مغولان چنگیزی
جلال الدین ابن خوارزم
جلال الدین ابن خوارزم شاہ اپنے باپ کی وفات کے بعد بحیرئہ کا سپین کے جزیرہ سے روانہ ہو کر شہر تبریز میں آیا۔ یہاں بعض بہادر دوستوں کو اپنے ساتھ ملایا۔ مغلوں نے اس کو گرفتار کرنا چاہا لیکن مغلوں کی صفوں کو چیر کر معہ ہمراہیوں کے نکل گیا۔ وہاں سے روانہ ہو کر غزنین پہنچا یہاں اس کو اپنے ہمدردوں اور دوستوں کی ایک جمعیت مل گئی۔ اس نواح میں جو مغلیہ فوج تھی۔ اس نے حملہ کیا۔ جلال الدین نے اس کو شکست دے کر بھگا دیا۔ اور یہ غالباً پہلی شکست تھی۔ جو چنگیز خان کی فوج کو جلال الدین کے مقابلے میں حاصل ہوئی۔ اس خبر کو سن کر چنگیز خان قلعہ طالقان سے روانہ ہو کر بامیان پہنچا۔ یہاں اس کا ایک پوتا یعنی چغتائی خان کا بیٹا ایک تیر کے لگنے سے ہلاک ہوا۔ چنگیز خان نے بامیان کے زن و مرد کے قتل عام کا حکم دیا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی عورت حاملہ تھی تو اس کو قتل کر کے اس کے پیٹ میں سے بچے کو نکال کر اس بچہ کی بھی گردن کاٹی گئی۔ سلطان جلال الدین نے مغلوں کی فوج کو شکست فاش دے کر بہت جلد اپنی طاقت کو درست اور مضبوط کر لیا۔ اور چنگیز خان کے مقابلے کے لئے مستعد ہو گیا۔ اگر خوارزم شاہ کی جگہ جلال الدین ہوتا تو یقیناً مغلوں کو چیرہ دستی کا یہ موقعہ ہرگز نہ مل سکتا۔ مگر خوارزم شاہ کی پست ہمتی اور بے وقوفی نے اپنے عظیم الشان لشکر سے کوئی کام بھی نہ لینے دیا۔ اور آباد شہروں کو مغلوں کی خون آشام تلوار سے قتل ہونے کے لئے بے گناہ چھوڑ دیا۔ سلطان جلال الدین جمعیت فراہم کر کے چنگیز خان کے مقابلہ پر مستعد ہو گیا۔ مگر بدقسمتی سے اس جمعیت میں بعض ایسے سردار موجود تھے۔ جو عین وقت پر دھوکا دے کر مغلوں سے جا ملے اور سلطان جلال الدین کے پاس صرف سات سو آدمی رہ گئے۔ انہی سے لڑتا بھڑتا دریائے سندھ کے ساحل کی طرف سلطان جلال الدین متوجہ ہوا۔ چنگیز خان بھی اپنا لشکر عظیم لئے ہوئے وہاں پہنچ گیا۔ جلال الدین نے دریائے سندھ کو اپنی پشت پر رکھ کر لشکر مغول کا مقابلہ کیا۔ مغلوں نے کمان کی شکل میں محاصرہ کر کے ہنگامۂ کار زار گرم کیا۔ مگر جلال الدین نے اس بہادری اور جواں مردی کے ساتھ مقابلہ کیا کہ چنگیز خان اور اس کی لاتعداد فوج کے دانت کھٹے کر دئیے۔ سلطان جلال الدین جب حملہ آور ہوتا تھا۔ مغلوں کی صفوں کو دور تک پیچھے ہٹا دیتا تھا۔ مگر وہ پھر فراہم ہو کر بڑھتے اور پہلے سے زیادہ جوش کے ساتھ حملہ آور ہوتے تھے۔ اپنی جمعیت کی قلت اور دشمنوں کی کثرت کے سبب اس معرکہ آرائی میں سلطان جلال الدین کو کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ مگر سلطان جلال الدین کی شجاعت و بہادری کا سکہ چنگیز خان کے دل پر بیٹھ گیا۔ یہاں تک کہ ان کے سات سو بہادروں میں سے بھی جب صرف ایک سو کے قریب باقی رہ گئے۔ تو سلطان جلال الدین نے اپنی زرہ اتار کر پھینک دی اور اپنا تاج ہاتھ میں لے کر گھوڑا دریائے سندھ میں ڈال دیا۔ اس کے بقیہ ہمراہیوں نے بھی اپنے سلطان کی تقلید کی۔ چنگیز خاں نے چاہا کہ مغلوں کا لشکر بھی اس کا تعاقب کرے اور اس بہادر شخص کو گرفتار کر کے لائے۔ لیکن اس بحر ذخار میں گھوڑا ڈالنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ چنانچہ چنگیز خان اور مغل دریائے سندھ کے کنارے پر رک گئے۔ اور دریائے سندھ کے اندر ان مٹھی بھر بہادروں پر تیروں کا مینہ برساتے رہے۔ یہاں تک صرف سات آدمی معہ سلطان جلال الدین کے کنارے پر پہنچ گئے۔ باقی سب دریا کے اندر مغلوں کے تیروں سے شہید ہو گئے۔ سلطان جلال الدین نے اس کنارے پر پہنچ کر اپنے کپڑے اتار کر جھاڑیوں پر سکھانے کے لئے ڈال دئیے۔ نیزہ زمین پر گاڑ کر اس کی نوک پر اپنا تاج رکھ دیا۔ اور اس کے نیچے دم لینے لگا۔ اور گھوڑے کے زین کو اتار کر خشک ہونے کے لئے سامنے رکھ دیا۔
چنگیز خان دوسرے کنارے پر کھڑا ہوا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اور حیران تھا۔ اپنے تمام بیٹوں اور سرداروں کو جو اس کے لشکر میں موجود تھے۔ سامنے بلا کر کہنے لگا کہ میں نے آج تک ایسا بہادر اور باہمت شخص نہیں دیکھا۔ اس کے ہمراہی بھی اس کی مانند بے نظیر بہادر ہیں۔ اتنے بڑے عظیم الشان دریا کو اس طرح عبور کرنا بھی انہی کا کام تھا۔ اگر یہ شخص زندہ رہا تو مجھ کو اندیشہ ہے کہ دنیا سے مغلوں کا نام و نشان گم کر دے گا۔ جس طرح ممکن ہو۔ اس کے قتل کرنے کی تدبیر سوچی جائے۔ مگر بجز اس کے اور کچھ نہیں ہو سکتا تھا کہ چنگیز خان متاسف و مغموم دریائے سندھ کے کنارے سے واپس چلا گیا۔ یہ واقعہ ۶۲۰ھ کو وقوع پذیر ہوا۔
اس کے بعد سلطان جلال الدین نے سندھ میں کچھ فتوحات حاصل کیں اور اس کے ہوا خواہ یہاں آ آ کر اس کے ساتھ شامل ہوتے رہے۔ چند روز کے بعد سلطان جلال الدین دریا کو عبور کر کے کرمان کی جانب پہنچا وہاں سے شیراز گیا۔ اسی عرصہ میں فدائیوں کو متواتر ہزیمتیں دے کر ان کے قریباً تمام قلعوں کو سوائے قلعہ الموت کے منہدم کر دیا۔ فدائی یا باطنی گروہ مغلوں کی اس حملہ آوری کے وقت بہت مطمئن اور مسرور تھے۔ اور مسلمانوں کے قتل عام کی خبریں سن کر یہ لوگ بہت خوش ہو رہے تھے۔ چونکہ یہ لوگ بھی مسلمانوں کے اسی طرح دشمن تھے جیسے کہ مغل‘ لہٰذا ان کو مغلوں سے کوئی اندیشہ نہ تھا۔ انھوں نے مسلمانوں کی تباہ حالت دیکھ کر اپنے مقبوضات کو بہت وسیع کر لیا۔ قرامطہ کی بیخ کنی سلطان جلال الدین کے قابل تذکرہ اور اہم کارناموں میں شمار ہونا چاہیے۔ اب وہ زمانہ تھا۔ کہ مغلوں کا سیلاب شمال کی جانب متوجہ تھا۔ سلطان جلال الدین نے موقعہ مناسب سمجھ کر بغداد کا رخ کیا کہ وہاں جا کر خلیفہ ناصرلدین اللہ عباسی کی خدمت میں حاضر ہو کر امداد طلب کروں تاکہ مغلوں کا ممالک اسلامیہ سے اخراج و استیصال بآسانی کیا جا سکے۔ خلیفہ کو چونکہ جلال الدین کے باپ سے نفرت تھی لہٰذا اس نے جلال الدین کو بھی نفرت کی نگاہ سے دیکھ کر فوراً امرا کو معمور کیا کہ جلال الدین کو آگے نہ بڑھنے دو اور ہماری مملکت سے باہر نکال دو۔ یہ رنگ دیکھ کر سلطان جلال الدین مقابلہ پر مستعد ہو گیا۔ اور امرائے بغداد کو شکست دے کر بھگا دیا۔ پھر خود وہاں سے بجائے بغداد کے تبریز کی طرف متوجہ ہوا۔ تبریز پر قابض ہو کر گرجستان کی طرف گیا۔ وہاں کے امراء نے بڑی عزت کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور اس کی تشریف آوری کو بہت ہی غنیمت سمجھ کر سب نے اظہار اطاعت کیا۔
اب سلطان جلال الدین کی حالت پھر درست ہو گئی ادھر مغلوں کا عظیم الشان لشکر اس کے مقابلے پر آیا۔ اصفہان کے قریب معرکۂ کار زار گرم ہوا۔ سلطان جلال الدین نے مغلوں کو شکست دے کر بھگا دیا اور فتح عظیم حاصل کر کے تمام ملک گرجستان اور اس کے نواحی علاقوں پر قابض و متصرف ہو گیا۔ اس کے بعد مغلوں نے بہت تیاری اور عظیم الشان لشکر کے ساتھ سلطان جلال الدین پر حملہ کیا۔ اس حملہ کی تیاریوں کا حال سن کر سلطان جلال الدین نے بغداد اور دوسرے اسلامی درباروں کی طرف ایلچی روانہ کیے کہ اس وقت میری مدد کرو اور اس متفقہ دشمن کا سر کچل لینے دو مگر چونکہ جلال الدین کی بہادری اور شجاعت کی شہرت دور دور تک ہو چکی تھی۔ اس لئے کسی نے بھی اس بات کو پسند نہ کیا کہ جلال الدین مغلوں پر فتح یاب ہو کر ہمارے لئے موجب خطرہ بنے لہٰذا کوئی امداد جلال الدین کو کسی طرف سے نہ پہنچی مجبوراً وہ خود ہی مقابلہ کے لئے مستعد ہوا۔ اور ممکن تھا کہ وہ مغلوں کو شکست دے کر ان کے حوصلے پست کر دے اور آئندہ مصائب سے عالم اسلام نجات پا جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو یہ بات منظور نہ تھی جلال الدین نے جو جاسوس مغلوں کے لشکر کی نقل و حرکت معلوم کرنے کے لئے مقرر کئے تھے۔ انھوں نے یہ غلط خبر سلطان کو پہنچائی کہ مغلوں کا لشکر ابھی بہت دور ہے۔ حالانکہ لشکر مغل بالکل قریب پہنچ چکا تھا۔ چنانچہ مغلوں نے آدھی رات کے وقت یکایک ایسی حالت میں حملہ کیا کہ جلال الدین کو کوئی توقع دشمن کے حملہ کی نہ تھی۔ اس طرح یکایک اپنے آپ کو دشمن کے پنجہ میں گرفتار دیکھ کر اول اس نے ہاتھ پائوں مارے اور مصروف جدال و قتال ہوا۔ لیکن جب بالکل مایوس ہو گیا تو اس ہنگامے سے نکل کر کسی سمت کو گھوڑا اڑا کر لے گیا۔ اس کے بعد اس کا حال معلوم نہ ہوا۔