رومی سلطنت
جنگ انگورہ
۱۹ ذی الحجہ ۸۰۴ھ مطابق ۲۰ جولائی ۱۴۰۲ء کو بایزید و تیمور کی زور آزمائی شروع ہوئی اور مغرب کے وقت جب کہ رات شروع ہو گئی تھی لڑائی کا فیصلہ ہو گیا بایزید کے ساتھ جو فوج تھی اس کی تعداد تو سب نے ایک لاکھ بیس ہزار ہی بتائی ہے۔ لیکن تیمور کی فوج عام طور پر پانچ لاکھ سے زیادہ اور بعض مؤرخین نے آٹھ لاکھ بیان کی ہے بہر حال اگر تیمور کی فوج کو کم سے کم بھی مانا جائے تب بھی وہ بایزید کی فوج سے چوگنی ضرور تھی۔ اور اگر اس بات کو بھی مد نظر رکھا جائے کہ تیمور کی فوج سستائی ہوئی تازہ دم اور بایزید کی فوج تھکی ماندی‘ بھوکی پیاسی تھی تو دونوں کی طاقتوں کے تناسب میں اور بھی زیادہ فرق ہو جاتا ہے۔ پھر اس سے بھی بڑھ کر بایزید کی فوج کے مغلیہ دستوں نے عین معرکہ جنگ میں جو غداری دکھائی اور عیسائی سرداروں سے جو کمزوری ظہور میں آئی اس کا تصور بایزید اور تیمور کے مقابلہ کو شیر اور بکری کا مقابلہ ثابت کرتا ہے مگر یہ سب کچھ بایزید کی ناعاقبت اندیشی کا نتیجہ سمجھنا چاہیئے اور اس بات سے ہرگز انکار نہ ہونا چاہیئے کہ جنگ انگورہ میں بایزید کی بیوقوفی اور جاہلانہ جوش کی نمائش ہوئی اور تیمور کی جنگی مآل اندیشی اور دوربینی کا بخوبی اظہار ہوا۔ یہ بالکل ایک جدا بات ہے کہ ہم بایزید کی شکست سے متاسف ہوتے اور تیمور کو اس لڑائی میں خطا کار سمجھتے ہیں کیونکہ اس لڑائی کے نتائج عالم اسلام کے لیے بے حد نقصان رسان برآمد ہوئے اور یورپ جو اسلامی برا عظم بننے والا تھا۔ عیسائی برا عظم رہ گیا۔ (اناللہ و انا الیہ راجعون )
اس لڑائی کے تفصیلی حالات اور مفصل کیفیت لکھنے کو اس لیے جی نہیں چاہتا کہ خاندان عثمانیہ کو جو ایک دین دار اور پابند مذہب خاندان تھا اس لڑائی نے سو گوار بنا دیا۔ لیکن فرائض تاریخ نگاری بھی ضرور پورے ہونے چاہئیں لہٰذا مختصر کیفیت سنئے۔
امیر تیمور نے صفوف لشکر کو اس طرح آراستہ کیا کہ میمنہ پر شہزادہ مرزا شاہ رخ کو افسر مقرر کیا۔ میمنہ کی اس فوج میں جن سرداروں کی فوجیں شامل تھیں ان کے نام یہ ہیں۔ امیر زادہ خلیل سلیمان‘ امیر سلطان شاہ‘ امیر رستم برلاس سونجک بہادر‘ موسی‘ توی بوغا امیر یاد گار وغیرہ۔ میمنہ کی فوج کے لیے امیر زادہ مرزا سلطان حسین کو ایک زبردست فوج کے ساتھ کمکی مقرر کیا۔
میسرہ میں امیر نور الدین جلائر۔ امیر برمذق برلاس‘ علی قوجین‘ امیر مبشر‘ سلطان سنجر برلاس۔ عمر ابن تابان وغیرہ اپنی اپنی فوجوں کے ساتھ متعین تھے۔ میسرہ کی ان تمام فوجوں کا افسر اعلیٰ شاہزادہ میران شاہ کو مقرر کیا گیا تھا۔ میسرہ کی کمکی فوج امیر زادہ ابوبکر امیر جہاں شاہ برلاس‘ امیر توکل برلاس‘ پیر علی سلدوز کو سپرد کی گئی۔
