مغولان چنگیزی

چنگیز خاں کا خواب

اسی حالت میں تموچین نے خواب میں دیکھا کہ اس کے دونوں ہاتھوں میں تلواریں ہیں۔ جب اس نے اپنے دونوں ہاتھ مشرق و مغرب کی طرف پھیلائے تو دونوں تلواروں کے سرے افق مشرق اور افق مغرب تک پہنچ گئے۔ یہ خواب اس نے اپنی ماں سے بیان کیا تو اس کو یقین ہو گیا کہ میرا یہ بیٹا مشرق و مغرب کے تمام لوگوں کو آگاہ کرے گا۔ اور اس کے ہاتھ سے بڑی خونریزی ہو گی۔ اسی طرح اس کی ماں کو معلوم تھا کہ پیدا ہونے کے وقت تموچین کے ہاتھ کی دونوں مٹھیاں بند تھیں۔ ان کو کھول کر دیکھا تو اس کے دونوں ہاتھوں میں منجمد خون تھا اس خون کو دیکھ کر اس وقت بھی سب نے یہی رائے قائم کی تھی کہ یہ لڑکا بڑا خوں ریز ہو گا لوگوں کی سرکشی یہاں تک پہنچی کہ سوائے ایک شخص امیر قراچا کے جو قاچولی بہادر کی اولاد سے تھا۔ باقی تمام اولاد قاچولی بہادر کی بھی تموچین سے باغی ہو گئی۔ تموچین نے اپنے ملک کے متصلہ ملک کے فرماں روا سے جس کا نام اونگ خاں تھا۔ امداد چاہی اور اس کی پناہ میں خود چلا گیا۔ اونگ خان نے تموچین کی خوب خاطر مدارات اور تسلی و تشفی کی اور اپنے بیٹوں کی طرح اس کی خبر گیری کرنے لگا۔ مگر چند روز کے بعد کچھ جمعیت بہم پہنچا کر چنگیز خان نے اپنے اس محسن اونگ خان کے خلاف کارروائی شروع کی اور اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک درہ میں مضبوط ہو بیٹھا۔ اور اپنی مخالفت کا اعلان کیا۔ آخر لڑائی ہوئی۔ اس لڑائی میں اتفاقاً امیر قراچار کے تیر سے اونگ خان سخت زخمی ہو کر منہزم ہوا۔ اور ایک دوسرے سردار یانگ خان نے بحالت فرار اس کو قتل کرا دیا۔ اب توقع یہ تھی کہ یانگ خان اور تموچین کے درمیان صلح رہے گی۔ کیونکہ اونگ خان کو قتل کر کے یانگ خان نے تموچین کی امداد کی تھی۔ مگر چنگیز خان نے اس فتح کے بعد اپنے گرد بہت جلد قبائل کو جمع کر لیا۔ اور لوگوں نے اس کو بہادر دیکھ کر بخوشی اس کی سرداری تسلیم کرنی شروع کی۔ ایک شائستہ جمعیت لے کر چنگیز خان نے یانگ خان کے علاقہ پر فوج کشی شروع کر دی۔ لڑائی میں یانگ خان بھی مقتول ہوا۔ اور چنگیز خان نے ایک وسیع مملکت پر قبضہ کر لیا۔ ان فتوحات کے بعد یکایک تموچین قبائل مغلیہ کا مرجع و مرکز بن گیا۔ اور اس کی طاقت مغولستان کے قاآن اکبر کی مدمقابل بن گئی۔