محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
شہر مدینہ میں داخلہ
جمعہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ و سلم قبا اور بنی عمرو بن عوف یعنی قبا والوں سے رخصت ہو کر شہر مدینہ میں قیام کے ارادہ سے چلے‘ مدینہ کے ہر محلہ میں ہر ایک خاندان اس امر کا خواہاں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہم میں مقیم ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم بنو سالم بن عوف کے محلہ میں تھے کہ نماز جمعہ کا وقت آ گیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہیں ایک میدان میں سو آدمیوں کے ساتھ نماز جمعہ ادا فرمائی۔ یہ مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا پہلا جمعہ اور پہلا خطبہ تھا‘ اس جگہ بھی بعد میں ایک مسجد تیار ہو گئی۔
نماز جمعہ ادا فرما کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو گئے قبیلہ بنو سالم بن عوف کے لوگوں نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اونٹنی کی مہار پکڑ لی اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے یہاں ٹھہرانا چاہا‘ دوسرے قبیلوں اور دوسرے محلوں کے لوگوں نے اپنے یہاں لے جانے کا اصرار کیا اور اس طرح بحث و تکرار شروع ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میری ناقہ کو نہ روکو‘ اس کی مہار چھوڑ دو‘ اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم مل چکا ہے‘ جہاں میری ناقہ بیٹھ جائے گی میں وہیں ٹھہروں گا‘ چنانچہ ناقہ چلنے لگی‘ تمام انصار و مہاجرین ناقہ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ساتھ ساتھ چلے۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مہار بالکل ڈھیلی چھوڑ دی اور ناقہ اپنی خوشی سے آہستہ آہستہ چلتی رہی‘ سب کی نگاہیں ناقہ کی طرف تھیں کہ دیکھیں یہ کہاں بیٹھتی ہے‘ چلتے چلتے ناقہ جب قبیلہ بنو بیاضہ کے محلہ میں پہنچی تو اس قبیلہ کے سردار زیاد بن لبید اور عروہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر ناقہ کی مہار پکڑنی چاہی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
دعوھا فانھا مامورۃ ’’اسے چھوڑ دو اس کو حکم ملا ہے۔‘‘
اس کے بعد ناقہ بنو ساعدہ کے محلہ میں پہنچی‘ قبیلہ بنو ساعدہ کے سردار سعد بن عبادہ اور منذر بن عمرو نے روکنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہی الفاظ فرمائے کہ
دعوھا فانھا مامورۃ
اس کے بعد اونٹنی قبیلہ بنو الحارث بن الخزرج کے محلہ میں پہنچی‘ یہاں سعد بن الربیع‘ خارجہ بن زید‘ عبداللہ بن رواحہ نے روکنا چاہا‘ ان کو بھی وہی حکم ملا‘ وہاں سے روانہ ہو کر ناقہ بنو عدی بن النجار کے محلہ میں پہنچی‘ ان لوگوں میں چونکہ عبدالمطلب کی ننھیال تھی اس لیے ان کو بڑا دعویٰ تھا کہ عبدالمطلب کی ماں سلمیٰ بنت عمرو ہمارے قبیلہ کی لڑکی تھی لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہم میں قیام فرمائیں گے‘ چنانچہ سلیط بن قیس رضی اللہ عنہ اور اسیرۃ بن ابی خارجہ رضی اللہ عنہ سردار بنو عدی نے آگے بڑھ کر ناقہ کی مہار پکڑی ‘ ان کو بھی وہی جواب ملا کہ ناقہ کا راستہ چھوڑ دو اس کو اللہ تعالیٰ کا حکم ملا ہوا ہے۔
یہاں تک کہ ناقہ بنو مالک بن النجار کے محلہ میں جا کر ایک غیر آباد افتادہ زمین میں بیٹھ گئی اورفوراً پھر کھڑی ہو گئی‘ کھڑی ہو کر پھر کچھ دور تک چلی‘ چل کر خود بخود پھر لوٹی اور ٹھیک اسی جگہ جہاں پہلے بیٹھی تھی واپس آئی اور بیٹھ گئی‘ اب کی مرتبہ اونٹنی نے بیٹھ کر جھرجھری لی‘ گردن نیچے ڈال دی‘ اور دم ہلانے لگی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس پر سے اتر آئے۔
اس افتادہ زمین کے قریب سیدنا ابو ایوب خالد بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کا مکان تھا‘ وہ خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا اسباب اٹھا کر اپنے مکان میں لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں کے یہاں قیام فرمایا‘ یہ افتادہ زمین سہل و سہیل دو یتیم لڑکوں کی ملکیت تھی‘ جس میں چند درخت کھجور کے کھڑے تھے‘ اور چند قبریں مشرکین کی تھیں اور چار پایوں کا ایک ریوڑ بھی اس جگہ آ کر بیٹھا کرتا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دریافت فرمایا کہ یہ جگہ کس کی ملکیت ہے‘ معاذ بن عفراء نے عرض کیا کہ میرے رشتہ دار دو یتیم لڑکے اس زمین کے مالک ہیں اور میرے ہی پاس پرورش پا رہے ہیں‘ میں ان کو رضا مند کر لوں گا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہاں شوق سے مسجد بنائیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہم اس کو قیمتاً خریدنا چاہتے ہیں‘ بلا قیمت نہ لیں گے۔
چنانچہ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اسی وقت اس زمین کی قیمت ادا کر دی‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کے موافق کھجور کے درخت کاٹ دئیے گئے‘ مشرکین کی قبریں ہموار کر دیں گئیں اور مسجد کی تعمیر کا کام شروع ہو گیا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بہ نفس نفیس خود مسجد کی تعمیر کے کام میں مصروف ہوتے تھے‘ مہاجرین و انصار بڑی خوشی اور جوش و شوق کے ساتھ اس کام میں لگے رہتے تھے‘ مسجد کی دیواریں اینٹ اور گارے سے بنائی گئیں‘ چھت کھجور کی لکڑی اور کھجور کے پتوں سے بنائی گئی۔
جب تک مسجد اور اس کے قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے مکان تیار ہوا‘ اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان میں فروکش اور انہیں کے مہمان رہے۱؎ اوریہ وہی ابو ایوب انصاری ہیں جن کی قبر قسطنطنیہ میں موجود ہے۔
یہ ۴۸ ھ میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں محاصرہ قسطنطنیہ کے وقت شہید ہوئے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم گیارہ مہینے اور چند روز سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان میں رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ کی بنی ہوئی یہ مسجد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت تک اسی حالت میں رہی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو وسیع کیا‘ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں اس کی دیواروں کو پختہ بنایا‘ اس کے بعد ولید بن عبدالملک کے زمانہ میں یہ اور زیادہ وسیع کی گئی اور ازواج مطہرات w نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے مکانات بھی اس میں داخل کئے گئے‘ مامون الرشید عباسی نے اس کو خوب آراستہ و پیراستہ کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ابھی سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہی کے مکان میں تشریف فرما تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور ابو رافع رضی اللہ عنہ کو بھیج کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا ‘ سیدنا ام کلثوم رضی اللہ عنھا ‘ سیدنا سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنھا ‘ سیدنا اسمہ بن زید رضی اللہ عنھا ‘ ان کی والد ام ایمن کو بلوایا‘ انہیں کے ہمراہ عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بھی اپنے عزیزوں سمیت چلے آئے‘ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بھی انہیں کے ہمراہ تشریف لے آئے‘ان سب کے آنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے نو تعمیر مکان میں تشریف لے آئے۔