دولت عبیدیین مصر و افریقہ میں

ظافر کا قتل

نصیر نے ایک روز ماہ محرم ۵۴۹ھ میں ظافر کی ضیافت کی۔ ظافر نصیر کے یہاں آیا۔ نصیر نے ظافر اور اس کے ہمراہیوں کو قتل کرا کر اسی مکان میں دفن کر دیا۔ دوسرے دن وزیر السلطنت عباس بن ابی الفتوح حسب دستور قصر سلطنت میں گیا۔ اور خدام سے بادشاہ ظافر کا دریافت کیا۔ انھوں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد عباس واپس چلا آیا۔ خدام محل سرائے عباس کے واپس جانے پر ظافر کے بھائی جبرئیل اور یوسف کے پاس گئے اور ظافر کے نصیر کے مکان پر جانے اور وہاں سے اب تک واپس نہ آنے کا حال بیان کیا۔ یوسف اور جبرئیل نے کہا کہ تم اس کیفیت کو وزیر السلطنت عباس سے جا کر بیان کرو۔ خدام نے عباس کے پاس آ کر یہ حال سنایا۔ عباس نے کہا۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یوسف اور جبرئیل کی سازش سے بادشاہ ظافر قتل کیا گیا ہے چنانچہ اس نے فوراً ظافر کے ان دونوں بھائیوں کو گرفتار کرا کر بلوایا اور فوراً قتل کرا دیا۔ ساتھ ہی حسن بن حافظ کے دونوں لڑکوں کو بھی قتل کرا دیا۔ اس کے بعد محل سرائے سلطانی میں جا کر ظافر کے بیٹے عیسیٰ ابوالقاسم کو زبردستی گود میں اٹھا لایا۔ تخت سلطنت پر لا کر بٹھایا۔ اور ’’فائز بنصر اللہ‘‘ کا لقب تجویز کر کے لوگوں سے ان کے نام پر بیعت لی۔ خاندان سلطنت کے پانچ آدمیوں کے اس طرح مقتول ہونے پر بیگمات سلطنت نے صالح بن زریک کے پاس پوشیدہ طور پر ایلچی روانہ کیے۔ جو ان دنوں اثمونین و بنسہ کا عامل تھا۔ اور تمام حالات سے اس کو اطلاع دے کر عباس کی بیخ کنی کی درخواست کی چنانچہ صالح بن زریک فوجیں فراہم کر کے قاہرہ کی طرف روانہ ہوا۔ عباس یہ دیکھ کر کہ اہل قاہرہ بھی میرے مخالف ہو گئے ہیں قاہرہ سے اپنے بیٹے نصیر اور اپنے دوست اسامہ بن منقذ کو ہمراہ لے کر اپنی خاص جمعیت کے ساتھ شام و عراق کے قصد سے روانہ ہوا۔ اثنائے راہ میں عیسائیوں سے مقابلہ ہو گیا۔ لڑائی میں عباس کام آیا۔ نصیر گرفتار ہوا۔ اور اسامہ بچ کر نکل گیا۔ اور ملک شام میں پہنچ گیا اسامہ کے نکل جانے کے بعد صالح قاہرہ میں بماہ ربیع الثانی ۵۵۹ھ پہنچا۔ نصیر کے مکان میں سے ظافر کی لاش کو کھود کر نکالا۔ اور شاہی قبرستان میں دفن کیا۔ اور ظافر کے بیٹے فائز کی بیعت کی فائز نے اس کو ’’الملک الطالح‘‘ کا خطاب دیا۔