ایران کی اسلامی تاریخ کا اجمالی تتمہ
اتابکان شیراز
سلاطین سلجوقیہ اپنے شہزادوں کو تعلیم و تربیت اور اخلاق فاضلہ سکھانے کے لیے جن اتالیقوں کے سپرد کرتے تھے۔ وہ اتابک کہلاتے تھے۔ رفتہ رفتہ ان اتالیقوں یا اتابکوں کو وزارت اور ملکوں کی حکومت ملنے لگی اور خاندان سلجوقیہ کے کمزور ہونے پر ان اتابکوں نے مختلف ملکوں اور صوبوں میں اپنی خود مختار حکومتیں قائم کر لیں۔ چنانچہ ان اتابکوں کے بہت سے خاندان شام‘ عراق‘ فارس وغیرہ میں بر سر حکومت رہے اور بعض نے عالم اسلام میں بڑی ناموری حاصل کی۔ شام کے اتابکوں کا حال تو بعد میں بیان ہو گا۔ اس جگہ اتابکان شیراز کا تذکرہ ضروری ہے۔ جن کی حکومت کو دولت سلغریہ بھی کہا جاتا ہے اور جو تاریخ ایران کا ایک ضروری جزو ہے۔
سلطان سنجر سلجوقی کے عہد حکومت میں مظفر الدین سنقر بن مودود سلغری فارس کا عامل و حاکم تھا۔ سلطان سنجر کی وفات کے بعد اس نے اپنا خطاب اتابک تجویز کیا اور ملک فارس پر خود مختارانہ حکومت کرنے لگا۔ ۵۵۶ھ میں فوت ہوا۔
اس کے بعد اس کا بھائی مظفر الدین اتابک تخت نشین ہو کر ۵۷۱ھ تک فرماں روا رہا اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا تکلہ تخت نشین ہو کر بیس سال تک فرما نروائے فارس رہا۔
اس کے بعد اتابک سعد بن زنگی ۲۸ سال تک فرمانروارہ کر ۶۲۲ھ میں فوت ہوا اسی اتابک سعد کے نام پر شیخ مصلح الدین شیرازی نے اپنا تخلص سعدی رکھا۔
اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا اتابک ابوبکر بن سعد زنگی تخت نشین ہوا۔ اسی کے عہد میں ہلاکو خان کے ہاتھ سے بغداد کی تباہی عمل میں آئی۔ اس نے مغلوں کی باج گزاری اختیار کر لی تھی۔
اس کے بعد اس کا پوتا اتابک محمد تخت نشین ہوا۔ غرض ۶۶۳ھ تک یہ خاندان شیرازو فارس میں برسر حکومت اور مغلوں کا خراج گذار رہا۔ اس کے بعد مغلوں کی طرف سے وائسرائے مقرر ہو کر شیراز کی حکومت پر مامور ہوتے رہے چند روز کے بعد جب مغلوں کی حکومت میں ضعف و اختلال کے آثار نمایاں ہوئے تو شیراز میں چند روز کے لئے پھر خود مختار سلطنت قائم ہوئی۔