں مدینہ والوں کی طرف سے مدینہ میں تشریف لانے کی درخواست پیش کرے۔