محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
بیعت عقبہ ثانیہ
آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس قافلہ کے آنے کی اطلاع مل چکی تھی‘ رات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم مکان سے نکلے‘ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اگرچہ اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے‘ لیکن ہمیشہ سے ان کو آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہمدردی تھی‘ قریش کی عام مخالفت میں بھی ان کے در پردہ ہمدردانہ طرز عمل سے آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم واقف تھے‘ اتفاقاً راستہ میں مل گئے‘ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو اپنے ہمراہ لے لیا اور اپنے ارادہ سے مطلع فرما دیا تھا‘ چنانچہ دونوں رات کی تاریکی میں وادی عقبہ میں پہنچے‘ وہاں مدینہ سے آیا ہوا مومنوں کا قافلہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا منتظر تھا۔
اس جگہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مدینہ سے صرف مسلمان ہی نہیں آئے تھے‘ بلکہ مشرکین بھی حسب دستور قدیم حج کے لئے آئے تھے‘ ان لوگوں نے مکہ سے باہر ہی ایک جگہ قیام کیا تھا‘ مگر عقبہ کی گھاٹی آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ملاقات کے لئے تجویز کر دی گئی تھی‘ اس لئے مدینہ کے مسلمان اور بعض غیر مسلم بھی جو اسلام کو پسند کرتے تھے ‘ اور مسلمانوں سے ہمدردی رکھتے تھے اس گھاٹی میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے منتظر تھے‘ باقی مشرکین مدینہ کو عقبہ کی اس ملاقات کا علم نہ تھا‘ وہ سب اصل قیام گاہ پر سو رہے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے عقبہ میں پہنچ کر منتظر مسلمانوں سے ملاقات کی‘ ان کی طرف سے مدینہ میں تشریف لے جانے کی خواہش سن کر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ایک مناسب اور ضروری تقریر کی ۔۔۔۔ انہوں نے فرمایا:۔
’’مدینہ والو ! محمد صلی اللہ علیہ و سلم اپنے خاندان میں ہے اس کا خاندان اس کی حفاظت کرتا ہے‘ تم اس کو اپنے یہاں لے جانا چاہتے ہو‘ یہ یاد رکھو کہ تم کو اس کی حفاظت کرنی پڑے گی‘ اس کی حفاظت کوئی آسان کام نہیں‘ اگر تم عظیم الشان اور خون ریز لڑائیوں کے لئے تیار ہو تو بہتر ہے ورنہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو لے جانے کا نام نہ لو۔‘‘
براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے کہا‘ عباس رضی اللہ عنہ ! ہم نے تمہاری بات سن لی‘ اب ہم چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی خود اپنی زبان سے کچھ فرمائیں‘ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تقریر فرمائی اور قرآن مجید کی آیات پڑھ کر سنائیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی تقریر میں حقوق اللہ اور حقوق عباد کا بیان تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان ذمہ داریوں کو بھی بیان فرمایا جو مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لے جانے سے مدینہ والوں پر عائید ہوتی تھیں‘ براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے تمام باتیں سننے کے بعد کہا ہم ان سب باتوں کے لئے تیار ہیں‘ ابوالہثیم بن تیہان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ تو وعدہ کریں کہ ہم کو چھوڑ کر واپس تو نہیں آ جائیں گے۔
آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا نہیں میرا جینا مرنا تمہارے ہی ساتھ ہو گا‘ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بولے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہم کو اس کے معاوضہ میںکیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جنت اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی‘ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا بس سودا ہو چکا‘ اب نہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے قول سے پھریں نہ ہم پھریں گے‘ اس کے بعد سب نے بیعت کی‘ اس بیعت میں براء بن معرور رضی اللہ عنہ سب پر سابق تھے‘ اس بیعت کا نام بیعت عقبہ ثانیہ مشہور ہے‘ جب بیعت ہو چکی تو اسعد بن زراہ رضی اللہ عنہ نے سب کو مخاطب کر کے کہا کہ لوگو! آگاہ رہو کہ اس قول و قرار کا یہ مطلب ہے کہ ہم ساری دنیا کے مقابلہ کے لئے تیار ہیں‘ سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہاں ہم خوب جانتے ہیں کہ ہم کو ساری دنیا کا مقابلہ کرنا پڑے گا‘ اس کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان لوگوں میںسے بارہ بزرگوں کو منتخب فرمایا اور ان کو تبلیغ اسلام کے متعلق ہدایات دے کر اپنا نقیب مقرر کیا‘ اور ان کا کام اسلام کی تبلیغ کرنا مقرر فرمایا‘ ان نقباء کے نام یہ ہیں۔
