ایران کی اسلامی تاریخ کا اجمالی تتمہ
دولت خوارزم شاہیہ
ملک شاہ سلجوقی کا ایک ترکی غلام جس کا نام نوشتگین تھا۔ اس کا بیٹا قطب الدین بن نوشتگین اسی طرح سلطان سنجر کی خدمت میں رسوخ رکھتا تھا۔ سلطان سنجر سلجوقی نے اپنے نوکر قطب الدین مذکورہ کو خوارزم کا حاکم مقرر کیا۔ یہ قطب الدین جب کبھی سلطان سنجر کی خدمت میں حاضر ہوتا تو اپنے اسی شاہانہ لباس میں خدمت گاری کے تمام کام حسب دستور سابق انجام دیتا۔ یہ عرصہ دراز تک علاقہ خوارزم کا حاکم رہا۔ اور خوارزم کی مناسبت سے خوارزم شاہ مشہور ہوا۔ اس کے بعد اس کی اولاد بھی اسی نام سے مشہور ہوئی اور اس خاندان کے تمام فرماں روا خوارزم شاہی فرماں روا کہلائے۔ ابتداء یہ سلطان سنجر کا فرماں بردار رہا۔ لیکن جب سلطان سنجر کے اقبال کو زوال ہوا اور وہ ترکان غز کے ہاتھ میں گرفتار ہو گیا۔ تو اس نے اپنی خود مختاری کا اعلان کیا۔ اور ماوراء النہر کے علاقے پر بھی چڑھائی کی۔ رشید الدین و طواط مشہور شاعر اس کے دربار میں رہتا تھا۔ جس طرح کے انوری سلطان سنجر سلجوقی کا درباری شاعر تھا۔
اس کے بعد اس کا بیٹا اتسز خوارزم شاہ تخت نشین ہوا۔ اس نے رشید الدین و طواط کو اپنے دار الانشاء کا حاکم اعلیٰ مقرر کیا تھا۔
۵۴۰ھ کے قریب اتسز فوت ہوا تو اس کی جگہ اس کا بیٹا ارسلان شاہ ۵۵۷ھ میں تخت نشین ہوا۔ اس میں اور اس کے بھائی تکش خان میں عرصہ دراز تک لڑائیاں ہوتی رہیں آخر تکش خان نے غالب ہو کر ۵۸۳ھ میں تاج شاہی اپنے سر پر رکھا۔ اسمٰعیل بن حسن مصنف ذخیرہ خوارزم شاہی اور خاقانی شاعر اسی کے عہد میں ہوئے۔ اسی نے طغرل ثالث سلجوقی کو قتل کیا اور خراسان و عراق پر قابض ہو کر اپنی سلطنت کو بڑھایا۔
اس نے جب وفات پائی تو اس کی جگہ اس کا بیٹا سلطان محمد خوارزم شاہ ۵۹۰ھ میں تخت نشین ہوا۔ اس نے قریباً اکیس سال حکومت کی‘ اس نے اپنی حدود حکومت کو بہت وسیع کیا۔ اس کے اور خلیفہ بغداد کے درمیان کچھ بے لطفی ہو گئی تھی۔ شہاب الدین غوری کی وفات کے بعد غور و غزنی تک اس کی حکومت کا ڈنکا بجنے لگا تھا۔ فارس کے بادشاہ اتابک سعد آدز بائیجان کے بادشاہ اتابک ازبک کو بھی اس نے شکست دی۔ اور خلیفہ بغداد سے سرتابی کر کے بغداد کی طرف ایک جرار فوج لے کر چلا۔ تاکہ خلیفہ کو معزول کر کے اس کی جگہ سید علاء الملک ترمذی اپنے پیر کو تخت خلافت پر بٹھائے۔ خلیفہ نے حضرت شیخ شہاب الدین سہرور دی کو اس کے پاس بھیجا کہ وہ نصیحت کر کے خوارزم شاہ کو اس ارادے سے باز رکھیں۔ اور آپس میں صلح و آشتی پیدا ہو جائے۔ مگر اس سفارت کا کوئی اثر نہ ہوا اور سلطان محمد خوارزم شاہ اپنے ارادے سے باز نہ آیا۔ آخر قدرتی رکاوٹ پیدا ہوئی اور برف باری سے سخت نقصان اٹھا کر خوارزم شاہ کو عراق سے واپس ہونا پڑا۔ ابھی یہ عراق ہی میں تھا۔ کہ چنگیز خان نے اس کے ملک پر حملہ کیا۔ چنگیز خان کے حالات میں اوپر مفصل کیفیت اس حملہ کی گذر چکی ہے۔
سلطان محمد خوارزم شاہ اپنے زمانے میں بہت زبردست بادشاہ تھا۔ اس سے دور دور تک سلاطین ڈرتے تھے۔ اور تمام دنیا میں اس کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ مگر اس برف باری کے واقعہ سے اس کے اقبال و دولت میں مسلسل سرد بازاری نے ایسا دخل پایا کہ وہ دم بہ دم بربادی کی طرف ترقی کرتا رہا۔ آخر اس حالت میں فوت ہوا کہ اس کو کفن بھی میسر نہ ہو سکا۔
سلطان محمد خوارزم شاہ کے سات بیٹے تھے۔ جن میں سے رکن الدین‘ غیاث الدین اور جلال الدین الگ الگ صوبوں کے حاکم مقرر تھے۔ باپ کی وفات اور تباہی کے بعد یہ تینوں آپس میں متفق ہو کر چنگیز خان کا مقابلہ نہ کر سکے۔ بلکہ ان میں آپس میں بھی ناچاقی رہی اور الگ الگ انہوں نے مغلوں کے مقابلے میں ناکامی کا منہ دیکھا۔
ان میں جلال الدین خوارزم شاہ سب سے زیادہ مشہور ہے۔ اس نے سندھ کے کنارے چنگیز خان کا بڑی بہادری سے مقابلہ کیا مگر مفید نتیجہ نہ نکلا۔ ہندوستان کی حدود میں داخل ہو کر اور چند روز سندھ میں رہ کر پھر واپس چلا گیا۔ اور واپسی میں الموت کے ملا حدہ یعنی فدائیوں کا بہت کچھ زور توڑتا گیا۔ ایک طرف مغلوں سے لڑا دوسری طرف فرنگیوں یعنی رومیوں سے بھی خوب لڑا۔ عراق میں اس نے فتوحات حاصل کیں۔ مگر حالات کچھ ایسے ناموافق تھے۔ کہ اپنی کھوئی ہوئی سلطنت کو دوبارہ قائم نہ کر سکا۔ اور گمنامی کے عالم میں مارا گیا۔ یا فقیری لباس میں روپوش ہو گیا۔ مؤرخین نے جلال الدین خوارزم شاہ کا ذکر اس لیے محبت و عزت کے ساتھ کیا ہے کہ وہ ایک بہادر شخص تھا۔ اور متعدد مقامات پر اس نے اپنی بہادری کا ثبوت پیش کر کے اپنے آپ کو مستحق ستائش بنا لیا تھا۔ اسی پر خاندان خوارزم شاہیہ کا خاتمہ ہو گیا۔