ہجرت کا گیارہواں سال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حالت
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فاروق رضی اللہ عنہ کے بھی ہوش و حواس بجا نہ رہے۔۳؎ وہ اپنی تلوار کھینچ کر کھڑے ہو گئے اور بلند آواز سے کہنے لگے: ان رجالا من المنافقین زعمواان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مات و انہ ذھب الی ربہ کماذھب موسی ولیر جعن فیقطعن ایدی رجال وارجلھم ’’منافقوں کے چند لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم انتقال فرما گئے حالانکہ وہ فوت نہیں ہوئے‘ وہ اپنے رب کے پاس اس طرح گئے ہیں جس طرح موسیٰ علیہ السلام گئے تھے‘ وہ ضرور واپس آئیں گے اور کچھ لوگوں کے ہاتھ اور پائوں کاٹیں گے‘‘ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ جوش اور غضب کی حالت میں اسی قسم کی باتیں کر رہے تھے اور کسی کی مجال نہ تھی کہ ان سے یہ کہتا کہ تم اپنی تلوار نیام میں کر لو‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا انتقال ہو گیا ہے‘ اتنے میں سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ آ پہنچے اور سیدھے حجرہ مبارک میں گئے‘ پیشانی مبارک کا بوسہ لے کر اور بغور دیکھ کر کہا کہ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر قربان ہوں بے شک آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس موت کا ذائقہ چکھا جس کو اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے مقدر فرمایا تھا‘ اور اب ہرگز اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو موت نہ آئے گی پھر انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھتے ہوئے باہر آئے۔۱؎