ایران کی اسلامی تاریخ کا اجمالی تتمہ

دولت سامانیہ

اسد بن سامان اپنے آپ کو بہرام چوبین کی اولاد میں بتاتا تھا اسد بن سامان اپنے چاروں بیٹوں کو لے کر مامون الرشید عباسی کی خدمت میں مقام مرو حاضر ہوا تھا۔ جب کہ مامون الرشید مرو میں مقیم تھا۔ مامون الرشید عباسی کو اپنے بھائی امین کے خلاف تخت خلافت کے حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ اس میں سب سے زیادہ ایرانیوں کی امداد و اعانت کو دخل تھا۔ مامون الرشید کا اسد بن سامان اور اس کی اولاد پر مہربان ہونا کوئی تعجب کی بات نہ تھی۔ سامانیوں کے اقتدار نے اسی زمانے سے تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کی۔ چونکہ یہ خاندان ایران کے ایک مشہور سردار کی اولاد سے تھا۔ اس لیے ماوراء النہر خراسان میں ان لوگوں کی سیادت کے خلاف لوگوں کے آمادہ ہونے کا امکان اور بھی ضعیف ہو گیا تھا۔ اسمٰعیل سامانی جو اسد بن سامان کا پوتا تھا۔ عمرو بن لیث پر غالب آنے کے بعد بہت جلد بادشاہت کے مرتبہ کو پہنچ گیا۔ فرق صرف اسقدر تھا کہ خاندان صفار خلافت بغداد کے خلاف اور معاند رہا۔ لیکن اسمٰعیل اور اس کے جانشین برائے نام دربار خلافت کی سیادت کو تسلیم کرتے رہے۔ اسمٰعیل سامانی نے ماوراء النہر اور خراسان میں سات آٹھ سال حکومت و سلطنت کی خلیفہ معتضد باللہ عباسی نے اس کو ملک خراسان کی سند حکومت عطا کی تھی۔ اسمٰعیل کی وفات کے بعد ابو نظیر احمد بن اسمٰعیل سامانی باپ کا جانشین ہوا۔ اسمٰعیل سامانی اپنے عادات و خصائل کے اعتبار سے نہایت شریف۔ سیر چشم اور متوکل علی اللہ شخص تھا۔ جہانگیری کے ساتھ ہی جہانداری کے اصولوں سے بھی خوب واقف تھا۔ رعایا اس سے خوش تھی اور اس نے اپنے طرز عمل سے اس بات کا کافی ثبوت بہم پہنچا دیا تھا۔ کہ وہ ایران کے نہایت شریف اور سردار خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ احمد بن اسمٰعیل نے تخت نشین ہو کر اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو اپنی بد اخلاقی سے ناراض کر دیا۔ چھ سات سال تک اس نے حکومت کی۔ مگر یہ تمام زمانہ دربار خلافت کے خلاف ریشہ دوانیوں اور اپنے رشتہ داروں کو ناراض رکھنے میں صرف کر دیا۔ آخر خود اپنے ہی غلاموں کے ہاتھ سے مقتول ہوا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا نصر بن احمد سامانی آٹھ سال کی عمر میں تخت نشین ہوا یہ بالکل اپنے دادا اسمٰعیل کا نمونہ تھا۔ اس نے چند ہی روز کے بعد اپنی سلطنت کے حدود کو اسمٰعیل سامانی کی حدود سلطنت سے زیادہ وسیع کر لیا۔ اور تیس سال سے زیادہ عرصہ تک بڑے زور شور اور ناموری کے ساتھ حکومت کی۔ اسی کے دربار میں رود کی شاعر جو نابینا تھا بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ رہتا تھا۔ نصر بن احمد اپنے دارالسلطنت بخارا میں فوت ہو کر مدفون ہوا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا نوح بن نصر تخت نشین ہوا۔ اس نے تیرہ سال حکومت کر کے ۳۴۳ھ میں وفات پائی۔ اس کے بعد اس کا بیٹا عبدالملک بن نوح تخت نشین ہوا۔ اس نے اپنے ممالک مقبوضہ کے جنوبی حصے یعنی صوبہ خراسان کی گورنری پر اپنے ایک سردار الپتگین کو مامور کیا تھا۔ آخر سات سال حکومت کرنے کے بعد چوگان کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گر کر فوت ہوا۔ اس کی وفات کے بعد اس کا بھائی منصور بن نوح تخت نشین ہوا۔ اس نے رکن الدولہ دیلمی کی بیٹی سے شادی کی تھی۔ اس لیے عراق و فارس کے صوبوں میں بھی اس کی سیادت تسلیم کی گئی۔ اسی کا وزیر ابوعلی بن محمد تھا۔ جس نے تاریخ طبری کا فارسی میں ترجمہ کیا تھا منصور بن نوح نے پندرہ سال حکومت کی۔ اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ابوالقاسم نوح ثانی تخت نشین ہوا۔ اس کے تخت نشین ہوتے ہی سلطنت بخارا یعنی دولت سامانیہ پر ادبار و تنزل کی گھٹائیں چھا گئیں اس کے درباریوں نے اس کے خلاف ملک میں بغاوتیں برپا کرائیں۔ اور مغولستان کے بادشاہ بغرا خان کو اس پر حملہ آور کرایا۔ بخارا کے متصل لڑائی ہوئی۔ بغرا خان نے نوح ثانی کو شکست دے کر بخارا پر قبضہ کر لیا۔ مگر عجیب اتفاق یہ پیش آیا کہ بغرا خان اس فتح کے بعد ہی بخارا میں فوت ہو گیا۔ اور اس کی فوج اپنے ملک کو واپس چلی گئی۔ نوح ثانی نے پھر بخارا پر قابض ہو کر اپنی سلطنت کو مضبوط کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ غزنین میں سبکتگین نے اپنی مستقل حکومت قائم کر لی تھی۔ اور نوح ثانی کی تخت نشینی کے چند روز بعد الپتگین کا انتقال ہو چکا تھا۔ نوح ثانی نے سبکتگین کو اس خدمت کے صلہ میں کہ اس نے بغرا خان کے خلاف نوح ثانی کی مدد کی تھی۔ ناصر الدین کا خطاب دیا تھا۔ دقیقی شاعر اس کا معاصر تھا۔ جس نے داستان گشتاسپ کے ایک ہزار اشعار لکھے تھے۔ بغرا خان کے حملہ سے فارغ ہونے کے بعد نوح ثانی نے اپنے باغی اور بے وفا امیروں کو سزائیں دینی چاہیں۔ جنہوں نے ملک میں بغاوتوں کے لیے ریشہ دوانیوں کا سلسلہ بچھا رکھا تھا ان باغی امراء نے فرار ہو کر فخر الدولہ دیلمی کے پاس پناہ لی اور اس سے مدد لے کر سلطنت بخارا پر حملہ آور ہوئے۔ نوح ثانی نے سبکتگین سے پھر امداد طلب کی۔ سبکتگین نے ہرات کے قریب باغیوں کا مقابلہ کیا۔ اور جنگ عظیم کے بعد ان کو شکست فاش دے کر بھگا دیا۔ اس لڑائی میں سبکتگین کے بیٹے محمود غزنوی نے بڑی بہادری دکھائی اور خوب بڑھ بڑھ کر تلوار چلائی۔ نوح ثانی نے خوش ہو کر محمود کو سیف الدولہ کا خطاب دیا۔ بعض تاریخوں میں لکھا ہے کہ اسی لڑائی میں سبکتگین کو ناصرالدین کا خطاب ملا تھا اور اسی لڑائی کے بعد ملک خراسان کی سند حکومت سبکتگین کو نوح ثانی کے دربار سے عطا ہوئی تھی۔ نوح ثانی نے ۲۲ سال حکومت کی۔ مگر اس کا زمانہ اکثر لڑائی جھگڑوں اور بغاوتوں کے فرو کرنے میں بسر ہوا۔ اور ملک کے صوبے یکے بعد دیگرے قبضے سے نکلتے گئے۔ نوح ثانی کے بعد اس کا بیٹا منصور ثانی باپ کا جانشین ہوا۔ ان امیروں نے جو اس کے باپ کے لیے موجب اذیت رہتے تھے۔ اس کو پریشان رکھا۔اور شکست دے کر بخارا سے بے دخل کیا۔ پھر انہوں نے اسی کو بادشاہ تسلیم کر کے امور سلطنت اپنے اختیار میں لے کر خراسان کو ایک نئے حاکم سے متعلق کیا۔ محمود غزنوی نے اس نئے حاکم کو خراسان سے بے دخل کر کے اپنا قبضہ کیا۔ اسی عرصہ میں امیروں نے منصور کو تخت سے اتار کر اندھا کیا۔ اور اس کی جگہ اس کے بھائی عبدالملک ثانی بن نوح ثانی کو تخت پر بٹھایا۔ اور اس کو ہمراہ لے کر محمود غزنوی پر حملہ آور ہوئے۔ محمود غزنوی نے بعدالملک ثانی اور اس کی فوج کو شکست دے کر بخارا کی طرف بھگا دیا۔ ۱؎ ادھر ایلج حاکم کا شغر نے خوارزم پر قبضہ کر کے بخارا پر حملہ کیا۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ ایلج خان نے عبدالملک ثانی کو گرفتار کر کے بخارا پر قبضہ کیا۔ اور عبد الملک ثانی کا تیسرا بھائی منتصر بھیس بدل کر بخارا سے فرار ہوا۔ اور چند روز تک قزاقوں کی ایک جمعیت کے ساتھ آوراہ رہ کر ایک شخص کے ہاتھ سے مقتول ہوا۔ اس طرح سامانی خاندان اور اس کی دولت و حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