ہجرت کا پانچواں سال

یہود کی گوشمالی

اس جگہ یہ بات ذہن نشین کرنے کے قابل ہے کہ بنی نضیر جب سے جلاوطن ہو کر خیبر اور شام کی طرف چلے گئے تھے انہوں نے مسلسل اپنی کوششوں اور ریشہ دوانیوں کو مسلمانوں کے خلاف جاری رکھا‘ انہیں کوششوں سے عرب کے مشرک اور یہودی قبائل جا بجا مسلمانوں کی بیخ کنی کے لیے آمادہ ہونے لگے اور انہیں کی ریشہ دوانیوں کا نتیجہ تھا کہ سرحد شام پر عیسائی فوجیں بھی مسلمانوں کو خطرے کی نظر سے دیکھنے لگیں‘ چونکہ مسلمانوں کے خلاف تمام ملک عرب اور تمام اعرابی قبائل برانگیختہ کر دئیے گئے تھے اور جا بجا تمام ملک عرب میں مسلمانوں کی بیخ کنی کے سامان ہونے لگے تھے‘ لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ملک کے ہر حصے اور ہر قبیلے سے باخبر رہنے کی کوشش فرماتے تھے اورجہاں کہیں خطرے اور فتنے کے قوی ہونے کا احتمال ہوتا تھا اپنی اسلامی فوج کے ساتھ پہنچ کر اس فتنے کو قوی ہونے سے پہلے دبا دیتے تھے۔