محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

اختتام سفر

آٹھ روز کے سفر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ۸ ربیع الاول ۱۴ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کو دوپہر کے وقت قبا کے قریب پہنچے‘ قبا مدینہ سے چند میل کے فاصلہ پر ہے اور وہ مدینہ کا ایک محلہ ہی سمجھا جاتا تھا‘ وہاں قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے لوگ بکثرت آباد تھے اور روشنی اسلام سے منور ہو چکے تھے‘ مکہ سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی روانگی کی خبر کئی روز پہلے مدینہ میں پہنچ چکی تھی‘ اس لیے انصار مدینہ روزانہ صبح سے دوپہر تک بستی سے باہر نکل کر آپ کے انتظار میں کھڑے رہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم دور سے تشریف لاتے ہوئے نظر آئیں گے‘ جب دھوپ خوب تیز اور ناقابل برداشت ہو جاتی تو واپس اپنے گھروں میں آ جاتے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم چونکہ قبا کے نزدیک دوپہر کے وقت پہنچے لہذا قبا والے مشتاقین اسی وقت انتظار کرتے کرتے اپنے گھروں میں واپس آ گئے تھے۔ ایک یہودی جو روزانہ مسلمانوں کے جم غفیر کو اس طرح بستی سے باہر انتظار کرتے ہوئے دیکھتا اور جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مکہ سے آنے والے ہیں جن کا ان لوگوں کو انتظار ہے۔ وہ اتفاقاً اس وقت اپنی گڑھی یا مکان کی چھت پر چڑھا ہوا تھا‘ اس نے دور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس مختصر قافلہ کو آتے ہوئے دیکھ کر گمان کیا کہ یہی وہ قافلہ ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لا رہے ہیں‘ چنانچہ اس نے زور سے آواز دی کہ : یامعشرالعربیانبیقیلہھذاجدکمقدجاء ’’اے گروہ عرب اے دوپہر کو آرام کرنے والو! تمہارا مطلوب یا تمہاری خوش نصیبی کا سامان تو یہ آ پہنچا ہے۔‘‘ یہ آواز سنتے ہی لوگ اپنے گھروں سے نکل پڑے اور تمام قبا میں جوش مسرت کا ایک شور مچ گیا‘ انصار نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کھجوروں کے ایک باغ کی طرف سے آ رہے ہیں‘ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے یہ خیال فرما کر کہ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پہچاننے میں شبہ نہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کون سے ہیں فوراً آپ کے پیچھے آ کر اپنی چادر سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اوپر سایہ کیا جس سے آقا اور خادم کی تمیز بآسانی ہونے لگی۔۔۔۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم قبا میں داخل ہوئے‘ ۲؎انصار کی چھوٹی چھوٹی لڑکیاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے داخل ہونے کے وقت جوش مسرت میں یہ پڑھ رہی تھیں۔ طلع البدر علینا من ثنیات الوداع وجب الشکر علینا مادعاللہ داع ایھا المبعوث فینا جئت بالامر المطاع۱؎ (ہم پر بدر نے ثنیات۲؎ الوداع سے طلوع کیا۔ جب تک کوئی دعا کرنے والا ہے‘ ہم پر شکر کرنا واجب ہے۔ اے ہم میں مبعوث ہونے والے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ! آپ صلی اللہ علیہ و سلم ایسا حکم لے کر آئے ہیں کہ اس کی اطاعت ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم قبا میں دو شنبہ کے روز داخل ہوئے اور جمعہ تک یہیں مقیم رہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کلثوم بن ہدم کے مکان میں اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حبیب بن اساف رضی اللہ عنہ کے مکان میں فروکش ہوئے۔ سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ کے مکان میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم مجلس فرماتے‘ یعنی سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ کے مکان میں لوگ آ آ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی گرد جمع رہتے تھے‘ قبا میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں چند ایام کے اندر ایک مسجد کی بنیاد رکھی اور یہ سب سے پہلی مسجد تھی جو اسلام میں بنائی گئی‘ اس کے بعد ۱۲ ربیع الاول جمعہ کے روز آپ صلی اللہ علیہ و سلم قبا سے روانہ ہو کر مدینہ میں داخل ہوئے۔ ابھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم قبا ہی میں فروکش تھے کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ‘ بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ سفر مکہ سے مدینہ تک پیدل طے کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم جب تک غار ثور میں رہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ مکہ میں مقیم رہ کر لوگوں کو امانتیں سپرد کرتے رہے‘ عجیب اتفاق ہے کہ جس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم غار ثور سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اسی روز سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی مکہ سے مدینہ کی طرف چلے‘ مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تنہا روانہ ہوئے تھے اس لیے وہ رات بھر تو راستہ چلتے اور دن کے وقت کہیں چھپ کر بیٹھ رہتے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم معروف راستہ سے بچ کر تشریف لائے اور آٹھ دن میں قبا پہنچے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ معروف راستہ پر آئے مگر چونکہ پیدل تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے تین چار دن بعد قبا پہنچے۔