رومی سلطنت

سلطان بایزید خان یلدرم

بایزید خان یلدرم نے تخت نشین ہو کر اپنے باپ کی لاش کو بروصہ میں دفن کر کے ایشیائے کوچک میں چند روز تک قیام کیا اور ترکمانوں کے فسادات اور سرکشیوں کا علاج کرتا رہا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ چنگیزی مغولوں کے ضعف و انحطاط کے بعد ایشیاء میں ایک اور فاتح پیدا ہو چکا تھا جس کا نام تیمور تھا اور جس کے حالات آئندہ کسی موقعہ پر مفصل بیان ہونے والے ہیں۔ ۷۹۳ھ یعنی اپنی تخت نشینی کے دوسرے سال بایزید خان یلدرم نے سنا کہ یورپ میں ترکوں کے خلاف پھر کوشش شروع ہو رہی ہے اور سرویا و بوسنیا کے علاقوں میں سامان بغاوت پیدا ہو چکا ہے چنانچہ بایزید خان یلدرم برق و باد کی طرح یورپ میں آیا اور بوسنیا سے لے کر دریائے ڈینوب تک کا تمام علاقہ سلطنت عثمانیہ میں شامل کر کے فرات سے دریائے ڈینوب تک اپنی مملکت کو پھیلا دیا۔ والیشیا چنگیزی کا شیرازہ درہم برہم ہونے کے بعد جو چھوٹی چھوٹی ریاستیں پیدا ہو کر آپس میں مصروف پیکار تھیں انہوں نے تیمور کے لیے فتوحات کا میدان صاف کر رکھا تھا۔ بایزید خان یلدرم کی اس شوکت و عظمت اور قوت و طاقت کو دیکھ کر قسطنطنیہ کے قیصر نے بایزید خان یلدرم کو خط لکھا کہ قسطنطنیہ اور صوبہ مقدونیہ نیز یونانی مجمع الجزائر کے چھوٹے چھوٹے چند جزیرے میرے پاس باقی رہ گئے ہیں ان بچے کھچے ٹکڑوں کو آپ میرے پاس رہنے دیجیے اور مجھ کو اپنا ہوا خواہ اور مخلص تصور فرما کر میرے ساتھ پیمان صلح کو استوار رکھیے۔ بایزید خان یلدرم نے اپنی مہربانی سے قیصر کی اس درخواست کو منظور کر کے اس کو اس کے مقبوضات میں آزاد چھوڑ دیا۔ اور وسط یورپ میں آگے بڑھنے اور اپنی فتوحات بڑھانے کی طرف متوجہ ہوا۔ بایزید خان یلدرم کو اس طرح مطمئن کر کے قیصر قسطنطنیہ نے اپنی سازشی تدابیر کا جال بایزید خان یلدرم کے مخالف پھیلانا شروع کیا۔ اس نے اپنے ایلچی خفیہ طور پر ایران و خراسان اور فارس و شام و عراق وغیرہ میں بھینجے شروع کیے اور ایشیا کے مسلمان سلاطین سے مراسم اتحاد بڑھائے۔ ہمارے اس موجودہ زمانے میں تو اس قسم کی کاروائیاں فوراً ہی طشت ازبام ہو جاتی ہیں۔ لیکن اس زمانے میں بایزید خان یلدرم کے بے خبر رہنے پر ہم کو کوئی تعجب نہ ہونا چاہیے۔ ادھر قیصر قسطنطنیہ اپنی ان حفیہ ریشہ دوانیوں میں مصروف تھا۔ ادھر آرمینیا و کردستان و آذربائیجان کے مسلمان فرماں روا خود بھی اس زمانہ کی آب و ہوا کے اثر سے ایشیائے کوچک کے مغربی حصے کو دھمکی دے رہے تھے۔ آخر یہ تمام اسباب مل ملا کر باعث اس کے ہوئے کہ ترکمانوں نے ایشیائے کوچک یعنی بایزید خان یلدرم کے ایشیائی علاقہ میں پیش قدمی شروع کر دی۔ بایزید خان یلدرم اگر چاہتا تو ایران و خراسان وغیرہ کی طرف متوجہ ہو کر ایشیائے کوچک میں فتوحات عظیم حاصل کر لیتا۔ لیکن چونکہ عثمان خان اور اس کی اولاد میں دینداری بدرجہ اتم موجود تھی۔ اس لیے وہ مسلمانوں سے لڑنے اور مسلمانوں کے مقبوضہ ممالک کو اپنے قبضہ میں لانے کو اچھا نہیں جانتے تھے۔ شروع ہی سے سلطنت عثمانیہ کی حکمت عملی یہ رہی تھی کہ عیسائیوں کے خلاف جہاد کر کے جہاں تک ممکن ہو عیسائی ممالک کو فتح کیا جائے اور اسلامی تہذیب اور اسلامی مذہب کی اشاعت سے یورپ کو جواب تک مسلمانوں کے لیے باعث تکلیف بنا رہا تھا۔ شائستہ بنایا جائے۔ چنانچہ بایزید خان یلدرم بھی اپنے بزرگوں کی اسی حکمت عملی پر کار بند تھا۔ اور مسلمانوں سے لڑنے کا اس کو کوئی شوق نہ تھا۔ اب ایشیائے کوچک میں جب کہ ترکمانوں نے حملہ کر کے بروصہ و انگورہ کے درمیان بایزید خان یلدرم کی مقامی ایشیائی فوج کو شکست دے کر فتنہ عظیم برپا کر دیا تو بایزید خان مجبوراً یورپ کے عیسائیوں کو چھوڑ کر ۷۹۵ھ میں ایشیائے کوچک کی طرف روانہ ہوا۔ اور یہاں آتے ہی دشمنوں کو شکست دے دے کر گرفتار و اسیر اور قتل کیا۔ یہ فتنہ چونکہ ایشیائے کوچک کے جنوبی و مغربی علاقے کی طرف سے پیدا ہوا تھا۔ لہٰذا بایزید نے اس طرف کی ریاستوں کو اپنی سلطنت میں شامل کر کے بخوبی امن و امان قائم کیا۔ اور اسی سال مصر کے عباسی خلیفہ مستعصم باللہ بن محمدا براہیم کے پاس تحف و ہدایا بھیج کر اس سے پہلے کے عثمانی فرماں روائوں کو بھی اگرچہ مؤرخین نے سلطان ہی کے لقب سے یاد کیا ہے۔ مگر درحقیقت وہ امیر کہلاتے تھے۔ مثلاً امیر عثمان خان‘ امیر ار خان‘ امیر مراد خان وغیرہ۔ بایزید خان نے ۷۹۵ھ میں خلفائے عباسیہ کی مذہبی عظمت کو مد نظر رکھ کر جو تمام عالم اسلام میں مسلم تھی۔ عباسی خلیفہ سے خطاب حاصل کرنا ضروری سمجھا۔ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ عباسی خلیفہ مصر کے مملوک فرماں روا کی حفاظت و نگرانی میں اپنے دن بسر کر رہا ہے۔ غرض کہ بایزید خان یلدرم کو سلاطین عثمانیہ کا پہلا سلطان کہا جا سکتا ہے۔ یورپی مؤرخین کا قول ہے کہ سلطان بایزید خان یلدرم باوجود بہادر اور سپاہی منش انسان ہونے کے عثمانیوں میں سب سے پہلا فرماں روا ہے جو یورپ کی بداعمالیوں اور برے مشیروں کی صحبت سے متاثر ہو کر شراب نوشی کے جرم کا مرتکب ہوا۔ اگر یہ بیان درست ہو تو ہم کو متعجب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بایزید خان یلدرم کے آخری کارنامہ یعنی جنگ انگورہ کی ناعاقبت اندیشی کو دیکھنے سے اس کی شراب نوشی کا کچھ کچھ ثبوت بہم پہنچ جاتا ہے۔ یورپی مؤرخین سلطان بایزید خان یلدرم کو عیاشی اور بد چلنی کا مجرم بھی بتاتے ہیں۔ ہم کو اس پر بھی حیرت زدہ ہونا چاہیے کیونکہ شراب خوری اور عیاشی میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ تاہم اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ ایک فاتح سلطان کی حیثیت سے وہ بے نظیر شخص تھا۔ اور اپنی شمشیر خار اشگاف کی بدولت اس نے اپنے دشمنوں کو اپنے سامنے ترسان و لرزان اور سرنگوں رکھا تھا۔ بایزید خان یلدرم کی شراب خوری اور عیاشی کی حکایت اگر صحیح ہے تو یہ بھی عیسائی سلاطین حکمت عملیوں اور خفیہ تدبیروں کا نتیجہ تھا۔ کیونکہ سلاطین عثمانیہ کے محلوں میں عیسائی سلاطین نے شروع ہی سے اپنی شہزادیاں داخل کرنے کا سلسلہ جاری کر دیا تھا۔ بایزید خان یلدرم کے محل میں شراب کی طرف متوجہ کرنے والی عیسائی شہزادیاں موجود تھیں۔ اس کے پیشرو سلاطین اپنی مذہبی عصبیت اور ایمانی قوت کے سبب جبائل الشیاطین اور عیسائی خبیثاث کے فریب وکید سے آزاد رہے مگر بایزید خان یلدرم جو میدان جنگ میں طاقتور سے طاقتور دشمن کو خاطر میں نہ لاتا تھا اپنے محلوں کے نرم نازک حریفوں سے مغلوب ہو گیا۔ بایزید خان یلدرم ۷۹۵ھ سے ۷۹۹ھ تک اپنی پرانی دارالسلطنت ایڈریا نوپل اور یورپی میدان جنگ سے غیر حاضر یعنی ایشیاء کوچک میں مقیم رہا۔ ۷۹۹ھ میں اس نے سنا کہ یورپ کی تمام طاقتیں ہنگری کے بادشاہ سجمنڈ کی تحریک و کوشش سے سلطنت عثمانیہ کے خلاف متحد ہو کر جنگ کی تیاریاں مکمل کر چکی ہیں اور فوجوں کی نقل و حرکت شروع ہو گئی ہے۔ اس مرتبہ علاوہ اور تمام عیسائی بادشاہوں اور قوموں کے فرانس و انگلستان بھی اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس اتحاد میں شامل تھے۔ یعنی اٹلی۔ فرانس و انگلستان۔ آسٹریا۔ ہنگری۔ پولینڈ۔ جرمنی۔ وایشیا۔ بوسنیا وغیرہ سب مکمل طور پر تیار ہو کر اس کئی سال کی مہلت میں باطمینان میدان میں نکل سکے۔ قسطنطنیہ کا قیصر محض اس لیے کہ وہ ہمہ واقات سلطان بایزید خان یلدرم کی ٹھوکروں میں تھا۔ علانیہ شرکت نہ کر سکا مگر خفیہ طور پر اور معنوی حیثیت سے وہی اس جنگی تیاری کا باعث اور محرک اول تھا۔ کیونکہ ترکوں کی سلطنت کا سب سے زیادہ بد خواہ اور دشمن وہی ہو سکتا تھا۔ حالانکہ سلطان بایزید خان یلدرم اس کی طرف سے بالکل مطمئن اور صاف تھا۔ عیسائیوں کی اس جنگی تیاری کا حال سن کر بایزید خان یلدرم برق اور آندھی کی طرف یورپ پہنچا۔ اس نے یہاں پہنچ کر دیکھا کہ روما کے پوپ یونیفس نہم نے یورپ کے ملکوں میں اپنا فتویٰ شائع کیا ہے کہ جو عیسائی ہنگری کے ملک میں پہنچ کر مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں شریک ہو گا وہ گناہوں سے بالکل پاک ہو جائے گا۔ اس سے پہلے فرانس و انگلستان میں لڑائی چھڑی ہوئی تھی مگر پوپ اور دوسرے بااثر عیسائیوں نے دونوں ملکوں کے سلاطین کو سمجھایا اور اس بات پر آمادہ کر دیا کہ بایزید خان یلدرم کا قصہ پاک کر لینے تک یہ لڑائی روکی جائے چنانچہ کائونٹ دی نیورس ڈیوآف برگنڈی کے ماتحت علاقہ برگنڈی کے بہادروں کی ایک زبردست فوج ہنگری کے بادشاہ سجمنڈ کی اعانت کے لیے ہنگری کی جانب روانہ کی گئی۔ فرانس کے بہادروں کی ایک زبردست فوج بادشاہ فرانس کے تین چچیرے بھائیوں جمیش۔ فلپ اور ہنری کے ماتحت مرتب ہو کر ہنگری کی جانب روانہ ہوئی۔ اس فوج میں شہزادہ کائونٹ آف یو بھی شامل تھا۔ فرانس کے بہت سے نواب اور فخر ملک و قوم بہادر سپہ سالار اور فرانس کا امیر البحر بھی اپنی اپنی جمعتیں لے کر الگ روانہ ہوئے۔ جرمن کے ٹیوٹانک شہزادے اور بڑے بڑے کائونٹ اپنی اپنی زبردست فوجیں لے کر ہنگری میں پہنچے۔ بومیریا کے بہادروں کی زبردست فوجیں ایکٹر پیلتن اور کائونٹ آف منسپل گریڈ کے ماتحت روانہ ہوئیں۔ آسٹریا کے سواروں کی ایک فوج کا افسر ہرمین اور دوسری زبردست فوج کا افسر کائونٹ دی سلی تھا۔ اسی طرح اٹلی اور دور دراز کے جزیروں سے بھی آزمودہ کار اور بہادر عیسائیوں کی فوجیں ہنگری کی جانب روانہ ہوئیں سینٹ جان یروشلم کے ماتحت بھی عیسائیوں کی ایک زبردست فوج آئی۔ اس طرح جب ہنگری میں عیسائیوں کی افواج قاہرہ کا جمائو ہو گیا تو سجمنڈ شاہ ہنگری نے اپنی زبردست فوج کو بھی ہر طرف سے جمع کیا اور والیشیا کے عیسائی بادشاہ کو جو سلطان بایزید خان یلدرم کی اطاعت قبول کر چکا تھا۔ لکھا کہ اب تمہارے لیے مناسب یہی ہے کہ بایزید خان یلدرم کی اطاعت ترک کر کے معہ اپنی پوری طاقت کے ہمارے شریک ہو جائو۔ اس نے بڑی خوشی سے اس پیغام کا خیر مقدم کیا اور جب عیسائی افواج کا یہ سیلاب اس کے ملک میں داخل ہو گیا۔ مگر سرویا کے بادشاہ نے احتیاط سے کام لیا جو پہلے بادشاہ کے مقام کسودا میں گرفتار و مقتول ہونے کے بعد تخت نشین ہو کر بایزید خان یلدرم کا باج گزار و مطیع بنا تھا۔ اس نے اس عیسائی لشکر کی شرکت اختیار نہیں کی۔ عیسائیوں کی عظیم الشان فوج کی یہ خصوصیت قابل تذکرہ ہے کہ اس مرتبہ جس قدر عیسائی افواج مختلف ملکوں کی جمع ہوئی تھیں وہ سب کی سب ہی نہایت بہادر‘ تجربہ کار اور بارہا کے جنگ آزمودہ سپاہیوں اور سپہ سالاروں پر مشتمل تھیں۔ اس لشکر کے تمام سپاہی اور تمام سردار عیسائی دنیا کے بہترین اور منتخب جنگ جو تھے۔ اس لشکر کے سپہ سالاروں کا قول تھا کہ اگر آسمان بھی ہمارے اوپر ٹوٹ پڑا تو ہم اپنے نیزوں کی نوکوں پر اس کو روک لیں گے۱؎ یہ عیسائی لشکر والیشیا اور سرویا کے دو مختلف راستوں سے حدود سلطنت عثمانیہ کی طرف بڑھا سجمنڈ شاہ ہنگری نے جو سپہ سالار اعظم تھا۔ عثمانی سلطنت کی حدود پر پہنچ کر حملہ آوری کا حکم دیا۔ اور بہت جلد ایک کے بعد دوسرا شہر فتح کرنا شروع کر دیا۔ ہر ایک قصبے یا شہر جسے عیسائی فتح کرتے تھے۔ خاک سیاہ بنا دیا جاتا تھا۔ وہاں کے مسلمان باشندوں اور محافظ سپاہیوں کو نہایت بے رحمی سے قتل کیا جاتا تھا۔ اور امن کی درخواست یا اطاعت کے اقرار پر بھی کسی کی جان بخشی نہیں ہوتی تھی۔ اس قتل عام میں مردوں‘ عورتوں‘ بوڑھوں اور بچوں میں کوئی امتیاز نہیں کیا جاتا تھا۔ عیسائی لشکر ایک عام تباہی اور ہلاکت و بربادی بن کر عثمانیہ سلطنت کے علاقے کو بے چراغ اور خاک سیاہ بناتا ہوا جب بڑھنے لگا تو بایزید خان یلدرم کے پاس ایشیائے کوچک میں خبر پہنچی اور وہ وہاں سے بڑی عجلت کے ساتھ ایڈریا نوپل پہنچا۔ سجمنڈ کو اس بات کا یقین تھا کہ میں در دانیال کے اس پار پہنچ کر ایشیائے کوچک کو فتح کرتے ہوئے شام کے ملک میں پہنچ سکو گا۔ ادھر قیصر قسطنطنیہ بھی اپنے دل میں خوش ہو رہا تھا کہ جو عظیم الشان کام کسودا کے میدان جنگ میں پورا نہیں ہو سکا تھا وہ اب بحسن و خوبی انجام کو پہنچ جائے گا۔ اور ہمیشہ کے لیے عثمانیوں کے خطرہ سے نجات میسر ہو جائے گی۔ بہت زیادہ ممکن تھا کہ سلطان بایزید خان یلدرم کے ایڈریا نوپل پہنچنے کے وقت دوسری طرف سے سجمنڈ بھی اس عظیم الشان لشکر کے ساتھ ایڈریا نوپل پہنچ جاتا۔ اور بایزید خان یلدرم کو اپنے حواس بجا کرنے سے پہلے ہی سخت پریشانی اور مصیبت کا سامنا ہوتا۔ لیکن عیسائی لشکر قتل و غارت کرتا ہوا جب شہر نکوپولس کے سامنے پہنچا تو وہاں کے صوبہ دار یوغلن بیگ نے بڑی ہمت و جواں مردی کے ساتھ مقابلہ کیا اور خوب مضبوطی کے ساتھ محصور ہو گیا۔ عیسائی لشکر نے نکوپولس کا محاصرہ کر لیا اور چند روز سستانے اور آرام کرنے کا موقعہ غنیمت سمجھا۔ اس ۱؎اللہ کی پناہ ایسی بدبختی کی سوچ اور متکبرانہ کلمات سے! اگر انہوں نے اللہ کے عذابوں کا نشانہ بننے والی اقوام و افراد کے انجام پر غور کیا ہوتا تو وہ ایسے کلمات زبان پر نہ لاتے۔ طرح شہر نکوپونس کے محاصرے نے سلطان بایزید خان یلدرم کو موقعہ دے دیا کہ اس نے ایڈریا نوپل میں پہنچ کر اور اس عجلت میں اپنی مناسب تیاری کے بعد نکوپولس کی طرف کوچ کر دیا۔ عیسائیوں کو یہاں بھی توقع تھی کہ سلطان بایزید خان یلدرم ایشیائے کوچک میں بیٹھا ہوا ہے اور ان کو یقین تھا کہ وہ ہماری کثرت و طاقت کا حال سن کر یورپ کے ساحل پر اترنے کی جرأت نہ کر سکے گا۔ آخر ۲۴ دسمبر ۱۳۹۶ء مطابق ۷۹۹ھ کو جب کائونٹ نیورس ڈیوک آف برگنڈی اپنے خیمے میں کھانا کھا رہا تھا اس کے پاس بعض جاسوسوں نے یہ خبر پہنچائی کہ ترکوں کا لشکر قریب پہنچ چکا ہے۔ اس خبر کو سنتے ہی ڈیوک مذکور اور دوسرے فرانسیسی سردار فوراً کھڑے ہو گئے۔ اور خوشی خوشی سجمنڈ کے پاس پہنچ کر کہنے لگے کہ ترکوں کے مقابلے میں ہم لوگ عیسائی لشکر کا ہر اول قرار دیئے جائیں تاکہ سب سے پہلے ہم کو بایزید خان یلدرم کے لشکر پر تلوار چلانے کا فخر حاصل ہو۔ سجمنڈ جو ترکوں کے طریق جنگ سے واقف اور زیادہ تجربہ کار تھا اس نے کہا کہ سب سے پہلے ترکوں کی بے قاعدہ اور نیم مسلح فوج کے دستے آگے بڑھیں گے آپ لوگ جو لوگ جو عیسائی لشکر کے لیے مایہ ناز ہیں اس لشکر کے مقابلہ پر تیار ہیں۔ جو سلطان بایزید خان یلدرم کے جان نثار اور سب سے زیادہ بہادر سپاہیوں پر مشتمل ہے اور جو ابتدائی مقابلہ کے بعد زبردست حملہ کرے گا۔ ڈیوک آف برگنڈی یہ سن کر خاموش ہو گیا۔ مگر فرانس کے سرداروں یعنی لارڈ دی کورسی اور امیر البحر اور مارشل بوسی وغیرہ نے اصرار کیا کہ ہم ہرگز اس بات کو گورار نہیں کر سکتے کہ فرانس والوں سے پہلے ہنگری والے جنگ میں پیش قدمی کریں یہ پر غرور اور پرجوش الفاظ سن کر نوجوانوں نے خوشی کا ایک نعرہ بلند کیا اور اس جوش و غرور میں ان ترکی قیدیوں کو جو اب تک قتل نہیں کیے گئے تھے۔ فوراً قتل کر دیا۔ لیکن ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ ہم پر بہت جلد کیسی مصیبت وارد ہونے والی ہے۔ سلطان بایزید خان یلدرم نے عیسائی لشکر کے قریب پہنچ کر ایسے موقعہ پر قیام کیا کہ عیسائی لشکر اور سلطانی لشکر کے درمیان زمین کا ایک بلند پشتہ حائل تھا۔ جس کی وجہ سے عیسائی لشکر سلطانی لشکر کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ سلطان نے اپنی چالیس ہزار منتخب اور مسلح فوج کو میدان میں جما کر باقی بے قاعدہ فوج کے دستوں کو مختلف ٹولیاں میں آگے بڑھایا۔ ادھر سے فرانسیسی سواروں نے بطور ہر اول پیش قدمی کی اور سجمنڈ باقی فوج کو لے کر آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ فرانسیسی فوج نے ترکی بے قاعدہ دستوں کو کچل ڈالا اور نہایت سرعت کے ساتھ آگے بڑھ کر اس مرتفع ٹیلہ کی بلندی پر پہنچ گئے جہاں سلطان بایزید خان اپنی مسلح فوج کی خود سپہ سالاری کر رہا تھا بے قاعدہ ترکی دستوں نے جو فرانسیسیوں کے حملہ سے اپنی ایک تعداد کو قتل کرا کر منتشر ہو گئے تھے اس موقعہ سے فائدہ اٹھایا اور فوراً مجتمع ہو کر اور اپنی صفوں کو درست کر کے ان حملہ آور فرانسیسیوں کے عقب میں پہنچ کر حملہ کیا اس طرح عیسائی ہر اول یعنی فرانسیسی فوج جو سجمنڈ کے بڑے لشکر سے بہت دور آگے نکل آئی تھی اسلامی لشکر کے بیچ میں گھر گئی اور بہت زیادہ مقتول و اسیر ہوئی۔ بہت ہی تھوڑے سے آدمی کسی نہ کسی طرح بچ کر نکل بھاگے اور انہوں نے عیسائی لشکر کلاں کو فرانسیسی لشکر کی اس مکمل تباہی کا حال سنایا جس سے عیسائیوں کے فوجی سمندر پر مسلمانوں کی ہیبت طاری ہونے لگی۔ اس کے بعد بایزید خان نے عیسائیوں کے فوجی سمندر پر جو میدان میں حد نگاہ تک ایک نیستان کی شکل میں پھیلا ہوا تھا۔ حملہ کیا۔ مسلمانوں کا یہ حملہ جس جوش اور خروش کے ساتھ ہوا ہے اس کا شایدان تجربہ کار اور منتخب جنگ جو عیسائیوں کو پہلے سے اندازہ نہ تھا۔ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ سلطان بایزید خان یلدرم کا لشکر ایک آہنی گرز تھا۔ جس نے میلوں تک پھیلی ہوئی ریتے کی دیواروں کو اپنی پیہم ضربوں سے ریزہ ریزہ کر کے خاک میں ملا دیا۔ بویریا۔ آسٹریا اور ہنگری کی فوجوں نے جم کر اور ڈٹ کر مقابلہ کیا مگر وہ سب کھیرے ککڑی کی طرح مسلمانوں کی خون آشام تلواروں سے کٹ کر خاک و خون میں مل گئے اسی طرح جس نے قیام و قرار کو اختیار کیا طعمہ تیغ ہوا جو فرار پر آمادہ ہوا یا تو بچ کر نکل گیا یا فتح مندوں کے تعاقب سے اسیر ہو کر اپنے وجود پر افسوس کرنے لگا۔ غرض بہت ہی جلد لڑائی کا فیصلہ ہو گیا اور سلطان بایزید خان نے نکوپولس کے میدان میں عیسائیوں کے ایک زبردست اور ہر ایک اعتبار سے مکمل و مضبوط لشکر کو شکست فاش دی کہ اس سے پہلے کسی میدان میں عیسائیوں کی ایسی زبردست طاقت جمع نہیں ہو سکی تھی۔ سجمنڈ شاہ ہنگری اپنی جان بچا کر لے گیا۔ لیکن فرانس و آسٹریا واٹلی و ہنگری وغیرہ کے بڑے بڑے شہزادے۔ نواب اور سپہ سالار قید ہوئے اور بعض میدان میں مارے گئے۔ ڈیوک آف برگنڈی بھی انہی قیدیوں میں تھا اور وہ تمام عیسائی سردار جن کے نام اوپر آ چکے ہیں۔ سب کے سب قیدیوں میں شامل تھے۔ نکوپولس کے اس معرکہ عظیم میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب عیسائی مقتول ہوئے۔ فتح کے بعد سلطان نے میدان جنگ کے ہر حصہ کا خود جا جا کر معائنہ کیا جو لاشوں سے پٹا پڑا تھا۔ چونکہ سلطان کو جابجا اپنی فوج کے شہدا بھی نظر آئے اس لیے سلطان نے نہایت افسوس کے ساتھ کہا کہ یہ فتح ہم کو بہت مہنگی پڑی ہے مجھ کو اپنے ان بہادروں کا بدلہ ہنگری سے لینا ہے یہ کہہ کر سلطان نے حکم دیا کہ قیدیوں کو ہمارے سامنے پیش کیا جائے۔ ان قیدیوں کو کئی حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ جن لوگوں کو معمولی سپاہی سمجھا گیا وہ تو غلام بنا کر فوج میں تقسیم کر دیئے گئے اور کچھ جلادوں کے ذریعہ تلوار کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ ایک حصہ جو سرادروں پر مشتمل تھا الگ کیا گیا ان لوگوں کی مشکیں کسوا کر اور رسیوں میں باندھ کر بڑے بڑے شہروں میں تشہیر کے لیے بھیج دیا گیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ عیسائیوں پر مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی ہے۔ ایک حصہ جو صرف شہزادوں اور بڑے بڑے نوابوں اور فرماں روائوں پر مشتمل تھا علیحدہ منتخب کیا گیا۔ یورپ کے ان شہزادوں اور فرماں روائوں کی تعداد پچیس تھی۔ انہی میں ڈیوک آف برگنڈی بھی شامل تھا۔ ان سب کو سلطان نے اپنے ہمرا لیا اور یورپ سے روانہ ہو کر اپنے ایشیائی دارالسلطنت بروصہ میں آیا۔ یہاں آ کر اس نے ان پچیس شہزادوں اور فرماں روائوں کو اپنے سامنے بلا کر کہا کہ تم لوگوں نے ناحق میرے ملک پر حملہ کرنے کی تکلیف گوارا کی۔ میں خود ہنگری۔ آسٹریا۔ فرانس۔ جرمنی اور اٹلی کو فتح کرنے کا مصمم عزم رکھتا ہوں اور میرا ارادہ ہے کہ میں اٹلی کے شہر روم میں پہنچ کر سینٹ پیٹر کی قربان گاہ میں اپنے گھوڑے کو دانہ کھلائوں۔ اس لیے تم لوگوں سے اب تمہارے ملکوں ہی میں ملاقات ہو گی۔ اور میں بہت ہی زیادہ خوش ہوں گا جب کہ تم لوگ پہلے سے زیادہ فوج اور زیادہ تیاری کے ساتھ میرے مقابلہ پر میدان میں آئو گے مجھ کو اگر تمہاری طرف سے ذرا بھی اندیشہ یا خوف ہوتا تو میں اس وقت تم کو یہ اقرار لے کر رہا کرتا کہ آئندہ کبھی میرے مقابلے میں آنے کا ارادہ نہ کریں گے لیکن میں تم کو تاکید کرتا ہوں کہ تم اپنے اپنے ملکوں میں پہنچتے ہی فوج کی فراہمی اور لڑائی کی تیاری میں مصروف ہو جائو۔ اور میرے مقابلے کے لیے پورے طور پر مستعد رہو۔ یہ کہہ کر سلطان بایزید خان یلدرم نے ان تمام شہزادوں اور سرداروں کو رہا کر دیا۔ اس کے بعد وہ اپنی فوج لے کر یورپ میں پہنچا اور اپنے اس ارادے کی تکمیل میں مصروف ہوا جس کا اوپر ذکر آ چکا ہے۔ سب سے پہلے اس نے یونان کا رخ کیا کیونکہ یونان کے عیسائی مجاہدین خود مختارانہ طور پر قیصر قسطنطنیہ کے ایما سے نکوپولس کی لڑائی میں عیسائی لشکر میں شامل تھے۔ تھرموپلی کے درے میں سے فاتحانہ گزرتا ہوا ایتھنز کی دیواروں کے نیچے پہنچا اور ۸۰۰ھ میں ایتھنز کو فتح کر کے تیس ہزار یونانیوں کو ایشیائے کوچک میں آباد ہونے کے لیے روانہ کیا۔ جب کہ سلطان خود فوج لے کر تھسلی کو فتح کرتا ہوا ایتھنز کی طرف گیا تو اس نے اپنے سپہ سالاروں کو آسٹریا اور ہنگری کی طرف فوجیں دے کر روانہ کر دیا تھا۔ جنہوں نے ان ملکوں کے اکثر حصوں کو فتح کر لیا تھا۔ اب سلطان بایزید خان کو قیصر قسطنطنیہ کی ریشہ دوانیوں اور نیش زنیوں کا بخوبی علم ہو چکا تھا لہٰذا اس نے ایتھنز کی فتح کے بعد قسطنطنیہ کے فتح کر لینے اور اس عیسائی سلطنت کے مٹا دینے کا ارادہ کیا۔ لیکن قیصر نے اس مرتبہ بھی اپنی ہوشیاری سے کام لیا اور فوراً سلطان کا باج گزار بن کر وعدہ کیا کہ دس ہزار ڈاکٹ سالانہ بہ طور خراج ادا کیا کروں گا۔ نیز قسطنطنیہ میں ایک مسجد مسلمانوں کے لئے بنوادوں گا اور ایک قاضی مقرر کر دوں گا جو مسلمانوں کے تمام معاملات میں حاکم ہو گا۔ مسلمان تاجروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے پائے گی۔ ان شرائط پر سلطان بایزید خان یلدرم رضا مند ہو گیا۔ اور اس نے قسطنطنیہ چھوڑ دیا۔ ورنہ جو کام سلطان محمد خان ثانی فاتح قسطنطنیہ کے ہاتھوں انجام پذیر ہوا وہ ۸۰۰ھ میں سلطان بایزید خان یلدرم کے ہاتھوں سے پورا ہو چکتا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ تیمور خراسان و ایران میں اپنی حکومت کی بنیاد مضبوط کر کے اور ترکمانوں کی گوشمالی سے فارغ ہو کر اپنے مقبوضات کو سلطان بایزید خان یلدرم کے مقبوضات کی سرحد تک پہنچا کر ہندوستان پر حملہ آور ہوا تھا۔ قیصر قسطنطنیہ جو یورپ میں اپنی ریشہ دوانیوں اور عیسائیوں کی زور آزمائیوں کے نتائج جنگ کسووا اور جنگ نکوپولس میں دیکھ چکا تھا۔ اب اپنی اس مجبوری اور ذلت کو دیکھ کر ایک مرتبہ پھر آمادہ کوشش ہوا۔ سلطان بایزید خان یلدرم جب یونان اور ایتھنز کو فتح کر چکا اور قیصر کا حال بہت ہی پتلا ہونے لگا تو اس نے فوراً ایک قاصد تیمور کی خدمت میں روانہ کیا۔ اور اس کو ایک خط دیا جس میں لکھا تھا کہ میری سلطنت بہت پرانی ہے۔ آنحضرت e اور خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی قسطنطنیہ کے اندر ہماری سلطنت موجود تھی۔ اس کے بعد بنوامیہ اور بنوعباس کے زمانے میں بھی خلفاء سے بارہا ہماری صلح ہوئی اور کسی نے قسطنطنیہ کے لینے کا قصد نہیں فرمایا۔ لیکن اب عثمانی سلطان نے ہمارے اکثر مقبوضات چھین لئے ہیں۔ اور ہمارے دارالسلطنت قسطنطنیہ پر اس کا دانت ہے۔ ایسی حالت میں سخت مجبور ہو کر ہم آپ سے امداد کے خواہاں ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ آپ کے سوا ہم اور کسی سے خواہان امداد ہو بھی نہیں سکتے۔ آپ کو اگر بایزید خان یلدرم کے مسلمان اور ہمارے عیسائی ہونے کا خیال ہو تو آپ کو واضح رہے کہ بایزید خان کو اس طرف یورپ میں مسلسل فتوحات حاصل ہو رہی ہیں اور اس کی طاقت بڑی تیز رفتاری سے ترقی پذیر ہے وہ بہت جلد اس طرف سے مطمئن اور فارغ ہو کر آپ کے مقبوضہ ممالک پر حملہ آور ہو گا۔ اور اس وقت آپ کو اس کے زیر کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔ بایزید خان نے سلطان احمد جلائر اور قرا یوسف ترکمان کو جو آپ کے مفرور باغی ہیں اپنے ہاں عزت کے ساتھ مہمان رکھ چھوڑا ہے۔ اور یہ دونوں باغی اس کو آپ کے خلاف جنگ کرنے اور مشورہ دینے میں برابر مصروف ہیں۔ یہ بات بھی آپ کے لئے کچھ کم بے عزتی کی نہیں ہے کہ آپ آپ کے باغی سلطان بایزید خان کے پاس اس طرح عزت و اکرام کے ساتھ رہیں۔ اور ان کو واپس طلب نہ کر سکیں۔ پس مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایشیائے کوچک پر حملہ کریں کیونکہ اس ملک کو قدرتی طور پر آپ کے قبضے میں رہنا چاہیئے۔ اور بایزید خان یلدرم کے فتنے سے ہم کو بچائیں ہم سے جو کچھ ممکن ہو گا آپ کی امداد کریں گے۔ قیصر کا یہ خط اگرچہ اپنی نفسانی اغراض پر مشتمل تھا۔ اور تیمور ایسا بیوقوف نہ تھا کہ اس کی خود غرضانہ باتوں میں آ جاتا۔ لیکن اس خط میں باغیوں کی پناہ دہی کا تذکرہ کچھ ایسے الفاظ میں کیا گیا تھا جن کا تیمور کے دل پر کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوا۔ قیصر قسطنطنیہ کا یہ خط تیمور کے پاس اس وقت پہنچا جب کہ وہ دریائے گنگا کے کنارے پہنچ کر ہر دوار میں مقیم اور ہندوستان کے مشرقی صوبوں کی طرف بڑھنے کا قصد کر رہا تھا۔ قیصر قسطنطنیہ کے اس خط کو پڑھ کر اس نے بظاہر کوئی تسلی بخش جواب قاصد کو نہیں دیا بلکہ فوراً ہی اس کو رخصت کر دیا۔ مگر اس خط کے مضمون نے اندر ہی اندر اس کے دل پر ایسا اثر کیا کہ اس کا دل ہندوستان سے اچاٹ ہو گیا اور وہ ہندوستان کے اس نومفتوحہ ملک کو بلا کسی معقول انتظام کے ویسے ہی چھوڑ کر ہر دوار سے جلد جلد منزلیں طے کرتا ہوا پنجاب اور پنجاب سے سمر قند کی جانب روانہ ہوا۔ ہندوستان کے ایک لاکھ قیدی جو اس کے ہمراہ تھے اور سفر میں گراں باری کا موجب تھے اس نے راستے میں قتل کرا دئیے۔ سمر قند پہنچ کر اس نے خوب تیاری کی اور اس بات پر آمادہ ہو گیا کہ عثمانی سلطان سے اول دو دو ہاتھ کر کے اس بات کا فیصلہ کر لیا جائے کہ ہم دونوں میں سے کس کو دنیا کا فاتح بننا چاہیئے۔ اس عرصہ میں تیمور کے پاس برابر یلدرم کی فتوحات کے حالات پہنچتے رہے اور وہ اپنے اس رقیب سے لڑنے پر مستعد ہوتا گیا۔ ادھر بایزید یلدرم قسطنطنیہ کے عیسائی قیصر کو اپنا باج گزار بنا کر اور ہنگرو آسڑیا کی فتوحات کو تکمیل تک پہنچا کر اپنے اس ارادے کی تکمیل پر آمادہ ہوا کہ شہر روما کو فتح کر کے سینٹ پیٹر کے مشہور گرجا میں اپنے گھوڑے کو دانہ کھلائے۔ لیکن اس کو یہ خبر پہنچ گئی کہ قیصر قسطنطنیہ نے اس کے خلاف تیمور کے پاس سفارت بھیجی ہے اور وہ سلطان بایزید خان یلدرم کی خراج گذاری کو اپنے لئے موجب ذلت سمجھ کر ہاتھ پائوں مارنے میں مصروف ہے۔ سلطان بایزید خان یلدرم کو تیمور سے تو یہ توقع ہرگز نہ تھی کہ وہ قیصر کا حمایتی بن کر مجھ سے لڑنے آئے گا اور نہ اس کو تیمور کا کچھ خوف تھا۔ لیکن اس نے ضروری سمجھا کہ قیصر کا قصہ اول پاک کر دیا جائے اس کے بعد اٹلی پر حملہ کیا جائے۔ چنانچہ اس نے قیصر سے جواب طلب کیا اور کوئی معقول جو نہ پا کر قسطنطنیہ کے محاصرہ کی تیاری شروع کر دی۔ ادھر تیمور نے سمر قند سے روانہ ہو کر اور ایشیائے کوچک کی مغربی سرحد پر پہنچ کر آذر بائیجان کو فتح کر کے آذر بائیجان اور آرمینیا میں قتل عام کے ذریعہ خون کے دریا بہائے اور اس علاقے پر اپنی ہیبت کے سکے بٹھائے۔ آذر بائیجان وارمینیا کو فتح کرنے کے بعد تیمور کو سلطان بایزید خان یلدرم سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا موقعہ بخوبی مل گیا تھا۔ کیونکہ اب اس کے سامنے عثمانیہ سلطنت کی حدود تھیں اور درمیان میں کوئی علاقہ حائل نہ تھا۔ آذر بائیجان کا ملک جو بفرا سٹیٹ یعنی حد فاصل علاقہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ تیمور نے فتح کر لیا تھا۔ آذر بائیجان ہی کے فرماں روائوں کا طرز عمل ان دونوں اسلامی شہنشاہوں کو ایک دوسرے سے جنگ آزما کرانے کا موجب ہو رہا تھا یہ سرحدی حکام جب کبھی عثمانیہ سلطنت سے ناراض ہوتے تو تیمور سے امداد طلب کرتے اور جب تیمور سے ناراض ہوتے تو عثمانی سلطان سے مدد طلب کرتے۔ اسی سلسلہ میں قرا یوسف ترکمان فرماں روائے آذر بائیجان تیمور سے خائف و ترسان اور آوارہ ہو کر سلطان بایزید یلدرم کے پاس چلا گیا تھا۔ اور اس بات کا خواہاں تھا کہ عثمانی سلطان تیمور کے مقابلے میں اس کی مدد کر کے اس کے ملک میں اس کو تخت نشین کرا دے۔ تیمور نے جب آذر بائیجان کو فتح کر لیا تو سلطان بایزید خان یلدرم نے ایک مختصر سی فوج کے ساتھ اپنے بیٹے طغرل نامی کو اپنے سرحدی شہر سیو اس میں بھیج دیا کہ اگر تیمور اس طرف کو بڑھے تو اس کو روکے۔ تیمور نے عثمانی سلطان سے چھیڑ چھاڑ کرنے میں عجلت و شتاب زدگی سے کام نہیں لیا۔ بلکہ بڑی احتیاط کے ساتھ تیاریوں میں مصروف رہا اس نے اپنے تمام مقبوضات میں گشتی احکام روانہ کر کے تجربہ کار سپاہی اور انتخابی فوجیں طلب کیں۔ ادھر جاسوسوں کی ایک بڑی تعداد فقیروں‘ درویشوں۔ صوفیوں‘ واعظوں‘ تاجروں‘ سیاحوں‘ کی شکل میں سلطنت عثمانیہ میں داخل کر دی اور ایک بڑی تعداد تجربہ کار جاسوسوں کی خاص سلطان بایزید خان یلدرم کے لشکر میں بھیجی کہ وہ جا کر ان مغلوں کو جو ایشیائے کوچک میں بودوباش رکھنے کے سبب بایزید کے لشکر میں شامل اور اس کے ایشیائی لشکر کا جزو اعظم تھے بہکائیں۔ اور سمجھائیں کہ مغلوں کا قومی فرماں روا اور حقیقی سردار تیمور ہے۔ تیمور کے مقابلے میں بایزید یلدرم کی سلطان کا ساتھ دینا قومی غداری اور بڑی بے عزتی کی بات ہے۔ چنانچہ تیمور کی یہ خفیہ حملو آوری بڑی کارگر ثابت ہوئی سلطان بایزید خان یلدرم کی فوج کا ایک بڑا حصہ سلطان سے بد دل اور بغاوت پر آمادہ رہنے لگا۔ تیمور کے ان جاسوسوں نے سلطان کے لشکر میں یہ خیال بھی پھیلا دیا کہ سلطان فوج کو بڑی بڑی تنخواہیں اور مال غنیمت میں سے زیادہ حصہ دینے میں بخل سے کام لیتا ہے حالانکہ تیمور کے سپاہی بہت آسودہ حال اور فارغ البال رہتے ہیں۔ اس انتظام سے فارغ ہو کر تیمور نے مناسب سمجھا کہ شام و مصر کا ملک اول فتح کر لوں اس کو معلوم تھا کہ مصر کا چرکسی بادشاہ فرج بن برقوق سلطان بایزید خان یلدرم کا دوست ہے جب ملک شام پر حملہ کیا جائے گا تو وہ دمشق کے بچانے کو ضرور ملک شام آ جائے گا اور چونکہ وہ تنہا کمزور ہے۔ اس کا شکست دنیا نہایت آسان کام ہے کم از کم دمشق اور شام پر قبضہ ہو جانے سے سلطان بایزید خان یلدرم کو مصریوں اور شامیوں کی جانب سے کوئی امداد نہ پہنچ کر سکے گی۔ چنانچہ ان ادھر تو سلطان بایزید خان یلدرم کو خط لکھا کہ ہمار باغی قرا یوسف ترکمان تمھارے پاس ہے اس کو ہمارے پاس بھیج دو۔ ورنہ ہم تمھارے ملک پر چڑھائی کریں گے۔ اور ادھر اپنی فوج لے کر ۸۰۳ھ میں حلب کے راستے ملک شام پر حملہ آور ہوا تیمور کا خیال صحیح ثابت ہوا اور تیمور ابھی حلب ہی میں پہنچا تھا کہ شاہ مصر فوراً دمشق میں آ موجود ہوا۔ دمشق پر لڑائی ہوئی۔ اور مصر کے چراکسی فرماں روا کو شکست کھا کر مصر کی طرف بھاگنا پڑا۔ مصری فوج تیموری لشکر سے بہت مرعوب ہو گئی اور تیمور نے شام کے شہروں میں قتل عام کرا کر اور جابجا کلہ مینار بنا کر لوگوں کو خوف زدہ بنا دیا۔ اس طرح اپنا مقصد پورا کر کے تیمور بغداد کی طرف متوجہ ہوا اور بغداد کو بھی بزور شمشیر فتح کر لیا۔ یہیں اس کے پاس سلطان بایزید خان یلدرم کے پاس سے خط کا جواب ملا جس میں تیمور کی درخواست کو نہایت حقارت کے ساتھ رد کیا گیا تھا۔ تیمور پہلے سے جانتا تھا کہ بایزید یلدرم کیا جواب دے گا اور اسی لئے وہ ہر ایک ممکن تدبیر میں پہلے ہی سے مصروف تھا۔ اس جواب کو پا کر اس نے بغداد میں بھی زیادہ ٹھہرنا مناسب نہ سمجھا بلکہ بغداد سے سیدھا آذر بائیجان کی طرف روانہ ہوا جہاں اس نے اپنے دوسرے ملکوں سے وقتاً فوقتاً فوجیں طلب کی تھیں۔ یہاں پہنچ کر اس نے نہایت دور اندیشی اور ہوشیاری کے ساتھ رسد رسانی خبر رسانی‘ جاسوسی وغیرہ کے محکموں کو ترتیب دیا اور تمام ضروری مقامات پر پہلے سے سامان جنگ اور رسد رسانی کے لئے اہل کار اور زبردست عملہ مقرر و مامور کر دیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ سلطان بایزید خان یلدرم نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کر لیا تھا اور وہ قسطنطنیہ کی فتح سے بہت ہی جلد فارغ ہونے والا تھااس نے شام کی فتح اور فرج بن برقوق شاہ مصر کی شکست کا حال سن کر قرا یوسف ترکمان کو ایک فوج دے کر روانہ کیا کہ بلا تامل شام میں پہنچ کر تیموری عاملوں کو قتل واسیر کر کے ملک شام پر قبضہ کرے اور خود تیمور کے مقابلہ پر روانہ ہوا قسطنطنیہ کی فتح کو اس نے دوسرے وقت کے لئے ملتوی کر دیا۔ بہت زیادہ ممکن تھا کہ ملک شام کے چھین لینے پر اکتفا کر کے بایزید یلدرم خاموش ہو جاتا اور تیمور سے جنگ کرنا یعنی خود اس پر حملہ آور ہونا ضروری نہ جانتا کیونکہ وہ مسلمان بادشاہوں سے لڑنے کا شوق نہ رکھتا تھا۔ اس کو تو ابھی یورپ کے رہے ہوئے ملکوں کے فتح کرنے کا خیال تھا۔ اور وہ عیسائیوں ہی کو اپنی شمشیر خاراشگاف کے جو ہر دکھانا چاہتا تھا جن کو وہ جنگ نکوپولس میں سخت ہزیمت دے کر مرعوب بنا چکا تھا۔ اور ہنگری و آسٹریا کی فتح کے بعد قسطنطنیہ و روما فتح کر کے گرجے میں اپنا گھوڑا باندھنے کا مصمم ارادہ کر چکا تھا۔ مگر تیمور کئی سال سے نہایت سر گرمی کے ساتھ بایزید سے لڑنے اور اس کو شکست دینے کی کوشش میں مصروف تھا۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ بایزید یلدرم عیسائی طاقت کو دنیا سے نابود کرنے پرتلا ہوا تھا۔ اور تیمور بایزید کو نابود کرنے اور عیسائیوں کو بچانے پر آمادہ تھا۔ تیمور نے اپنے تمام سامانوں کو مکمل کر لینے کے بعد بایزید کے سرحدی شہر سیو اس پر حملہ کر دیا جہاں یزید کا بیٹا بطور قلعہ دار موجود تھا۔ یزید کے بیٹے ارطغرل نے بڑی بہادری اور پامردی کے ساتھ قلعہ بند ہو کر مدافعت کی۔ تیمور نے سب سے پہلے اسی قلعہ پر اپنی قلعہ گیری کے سامانوں کو آزمایا۔ اس نے قلعہ کا محاصرہ کر کے باہر سے قلعہ کی بنیادیں کھدوانی شروع کیں۔ تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر عمیق گڑھے کھود کر اور بنیاد کے نیچے سے مٹی نکال کر لکڑی کے مضبوط شہتیر بنیاد کے نیچے کھڑے کر دئیے پھر اس گڑھوں اور شہتیروں پر معلق کر دیا گیا۔ پھر ان تمام شہتیروں میں آگ لگا دی گئی۔ شہتیروں کے جلنے سے قلعہ کی تمام دیوار یک لخت زمین میں دھنس گئی۔ اس طرح یکایک اپنے آپ کو بے پناہ دیکھ کر محصورین نے ہتھیار ڈال دئیے اور سب کے سب جن کی تعداد چار ہزار تھی گرفتار ہو گئے۔ جس طرح سیواس کے قلعہ کو زمین میں غرق کرنے کا طریقہ تیمور نے عجیب و غریب اختیار کیا تھا۔ اس طرح اس نے اس ترک قیدیوں کے ساتھ سفا کی و بے دردی کا سلوک بھی بہت ہی عجیب و غریب کیا۔ یعنی اس نے بجائے اس کے کہ ان کو جان کی امان دیتا سب کی مشکیں کسوائیں اور ان کے سروں کو ان کے گھٹنوں کے درمیان لے کر رسیوں سے جکڑ کر گٹھری کی طرح بندھوا دیا۔ پھر گہری گہری خندقیں کھدوا کر ان میں سب کو ڈال دیا۔ ان خندقوں یا یوں کہیے کہ قبروں پر تختے رکھا کر اوپر سے مٹی ڈال دی گئی۔ زندہ درگور کرنے کے اس ظالمانہ فعل کا جب تصور کیا جاتا ہے تو بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بایزید یلدرم نے جب اپنے بیٹے اور چار ہزار قوم ترکوں کے اس طرح ہلاک ہونے کا حال سنا تو وہ اپنے ہوش میں نہ رہا۔ غالباً تیمور کا بھی یہی منشا تھا کہ بایزید آپے سے باہر ہو کر عقل و خرد سے بیگانہ ہو جائے۔ اور فوراً مقابلہ پر آ جائے۔ بایزید سے اس کے بعد جو بد احتیاطی اور ناعاقبت اندیشی ظہور میں آئی اس کو غصہ و غضب کا نتیجہ سمجھ لیجئے یا اس الزام کا نتیجہ قرار دیجئے جو شراب خوری کے متعلق اس پر لگایا گیا ہے۔ بہر حال اس کے بعد جنگی حزم و احتیاط کے معاملے میں تیمور ہر ایک اعتبار سے پورا اور بایزید ناقص ثابت ہوتا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے تک بایزید سے جنگی معاملات میں کوئی غلطی سرزد نہیں ہوئی تھی اور وہ اپنے آپ کو بڑا قابل اور لائق تعریف ثابت کر چکا تھا۔ بایزید تیمور کی طاقت سے واقف تھا اور جانتا تھا کہ اس ۶۹ سال کی عمر کے بوڑھے دشمن کی ساری عمر لڑائیوں ہی میں صرف ہوئی ہے۔ اس کے پاس یہ خبر بھی پہنچ چکی تھی کہ تیمور کی رکاب میں پانچ لاکھ سے اوپر انتخابی فوج موجود ہے سلطان بایزید خان یلدرم اس عجلت میں جس قدر فوج جمع کر سکتا تھا اس نے جمع کی اور سیواس کی طرف جہاں اس کا بیٹا زندہ درگور کیا گیا تھا۔ اور اس کا دشمن اپنی فوج لئے ہوئے پڑا تھا۔ بڑھا۔ اس کی فوج میں اس کی عیسائی بیوی کا بھائی شاہ سرویا اور بقول دیگر فرانسیسی بیوی کا بھائی ایک فرانسیسی سردار بھی موجود تھا۔ جو بیس ہزار سواروں کا افسر تھا۔ بایزید کو سرعت رفتار کے ساتھ آتا ہوا سن کر تیمور نے ایک نہایت ہی موثر سپاہیانہ چال چلی جو اس نے پہلے ہی سے سوچ رکھی تھی اور اس کے متعلق ہر کا انتظام پہلے سے کر لیا تھا۔ بایزید نے سیواس کی طرف اپنی فوج کے بعض حصے پہلے روانہ کر دئیے تھے اور ہر قسم کا ضروری سامان بھی ساتھ لے لیا تھا۔ تیمور اس وقت تک کہ بایزید کا لشکر سیواس کے قریب پہنچاوہیں مقیم رہا۔ جب اس کو معلوم ہوا کہ سلطان بایزید خان یلدرم جو پیچھے آ رہا ہے اب اپنا راستہ نہ بدل سکے گا تو وہ سیواس کو چھوڑ کر اور وہاں سے کترا کر جنوب کی طرف چل دیا۔ اور مغرب کی جانب مڑ کر سیدھا شہر انگورہ کی طرف گیا اور جا کر شہر انگورہ کا محاصرہ کر لیا۔ سلطان بایزید خان یلدرم جب سیواس پہنچا تو اپنے بیٹے کے مقتل کو دیکھ کر غم و غصہ سے بیتاب ہو گیا۔ لیکن اس نے تیمور اور اس کی فوج کو وہاں نہ پایا بلکہ اس کو معلوم ہوا کہ تیمور اپنی فوج کو لے کر سیواس سے دو سو پچیس میل مغرب کی جانب اندرون ملک‘ یعنی شہر انگورہ میں جا پہنچا ہے۔ شہر انگورہ کی تباہی کا تصور بایزید کے لئے سیواس کی تباہی سے بھی زیادہ رنج دہ تھا۔ اور تیمور کے اس طرح ایشیائے کوچک کے قلب میں پہنچ جانے کو وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اب اس کے لئے مناسب یہی تھا کہ وہ خشم اندیشہ سوز کا مغلوب نہ ہوتا اور قرا یوسف ترکمان اور شامی و مصری سرداروں کو تیز رفتار قاصدوں کے ذریعہ اطلاع دے کر تیمور کی طرف بڑھنے کی دعوت دیتا اور خود تیمور کو اپنے ملک میں ہر طرف گھیر کر بند کرنے اور اس کے ذرائع رسد رسانی کو منقطع و مسدود کرنے کی تدبیریں عمل میں لاتا۔ اور تیمور اگر مغرب کی جانب بڑھتا اور شہروں کو برباد کرتا تو یہ کام اس کو کرنے دیتا کیونکہ اس کے چاروں طرف وہ علاقے تھے جہاں عثمانی جاگیر دار اور سلطنت عثمانیہ کے فدائی ترک بکثرت آباد تھے اور چاروں طرف سے بڑی زبردست فوجیں مجتمع ہو کر تیمور کے لشکر کو اپنی حملہ آوریوں کا مرکز بنا سکتی تھیں۔ اس طرح تیمور کو جال میں پھنسا کر گرفتار کر لینا بایزید کے لئے کچھ مشکل بھی نہ تھا۔ مگر تیمور سلطان بایزید خان یلدرم کے مزاج سے یقیناً خرب واقف تھا۔ اور وہ جانتا تھا کہ میرا حریف اس قدر مال اندیشی کو ہرگز کام میں نہ لا سکے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور بایزید جو بڑی آسانی سے چار لاکھ فوج سیواس کے میدان میں جمع کرنے کا اہتمام کر چکا تھا۔ اور تیمور سے کسی طرح مغلوب ہونے والا نہ تھا۔ جوش غضب میں بلاتامل دو منزلہ اور سہ منزلہ یلغار کرتا ہوا سیواس سے انگورہ کی طرف چلا۔ اس تیز رفتاری اور مسلسل سفر میں صرف ایک لاکھ بیس ہزار فوج اس کے ہمراہ رہ سکی یہی شتاب زدگی بایزید کی سب سے پہلی اور سب بڑی غلطی تھی۔ بایزید جب اپنی اس تھکی ماندی ایک لاکھ بیس ہزار فوج کو لے کر انگورہ کے متصل پہنچا ہے تو تیمور اپنی پانچ لاکھ سے زیادہ فوج کو جو خوب تازہ دم اور ہر طرح مقابلہ کے لئے تیار تھی لئے ہوئے بہترین مقام پر خیمہ زن تھا۔ تیمور نے اپنی فوج کے لئے شہر انگورہ کے شمال و مغرب میں بہتر سے بہتر موقعہ انتخاب کر لیا تھا۔ اور جہاں جہاں خندق یاد مدمے کی ضرورت تھی تیار کرا چکا تھا۔ بایزید نے تیموری لشکر گاہ کے شمال کی جانب اور یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ میں تیمور کی اس عظیم الشان فوج کو مطلق خاطر میں نہیں لاتا قریب کے ایک مرتفع پہاڑی علاقے میں لے جا کر اول شکار میں مصروف ہوا اور جنگل کا سپاہیوں سے محاصرہ کرا کر چنگیزی طریقہ سے دائرہ کو چھوٹا کرنا اور جنگلی جانوروں کو ایک مرکز کی طرف لانا شروع کرایا جہاں سلطان اور اس کے سردار جانوروں کے شکار میں مصروف تھے۔ اس حکار میں تھکی ماندی فوج کو پانی کے نہ ملنے کی سخت تکلیف برداشت کرنی پڑی اور جو وقت سپاہیوں کو آرام کرنے اور سستانے کے لئے ملنا چاہیئے تھا۔ وہ اس محنت اور تشنگی کے عالم میں بسر ہوا جس سے پانچ ہرار سپاہی پیاس کے مارے مر گئے اور فوج کے دل سے سلطان کی محبت کم ہو گئی۔ اب جو شکار سے اپنے کیمپ کی طرف واپس ہوا تو معلوم ہوا کہ کیمپ پر دشمن نے قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے جس پانی کے چشمہ پر عثمانی لشکر کا گذر ممکن تھا اس چشمہ کو اوپر سے بند لگا کر اور دوسری طرف کو اس کا رخ پھیر کر تیمور کی دور اندیشی اور تجربہ کاری نے پہلے ہی خشک کرا دیا تھا۔ بایزید اگرچہ خود بھی لڑائی میں دیر اور تامل کرنے والا نہ تھا مگر غالباً وہ اپنے کیمپ میں پہنچ کر اور کم از کم فوج کو پانی پینے کی مہلت دینے کے بعد ہی صفوف جنگ تیار کرتا مگر اب وہ تیمور کی ہوشیاری اور چالاکی کے سبب مجبور ہو گیا کہ اپنی فوج کو اسی خراب خستہ حالت میں لئے ہوئے بلاتامل دشمن پر حملہ آور ہوا۔