ایران کی اسلامی تاریخ کا اجمالی تتمہ
دولت غوریہ
ہرات کے مشرقی کوہستان میں غور ایک وسیع خطہ کا نام ہے۔ محمود غزنوی نے اس علاقے کو فتح کر کے اپنی سلطنت کا ایک صوبہ بنا لیا تھا۔ غور کے باشندوں نے دوسری صدی ہجری کے شروع میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ اور یہاں سب افغانی قومیں آباد تھیں۔ محمود غزنوی نے غور کی صوبہ داری پر انہی افغانوں کے ایک شریف شخص کو مامور فرما دیا تھا۔ جس کے خاندان میں غور کی حکومت بطور صوبہ داری چلی آتی تھی۔ اتفاقاً سلطان بہرام غزنوی اور غور کے حاکم قطب الدین میں کسی بات پر ناچاقی پیدا ہوئی۔ اور نوبت جنگ و پیکار تک پہنچی۔ اس لڑائی میں قطب الدین غوری مارا گیا۔ قطب الدین غوری کے بھائی سیف الدین نے اپنے بھائی کے انتقام میں غزنوی پر فوج کشی کر کے بہرام غزنوی کو غزنی سے نکال دیا۔ اور خود تخت غزنی پر متصرف ہوا۔ بہرام غزنوی نے اطراف ملک سے امداد حاصل کر کے غزنی پر حملہ کیا اور سیف الدین کو گرفتار کر کے نہایت بیدردی اور سخت اذتیوں کے ساتھ قتل کیا۔
اس کا حال جب تیسرے بھائی علائو الدین غوری کو معلوم ہوا تو وہ اپنے دونوں مقتول بھائیوں کے خون کا بدلہ لینے کے لیے غزنی پر حملہ آور ہوا۔ علائو الدین غوری اور اس کے ہم وطن نہایت جوش و خروش کے ساتھ غزنی کی طرف بڑھے تو بہرام غزنوی نے ان کو زرو جواہر کا لالچ دے کر واپس کرنا چاہا۔ اور صلح و آشتی کی تمہید ڈالی۔ لیکن علائو الدین غوری اور اس کے ہمرائیوں کو جب یہ خیال آتا تھا۔ کہ سیف الدین کو کس بیل پر سوار کر کے غزنی کے گلی کوچوں میں تشہیر کیا گیا تھا۔ اور نہایت ظالمانہ طور پر اس کی جان نکالی گئی تھی۔ تو وہ غیظ و غضب اور جوش انتقام میں دیوانے ہو جاتے تھے۔ اسی لیے بہرام کی تدبیر صلح کارگرنہ ہوئی۔ علائو الدین نے غزنی کو فتح کر لیا۔ اور بہرام غزنوی ہندوستان کی طرف بھاگ آیا۔ علائو الدین غوری نے اپنے بھائی کے انتقام میں باشندگان غزنی کا قتل عام کیا۔ سلاطین غزنی کے بعض مقبروں کو مسمار کیا۔ مکانوں کو آگ لگا دی اور ایک ہفتہ تک اس قتل و خون ریزی کے سلسلے کو جاری رکھا جس کی وجہ سے وہ علائو الدین جہان سوز کے نام سے مشہور ہوا۔ غزنی کے بہت سے لوگوں کو گرفتار کر کے لے گیا۔ اور وہاں ان کو قتل کر کے ان کے خون سے گارا بنوا کر شہر پناہ کی تعمیر میں استعمال کیا۔ یہ واقعہ ۵۴۷ھ کا ہے۔ علائو الدین جہاں سوز غوری نے غزنی کی فتح کے بعد غزنی میں اپنا ایک نائب السلطنت مقرر کیا۔ اور خود غور کی جانب اپنے دارالحکومت فیروز کوہ کی جانب چلا گیا۔ اس طرح غزنی غور کی سلطنت کا ایک صوبہ بن گیا۔ بہرام غزنوی چونکہ سلطان سنجر سلجوقی کی سیادت کو تسلیم کر چکا تھا۔ لہٰذا اس نے ہندوستان سے سلطان سنجر سلجوقی کے پاس فریاد نامے بھیجے سلطان سنجر سلجوقی نے دوسرے سال حملہ کر کے غور و غزنی کو فتح کر کے بہرام غزنوی کو پھر اپنی طرف سے غزنی پر قابض کر دیا۔ اور علائو الدین جہاں سوز غوری کو گرفتار کر کے اپنے ہمراہ لے گیا علائو الدین غوری نے غزنی کی تباہی میں جو کچھ کیا جوش انتقام سے کیا۔ ورنہ وہ بہت سمجھ دار۔ دور اندیش اور قابل شخص تھا۔ چنانچہ چند ہی روز کے بعد سلطان سنجر نے علائو الدین کی قابلتیوں سے واقف اور خوش ہو کر اس کو رہا کر دیا۔ اور وہ اپنے وطن غور میں آ کر پھر حکومت کرنے لگا۔ اس کے بعد ہی ترکان غز نے سلطان سنجر کو گرفتار کر لیا۔ اور سلجوقیوں کا رعب و اقتدار کم ہوا۔ سلطان سنجر سلجوقی چار سال تک ترکان غز کی قید میں رہا۔ یہ قید اسی قسم کی تھی۔ جیسے کہ ہندوستان کا بادشاہ جہانگیر مہابت خان کی قید میں تھا۔ یعنی ترکان غزون کے وقت سلطان سنجر کو تخت پر بٹھاتے اور اس کے سامنے مؤدبانہ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے۔ اور رات کے وقت اس کو ایک آہنی قفس میں بند کر دیتے۔ سلطان سنجر ہی کو اپنا بادشاہ اور سلطان مانتے اور جہاں چاہتے اپنے ساتھ اس کو لیے پھرتے تھے۔ سلطان سنجر کے قید ہونے کے بعد علائو الدین غوری نے بہرام غزنوی کو بے دخل کر کے غزنی پر بھی قبضہ کر لیا۔ اور چند روز کے بعد اپنی موت سے مر گیا۔
علائو الدین غوری کو دولت غوریہ کا پہلا خود مختار سمجھنا چاہیے اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا سیف الدین ثانی غور کے تخت پر بیٹھا اور ڈیڑھ سال کے قریب حکومت کر کے ترکان غز کی ایک لڑائی میں اپنے ہی ایک سردار کے ہاتھ سے مارا گیا۔
اس کے بعد علائو الدین غوری کا بھتیجا غیاث الدین غوری تخت نشین ہوا۔ اس کا ایک بھائی شہاب الدین غوری تھا۔ وہ بھی اپنے بھائی کے ساتھ اسی طرح حکومت و سلطنت میں شریک تھا۔ جس طرح طغرل بیگ سلجوقی اور چغر بیگ سلجوقی دونوں بھائی مل کر حکومت کرتے تھے۔ غیاث الدین و شہاب الدین دونوں بڑے اتفاق و محبت سے رہتے تھے۔ اور دونوں بادشاہ سمجھے جاتے تھے۔ شہاب الدین غوری اپنے بڑے بھائی غیاث الدین غوری کو اپنا آقا سمجھتا اور اس کے ہر ایک منشاء کو پورا کرنا اپنا فرض جانتا تھا۔ خراسان کے ملک کا اکثر حصہ اپنی حکومت میں شامل کرنے کے بعد غوریوں نے ہندوستان کی طرف توجہ کی۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو سلطنت غزنوی کا جانشین سمجھتے اور جس قدر ملک سلطان محمود غزنوی کے قبضے میں تھا۔ اس تمام ملک کو قبضہ میں لانا اپنا جائز حق سمجھتے تھے۔ پنجاب میں بہرام غزنوی کی اولاد حکمران تھی۔ چنانچہ اس سے پنجاب کا ملک چھین لینا انہوں نے ضروری سمجھا اور شہاب الدین غوری نے ۵۸۲ھ میں خسر و ملک غزنوی کو لاہور سے گرفتار کر کے اپنے بھائی غیاث الدین غوری کے پاس غور کی طرف بھیج دیا۔ اور خود دارالسلطنت لاہور پر قابض و متصرف ہوا۔
۵۹۹ھ میں غیاث الدین غوری کا انتقال ہوا اور اس کی جگہ اس کا بھائی شہاب الدین غوری فیروز کوہ میں تخت نشین ہوا۔ غیاث الدین غوری کے عہد حیات میں شہاب الدین غوری ہندوستان کے راجہ پرتھوی راج کو شکست دے کر اور گرفتار کر کے قتل کر چکا تھا۔ اب جب کہ وہ فیروز کوہ میں غور کے تخت پر بیٹھا تو ہندوستان میں اس کی طرف سے اس کا بیٹا غلام قطب الدین ایبک فرماں روا تھا۔ اپنی بادشاہت کے زمانے میں سلطان شہاب الدین غوری ایک مرتبہ ہندوستان آیا ہوا تھا۔ یہاں سے واپس غور کی طرف جا رہا تھا۔ کہ ۶۰۲ھ میں فدائیوں یا گکھڑوں کے ہاتھ سے اپنے خیمے میں رات کے وقت دھوکے سے شہید کیا گیا۔ شہاب الدین غوری کی وفات کے بعد دولت غوریہ کا شیرازہ درہم برہم ہو گیا۔ ہندوستان میں قطب الدین ایبک مستقل بادشاہ اور خاندان غلافان کی سلطنت کا بانی ہوا۔ اور فیروز کوہ کے تخت پر اس کا بھتیجا سلطان محمود غوری ابن غیاث الدین غوری متمکن ہوا۔
۶۰۷ھ میں محمود غوری بھی مقتول ہوا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا بہائو الدین تخت نشین ہوا۔ جس کو خوارزم شاہ نے قید کر لیا۔ اس کے بعد اس کے خاندان کے متوسلین نے یکے بعد دیگرے برائے نام غور میں حکومت کی اور بہت جلد اس خاندان کا خاتمہ ہو گیا۔