رومی سلطنت
سلطان بایزید خان یلدرم کے بیٹوں کی خانہ جنگی
جنگ انگورہ کے بعد سلطنت عثمانیہ کے تباہ و برباد ہو جانے میں بظاہر کوئی کسر باقی نہیں معلوم ہوتی تھی کیونکہ تیمور نے ایشیائے کوچک کے بہت سے علاقے ان سلجوقی خاندانوں کے رئیسوں کو دے دیئے تھے۔ جو سلطنت عثمانیہ سے پہلے ایشیائے کوچک میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں رکھتے تھے بعض علاقوں میں اس نے اپنی طرف سے نئی ریاستیں قائم کر دی تھیں۔ سلطان بایزید خان یلدرم جب ایشیائے کوچک کی طرف تیمور کے مقابلہ کے لیے آیا تھا۔ تو اپنے سب سے بڑے بیٹے سلیمان کو ایڈریا نوپل میں انپا قائم مقام بنا آیا تھا۔ جنگ انگورہ کے نتیجہ سے مطلع ہو کر عیسائیوں نے اپنے علاقوں کو پھر واپس لینے کی جرأت کی۔ اور ایڈریا نوپل اور اس کے نواحی علاقوں کے سوا باقی حصہ یورپی مقبوضات کا سلطنت عثمانیہ سے نکل گیا۔ قیصر قسطنطنیہ نے بھی جو اس جنگ کے نتیجہ کا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا اپنے مقبوضات کو وسیع کیا اور یورپ کے عیسائیوں کو اطمینان کا سانس لینا نصیب ہوا۔ مگر عثمانیوں کے ساتھ گذشتہ زمانے میں جو لڑائیاں ہو چکی تھیں ان کا رعب پھر بھی عیسائیوں کے دلوں پر اس قدر غالب تھا کہ وہ عثمانیوں کو ایڈریا نوپل سے خارج کرنے پر فوراً آمادہ نہ ہو سکے۔ سلطنت عثمانیہ کا رقبہ بہت ہی محدود و مختصر رہ گیا تھا۔ جس میں ایک چھوٹا سا ٹکڑا یورپ کا ایک چھوٹا سا حصہ ایشیائے کوچک کا شامل تھا۔ پھر سب سے بڑی مصیبت یہ پیش آئی کہ سلطان بایزید خان یلدرم کے بیٹوں میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔
سلطان بایزید خان یلدرم کے سات یا آٹھ بیٹے تھے جن میں سے پانچ چھ انگورہ کے بعد باقی رہے جن کے نام یہ ہیں۔ سلیمان خان جو ایڈریا نوپل میں باپ کا قائم مقام تھا۔ موسیٰ جو باپ کے ہمراہ قید تھا۔ عیسیٰ جو جنگ انگورہ سے بچ کر بروصہ کی طرف بھاگ آیا اور یہاں کا حاکم بن بیٹھا تھا۔ محمد جو بایزید کا سب سے چھوٹا اور سب سے لائق بیٹا یہ ایشیائے کوچک ہی کے ایک دوسرے شہر میں حکومت کرنے لگا۔ قاسم جو کوئی حوصلہ نہ رکھتا تھا اور محمد یا عیسیٰ کے ساتھ رہتا تھا۔ اس طرح بایزید کی گرفتاری کے بعد ایشائے کوچک کے بچے ہوئے عثمانی علاقے میں محمد اور عیسی دونوں الگ فرماں روائی کرنے لگے۔ اور یورپی علاقے پر سلیمان قابض رہا۔ بہت ہی جلد عیسیٰ اور محمد میں لڑائی ہوئی تاکہ اس بات کا فیصلہ ہو سکے کہ ایشیائے کوچک کے عثمانی مقبوضہ پر ان دونوں میں سے کون فرماں روائی کرے گا۔ سخت خوں خوار جنگ کے بعد محمد نے عیسیٰ کو شکست دے کر بروصہ پر قبضہ کر لیا اور عیسیٰ ایشیائے کوچک میں سے بھاگ کر اپنے بھائی سلیمان کے پاس ایڈریا نوپل میں پہنچا کہ اس کو محمد کے اوپر ایشیائے کوچک میں چڑھا کر لائے۔ چنانچہ سلیمان اپنی فوچ لے کر ایشیائے کوچک میں آیا اور بروصہ وانگورہ کو فتح کر لیا۔ کس قدر عبرت کا مقام ہے کہ سلطان بایزید خان یلدرم تیمور کی قید میں سختی و ذلت برداشت کر رہا تھا اور اس کے بیٹے آپس میں مصروف جنگ تھے کہ سلطنت کے بچے ہوئے چھوٹے سے ٹکڑے پر کون فرماں روائی کرے۔ وہ جس وقت آپس میں چھری کٹاری ہو رہے تھے تو ان کو یقیناً اپنے باپ کا مطلق خیال نہ آتا تھا اور وہ اس کی تکلیفوں اور ذلتوں کا کوئی تصور نہ کرتے تھے ورنہ اس طرح آپس میں ایک دوسرے کے خون کی خواہش نہ کرتے۔ انہیں ایّام میں جب کہ سلیمان ایشیائے کوچک میں آ کر محمد سے لڑ رہا تھا۔ جنگ انگورہ کے آٹھ ماہ بعد سلطان بایزید خان یلدرم نے قید میں وفات پائی اور تیمور نے اس کے بیٹے موسیٰ کو قید سے رہا کر کے باپ کی لاش کے لے جانے کی اجازت دی۔ موسیٰ باپ کی لاش لئے ہوئے آ رہا تھا کہ راستہ میں قرمانیہ کے سلجوقی رئیس نے موسیٰ کو گرفتار کر لیا۔ محمد نے جو سلیمان سے شکست کھا کر ملک میں آوارہ اور سلیمان کے مقابلہ کے لئے طاقت بہم پہنچانے کی فکر میں تھا اس خبر کو سن کر فرماں روائے قرمانیہ کو لکھا کہ آپ براہ کرم میرے بھائی موسیٰ کو رہا کر دیجئے تاکہ میں اور وہ دونوں مل کر سلیمان کا کچھ تدارک کر سکیں۔ حاکم قرمانیہ نے سلیمان اور اس کے بھائیوں میں معرکہ آرائی کو اس لئے غنیمت سمجھا کہ عثمانی سلطنت کی رہی سہی طاقت اس خانہ جنگی سے زائل ہو سکے گی۔ چنانچہ اس نے محمد خان کی سفارش کو فوراً قبول کر کے اس کے بھائی موسیٰ کو رہا کر دیا۔ جو باپ کی تدفین سے فارغ ہوتے ہی فوراً اپنے بھائی محمد خاں سے آ ملا۔ موسیٰ چونکہ باپ کے ساتھ قید میں رہا تھا اس لئے اس کی قبولیت عثمانی امراء اور سپاہیوں میں قدرتاً زیادہ تھی۔ اس کے شریک ہوتے ہی محمد خان کی طاقت بڑھ گئی اور بڑے زور شور سے ایشیائے کوچک کے میدانوں میں لڑائیوں کا سلسلہ جاری ہوا ایک طرف محمد و موسیٰ اور دوسری طرف سلیمان و عیسیٰ تھے۔ آخر عیسیٰ تو انہی لڑائیوں میں کام آیا مگر سلیمان نے اپنے دونوں مقابل بھائیوں کو اپنے اوپر چیرہ دست نہ ہونے دیا۔ کئی مرتبہ محمد و موسٰی کو شکست بھی ہوئی۔ آخر موسیٰ نے اپنے بھائی سے کہا کہ آپ مجھ کو تھوڑی سی فوج دے کر یورپی علاقے میں بھیج دیجئے تاکہ میں وہاں جا کر قبضہ کروں اور سلیمان کو مجبوراً ایشیائے کوچک چھوڑ کر اس طرف متوجہ ہونا پڑے۔ محمد کو بھائی کی یہ رائے بہت پسند آئی۔ چنانچہ موسیٰ فوج لے کر ایڈریا نوپل پہنچ گیا یہ خبر سنتے ہی سلیمان بھی اس طرف متوجہ ہوا اور موسیٰ و سلیمان میں ایک خونخوار جنگ ہوئی سلیمان چونکہ بڑا بیٹا تھا۔ اور اپنے آپ کو تمام سلطنت عثمانیہ کا کا واحد فرماں روا سمجھتا تھا لہٰذا اس کو فوجی سرداروں کے ساتھ غیر معمولی رعایتیں کرنے اور ان کو خوش رکھنے کا زیادہ خیال نہ آتا تھا۔ لیکن موسیٰ و محمد چونکہ سلیمان سے حکومت چھیننا چاہتے تھے اور چھوٹا ہونے کی وجہ سے اپنے حق کو خود بھی پست تر جانتے تھے لہٰذا ان کا برتائو اپنی فوج کے ساتھ بہت ہی اچھا تھا اور یہ اپنے فوجی سرداروں کے خوش رکھنے اور ان کی عزتیں بڑھانے میں کسی موقعہ کو فروگذاشت نہ ہونے دیتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فوجی سرداروں نے سلیمان پر موسیٰ کو ترجیح دی اور انہی کی وجہ سے سلیمان کو موسیٰ کے مقابلے میں شکست فاش حاصل ہوئی۔ سلیمان شکست یاب اور مفرور ہو کر قسطنطنیہ کے قیصر کی خدمت میں جا رہا تھا کہ راستے میں ۸۱۳ھ میں گرفتار ہو کر مقتول ہوا۔ اب صرف دو بھائی باقی رہ گئے یعنی محمد اور موسیٰ۔ سلطنت عثمانیہ کا یورپی حصہ موسیٰ کے قبضے میں آ گیا اورایشیائی حصے پر محمد قابض رہا۔
موسیٰ کو چونکہ یہ معلوم تھا کہ قیصر مینوٹل پلیولوگس فرماں روائے قسطنطنیہ سلیمان کی طرف داری کرتا تھا اور اسی لئے سلیمان اس کے پاس بھاگ کر جانا چاہتا تھا لہٰذا اس نے ارداہ کر لیا کہ قیصر قسطنطنیہ کو بھی سزا دے مگر اس سے پہلے اس کے لئے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ اسٹیفن حاکم سرویا کو سزا دے کیونکہ اسٹیفن حاکم سرویا نے علانیہ سلیمان کی حمایت کی تھی۔ لہٰذا اس نے اول سرویا پر چڑھائی کی اور سرویا کی فوج کو میدان جنگ میں ایسی شکست فاش دی کہ اس کی کمر ٹوٹ گئی اور پھر سرحدی اضلاع میں عثمانیوں کا رعب اور عیسائیوں کے دلوں میں خوف طاری ہو گیا۔ موسیٰ کا یہ حملہ جو اس نے سرویا پر کیا سلطنت عثمانیہ کے لئے بہت ہی مفید ثابت ہوا کیونکہ اس سے یورپ کے عیسائیوں کا وہ خیال کہ اب عثمانی بہت کمزور ہو گئے ہیں بدل گیا۔ اس کے بعد موسیٰ نے قسطنطنیہ پر چڑھائی کر کے محاصرہ کر لیا اور قیصر قسطنطنیہ کو سزا دینا ضروری سمجھا قیصر نیوٹل بھی بہت ہوشیار اور چوکس آدمی تھا۔ اس نے اس فرصت میں محمد خان کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھا لئے تھے جو ایشیائے کوچک میں تنہا قابض و فرمانروا ہو کر کافی طور پر مضبوط ہو چکا تھا۔ اور ان چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو جو تیمور نے قائم کر دی تھیں۔ اپنی حکومت میں شامل کر رہا تھا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا تھا کہ موسیٰ و محمد دونوں بھائی اس تقسیم پر رضا مند ہیں کہ موسیٰ یورپی علاقے پر قابض رہے اور محمد ایشیائی علاقے میں حکومت کرے اگرچہ اس کے متعلق کوئی معاہدہ اور باقاعدہ فیصلہ نہ ہوا تھا۔ مگر قیصر کی ریشہ دوانیوں اور چالاکیوں نے بہت ہی جلد ایک پیچیدگی پیدا کر دی۔ جب موسیٰ نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تو قیصر نے محمد خان سے امداد و اعانت طلب کی اور محمد خان نے بلاتامل اس محاصرہ کے اٹھانے کے لئے یورپ کے ساحل پر فوج لے کر جانا ضروری سمجھا۔ اس طرح قسطنطنیہ کے محاذ جنگ پر یورپی ترک اور ایشیائی ترک آپس میں مصروف جنگ ہوئے اور دونوں بھائیوں میں مخالفت کی بنیاد رکھی گئی۔ ابھی موسیٰ کا محاصرہ بدستور قائم تھا کہ محمد خان کو اپنے ایشیائی علاقے میں ایک ماتحت رئیس کے باغی ہونے کی خبر پہنچی اور وہ فوراً ایشیائے کوچک میں بغاوت فرو کرنے چلا گیا۔ یہ بغاوت موسیٰ کے اشارے سے ہوئی تھی تاکہ محمد خان ایک عیسائی بادشاہ کی مدد نہ کر سکے۔ محمد خان بہت جلد بغاوت کے فرو کرنے کامیاب ہوا ادھر اس کی غیر موجودگی میں موسیٰ نے محاصرہ میں سختی کی اور قیصر قسطنطنیہ کا حال بہت ہی پتلا ہونے لگا۔ محمد خان فارغ ہو کر دوبارہ قسطنطنیہ پہنچ گیا۔ اور اس نے اسٹیفن شاہ سرویا کو لکھا کہ تم موسیٰ کے خلاف خروج کرو ہم تمھاری مدد کریں گے۔ محمد خان کا سہارا پا کر شاہ سرویا جو پہلے ہی سے موسیٰ کے ذریعہ سے آزار رسیدہ تھا اٹھ کھڑا ہوا۔ موسیٰ کو جب شاہ سرویہ کے خروج کا حال معلوم ہوا تو وہ قطنطنیہ سے محاصرہ اٹھا کر سرویا کی طرف متوجہ ہوا ادھر سے اس کے متعاقب محمد خان اپنی فوج لے کر پہنچا۔ سرویا کی جنوب سرحد پر مقام جرلی کے میدان میں دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ موسی لڑائی میں مارا گیا۔ اور محمد خان ابن سلطان بایزید خان یلدرم مظفر و منصور ہو کر ایڈریا نوپل میں تخت نشین ہوا اور تمام عثمانیہ مقبوضات میں وہی تنہا فرماں روا تسلیم کیا گیا۔ چونکہ اب سلطان بایزید خان یلدرم کی اولاد میں وہی تنہا قابل حکومت شخص رہ گیا تھا۔ لہٰذا خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا۔ محمد خان نے ایڈریا نوپل میں تخت نشین ہو کر اپنی رعایا‘ فوج اور سرداروں سے وفاداری کا حلف لیا اور سلیمان کے بیٹے کو جس سے بغاوت کا قوی اندیشہ تھا نیز اپنے بھائی قاسم کو جو بروصہ میں مقیم تھا۔ محض اس لئے کہ آئندہ فتنہ برپا نہ ہو سکے اندھا کرا دیا اور نابینا کرانے کے بعد ان کو نہایت آرام و عزت و آسائش سے رکھا۔ یہ واقعات ۸۱۶ھ میں وقوع پذیر ہوئے۔ اس طرح جنگ انگورہ کے بعد گیارہ سال تک خاندان عثمانیہ میں خانہ جنگی کا سلسلہ جاری رہا۔ اس گیارہ سال کی خانہ جنگی میں سلطنت عثمانیہ کا قائم رہنا اور پھر ایک شاندار مضبوط بادشاہی کی شکل میں نمودار ہو جانا دنیا کے عجائبات میں سے شمار ہوتا ہے۔ تاریخ عالم میں بہت ہی کم ایسی مثالیں نظر آ سکتی ہیں کہ اتنے بڑے دھکے کو سہہ کر اور ایسے خطرناک حالات میں گزر کر اتنی جلد کسی خاندان یا کسی قوم نے اپنی حالت کو سنبھال لیا ہو۔