قلب کی فوج کے داہنے حصے میں تاش تمورا غلن ازبک‘ امیر زادہ احمد جلال باورچی یوسف بابا حاجی سوجی‘ اسکندر ہندو بوغا‘ خواجہ علی ایروی‘ دولنتمور‘ محمد قوجین‘ ادریس قورچی وغیرہ شامل تھے۔ ان سرداروں کی پشت پر بیگ ولی‘ ایلچکدانی ہری ملک‘ ارغون ملک صوفی خلیل‘ ایسن تمور‘ شیخ تمور‘ سنجرو حسین و عمر بیگ پسران نیک روز‘ جون عربانی‘ بیروی بیگ قوجین‘ امیر زیرک برلاس وغیرہ امراء بطور کمکی مقرر ہوئے۔
قلب کے بائیں حصے کی سرداری امیر توکل قراقرا‘ علی محمود‘ شاہ ولی‘ امیر سونجک تنکری‘ بیزش خواجہ‘ محمد خلیل‘ امیر لقمان‘ سلطان برلاس‘ میرک ایلچی‘ پیر محمد‘ شنکرم‘ شیخ اصلان الیاس کپک خانی‘ دولت خواجہ برلاس‘ یوسف برلاس‘ علی قبچاق وغیرہ کو سپرد ہوئی۔ ان سرداروں کی کمکی فوج میں امیر زادہ محمد سلطان‘ امیر زادہ پیر محمد‘ اسکندر شاہ ملک‘ الیاس خواجہ امیر شمش الدین وغیرہ اپنی اپنی فوجوں کے ساتھ شامل تھے۔
مذکورہ بالا تقسیم و ترتیب کے علاوہ نہایت زبردست چالیس دستے تیمور نے اپنی رکاب میں جدا محفوظ رکھے تاکہ لڑائی کے وقت جس حصہ فوج کو ضرورت ہو فوراً امداد پہنچائی جا سکے۔ اس پانچ چھ لاکھ بلکہ آٹھ لاکھ فوج کے علاوہ فیلان کوہ پیکر کی بھی ایک تعداد جن کی صحیح گنتی معلوم نہیں تیمور کے پاس اس جنگ میں موجود تھی۔ ان جنگی ہاتھیوں کی صف لشکر کے آگے ایستادہ کی گئی تھی۔ سلطان بایزید خان یلدرم کے پاس کوئی جنگی ہاتھی نہ تھا۔
سلطان بایزید خان یلدرم نے میسرہ کی فوج سلیمان چلپی کو سپرد کی۔ میمنہ کی فوج کا افسر اپنے عیسائی سالے یعنی برادرزن کو بنایا۔ خود قلب کو سنبھالا۔ اور اپنے پیچھے موسیٰ و عیسیٰ و مصطفیٰ اپنے تینوں بیٹوں کو رکھا۔
طرفین سے طبل جنگ بجا اور شیران غزندہ ایک دوسرے کی طرف بڑھے۔ غریو لشکر نے ارد گرد کے ٹیلوں اور پہاڑوں کو لرزا دیا۔ گھوڑں کی ٹاپوں سے فرش زمین نے غبار ہواگیر ہو کر ابرتیرہ کی صورت اختیار کر کے تمازت آفتاب کو کم کیا۔ مگر خود شمشیر اور سنان و زرہ نے ایک دوسرے سے ٹکرا کر چنگاریاں برسائیں۔ خون کے فواروں سے چھڑکائو شروع ہوا۔ بہادروں کی اگلی صفیں چشم زدن میں مردہ لاشیں بن کر بورئیے کی طرح زمین پر بچھی ہوئی نظر آنے لگیں۔ پچھلی صفوں کے سپاہی اپنے بھائیوں کی لاشوں کو کچلتے ہوئے آگے بڑھنے اور فوراً دوسروں کے لیے فرش راہ بننے لگے۔ تیروں کی صرصراہٹ کمانوں کی چرچراہٹ تلواروں کی خچا خچ‘ نیزوں کے زرہوں میں پھنس جانے کا شور‘ شمشیروں کے آپس میں لڑ کر ٹوٹنے کی جھنکار‘ باش کہ اینک میرسم‘ ہشیار باش‘ شاباش‘ کجامیروی‘ یکے ازمن بستان بگیردنرن‘ مردانہ پیش بیا کی آوازوں کا غل۔ تلواروں اور برچھیوں کی بجلیوں کا چمکنا۔ خون کا زمین پر برسنا۔ لاشوں اور سروں کا دھڑا دھڑ گرنا۔ زخمیوں کے منہ سے کبھی کبھی باوجود ضبط آہ کا نکل جانا۔ ہاتھیوں کا چنگھاڑنا‘ گھوڑوں کا ہنہنانا۔ یہ سب مل کر ایک ایسا لطف انگیز اور مسرت خیز سماں تھا کہ خوش نصیبوں ہی کو مدت العمر میں کبھی ایک دو مرتبہ ایسے دلچسپ تماشوں کے دیکھنے یا ان میں شریک ہونے کا موقعہ مل سکتا ہے۔ ایسے تماشوں اور ایسے نظاروں کی خواہش میں بہادروں کے دل بے چین اور جواں آنکھیں نگراں رہا کرتی ہیں ایسے دلچسپ اور خون فشاں مناظر کی قدر و قیمت کا اندازہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ ہزاروں لاکھوں سر ان کی رونق بڑھانے کے لیے جسم سے جدا ہو جاتے ہیں۔ جوش مسرت اور ہجوم شادمانی کا اس سے بڑھ کر اور کیا موقعہ ہو سکتا ہے کہ جسم انسانی کا تعلق لوہے کے ساتھ حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ تلواریں خشک چمڑے کے نیام میں قیام کرنا پسند نہیں کرتیں بلکہ انسان کے زندہ گوشت میں چلنا ان کو مرغوب ہوتا ہے سنان کی خواہش میں سینے آگے بڑھتے ہیں اور برچھی کے پھل کی مشایعت میں خون کے فوارے محبت کی وجہ سے نکلتے ہیں۔ نامردوں نے سمجھ رکھا ہے کہ قیس عامری سب سے بڑا عاشق تھا جو لیلیٰ کی محبت میں مجنون بن گیا تھا۔ لیکن عشق و محبت کی حقیقت ان جواں مردوں سے پوچھو جو شمشیر دو دم پر دم دیتے۔ اور میدان جنگ میں جس طرح تلوار خون کے دریا میں نہاتی ہے اسی طرح آپ بھی غرق خون ہونے کا شوق رکھتے ہیں۔ بہادروں سے ان باتوں کی تصدیق کرو۔ نامردوں کو یہ پر لطف و پر کیف باتیں نہ سنائو کیونکہ وہ اپنا اور تمہارا وقت کج بحثی میں ضائع کر دیں گے۔
انگورہ کے میدان میں اس روز شام تک یہ دل چسپ تماشا ہوتا رہا اور آسمان و آفتاب دونوں کو حسرت رہی کہ غبار کے بادل نے حائل ہو کر ان کو بہادروں کی قابلیت جنگی اور جوان مردوں کی نہنگانہ فرہنگی کا اچھی طرح معائنہ نہ کرنے دیا۔ تیمور کی فوج میں سے شاہزادہ ابوبکر نے سلیمان چلپی پر ایک نہایت سخت حملہ کر کے ترکوں کی صفوں کو درہم برہم کر دیا۔ ابوبکر کے بعد ہی سلطان حسین نے دوسرا حملہ سلیمان پر کیا۔ ان دونوں حملوں نے کچھ کم صدمہ نہیں پہنچایا تھا۔ کہ تیسرا حملہ محمد سلطان نے کیا سلطان بایزید خان یلدرم کے میسرہ کی ایسی نازک حالت دیکھ کر بایزید کا ایک سردار محمد خان چلپی سلیمان کی مدد کے لیے بڑھا۔ تیموری لشکر کے ان سخت و شدید حملوں کو ترکی فوج نے بڑی بہادری و مردانگی کے ساتھ روکا اور مغلوں کی اس کثیر التعداد حملہ آور فوج کو تھوڑی دیر کی شمشیر زنی کے بعد اپنی مقررہ جگہ پر جو ایک سطح مرتفع تھی واپس آ جانا پڑا۔ سلطان بایزید خان یلدرم کے میسرہ پر جب یہ مصیبت آ رہی تھی تو وہ اپنی فوج کے حصہ قلب کے ساتھ مغلوں کے اس عظیم و شدید حملہ کو روک رہا تھا جو مغلوں کے قلب نے جنگی ہاتھیوں کے ساتھ بایزید پر کیا تھا۔ بایزید اس معرکہ میں اپنے انتہائی تہور کے سبب یہ بھول گیا کہ میں اپنی تمام فوج کا سپہ سالار اعظم ہوں اور مجھ کو صفوف قتال سے جدا رہ کر میدان جنگ کے ہر حصہ پر نظر رکھنی چاہیئے بلکہ اس نے ایک بہادر سپاہی کی طرح بذات خود دشمن پر رستمانہ صفوف شکن حملے شروع کر دیئے اس کی بہادر فوج نے بھی اپنے سردار کی تقلید میں صف شکنی و حریف افگنی کا خوب حق ادا کیا۔ چنانچہ بایزید نے مغلوں کے قلب کی فوج کو اپنے سامنے سے ہٹا دیا۔ اور تیمور سرداروں کو بھگا دیا۔ اب سلطان بایزید خان یلدرم کا فرض تھا کہ وہ اپنے یمین ویسار کی فوجوں کا بندوبست کرتا اور اپنی جمعیت کو بطریق احسن ترتیب دے کر آگے بڑھتا۔ لیکن اس نے اپنے مقابل کی فوجوں کو بھگا کر بے تحاشا اسی سطح مرتفع پر حملہ کیا جہاں ابوبکر و سلطان حسین وغیرہ واپس ہو کر متمکن تھے۔ تیموری شہزادے اور تیموری سردار سلطان بایزید خان یلدرم کے اس حملہ کی تاب نہ لا سکے۔ سلطان بایزید خان یلدرم نے چشم زدن میں دشمن کے چھ زبردست سرداروں کو بے دخل کر کے اس ٹیلہ پر قبضہ کر لیا۔ تیمور شروع سے آخر تک بذات خود جنگ میں شریک نہیں ہوا لیکن میدان جنگ کے ہر گوشہ پر اس کی نظر تھی۔ اس نے اس بچھی ہوئی شطرنج میں اپنے جس مہرہ کو کمزور دیکھا اسے زور پہنچایا اور جہاں سے جس مہرہ کو پیچھے ہٹانا مناسب سمجھا‘ فوراً پیچھے ہٹایا غرض اس نے انتہائی دور اندیشی اور کمال حزم و احتیاط کے ساتھ میدان جنگ کا رنگ شام تک اپنے حسب منشا بنا لینے کی کوشش کی۔ سلطان بایزید خان یلدرم کو اس طرح فاتحانہ آگے بڑھا ہوا دیکھ کر اس نے اپنے تازہ دم دستوں کی مدد سے سلطان بایزید خان یلدرم کے میمنہ اور میسرہ پر یک لخت حملہ کرا کر سلطان بایزید خان یلدرم کو اس کی فوج کے بڑے حصے سے جدا کر دیا عین اسی وقت بہت سے مغلیہ دستے جو سلطان بایزید خان یلدرم کی فوج میں شامل تھے تیموری لشکر میں شامل ہو گئے۔ جس سے سلطان بایزید خان یلدرم کے لشکر کو سخت نقصان پہنچا۔ اب تیمور نے اپنی فوج کی کثرت تعداد سے فائدہ اٹھانے کی نہایت باموقعہ کوشش کی یعنی قرنا کے ذریعہ تمام فوج کو دشمن پر حملہ آور ہونے کا حکم دیا۔ سلطان بایزید خان یلدرم کا میمنہ اور میسرہ پہلے ہی مغلوں کی بے وفائی سے سخت مجروح اور کمزور ہو چکا تھا۔ اس عام حملہ آوری نے بایزید کے میمنہ اور میسرہ کو درہم برہم کر دیا۔ بایزید کا بیٹا مصطفیٰ مارا گیا۔ اس کا برادرزن یعنی عیسائی سردار بحالت تباہ فرار ہوا اور بایزید اپنے رکابی دستہ کے ساتھ چاروں طرف سے دشمنوں میں گھر گیا۔ بایزید اور اس کے جان نثاروں نے اس حالت میں شمشیر زنی کے جو جوہر دکھائے۔ وہ انہی کا حصہ تھا۔ بایزید کی یہ کیفیت تھی کہ وہ جس طرف حملہ آور ہوتا تھا مغلوں کے ٹڈی دل کو دور دور تک پیچھے دھکیل دیتا تھا۔ کئی مرتبہ ایسی نوبت پہنچی کہ بایزید حملہ آور ہو کر اور مغلوں کی صفوں کو چیر کر اس مقام تک پہنچ گیا۔ جہاں تیمور کھڑا ہوا اپنی فوج کو حملہ کی ترغیب دے رہا تھا۔ یہاں تک کہ رات کی تاریکی شروع ہو جانے پر جب کہ بایزید کے قریباً تمام جان نثار مارے جا چکے تھے یہ عثمانی شیر بھی کمندیں ڈال کر یا گھوڑے کے ٹھوکر کھانے سے گر جانے پر گرفتار کر لیا گیا۔ اور میدان انگورہ میں اسلامی دنیا کی وہ تمام امیدیں جو سلطان بایزید خان یلدرم کی ذات سے وابستہ تھیں دفن ہو گئیں۔
اگر فطرت مسخ نہ ہو گئی ہو تو انسان کا خاصہ ہے کہ وہ بہادری کی قدر کرتا اور بہادر انسان کو محبوب رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کہ ہر ایک ملک میں شیر کو جو انسان کا ہلاک کرنے والا جانور ہے عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور لوگ اس بات خواہاں رہتے ہیں کہ ان کو شیر سے تشبیہ دی جائے۔ حالانکہ بیل اور گھوڑا انسان کے بہت کام آتے ہیں مگر کوئی شخص اپنے آپ کو بیل یا گھوڑا کہلانا پسند نہیں کرتا۔ رستم کے نام کو جو شہرت اور حضرت خالد بن ولیدt کو جو عظمت دنیا میں حاصل ہے اس کا سبب بھی وہی بہادری ہے جو فطرت انسانی کے لیے محبوب و مرغوب چیز ہے۔ رستم‘ رہنی‘ حضرت خالد بن ولید ضض‘ سلطان صلاح الدین‘ نپولین عثمان پاشا وغیرہ شیر دل انسانوں کو دنیا کے ہر ملک اور ہر قوم میں یکساں عزت و عظمت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں یورپ کی جنگ عظیم کے زمانے میں جرمن کا ایک چھوٹا سا جنگی جہاز ایمڈن نامی بحر ہند اور بحرا لکاہل کی طرف نکل آیا تھا۔ اس جہاز نے عرصہ تک غیر معمولی بہادری اور جرأت کے نمونے دکھائے اور انگریزوں کو بہت نقصان پہنچایا۔ لیکن جب اس کا کپتان گرفتار ہو کر انگلستان پہنچا ہے تو باشندگان انگلستان اس کی زیارت کے لیے ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے تھے۔ اور اس کو نہایت عزت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ہم جب شاہنامہ میں رستم کی بہادریوں کے حالات پڑھتے پڑھتے اس مقام پر پہنچتے ہیں جہاں رستم ایک پر ستارزادہ شغاد نامی کے ہاتھ سے ہلاک ہوا ہے تو ہمارا دل حزن و ملال سے لبریز ہو جاتا ہے۔ حسرت و اندوہ کا سب سے زیادہ اہم اور عظیم الشان مظاہرہ اس وقت معائنہ ہو سکتا ہے جب کہ کسی بہت بڑے بہادر کا انجام ناکامی کی شکل میں نمودار ہوا ہو غالباً سلطان بایزید خان یلدرم کا انگورہ کے میدان میں گرفتار ہو جانا بھی دنیا کا ایسا ہی عظیم الشان واقعہ ہے جس کے تصور سے بے اختیار قلب پر حسرت و اندوہ کا ہجوم چھا جاتا ہے۔
