ایران کی اسلامی تاریخ کا اجمالی تتمہ
دولت صفاریہ
باب : ۱۸ایران کی اسلامی تاریخ کا اجمالی تتمہ
تاریخ اسلام کے سلسلہ میں اب تک جس ترتیب کے ساتھ حالات بیان ہوئے ہیں ان میں ایران کی تاریخ کا بہت بڑا اور ضروری حصہ بیان ہو چکا ہے۔ لیکن جن لوگوں نے صرف ایران ہی کی اسلامی تاریخیں لکھی ہیں۔ انہوں نے واقعات کے قلم بند کرنے میں دوسری ترتیب ملحوظ رکھی ہے۔ جو ان کے لیے موزوں بھی تھی۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو دوسرے اسلامی ممالک کے مقابلہ میں ایران کی تاریخ سے ہمیشہ خصوصی تعلق رہا ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کے بیان کردہ واقعات میں تفریق ترتیب کے سبب سے جو کمی رہ گئی ہے۔ اس کو نہایت اختصار کے ساتھ پورا کر دینے کی کوشش کی جائے۔
دولت صفاریہ
ایران کی تاریخوں میں خلفاء کی براہ راست حکومت کے بعد سب سے پہلے خاندان صفاریہ کی خود مختارانہ سلطنت کا بیان لکھا گیا ہے۔ اس خاندان کے حکمرانوں کا حال جو کچھ اوپر کے ابواب میں بیان ہو چکا ہے۔ اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے اس پر اس جگہ کسی اضافہ کی ضرورت نہیں معلوم ہوتی ہاں اس قدر اشارہ کر دینا ضروری ہے کہ خاندان عباسیہ نے خلافت کے حاصل کرنے میں چونکہ ایرانیوں سے زیادہ امداد حاصل کی تھی۔ لہٰذا انہوں نے ایرانیوں کے اقتدار و اثر کو بڑھانے اور عربوں پر چیرہ دست بنانے میں کوئی تامل نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغلوب ایرانیوں کو خود غلبہ پانے اور اپنی حکومت قائم کرنے کا خیال پیدا ہوا۔ اور ابومسلم خراسانی اور برامکہ وغیرہ کو شاہانہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ لیکن جب تک عباسی خاندان میں فاتحانہ اور سپاہیانہ جذبات باقی رہے ایرانی اپنے مقصد میں کماحقہ‘ کامیاب نہ ہو سکے خلفائے عباسیہ کی عیش پرستی و کمزوری نے جب ایرانیوں کے لیے ان کی اولو العزمیوں کے پورا ہونے کا راستہ صاف کر دیا۔ تو سب سے پہلے یعقوب بن لیث جس کے خاندان میں ٹھٹھیرے کا پیشہ ہوتا تھا۔ اور اسی لیے وہ صفار کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اپنی خود مختار حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ یعقوب بن لیث کو یہ کامیابی محض اس کے سپاہیانہ اخلاق و جذبات کی وجہ سے حاصل ہوئی تھی۔ یعقوب بن لیث صفار دوست نوازی‘ سخاوت اور سادہ زندگی بسر کرنے میں اپنا نظیر نہ رکھتا تھا۔ اور اس کے انہی صفات و اخلاق میں اس کی کامیابی کا راز مضمر تھا۔ اس کے پاس جو کچھ ہوتا تھا۔ اپنے دوستوں کو کھلا پلا دیتا تھا۔ خود تکلیف اٹھا کر دوستوں کو راحت پہنچانے کا شوق رکھتا تھا۔ اس لیے اس کو اپنے جان نثاروں کی جمعیت فراہم کرنے میں کوئی دقت پیش نہ آئی۔ اس نے اپنے لڑکپن کے دوستوں کو اپنی بادشاہت کے وقت مطلق فراموش نہیں کیا۔ اور سب کو اعلیٰ مدارج پر پہنچایا۔ بادشاہت کی حالت میں بھی وہ ایک معمولی سپاہی کے لباس میں نظر آتا تھا۔ معمولی سپاہی کی طرح زمین پر سونے اور خندق کھودنے سے اس کو عار نہ تھا۔ اس کے خیمے اور ایک معمولی سپاہی کے خیمے میں کوئی فرق نہ ہوتا تھا۔ اس کو عیاشی و بدچلنی سے سخت نفرت تھی۔ اور استقلال اولوالعزمی اس کے ہر ایک کام اور ہر ایک بات سے ٹپکتی تھی۔ یہی سبب تھا۔ کہ وہ نہایت پست اور ادنیٰ درجہ سے ترقی کر کے ملک ایران کے بہت بڑے حصے کا مطلق العنان فرماں روا بن گیا تھا۔ اور بغداد کا دربار خلافت اس کے استیصال پر قادر نہ ہو سکا تھا۔
