دولت عبیدیین مصر و افریقہ میں
فائز بن ظافر عبیدی
صالح نے وزیر السلطنت ہو کر امور سلطنت کا بندوبست شروع کیا۔ اس کے بعد عیسائیوں سے خط و کتابت کر کے نصیر بن عباس کو زر معاوضہ دے کر حاصل کیا۔ جب نصیر کو عیسائیوں نے روپیہ لے کر قاہرہ پہنچا دیا۔ تو صالح نے اس کو قتل کر کے اس کی لاش کو منظر عام پر لٹکا دیا۔ صالح امامیہ مذہب کا سختی سے پابند اور دولت عبیدیہ کا بڑا خیر خواہ تھا۔ اس نے نصیر کے قتل سے فارغ ہو کر ان سرکش سرداروں کی طرف توجہ مبذول کی جو مزاحمت و مخالفت کی جرأت رکھتے تھے ان میں دو سردار خاص طور پر قابل توجہ تھے۔ ایک تاج الملوک قائماز دوسرا ابن غالب‘ ان دونوں کی گرفتاری پر صالح نے فوجوں اور سرداروں کو مامور کیا۔ یہ دونوں قبل از وقت واقف ہو کر مصر سے فرار ہو گئے۔ ان کے مکانات لوٹ لیے گئے۔ یہ رنگ ڈھنگ دیکھ کر دوسرے تمام سردار بھی سہم گئے اور اطاعت و فرماں برداری کی گردنیں سب نے جھکا دیں۔ صالح نے قصر سلطنت کے دربان۔ خدام اور تمام آدمی اپنے آوردے مقرر کیے اور پرانے آدمیوں کو ہٹا دیا۔ اس کے بعد تمام معاملات پر حاوی و مستولی ہونے کے بعد وہ قصر سلطانی کا قیمتی سامان بھی اپنے مکان میں لے آیا۔ فائز عبیدی کی پھوپھی نے صالح کے اقتدار کو حد سے زیادہ بڑھتا ہوا دیکھ کر صالح کی بیخ کنی اور قتل کی تدبیریں سوچنی ضروری سمجھیں۔
صالح کو اس کا حال معلوم ہو گیا۔ اس نے خود قصر سلطنت میں جا کر فائز کی پھوپھی کو قتل کرا دیا۔ جس سال فائز تخت حکومت پر بٹھایا گیا ہے اسی سال الملک العادل سلطان نور الدین محمود زنگی نے دمشق کو بنو تتش کے قبضے سے نکال لیا تھا۔ اور عیسائیوں کی سزا دہی کی کوششوں میں مصروف تھا۔