دولت عبیدیین مصر و افریقہ میں

حسن بن صباح کی مستنصر سے بیعت

کہتے ہیں کہ مستنصر کے عہد حکومت میں حسن بن صباح عراق سے سودا گروں کے لباس میں وارد مصر ہوا۔ اور مستنصر کی خدمت میں حاضر ہو کر مستنصر سے بیعت ہوا اور عرض کیا کہ میں آپ کے بعد کس کو امام مانوں۔ مستنصر نے کہا کہ میرے بعد میرا بیٹا نزار تمہارا امام ہو گا۔ اس کے بعد حسن بن صباح نے مستنصر سے اجازت حاصل کی۔ کہ ملک عراق میں آپ کی خلافت و امامت کی تبلیغ کروں۔ مستنصر نے اس کو اجازت دے دی۔ اور اپنا داعی بنا کر روانہ کیا۔ حسن بن صباح نے عراق میں آ کر دعوت و تبلیغ کا کام شروع کیا۔ اور رفتہ رفتہ قلعہ الموت پر قابض ہو گیا۔ حسن بن صباح اور اس کی قائم کی ہوئی سلطنت کا حال آگے اپنے موقعہ پر بیان ہو گا۔ مستنصر نے بدر جمالی کی وفات کے بعد اس کے بیٹے محمد ملک کو وزارت کا عہدہ عطا کیا تھا۔ محمد ملک اور نزار کے درمیان ناراضی تھی۔ اس لئے مستنصر کی وفات کے بعد محمد ملک نے مستنصر کی بہن کو اس بات پر رضا مند کر لیا کہ تخت سلطنت پر ابوالقاسم کو بٹھایا جائے۔ چنانچہ مستنصر کی بہن نے محمد ملک کی خواہش کے موافق اراکین سلطنت کے سامنے اس بات کی گواہی دی کہ مستنصر نے اپنے بعد ابوالقاسم کے تخت نشین ہونے کی وصیت کی ہے۔ چنانچہ لوگوں نے ابوالقاسم کے ہاتھ پر حکومت کی بیعت کی۔ اور ’’مستعلی باللہ‘‘ کے لقب سے اس کو تخت پر بٹھایا۔