مغولان چنگیزی

ہلاکو خان

جب قراقورم میں منکو خان تخت سلطنت پر بیٹھا تو اس کے پاس شکایت پہنچی کہ گروہ باطنیہ اسماعیلیہ کی سرارتیں حد سے متجاوز ہو چکی ہیں اور یہ لوگ بلا قید و مذہب و قوم ہر ایک اس شخص کے دشمن ہیں جو تخت و تاج کا مالک یا سرداری و سپہ سالاری کی عزت سے مفتخر ہو‘ امراء و سرداران لشکر کو ان فدائیوں یعنی باطنیوں کے خوف سے راحت کی نیند نہیں آ سکتی۔ ساتھ ہی یہ بھی اطلاعیں پہنچیں کہ خلیفہ بغداد اگرچہ بظاہر کمزور سمجھا جاتا ہے مگر اس کی عظمت و شوکت اس قسم کی ہے کہ اگر وہ مغلوں کے مقابلے پر مستعد ہو گیا تو مغلوں کو اس سے عہد برآ ہونا دشوار ہو گا۔ منکو قاآن نے اپنے بھائی ہلاکو خان کو ایک لاکھ بیس ہزار مغلوں کی جرار فوج کے ساتھ روانہ کیا اور حکم دیا کہ دریائے جیحون سے مصر تک کا ملک تمہاری حفاظت اور نگرانی میں دیا جاتا ہے۔ اگر خلیفہ بغداد صلح و آشتی پر قائم رہے تو تم کو اس سے لڑنا نہیں چاہیے۔ لیکن اگر خلیفہ کی نیت غیر ہو تو تمہارا فرض ہے کہ اس کے استیصال میں دریغ نہ کرو۔ ساتھ ہی الموت کے قلعہ میں اسمٰعیلیوں کا بادشاہ اقامت گزیں ہے اس کا نام و نشان مٹا دو۔ اور ان اسمٰعیلیوں کی اچھی طرح بیخ کنی کر دو۔ ہلاکو خان کے ہمراہ امیر ایچل ابن امیر قرا چار بطور سپہ سالار روانہ کیا گیا۔ ہلاکو خان ۶۵۱ھ میں وارد خراسان و ایران ہوا۔ آدز بائیجان و شروان و گرجستان وغیرہ کے سلاطین ہلاکو خان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اظہار عقیدت و نیاز مندی کے بعد مورد مراحم خسروانہ ہوئے۔ ارغون آقا اویرات خراسان سے منکو خان قاآن کی خدمت میں روانہ ہوا۔ ہلاکو خان نے خراسان پہنچ کر اور یہاں کے حالات سے واقف و آگاہ ہو کر اول ملاحدہ اسماعیلیہ کی طرف توجہ کی اور یکے بعد دیگرے ان کے قلعوں پر قبضہ کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ یکم ذیقعدہ ۶۵۴ھ بروز یکشنبہ قلعہ الموت فتح ہو گیا۔ اور اسمٰعیلیوں کا بادشاہ رکن الدین خورشاہ ہلاکو خان کے سامنے گرفتار ہو کر حاضر ہوا۔ ہلاکو خان نے خورشاہ کو منکو خان کی خدمت میں قراقورم کی طرف روانہ کیا۔ اور جن لوگوں کی حراست میں اس کو روانہ کیا تھا۔ ان کو حکم دیا۔ کہ راستے ہی میں اس کا کام تمام کر دینا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ رکن الدین خورشاہ کے اہل و عیال اور متعلقین سب قتل کیے گئے۔ مگر خواجہ نصیر الدین طوسی جو خورشاہ کی مصاحبت میں داخل تھا۔ اپنی زبان آوری اور ہوشیاری کے سبب ہلاکو خان کے مصاحبوں میں داخل ہو گیا۔ اسمٰعیلیوں کے تمام خزائن و دفائن مغلوں کے ہاتھ سے تاراج ہوئے اور ان کی سلطنت کا چراغ گل ہوا۔ اس کے بعد نصیر الدین طوسی نے ہلاکو خان کو بغداد پر فوج کشی کرنے کی ترغیب دی۔ اور خلیفہ بغداد کے وزیر علقمی نے نمک حرامی کی راہ سے نصیر الدین کے ذریعہ ہلاکو خان سے ساز باز کیا۔ اور بغداد کی تباہی عمل میں آئی۔ بغداد کی بربادی کا مفصل حال اوپر دوسری جلد میں چونکہ بیان ہو چکا ہے۔ اس لیے اس دل خراش داستان کو یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں‘ اموال‘ خزائن بے قیاس بغداد سے لے کر ہلاکو خان مراغہ کی طرف متوجہ ہوا۔ وہاں سے زر و جواہر کے انبار اور لونڈی غلام قطار در قطار منکو خان کی خدمت میں قراقورم کی طرف روانہ کئے۔ اتابک سعدبن ابوبکر حاکم فارس اور بدر الدین لولو حاکم موصل اور سلطان عز الدین سلجوقی حاکم روم نے حاضر ہو کر اظہار اطاعت کیا۔ بروزجمہ ۲۰ رمضان المبارک ۶۵۷ھ کو ہلاکو خان نے کئی نامور سرداروں کو فوج دے کر بطور ہر اول ملک شام کی طرف روانہ کیا۔ نصیبین‘ حران‘ حلب وغیرہ شہروں کو فتح اور ان کے باشندوں کا قتل عام کرتا ہوا دمشق کی جانب پہنچا۔ دمشق کو بھی اسی طرف فتح کیا۔ اور ملک شام پر قابض ہو کر اور وہاں اپنی طرف سے ایک حاکم کسوقا نامی کو مقرر کر کے ہلاکو خان خراسان کی طرف واپس آیا۔ مصری لشکر نے ملک شام پر حملہ کر کے مغلوں کی فوج کو شکست دے کر بھگا دیا۔ اس خبر کو سن کر ہلاکو خان بہت رنجیدہ ہوا اور ارادہ کیا کہ ملک شام پر فوج کشی کر کے مصریوں کو شام سے نکالے۔ مگر اسی اثناء میں منکو خان کے فوت ہونے کی خبر پہنچی۔ اور انھیں ایّام میں ایک اور واقعہ پیش آیا کہ برکہ خان ابن جوجی خان بادشاہ قبچاق اور ہلاکو خان کے درمیان مخالفت اور ناچاقی پیدا ہوئی۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے۔ کہ ہلاکو خان کے پاس برکہ خان کا کوئی قریبی رشتہ دار تھا۔ اس کو ہلاکو خان نے قتل کر دیا۔ برکہ خان نے سن کر کہا کہ ہلاکو خان نے خلیفہ بغداد کو قتل کیا اور بلاوجہ لاکھوں مسلمانوں کا خون بہا دیا۔ میں اس سے ان تمام بے گناہوں کا انتقام لوں گا۔ یہ کہہ کر اس نے فوج روانہ کی۔ ادھر سے ہلاکو خان نے بھی اس کے مقابلہ کو فوج بھیجی۔ ۶۶۰ھ میں جنگ ہوئی۔ اور ہلاکو خان کی فوج نے شکست پائی۔ اس کے بعد لڑائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ آخر ۶۶۱ھ میں ہلاکو خان خود فوج لے کر برکہ خان کے مقابلے پر آیا۔ جنگ عظیم کے بعد برکہ خان کی فوج کو شکست ہوئی۔ اور ہلاکو خان نے فتح پائی۔ مگر چند ہی روز کے بعد برکہ خان نے ہلاکو خان پر حملہ کر کے اس کو شکست فاش دی۔ اس شکست سے ہلاکو خان بہت دل شکستہ ہوا۔ اسی عرصہ میں امیر ایچل نے مراغہ میں وفات پائی۔ جب مغلوں نے ملک شام کو فتح کر لیاتھا تو وہاں قوم فراتاتار کے قبیلوں کو آباد کیا تھا۔