میدان انگورہ میں اگر تیمور کی شکست ہوتی تو یقیناً تیمور اور اس کے خاندان کو تو نقصان عظیم پہنچتا۔ لیکن عالم اسلام کو تیمور کی شکست سے کسی نقصان کا اندیشہ نہ تھا کیونکہ مشرقی ممالک جو تیمور کے قبضے میں تھے وہ تیمور کے بعد بھی مسلمانوں ہی کے قبضہ میں رہتے ان کی نسبت یہ اندیشہ ہرگز نہ تھا کہ اسلامی ممالک کسی غیر مذہب کی حکومت میں شامل ہو جائیں گے لیکن سلطان بایزید خان یلدرم کی شکست سے عالم اسلام کو سخت نقصان پہنچا کیونکہ یورپ کی طرف اسلامی پیش قدمی رک گئی اور نیم مردہ یورپ پھر اطمینان و سکون کے سانس لینے لگا سلطان بایزید خان یلدرم اور تیمور کی اس جنگ میں اگر سلطان بایزید خان یلدرم کو فتح حاصل ہوتی تو چونکہ سلطان بایزید خان یلدرم کی فوج چوتھائی سے بھی کم تھی اس لیے یہ لڑائی ۴۶۳ھ کی اس لڑائی کی مانند سمجھی جاتی جو ایشیائے کوچک کے میدان ملا ذکرو میں ہوئی تھی جس میں سلطان الپ ارسلان سلجوقی نے مسلمانوں کی صرف بارہ ہزار فوج سے عیسائیوں کی دو تین لاکھ فوج کو شکست دی تھی یا پانی پت کی تیسری لڑائی سے مشابہہ ہوتی جو ۱۱۷۴ھ میں ہوئی جس میں مسلمانوں کی صرف اسی نوے ہزار فوج نے ہندئوں کی پانچ چھ لاکھ فوج کو شکست فاش دی یا جنگ کسوا اور جنگ نکوپولس کی فہرست میں داخل ہوتی کیونکہ ان تمام لڑائیوں میں تھوڑی تھوڑی فوجوں نے بڑی بڑی فوجوں کو شکست فاش دی تھی۔ غالباً جنگ نکوپولس پر ہی قیاس کر کے سلطان بایزید خان یلدرم نے اپنی قلت اور تیمور کی کثرت پر کوئی لحاظ نہیں کیا۔ مگر اس نے یہ نہ سوچا تیمور اور اس کی فوج بھی تو مسلمان ہی ہے۔ جن لڑائیوں میں غیر معمولی کثرت نے حیرت انگیز قلت سے شکست کھائی ان میں ہمیشہ بڑی فوج کفار کی اور چھوٹی فوج مسلمانوں کی ہوا کرتی تھی۔ لیکن جنگ انگورہ میں چونکہ دونوں طرف مسلمان تھے اس لیے اس میں کثرت کو قلت پر غالب آنا چاہیئے تھا چنانچہ غالب ہوئی۔
تیمور بھی اگرچہ چنگیزی قوم سے تعلق رکھتا تھا اور چنگیز خان ہی کی مانند بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ملک گیرو فتح مند تھا۔ لیکن چونکہ مسلمان تھا لہٰذا اس کا وجود اور اس کی ملک گیری باوجود اس کے کہ وہ مسلمانوں ہی سے زیادہ لڑا‘ چنداں قابل شکایت نہ تھی کیونکہ مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں ایک عظیم الشان بادشاہی میں تبدیل ہو رہی تھیں۔ مسلمانوں کی اس سے بڑھ کر اور کیا خوش قسمتی ہو سکتی تھی کہ ان کی ایک عظیم الشان بادشاہی مغرب میں اور ایک مشرق میں قائم ہو گئی تھی۔ مسلمانوں کا ایک بادشاہ مغرب میں فتوحات حاصل کرتا ہوا ساحل فرانس اور دربار انگلستان تک پہنچنا چاہتا تھا اسی طرح دوسرا تیمور مشرق کی طرف متوجہ ہو کر ساحل چین اور بحیرہ جاپان تک فتوحات حاصل کرتا ہوا چلا جاتا تو تمام دنیا کے فتح ہو جانے اور اسلام کے زیر سایہ آ جانے میں کوئی کلام نہ تھا کیونکہ جس طرح مشرق میں کوئی تیمور کا مد مقابل نہ تھا۔ اسی طرح مغرب میں کوئی طاقت سلطان بایزید خان یلدرم کی ٹکر سنبھالنے والی نہ تھی۔ مگر افسوس ہے کہ انگورہ کے میدان نے ان دونوں مسلم بادشاہوں کو اپنی طرف کھینچا اور یہ دنوں آپس میں ٹکرائے۔ سمندر میں دو جہازوں کا ٹکرانا خشکی میں دو نہایت تیز رفتار ریل گاڑیوں کا حالت گرم رفتاری میں مقابل سمتوں سے آ کر متصادم ہونا۔ دو مست ہاتھیوں کا آپس میں ٹکریں لڑنا دو خوں خوار ببر شیروں کا ایک دوسرے پر حملہ آور ہونا بلاشک بڑی ہی ہیبت ناک اور زہرہ شگاف مناظر ہوتے ہیں لیکن انگورہ کے میدان میں تیمور و بایزید دو مسلمان بادشاہوں‘ دنیا کے دو عظیم الشان فتح مندوں دنیا کے دو سب سے بلند بہادروں کا ایک دوسرے سے نبرد آزما ہونا سب سے بڑھ کر ہیبت ناک اور سب سے زیادہ زہرہ شگاف نظارہ تھا۔ دو پہاڑ اپنی اپنی جگہ سے حرکت کر کے ایک دوسرے کو ریزہ ریزہ کر دنیے کے لیے میدان انگورہ کی طرف بڑھے تھے یا دو سمندر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے جوش میں آ گئے تھے۔ بہر حال جنگ انگورہ دنیا کا ایک نہایت عظیم الشان اور لانظیر واقعہ ہے۔
اس لڑائی میں سلطان بایزید خان یلدرم کا بیٹا موسیٰ بھی باپ کے ساتھ قید ہو گیا تھا۔ شہزادہ محمد اور شہزادہ عیسیٰ جنگ سے بھاگ کر اپنی جان بچا سکے تھے۔ تیمور نے سلطان بایزید خان یلدرم کو ایک قفس آہنی میں قید کیا اور اس لڑائی کے بعد اسی حالت قید میں اس کو اپنے ساتھ ساتھ سفر میں لیے پھرا۔ سلطان بایزید خان یلدرم کو جو ایک عالی جاہ بادشاہ تھا اس طرح ذلت کے ساتھ قید کرنا اور اس کی تشہیر و رسوائی سے لطف حاصل کرنا تیمور کے شریفانہ اخلاق پر ایک سیاہ اور مکروہ دھبہ ہے۔ بہادروں اور شریفوں کو جب اپنے دشمن پر پورا پورا قابو حاصل ہو جاتا ہے تو وہ اس مجبور و مغلوب دشمن پر ہمیشہ احسان کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔ سلطان الپ ارسلان سلجوقی نے جب قیصر قسطنطنیہ کو ملا ذکرو کے میدان جنگ میں گرفتار کیا تو اس کو نہایت عزت و احترام کے ساتھ رخصت کیا اور اس کے مقبوضہ ملک کا پھر اس کو فرماں روا بنا دیا۔ سکندر یونانی کے سامنے جب پنجاب کا راجہ گرفتار ہو کر آیا تو اس نے صرف یہ کہ پنجاب کا ملک ہی اس کو دیا ہو بلکہ اس میں اور بھی ملک اپنی طرف سے اضافہ کر کے اس کو پنجاب کا فرماں روا بنا دیا خود سلطان بایزید خان یلدرم نے نکوپولس کے میدان جنگ میں ۲۵ شہزادوں کو گرفتار کیا اور پھر سب کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ جائو اب دوبارہ پھر اچھی طرح میرے مقابلے کے لیے تیاری کرو۔ افسوس کہ ایسے بے نظیر بہادر اور ایسے مجاہد اسلام پر قابو پا کر تیمور نے جو سلوک اس کے ساتھ کیا۔ اس سے تیمور کی بہادری و ملک گیری کا مرتبہ نگاہوں سے گر جاتا ہے۔ تیمور نے سلطان بایزید خان یلدرم کو اس طرح کٹہرے میں رکھا جس طرح شیروں کو کٹہرے میں بند رکھا جاتا ہے۔ اس سے ایک شاعرانہ تسکین بخش تخیل ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس نے اس عثمانی شیر کو شیر ہی سمجھ کر قفس آہنی میں بند کیا تھا لیکن اس کا کوئی جواب نہیں ہو سکتا کہ تیمور کی آدمیت انسان و حیوان میں کوئی فرق نہ دیکھ سکی۔