یعقوب بن لیث صفار کی وفات کے بعد اس کا بھائی عمرو بن لیث صفار بھائی کا جانشین ہوا۔ اور اس نے اپنی حدود حکومت کو اور بھی وسیع کیا۔ عمرو بن لیث میں اگرچہ اپنے بھائی کی نسبت عقل و دانائی زیادہ بیان کی جاتی ہے۔ مگر وہ ان سپاہیانہ اخلاق اور سادہ زندگی بسر کرنے میں اپنے بھائی سے کمتر تھا۔ خلیفہ معتمد کے بھائی موفق نے ایک مرتبہ اس کو شکست بھی دی۔ مگر اس نے جلد اپنی حالت کو پھر درست کر لیا۔ اور دربار خلافت کے لیے وبال جان بن گیا۔ آخر خلیفہ نے ماوراء النہر کے حاکم اسمٰعیل سامانی کو عمرو بن لیث کے مقابلہ پر آمادہ کیا۔ عمرو بن لیث ستر ہزار سوار لے کر اسمٰعیل سامانی کے استیصال پر آمادہ ہوا۔ اور دریائے جیحون کو عبور کیا۔ اسمٰعیل سامانی صرف بیس ہزار سواروں کے ساتھ مقابلہ پر آیا عین معرکہ جنگ کے وقت عمرو بن لیث کا گھوڑا اپنے سوار کی منشاء کے خلاف اس کو اسمٰعیل سامانی کے لشکر میں لے گیا۔ اور وہاں وہ بڑی آسانی سے گرفتار کر لیا گیا۔
عمرو بن لیث کے مقابلہ پر آمادہ کیا۔ عمرو بن لیث ستر ہزار سوار لے کر اسمٰعیل سامانی کے استیصال پر آمادہ ہوا۔ اور دریائے جیحون کو عبور کیا۔ اسمٰعیل سامانی صرف بیس ہزار سواروں کے ساتھ مقابلہ پر آیا عین معرکہ جنگ کے وقت عمرو بن لیث کا گھوڑا اپنے سوار کی منشاء کے خلاف اس کو اسمٰعیل سامانی کے لشکر میں لے گیا۔ اور وہاں وہ بڑی آسانی سے گرفتار کر لیا گیا۔
صید را چوں اجل آید سوئے صیاد رود
اسمٰعیل سامانی نے عمرو کو گرفتار کر کے بغداد بھیج دیا۔ اور اس طرح دولت صفاریہ کی عظمت و شوکت کا قریباً خاتمہ ہو گیا۔ یعقوب بن لیث اور عمرو بن لیث میں سب سے بڑا فرق یہ تھا۔ کہ یعقوب ایک صعوبت کش اور سوکھی روٹیاں چبا کر گذر کر لینے والا سپاہی تھا۔ اور عمرو بن لیث ایک شان و شوکت اور سامان عیش کے ساتھ بسر کرنے والا بادشاہ تھا۔ اس جگہ ایک لطیفہ کا نقل کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔
جس روز عمرو بن لیث گرفتار ہوا ہے اس روز صبح کے وقت اس کے باورچی نے عرض کیا کہ باورچی خانہ کا سامان اٹھانے کے لیے تین سو اونٹ ناکافی ہیں۔ مجھ کو باربرداری کے کچھ اونٹ اور دیئے۔ جائیں۔ اسی شام کو جب کہ عمرو بن لیث گرفتار ہو چکا تھا۔ اس نے اپنے باورچی سے جو اس کے ساتھ قید خانہ میں موجود تھا۔ بھوک کی شکایت کی باورچی نے گھوڑوں کا مہیلہ پکانے کی ایک ہانڈی میں جو اتفاقاً وہاں موجود تھی۔ تھوڑا سا دلیا پانی ڈال کر پکنے کے لیے چولھے پر چڑھا دیا۔ اس کے سوا اور کوئی چیز موجود نہ تھی۔ عمرو بن لیث دلیے کے پکنے کا انتظار نہایت بے صبری کے ساتھ کر رہا تھا۔ باورچی نے ہانڈی چولھے سے اتار کر رکھی اور کسی ضرورت سے دوسری طرف متوجہ ہوا کہ اتنے میں ایک کتا آیا۔ ہانڈی کا کنارہ منہ میں پکڑ کر اور اٹھا کر چل دیا۔ عمرو بن لیث نے جب کتے کو ہانڈی لے جاتے ہوئے دیکھا تو اپنے باورچی کو آواز دے کر کہا کہ صبح تو شکایت کر رہا تھا کہ باورچی خانہ کا سامان اٹھا کر لے چلنے کے لیے تین سو اونٹ ناکافی ہیں۔ اب دیکھ لے کہ ایک کتا میرا سارا باورچی خانہ اٹھائے ہوئے لے جا رہا ہے۔
عمرو بن لیث کے بعد اس کی اولاد نے چند سال تک علاقہ سیستان کے محدود رقبہ میں اپنی اپنی برائے نام حکومت قائم رکھی۔ یعقوب بن لیث صفار کا نواسا جس کا نام خلف تھا۔ محمود غزنوی کے زمانہ تک سیستان میں برسر حکومت رہا۔ خلف کے بیٹے نے باپ کے خلاف مخالفت کا علم بلند کیا۔ خلف نے اپنے آپ کو بیٹے کے مقابلہ میں کمزور دیکھ کر اس کو دھوکے سے قتل کیا۔ باشندگان سیستان نے سلطان محمود غزنوی کی خدمت میں خلف کے خلاف شکایات کی غرصیاں بھیجیں۔ اور لکھا کہ آپ ہم کو خلف کے مظالم سے نجات دلائیے۔ سلطان محمود غزنوی نے چڑھائی کی خلف نے مقابلہ میں اپنے آپ کو مغلوب اور اپنے قلعہ کو مفتوح دیکھ کر سلطان محمود کی خدمت میں حاضر ہو کر رکاب کو بوسہ دیا اور اپنی داڑھی سلطان کے پائوں سے مل کر کہا کہ اے سلطان مجھ کو معاف کر دے۔ محمود غزنوی کو خلف کی زبان سے اپنی نسبت لفظ ’’سلطان‘‘ پسند آیا اور آئندہ اس لفظ ’’سلطان‘‘ کو اپنا لقب قرار دیا۔ خلف کو اور کوئی سزا نہیں دی۔ اسی قدر کافی سمجھا کہ اس کو اپنے ہمراہ غزنین لے گیا۔ جہاں چار سال رہ کر خلف نے وفات پائی۔ اس طرح دولت صفاریہ کا خاتمہ ہوا۔