ایران کی اسلامی تاریخ کا اجمالی تتمہ

دولت غزنویہ

جیسا کہ اوپر مذکور ہو چکا ہے عبدالملک بن نوح نے الپتگین کو خراسان کی گورنری پر مامور کیا تھا۔ عبدالملک کے بعد جب اس کا بھائی منصور بن نوح سامانی ۳۵۰ھ میں تخت نشین ہوا تو الپتگین جو منصور بن نوح کی تخت نشینی کے خلاف رائے ظاہر کر چکا تھا۔ خراسان کے دارالامارت سے مقام غزنی میں چلا آیا جو اس زمانے میں ایک معمولی سی بستی تھی۔ یہاں الپتگین مضبوط ہو کر بیٹھ گیا۔ اور اپنی ایک خود مختار ریاست قائم کر کے حکومت کرنے لگا۔ ۳۶۷ھ میں الپتگین کا انتقال ہوا۔ تو اس کی جگہ اس کا بیٹا اسحٰق غزنی کا فرما نروا ہوا۔ مگر چند ہی ۱؎ (ایلج خان۔ ایلک خان۔ علی تگین یہ تینوں ایک یہ شخص کے نام ہیں)۔ روز کے تجربے سے وہ نااہل و نالائق ثابت ہوا۔ اور فوجی سرداروں نے اس کو معزول کر کے یا اپنی موت سے اس کے مر جانے پر سبکتگین کو جو الپتگین کا سپہ سالار اور داماد بھی تھا۔ اپنا بادشاہ بنایا۔ سبکتگین کی نسبت مشہور ہے کہ وہ الپتگین کا غلام تھا۔ مگر یہ غلامی محض اتفاقی طور پر وقوع میں آئی تھی۔ یعنی بعض ڈاکوئوں نے اس کو راستے میں تنہا پا کر گرفتار کر لیا۔ اور بخارا میں لے جا کر بطور غلام فروخت کر دیا۔ سبکتگین کا سلسلہ نسب ایران کے بادشاہ یزدجرد تک پہنچتا ہے۔ یعنی سبکتگین بن جوق قرایحکم بن قرا ارسلان بن قرا ملت بن قرا نعمان بن فیروز بن یزدجرد۔ لیکن اس شجرہ نسب کی صحت کا ثبوت بہم پہنچانا دشوار ہے۔ بعض مؤرخین نے سبکتگین کو ترک بتایا ہے۔ بعض کا بیان یہ ہے کہ وہ باپ کی طرف سے ترک اور ماں کی طرف سے ایرانی تھا۔ بہر حال اس میں شک نہیں کہ وہ حسب و نسب کے اعتبار سے ایک شریف آدمی تھا۔ ایشیائی دستور کے موافق کسی بادشاہ کے امیر و سردار اور بڑے بڑے اہل کار اپنے آپ کو بادشاہ کا غلام کہنے میں اپنی بے عزتی نہیں سمجھتے اس لیے ممکن ہے کہ الپتگین کی فوج کا سپہ سالار ہونے کی وجہ سے سبکتگین نے اپنے آپ کو الپتگین کا غلام کہا ہو۔ (ملکم صاحب کا یہی خیال ہے) سبکتگین نے قریباً بیس سال غزنی کے تخت پر حکومت کی شہر بست کو فتح کیا جو غزنی سے کئی سو میل کے فاصلے پر دریائے ہیر مند کے دونوں کناروں پر آباد ہے۔ ہرات کی جنگ میں کامیابی حاصل کی۔ پنجاب و سندھ کے راجہ جے پال نے اس کے ملک پر فوج کشی کی تو اس کو شکست فاش دے کر گرفتار و اسیر کیا اور خراج کے وعدے پر رہا کر دیا۔ جے پال نے بد عہدی کی اور دوبارہ تین لاکھ کے لشکر جرار سے سبکتگین کے ملک پر حملہ آور ہوا۔ مگر سبکتگین نے صرف چند ہزار سپاہیوں کی مدد سے اس کا مقابلہ کیا۔ اور اس مرتبہ بھی اس کو شکست دے کر گرفتار کر لیا۔ اور پھر اس سے اقرار اطاعت لے کر چھوڑ دیا۔ (جے پال کی لڑائیوں کا حال تاریخ ہندوستان میں مفصل لکھا جائے گا) نوح بن منصور نے اس کو ناصر الدین کا خطاب عطا کیا۔ اور اس کے بیٹے محمود کو سیف الدولہ کے خطاب سے مخاطب فرمایا۔ سبکتگین نے غزنی کی سلطنت کو بہت وسیع کیا۔ اور ۳۸۷ھ میں اس جہان فانی سے کوچ کر گیا سبکتگین کے بعد اس کا بیٹا امیر اسمٰعیل بلخ میں تخت نشین ہوا۔ مگر چھ مہینے کے بعد اپنے بھائی محمود بن سبکتگین سے لڑ کر مغلوب و معزول ہوا۔ ۳۸۷ھ میں محمود بن سبکتگین غزنی کے تخت پر بیٹھا۔ خلیفہ قادر باللہ عباسی نے اس کو یمین الدولہ اور امین الملت کا خطاب عطا فرمایا تھا۔ محمود غزنوی نے تخت نشین ہوتے ہی نہایت قابلیت کے ساتھ مہمات سلطنت کو انجام دینا شروع کیا۔ لوگوں نے عبدالملک سامانی بادشاہ بخارا کو محمود کے خلاف فوج کشی پر آمادہ کیا۔ محمود نے مجبوراً مقابلہ کیا۔ اور عبدالملک شکست کھا کر بخارا کی طرف بھاگا۔ بخارا پر ایلج خان یا ایلک خان بادشاہ کا شغر نے حملہ کر کے قبضہ کیا عبدالملک سامانی قید ہوا۔ محمود غزنوی نے ایلج خان بن بغرا خان پر حملہ کر کے اس کو بخارا سے بھگا دیا اور بخارا کو اپنی حدود مملکت میں داخل کیا۔ اس کے بعد مغلوں کے سردار طغا خان بن التو خان کو شکست دے کر اپنی سلطنت کے حدود کو بحر کا سپین (بحیرہ اخضر) تک پہنچا دیا۔ ولایت خوارزم پر بھی قبضہ کیا۔ سیستان و خراسان کے علاقے سبکتگین کے زمانے سے سلطنت غزنی میں شامل تھے۔ مجد الدولہ دیلمی کو مغلوب و اسیر کر کے رے اور اصفہان کی ولایتوں پر بھی قبضہ کیا۔ ادھر ہندوستان پر بھی اس کو مجبوراً بہت سے حملے کرنے پڑے۔ جن کی اصل حقیقت اور تفصیلی کیفیت تاریخ ہند میں لکھی جائے گی۔ غرضیکہ محمود غزنوی نے بہت جلد دریائے ستلج سے لے کر بحیرہ کا سپین تک اور ماوراء النہر سے لے کر بلوچستان و عراق تک ایک نہایت وسیع سلطنت قائم کر لی۔ محمود غزنوی براعظم ایشیاء کے نہایت نامور اور زبردست بادشاہوں میں شمار ہوتا ہے اس کے زمانے میں فارسی زبان کو خاص طور پر رونق حاصل ہوئی۔ عربی زبانوں کی ترویج و اشاعت میں جو مرتبہ حجاج بن یوسف ثقفی کو حاصل ہے۔ وہی مرتبہ فارسی زبان کی ترویج و اشاعت میں محمود غزنوی کو حاصل ہے۔ محمود غزنوی نہایت سچا پکا مسلمان۔ بے تعصب اور علم دوست شخص تھا۔ لیکن تعجب ہے کہ بعض اغراض خاص یا موجودہ حکومت و سلطنت کی مصلحتوں نے اس کو ہمارے زمانے میں مذموم متعصب لالچی۔ ظالم۔ سفاک اور ہندوئوں کا دشمن جانی مشہور کر دیا ہے۔ ان جھوٹی اور گمراہ کن باتوں کی حقیقت تاریخ ہند میں بے پردہ کی جائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ‘ اسی کے زمانے میں فردوسی نے شاہنامہ لکھا تھا۔ ۴۲۱ھ میں محمود غزنوی نے وفات پائی۔ سبکتگین اور محمود غزنوی کو دربار سامانیہ سے امیر الامرائی کا خطاب حاصل تھا۔ مگر ۳۸۹ھ میں محمود غزنوی نے اپنی خود مختاری کا اعلان کر کے عبدالملک سامانی کا نام خطبہ سے خارج کر دیا تھا اسی سال خلیفہ قادر باللہ عباسی نے اس کو یمین الدولہ کا خطاب عطا کیا تھا۔ محمود غزنوی ۹ محرم ۳۶۱ھ کو پیدا ہوا تھا۔ ساٹھ سال کی عمر میں فوت ہوا۔ محمود غزنوی اپنے زمانے میں سب سے زیادہ طاقتور مسلمان بادشاہ تھا۔ اس نے اپنی اسی وسیع سلطنت کا اپنے دونوں بیٹوں کے لیے وہی انتظام کیا تھا۔ جو خلیفہ ہارون الرشید عباسی نے اپنے دونوں بیٹوں امین و مامون کے لیے کیا تھا۔ محمود غزنوی کے دونوں بیٹے بھی اسی طرح آپس میں لڑے جیسے کہ امین و مامون لڑے تھے۔ مگر جس طرح مامون الرشید اپنے بھائی امین الرشید پر غلبہ پا کر شوکت سلطنت کو باقی رکھ سکا۔ محمود کا بیٹا مسعود اپنے بھائی محمد پر غالب ہو کر سلطنت کی عظمت و شوکت کو باقی نہ رکھ سکا۔ محمود غزنوی نے ماوراء النہر‘ خراسان غزنی پنجاب وغیرہ کی حکومت اپنے چھوٹے بیٹے محمد کو دی تھی اور خوارزم۔ عراق‘ فارس اصفہان وغیرہ ممالک بڑے بیٹے مسعود کو دیئے تھے۔ محمود کے فوت ہوتے ہی دونوں بھائیوں میں جھگڑا شروع ہوا۔ محمد غزنی کے تخت پر بیٹھا۔ اور مسعود نے رے میں جلوس کیا۔ اول اس بات پر نزاع شروع ہوا کہ مسعود بڑا بھائی ہونے کی وجہ سے خواہان تھا کہ میرا نام خطبہ میں محمد سے پہلے لیا جائے۔ محمد کہتا تھا کہ میں باپ کے تخت پر بیٹھا ہوں۔ میرا نام تمام ممالک میں خطبہ کے اندر مسعود سے پہلے پڑھا جائے۔ یہ تو صرف بہانہ تھا۔ دونوں بھائی ایک دوسرے کو زیر کرنے پر آمادہ تھے۔ آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ مسعود نے حملہ کر کے غزنی کو فتح اور اپنے بھائی محمد کو قید کر لیا۔ قید کرنے کے بعد محمد کی دونوں آنکھوں کو بے بصارت کیا گیا۔ تخت غزنی پر جلوس کر کے سلطان مسعود نے بلوچستان و مکران پر حملہ کر کے اس علاقے کو بھی اپنی حکومت میں شامل کر لیا۔ کسی سلطنت میں جب دو شہزادے تخت کے لیے لڑا کرتے ہیں تو ضرور سلطنت کے ہر حصے میں سرکش اور باغی طاقتیں پیدا ہو جایا کرتی ہیں۔ چنانچہ محمد بن محمود کے اندھا ہونے کے بعد سلطان مسعود بن محمود کو اس وسیع اور عظیم الشان سلطنت کا سنبھالنا دشوار ہو گیا سلجوقی ترکوں نے بتدریج ترقی پا کر خوارزم کے علاقے میں لوٹ مار شروع کر دی ادھر ہندوستان و پنچاب میں بھی یہاں کے بعض صوبہ داروں نے تمرد و سرکشی پر کمر باندھی۔ اور یک لخت حکومت کا شیرازہ بکھرنے لگا۔ سلطان مسعود نے بڑی ہمت اور استقلال سے کام لیا۔ خوارزم و خراسان میں سلجوقیوں کو متواتر شکستیں دیں اور انہی حالات میں موقعہ نکال کر ہندوستان پر بھی حملہ آور ہوا۔ اور سرستی و ہانسی کے زبردست قلعوں کو فتح کر کے مسمار کیا۔ ہندوستان سے فوراً غزنی کی طرف واپس گیا۔ تو دیکھا کہ سلجوقی پہلے سے بھی زیادہ تعداد کے ساتھ بر سر مقابلہ ہیں۔ مسعود نے ان کو ہر مرتبہ شکست دی لیکن وہ بھی ہر مرتبہ پھر سنبھل سنبھل کر اور لوٹ لوٹ کر مقابلے پر آتے رہے۔ سلطان مسعود کی فوج میں ہندئوں کی بہت بڑی تعداد بھرتی ہو گئی تھی۔ اور کئی ہندو اس کی فوج میں سپہ سالاری کے عہدے پر فائز تھے جن کے ماتحت بہت سی ہندو پلٹنیں اور ہندو رسالے تھے۔ مسعود کو ہندئوں کی فوجیں تیار کرنے اور ان کو فوجی تعلیم دے کر شائستہ بنانے کا خاص شوق تھا۔ چنانچہ اس نے کئی ہندو سرداروں کو محض اس لیے ہندوستان بھیجا کہ وہ ہندوستان سے اپنے بھائی بندوں کو فوج میں بھرتی کر کے لائیں۔ جب ہندوستان کے ہندو سپاہی غزنی پہنچے تو مسعود نے ایرانیوں اور افغانیوں سے زیادہ ان کی تنخواہیں مقرر کیں۔ اور ایک شخص مسمی تلک کو امیر الامرائی اور مہاراجگی کا خطاب دے کر سپہ سالار اعظم بنایا۔ یہ مہاراجہ تلک ایک ہندو حجام کا لڑکا تھا۔ لہٰذا اس کے مرتبہ کو سب سے زیادہ رفیع دیکھ کر اکثر امرائے دربار سلطان مسعود سے بد دل ہو گئے۔ اور انہوں نے حرف شکایت زبان پر لانا شروع کیا۔ سلطان مسعود کی اس ہندو نوازی پر اس لیے اور بھی سب کو تعجب تھا کہ مکران کی لڑائی میں ہندو پلٹنوں نے سخت بزدلی اور نامردی دکھائی تھی۔ اور اس امتحان کے بعد ہرگز کسی کو توقع نہ تھی کہ سلطان مسعود اس طرح ہندئوں کا گرویدہ ہو جائے گا آخر خراسان کے ایک جنگل میں سلجوقیوں سے جب معرکہ آرائی ہوئی تو ان ہندو سپاہیوں نے سب سے پہلے فرار کی عار گوارا کر کے سلطان مسعود اور اس کی افغانی فوج کو خطرہ اور ہلاکت میں مبتلا کر دیا۔ چند جان نثاروں کی پامردی سے سلطان مسعود اپنی جان تو بچا لایا۔ مگر شکست فاش کی ندامت اپنے ہمراہ لایا۔ اس شکست کے بعد سلطان مسعود پر کچھ ایسی بد دلی اور کم ہمتی طاری ہوئی کہ اس نے اپنے وزیر اور اپنے بیٹے مودود کو غزنین میں چھوڑ کر اور تمام اموال و خزائن اونٹوں ہاتھیوں چھکڑوں اور آدمیوں پر لدوا کر اور ہمراہ لے کر ہندو سرداروں کے ساتھ اس ارادے سے ہندوستان کی طرف روانہ ہوا کہ لاہور کو دارالسلطنت بنائوں گا۔ اور وہیں قیام کروں گا۔ چونکہ سلطان مسعود نے اپنا یہ ارادہ پہلے ہی غزنین میں ظاہر کر دیا تھا۔ لہٰذا وہاں کے سرداروں اور امیروں نے سلطان کو اس ارادے سے باز رکھنے کی بے حد کوشش کی اور سمجھایا کہ اس شکست کا تدارک انشاء اللہ تعالیٰ بہت جلد ہو جائے گا۔ اور ہم سلجوقیوں کو مار کر خراسان سے بھگا دیں گے۔ اپنے باپ کے دارالحکومت کو آپ نہ چھوڑیں۔ مگر مسعود پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اور غزنین کے خزانے میں جھاڑو دے کر اور تمام جواہرات‘ نقدی‘ زیور حتیٰ کہ ظروف اور قیمتی کپڑے تک بھی سب کے سب لے کر غزنین سے چل دیا۔ اور اپنے بیٹے مودود کو جو ان دنوں بلخ و بدخشان کی طرف تھا خط لکھ کر بھیج دیا کہ میں تم کو غرنین و خراسان وغیرہ کا حاکم مقرر کرتا ہوں اور میرے پاس سے تمہارے نام احکام و فرامین اور مناسب ہدایات پہنچتی رہیں گی۔ ان پر عمل کرنا اور ترکوں سے ملک کو پاک کرنے کی کوشش میں مصروف رہنا یہاں تک کہ مع سامان جب دریائے سندھ کو عبور کیا تو اس طرف آتے ہی ہندو پلٹنوں اور ہندو سرداروں نے جو ہمراہ تھے۔ آنکھیں بدلیں اور سب کے سب شاہی خزانہ پر ٹوٹ پڑے۔ وہ تمام خزانہ جو سبکتگین اور محمود غزنوی نے چالیس پچاس سال کے عرصہ میں جمع کیا تھا۔ ذرا سی دیر میں دریائے سندھ کے کنارے ہندئووں نے لوٹ لیا اور سلطان مسعود کو مسلمانوں کی مختصر سی جماعت کے ساتھ چھوڑ کر منتشر ہو گئے۔ اس دل شکن اور روح فرسا نظارہ کو دیکھ کر مسلمانوں کی اس مختصر جمعیت نے سلطان مسعود کو اس کے اختلال دماغی کے سبب معزول کر دیا۔ اور اس کے بھائی محمد کو جو نابینا اور اس سفر میں مسعود کے ہمراہ قید کی حالت میں تھا آزاد کر کے اپنا بادشاہ بنایا۔ محمد کے بادشاہ ہونے کا حال سن کر ہندو فوج کے بہت سے آدمی پھر محمد کے گرد آ کر جمع ہو گئے۔ کیونکہ ان کو اب اس بات کا خوف نہ تھا کہ مسعود ہم سے انتقام لے سکے گا۔ مسعود جب گرفتار ہو کر محمد کے سامنے پیش کیا گیا تو محمد نے بھائی سے اپنی آنکھوں کا بدلہ نہیں لیا۔ بلکہ صرف یہ دریافت کیا کہ تم اپنے لیے اب کیا پسند کرتے ہو۔ مسعود نے کہا کہ مجھ کو قلعہ کری میں رہنے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ محمد نے اس کو قلعہ کری میں مع اہل و عیال بھجوا دیا۔ اور اپنے نام کا سکہ خطہ پنجاب اور سرحدی علاقے میں جاری کیا۔ محمد کے بیٹے احمد نے باپ کی اجازت و اطلاع کے بغیر قلعہ کری میں جا کر اپنے چچا مسعود سے اپنے والد کی آنکھوں کا بدلہ اس طرح لیا کہ اس کو قتل کر دیا۔ یہ حال سن کر محمد کو ملال ہوا اور اپنے بھتیجے مودود کے پاس جو بلخ میں تھا۔ پیغام بھیجا کہ تیرے باپ مسعود کو میں نے اپنے حکم سے قتل نہیں کرایا۔ بلکہ احمد نے میرے منشا کے خلاف یہ ناشائستہ حرکت کی ہے۔ مودود جو بلخ میں سلجوقیوں کے خلاف مہم تیار کر رہا تھا۔ اس خبر کو سنتے ہی فوج لے کر چلا ادھر سے دریائے سندھ کے کنارے محمد کی فوج نے اس کو روکا لڑائی ہوئی۔ جس میں مودود کو فتح ہوئی۔ اور محمد اور اس کے تمام اہل و عیال کو مودود نے گرفتار کر کے اپنے باپ کے انتقام میں قتل کیا۔ اس کے بعد مودود غزنین جا کر ۳۳۵ھ میں تخت نشین ہوا۔ مودود بھی اپنے باپ مسعود کی طرح سلجوقیوں سے بہت سی لڑائیاں لڑا مگر آخر کار مجبور ہو کر اس نے مارواء النہر غزنی اور ہندوستان کی حکومت پر اکتفا کیا۔ باقی تمام ممالک یعنی خراسان و خوارزم و عراق وغیرہ ہمیشہ کے لیے سلطنت غزنی سے نکل گئے اور سلجوقی ان ملکوں کے بادشاہ بن گئے۔ ۴۴۱ھ میں مودود بن مسعود نے وفات پائی اور اس کی جگہ اس کا بیٹا علی تخت نشین ہوا ۴۴۳ھ میں علی کے بعد عبدالرشید بن مودود تخت نشین ہوا۔ مگر چند ہی روز کے بعد ایک سردار طغرل نامی نے عبدالرشید کو قتل کر کے تاج شاہی اپنے سر پر رکھا۔ مگر امرائے سلطنت نے بہت جلد متفق ہو کر طغرل کو قتل کیا۔ اور ۴۴۴ھ میں فرخ زاد بن مسعود کو غزنی کے تخت سلطنت پر بٹھایا۔ فرخ زاد نے تخت نشین ہو کر ہمت و قابلیت کا اظہار کیا۔ اور لشکر فراہم کر کے خراسان کو سلجوقیوں کے قبضے سے نکالنے کی کوشش کی۔ ابتداء کئی لڑائیوں میں فرخ زاد کو سلجوقیوں پر فتح حاصل ہوئی مگر آخر جب الپ ارسلان سلجوقی سے مقابلہ ہوا۔ تو غزنی کے لشکر کو شکست ہوئی اور خراسان کے ملک پر فرخ زاد کو قبضہ حاصل نہ ہو سکا۔ ۴۵۰ھ میں فراخ زاد کے بعد اس کا بھائی ابراہیم بن مسعود تخت نشین ہوا۔ سلطان ابراہیم غزنوی بڑا نیک۔ عابد۔ بہادر اور عقل مند شخص تھا۔ اس نے تخت نشین ہو کر یہی مناسب سمجھا کہ سلجوقیوں کے ساتھ صلح کر لی جائے۔ چنانچہ سلجوقیوں نے نہایت خوشی کے ساتھ صلح کر لی‘ اس صلح کے بعد وہ اپنے آپ کو خراسان کا جائز حکمران سمجھنے لگے۔ اور آئندہ کے لیے غزنویوں اور سلجوقیوں کے درمیان جنگ و پیکار کا سلسلہ بند ہوا۔ اس طرف سے مطمئن ہو کر سلطان ابراہیم نے ہندوستان کی طرف توجہ کی ۔ اب تک غزنی کے سلاطین چونکہ اپنے مقامی جھگڑوں اور سلجوقیوں کی لڑائیوں میں مصروف تھے لہٰذا عرصہ سے ہندوستان کی طرف توجہ نہیں ہو سکی تھی۔ اس عرصہ میں ہندوستان کے اکثر سردار اور راجے خود مختار ہو کر باج و خراج کی ادائیگی سے گریز کرنے لگے تھے۔ سلطان ابراہیم نے ہندوستان کے سرکشوں پر متعدد حملے کیے اور اس طرف اپنی حکومت کو خوب مضبوط و مستقل بنایا۔ سلطان ابراہیم نے ۴۲ یا ۴۳ سال حکومت کی اور ۴۹۳ھ میں وفات پائی۔ اس کے بعد مسعود بن ابراہیم تخت نشین ہوا۔ اور ۱۶ سال حکمران رہ کر ۵۰۹ھ میں فوت ہوا مسعود بن ابراہیم نے کچھ عرصہ کے لیے لاہور کو بھی اپنا دارالسلطنت بنایا تھا۔ مسعود کے بعد اس کا بیٹا ارسلان تخت نشین ہوا۔ اور تین سال تک حکومت کی ۵۱۲ھ میں سلطان سنجر سلجوقی نے غزنین کو فتح کر کے ارسلان کے بھائی بہرام بن مسعود بن ابراہیم کو غزنی کے تخت پر بٹھایا۔ بہرام نے ۳۵ سال سے زیادہ عرصہ تک حکومت کی ہندوستان پر اس نے بھی باغیوں کی گوشمالی کے لیے متعدد حملے کیے۔ اور لاہور میں اکثر مقیم رہا۔ اسی کے عہد حکومت میں کتاب کلیلہ دمنہ۱؎ لکھی گئی۔ خمسہ نظامی بھی اسی کے عہد کی تصنیف ہے۔ سلطان بہرام کے آخر عہد میں غوریوں نے غزنی پر حملہ کر کے بہرام کو غزنین سے بے دخل کر دیا۔ وہ بھاگ کر ہندوستان کی طرف چلا آیا اور لاہور میں ۵۴۷ھ میں فوت ہوا۔ اب غزنویوں کے قبضہ میں صرف ہندوستان یعنی پنجاب کا ملک رہ گیا تھا۔ غزنین وغیرہ پر غوریوں کی حکومت قائم ہو گئی۔ بہرام کی وفات کے بعد لاہور میں اس کا بیٹا خسرو شاہ تخت نشین ہوا۔ اس نے غزنین کو غوریوں کے قبضے سے نکالنے اور واپس لینے کی کوشش کی۔ مگر اس کوشش میں کامیاب نہ ہو سکا آخر آٹھ سال پنجاب پر حکومت کرنے کے بعد لاہور میں فوت ہوا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا خسرو ملک بن خسرو شاہ ۵۵۵ھ میں مقام لاہور تخت نشین ہوا خسرو ملک کو غوریوں نے گرفتار کر کے پنجاب پر بھی قبضہ کر لیا۔ اس طرح دولت غزنویہ کا خاتمہ ہو کر اس کا صرف افسانہ باقی رہ گیا۔