دولت عبیدیین مصر و افریقہ میں

خانہ جنگی

ادھر قاہرہ کی یہ حالت تھی کہ مستنصر کی ماں اپنے بیٹے سے جو حکم چاہتی تھی صادر کرا دیتی تھی۔ اس طرح اس کا اثر و اقتدار بہت ترقی کر گیا تھا۔ دوسری طرف وزرائے سلطنت اپنی حفاظت کو مد نظر رکھ کر شاہی فوج میں ترکوں کو بھرتی کرتے رہتے تھے۔ اس طرح فوج میں تین زبردست طاقتیں موجود تھیں۔ ایک جمع ودانی غلاموں کی طاقت تھی۔ یہ لوگ تعداد میں بہت زیادہ تھے۔ دوسرے کتامی اور بربری لوگ تھے۔ ان کی تعداد کم تھی تیسرا گروہ ترکوں کا تھا۔ یہ تعداد میں غلاموں سے کم تھے۔ مگر جنگی استعدادان میں زیادہ تھی۔ اتفاق سے ایک غلام ناصرالدولہ بن حمدان سودانی ترقی کر کے امراء و اراکین دولت کی حمایت سے سپہ سالاری کے درجہ پر پہنچ گیا۔ اور ترکوں کا لیڈر اور سردار بن گیا۔ سلطنت کے اعضا کٹ کٹ کر خود مختار ہو چکے تھے۔ اور اراکین سلطنت اور مستنصر کی والدہ اور مستنصر سب قاہرہ کے اندر ایک دوسرے کی طاقت کو گھٹانے اور زیر کرنے میں مصروف تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ترکوں اور غلاموں میں خانہ جنگی نمودار ہوئی اور مستنصر عبیدی کی فوج کے دو حصے ہو کر آپس میں لڑنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ترکوں کے ہاتھ سے ہزار ہا غلام مارے گئے۔ اور ناصرالدولہ ترکوں کا سردار سب پر غالب ہو گیا۔ اور اس نے مستنصر کو اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے حسب منشاء امور سلطنت طے کرنے شروع کئے۔ مستنصر نے اپنی حالت سقیم کو تبدیل کرنے کے لئے اپنے غلام بدر جمالی ارمنی الاصل کو جو عکہ میں برسر حکومت تھا۔ اشارہ کیا۔ بدر جمالی نے عکہ میں ارمنی لوگوں کی بھرتی جاری کر دی اور ایک زبردست ارمنی فوج لے کر براہ دریا جہازوں میں سوار ہو کر مصر میں داخل ہوا۔ مستنصر کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مستنصر نے اس کو قلم دان وزارت عطا کیا۔ اور چند ترکوں کو سمجھایا کہ ناصرالدولہ نے تم کو بلا وجہ جنگ و جدل کی مصیبت میں پھنسایا ترکوں نے خلیفہ کا یہ اشارہ پا کر اپنی آئندہ بہبود مدنظر رکھ کر ناصرالدولہ کو خود ہی دھوکے سے قتل کر دیا۔ اب بدر جمالی ترکوں کا سردار بن گیا۔ بدر جمالی نے خوب طاقتور ہو کر اور سلطنت کے تمام شعبوں اور صیغوں پر مستولی ہونے کے بعد وفاداری کے ساتھ سلطنت کے اعتماد و وقار کو بڑھایا۔ باغی سرداروں کو اطاعت پر مجبور کیا۔ جو شہر قبضے سے نکل گئے تھے ان کے واپس فتح کرنے کی تدبیروں میں مصروف ہوا۔ طرابلس کو بھی عربوں سے چھین لیا۔ فلسطین کے تمام علاقے کو بھی حکومت میں شامل کیا۔ دمشق کی حالت یہ تھی کہ وہاں جو شخص قابو پاتا تھا۔ قابض ہو جاتا تھا۔ مگر خطبہ مصر کے بادشاہ عبیدی کا پڑھواتا تھا۔ دربار قاہرہ اسی کو غنیمت جانتا تھا۔ ۴۶۸ھ میں جب کہ بدر جمالی نے مستنصر کی حکومت کے بگڑے ہوئے کام کو بہت کچھ سنبھال دیا تھا۔ دمشق پر امیر اقدس نے حملہ کر کے اپنا قبضہ جمایا۔ اور بجائے بادشاہ مصر کے خلیفہ بغداد کے نام کا خطبہ دمشق میں پڑھا گیا۔ ۴۶۹ھ میں اتسز بن افق نامی سردار نے جو سلجوقی لشکر کا ایک سپہ سالار تھا دمشق پر حملہ کیا۔ یہ خبر سنتے ہی مصر سے بدر جمالی نے دمشق کی جانب فوج روانہ کی۔ اہل دمشق نے اتسز کی حکومت قبول کر لی تھی۔ کہ اتنے میں مصری لشکر نے آ کر دمشق کا محاصرہ کر لیا۔ ۴۷۰ھ میں سلطان ملک شاہ سلجوقی نے تتش سلجوقی کو بلاد شام کی حکومت سپرد کر کے یہ حکم دیا کہ تم ملک شام کا جس قدر حصہ فتح کر لو گے۔ وہ تمہارا ملک سمجھا جائے گا۔ چنانچہ تتش نے حدود شام میں داخل ہو کر حلب پر فوج کشی کی اہل حلب نے مدافعت کی اور تتش نے حلب کا محاصرہ کر لیا۔ ادھر دمشق میں اتسز ابھی تک مصری لشکر کے محاصرے میں تھا۔ اس نے تتش کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ میرا مصری فوجوں نے محاصرہ کر رکھا ہے۔ اگر آپ میری مدد نہ کریں گے تو میں مجبوراً دمشق ان کے حوالے کر دوں گا۔ تتش نے فوراً دمشق کی جانب کوچ کر دیا۔ تتش کے آنے کی خبر سن کر مصری لشکر دمشق سے محاصرہ اٹھا کر مصر کی طرف بھاگ گیا۔ تتش نے دمشق پہنچ کر اتسز کو قتل کیا اور خود دمشق پر قابض و متصرف ہو گیا۔ یہ واقعہ ۴۷۱ھ میں وقوع پذیر ہوا اس کے بعد حلب پر بھی تتش کا قبضہ ہو گیا۔ اور رفتہ رفتہ تمام ملک شام اس کے قبضے میں آ گیا۔ یہ حالات سن کر بدر جمالی نے مصر میں فوجیں جمع کیں اور ایک لشکر جرار لے کر دمشق پر حملہ آور ہوا۔ مگر تتش کے مقابلے میں ناکام رہ کر واپس ہوا۔ اس کے بعد بھی کئی مرتبہ مصری فوجوں نے شام پر حملہ کیا۔ مگر ناکام واپس گئیں۔ ۴۸۴ھ میں جزیرہ صقلیہ کو عیسائیوں نے مسلمانوں کے قبضے سے نکال لیا۔ ماہ ربیع الاول ۴۸۷ھ میں بدر جمالی نے اسی سال کی عمر میں وفات پائی۔ اس کے بعد ۸ ذی الحجہ ۴۸۷ھ کو مستنصر عبیدی بھی فوت ہو گیا۔ مستنصر کا ابتدائی زمانہ بہت خطرناک تھا۔ اس کی سلطنت کے مٹنے اور دولت عبیدیین کے فنا ہونے میں کوئی کسر باقی نہ رہی تھی۔ کہ بدر جمالی نے اس سلطنت کو برباد ہونے سے بچا لیا۔ مستنصر کے تین بیٹے احمد‘ نزار اور ابوالقاسم تھے۔ مستنصر نے نزار کو اپنا ولی عہد بنایا تھا۔