سلطان بایزید خان یلدرم کو جنگ انگورہ کے نتیجے میں جو ذلت سہنی پڑی وہ معمولی نہ تھی اور اسی لیے وہ اس سخت و شدید قید میں آٹھ مہینے سے زیادہ نہ رہ سکا۔ تیمور نے سلطان بایزید خان یلدرم کے فوت ہو جانے پر صرف اس قدر انسانیت کا کام کیا کہ سلطان بایزید خان یلدرم کی لاش اس کے بیٹے موسیٰ کو جو قید میں موجود تھا سپرد کی اور اس کو آزاد کر کے اجازت دی کہ اپنے باپ کی لاش کو بروصہ میں لے جا کر دفن کرے۔ تیمور کی تمام ترک و تاز اور فتح مندیاں مسلمان سلاطین کو زیر کرنے اور مسلمانوں کے شہروں میں قتل عام کرانے میں محدود رہیں۔ اور اس کو یہ توفیق میسر نہ آ سکی کہ غیر مسلموں پر جہاد کرتا یا غیر مسلم علاقوں میں اسلام پھیلاتا۔ سلطان بایزید خان یلدرم کے فوت ہونے کے بعد تیمور بھی زیادہ دنوں نہیں جیا۔ وہ سمر قند پہنچ کر چین کے ملک پر چڑھائی کرنے کے ارادے سے روانہ ہوا اور اس کی یہی چڑھائی ایسی تھی جو اس نے غیر مسلم علاقے پر کی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو پورا نہ ہونے دیا اور راستے ہی میں اس کا انتقال ہو گیا۔
جنگ انگورہ کا ذکر خود تیمور نے بھی اپنی توزک میں کیا ہے مگر نہایت ہی مجمل و مختصر۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سلطان بایزید خان یلدرم کی وفات کے بعد تیمور کو اپنی اس حرکت پر سخت افسوس ہوا کہ اس نے عثمانی سلطان کو کیوں تباہ و برباد کیا۔ اگر توزک تیموری کو بغور مطالعہ کیا جائے تو اس سے اس بات کا بھی اندازہ ہو سکتا ہے کہ سلطان بایزید خان یلدرم کی گرفتاری کو اس زمانے کے تمام مسلمانوں نے نہایت نفرت اور رنج کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ اسی لیے تیمور جنگ انگورہ کے متعلق تفصیل اور فخر و مباہات کے جملوں سے قطعاً احتراز کرتا ہے اور ممکن ہے کہ اسی جرم عظیم کی تلافی کے لیے اس نے ملک چین کی فتح کا ارادہ کیا ہو جو پورا نہیں ہو سکا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
سلطان بایزید خان یلدرم کا بیان کسی قدر طویل ہو گیا ہے۔ لیکن مجھ کو قارئین کرام سے توقع ہے کہ وہ اس بیان کے طویل ہو جانے میں مجھ کو زیادہ مجرم نہ ٹھہرائیں گے۔ سلطان بایزید خان یلدرم اور جنگ انگورہ کے حالات لکھتے ہوئے مجھ کو بار بار اس بات کا احساس ہوا ہے کہ اس موقعہ پر تاریخ اسلام کے اس اختصار و ایجاز کا تناسب بگڑا جا رہا ہے جو اب تک اس تاریخ کی نگارش میں مد نظر رہا ہے لیکن ان حالات کی اہمیت یقیناً اس طوالت کو جائز قرار دے رہی ہے۔