ہجرت کا پانچواں سال

اسیران جنگ کی رہائی

بنی المصطلق کے سردار حارث کی بیٹی جویریہ( رضی اللہ عنھا )‘ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں‘ حارث چند روز بعد خود مدینے میں آیا اور اپنی بیٹی کو آزاد کرانے کی خواہش ظاہر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جویریہ رضی اللہ عنھا کو فدیہ دے کر رہا کرا دیا۔ جویریہ رضی اللہ عنھا نے باپ کے ہمراہ جانے کے مقابلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں رہنا پسند کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جویریہ رضی اللہ عنھا کے منشاء کے موافق اور حارث رضی اللہ عنہ کی رضا مندی سے جویریہ رضی اللہ عنھا کے ساتھ نکاح کر لیا‘ اس نکاح کا نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے بنی المصطلق کے تمام اسیروں کو یہ کہہ کر آزاد کر دیا کہ جو قبیلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا رشتہ دار بن گیا ہے ہم اس کو قیدی یا غلام نہیں رکھ سکتے‘ ساتھ ہی تمام مال غنیمت بھی واپس کر دیا‘ اس طرح ایک قبیلہ کے ساتھ اس نکاح کی وجہ سے دشمنی کی جگہ محبت پیدا ہو گئی۔