ہجرت کا گیارہواں سال

وفات

اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک پیالہ پانی سے بھرا ہوا رکھا تھا‘ اپنا دست مبارک اس سے تر فرما کر چہرہ مبارک پر پھیرتے اور فرماتے تھے اللھم اعنی علی سکرات الموت (اے اللہ سکرات موت میں میری مدد کر) سیدنا ام المومنین بار بار آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا چہرہ دیکھتی جاتی تھیں کہ یکایک آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی آنکھیں پتھرا گئیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک پر اس وقت الرفیق الا علی من الجنۃ جاری تھا۔۲؎ دوپہر کے قریب بروز دو شنبہ ۱۲ ربیع الاول ۱۱ ھ کو اس دار فانی سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انتقال فرمایا‘ اگلے دن سہ شنبہ کو دوپہر کے قریب مدفون ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے انتقال کے وقت سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ موجود نہ تھے‘ وہ اپنے اہل و عیال کے پاس اپنے مکان پر جو مقام سنح میں تھا گئے ہوئے تھے‘ اس خبر کو جو شخص سنتا تھا حیران و ششدر رہ جاتا تھا۔