(۱) اسعد بن زرارہ (۲) اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ (۳) ابوالہثیم بن التیہان (۴) براء بن معرور رضی اللہ عنہ ‘ (۵) عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ (۶) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ (۷) سعد بن الربیع رضی اللہ عنہ (۸) سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ (۹) رافع بن مالک رضی اللہ عنہ (۱۰) عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ (۱۱) سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ (۱۲) منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ ان بارہ سرداروں میں نو آدمی قبیلہ خزرج کے تھے‘ اور تین قبیلہ اوس کے‘ ان بارہ آدمیوں سے مخاطب ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے حواری ذمہ دار تھے اسی طرح میں تم کو تمہاری قوم کی تعلیم کا ذمہ دار بناتا ہوں اور میں تم سب کا ذمہ دار ہوں‘۱؎ جس وقت عقبہ کی گھاٹی میں یہ بیعت ہو رہی تھی‘ اس وقت پہاڑ کی چوٹی پر سے ایک شیطان نے اہل مکہ کو زور سے آواز دی اور کہا کہ دیکھو محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور اس کی جماعت کے آدمی تمہارے خلاف مشورے کر رہے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اور مومنوں کی اس جماعت نے اس طرف کوئی التفات نہیں کیا‘ جب تمام مراتب و معاملات طے ہو چکے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ کی طرف تشریف لے جانے کی تاریخ کا تعین اذن الہی پر موقوف رکھا‘ اس کے بعد ایک ایک دو دو کر کے سب آدمی خاموشی کے ساتھ وہاں سے نکل گئے تاکہ اس جلسہ کا حال کسی کو معلوم نہ ہو‘ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ دونوں مکہ میں چلے آئے‘ مگر صبح ہوتے ہی قریش کورات کے اس اجتماع کا حال معلوم ہوا‘ وہ اسی وقت مدینہ والوں کی قیام گاہ پر پہنچے اور دریافت کیا کہ رات تم لوگوں کے پاس محمد صلی اللہ علیہ و سلم آئے تھے‘ ۱؎مدینہ والوں میں جو لوگ غیر مسلم یعنی بت پرست تھے ان کو خود رات کے اس اجتماع کا حال معلوم نہ تھا‘ انہیں میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی تھا‘ جو بعد میں منافقوں کا سردار بنا۔
اس نے قریش سے کہا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مدینہ والے کوئی اہم معاملہ کریں اور مجھ کو اس کی اطلاع نہ ہو ۔۔۔۔۔۔ قریش کا شک جاتا رہا اور وہ واپس چلے گئے۔ اسی وقت اہل مدینہ نے کوچ کی تیاری کر دی اور وہاں سے روانہ ہو گئے۔ قریش کو مکہ میں آ کر پھر کسی دوسرے معتبر ذریعہ سے رات کی اس مجلس کا حال معلوم ہوا اور مسلح ہو کر دوبارہ آئے‘ لیکن قافلہ روانہ ہو چکا تھا‘ صرف سعد رضی اللہ عنہ بن عبادہ اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ کو کسی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے‘ منذر رضی اللہ عنہ تو قریش کو دیکھ کر چل دئیے اور ان کے ہاتھ نہ آئے‘ لیکن سعد رضی اللہ عنہ بن عبادہ رضی اللہ عنہ قریش کے ہاتھ میں گرفتار ہو گئے‘ قریش ان کو مارتے ہوئے مکہ میں لائے۔
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب قریش مجھے مکہ میں لا کر زدوکوب کر رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ ایک سرخ و سفید رنگت کا خوبصورت شخص میری طرف آ رہا ہے‘ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر کسی شخص سے اس قوم میں مجھ کو بھلائی کی توقع ہو سکتی ہے تو وہ یہی ہو گا‘ مگر جب وہ میرے پاس آیا تو اس نے نہایت زور سے میرے منہ پر طمانچہ مارا‘ اس وقت مجھ کو یقین ہوا کہ ان لوگوں میں کوئی بھی نہیں ہے جس سے مروت و رعایت کی توقع ہو سکے‘ ۔۔۔۔۔ اتنے میںایک اور شخص آیا اس نے کہا قریش کے کسی شخص سے تیری شناسائی ہے؟ میں نے کہا جبیر بن مطعم اور حارث بن امیہ کو جو عبدمناف کے پوتے ہیں جانتا ہوں‘ اس نے کہا کہ پھرتو انہیں دونوں کا نام لے کر کیوں نہیں پکارتا‘ مجھ کو یہ تدبیر بتا کر وہی شخص ان دونوں کے پاس گیا اور کہا کہ ایک قبیلہ خزرج کا شخص پٹ رہا ہے اور وہ تمہارے نام لے کر دہائی دے رہا ہے‘ انہوں نے پوچھا کہ اس کا کیا نام ہے؟ اسی شخص نے بتایا کہ اس کا نام سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہے‘ وہ بولے ہاں اس کا ہم پر احسان ہے‘ ہم تجارت کے لئے اس کے یہاں جاتے ہیں اور اسی کی حفاظت میں اس کے یہاں ٹھہرتے ہیں‘ چنانچہ ان دونوں نے مجھے آ کر چھڑایا‘ اور میں چھوٹتے ہی مدینہ (یثرب) کی طرف روانہ ہو گیا۔۲؎
اس جگہ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کو بیعت عقبہ ثانیہ سے بہت پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بتایا گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ہجرت کرنا پڑے گی اور ایک مرتبہ خواب میں مقام ہجرت کا نظارہ بھی دکھا دیا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا تھا کہ وہ کھجوروں والی زمین ہے یعنی وہاں کھجوریں بکثرت ہیں‘ یہ خواب دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا خیال تھا کہ ہم کو یمامہ کے علاقہ میں ہجرت کرنی پڑے گی ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ وہاں بھی کھجوریں بکثرت ہوتی ہیں‘ اور بعد میں اب معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو یثرب (مدینہ)کی طرف ہجرت کرنی ہو گی۔