ہجرت کا گیارہواں سال

نماز جنازہ و تجہیز و تکفین

جب غسل دے کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی تجہیز سے فراغت ہوئی تو صحابہ رضی اللہ عنھم میں اختلاف ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو کہاں دفن کیا جائے‘ بعض کہتے تھے کہ مسجد میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دفن کیا جائے‘ بعض کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے مکان میں‘ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا ہے کہ ہر ایک نبی صلی اللہ علیہ و سلم اسی جگہ دفن کیا گیا ہے جہاں اس کی روح قبض کی گئی ہے۔۲؎ لوگوں نے یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرش کو جس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا انتقال ہوا تھا اٹھا دیا اور اسی جگہ قبر کھودی گئی‘ قبر بغلی کھودی گئی‘ جب قبر تیار ہو گئی تو جنازہ کی نماز پڑھنی شروع ہوئی‘ اول مردوں نے پھر عورتوں نے پھر لڑکوں نے نماز جنازہ پڑھی‘ کسی نے کسی کی امامت نہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے مرض کی شدت اور پھر انتقال کا حال سن کر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور ان کے تمام لشکر والے مدینے میں چلے آئے تھے اور فوجی علم حجرہ مبارک کے دروازے پر کھڑا کر دیا گیا تھا‘ نماز جنازہ چونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے حجرے میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا انتقال ہوا اور جہاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر تیار ہوئی تھی پڑھی گئی‘ لہذا ظاہر ہے کہ تمام مسلمان جو مدینے میں موجود تھے ایک مرتبہ نماز نہ پڑھ سکتے تھے‘ پھر یہ نماز جنازہ کسی کے زیر امامت بھی ادا نہیں ہوئی بلکہ الگ الگ ادا کی گئی‘ لہٰذا یہ کسی طرح ممکن ہی نہ تھا کہ تمام مسلمان جو مدینہ میں موجود تھے تمام لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ ‘ تمام عورتیں‘ تمام لڑکے‘ تمام غلام گروہ در گروہ حجرہ میں آ آ کر نماز جنازہ پڑھتے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم انتقال کے بعد فوراً ہی دفن کر دئیے جاتے‘ نماز جنازہ کا سلسلہ یقینا اگلے دن تک برابر جاری رہا ہو گا اور اس لیے اس پر ذرا بھی تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات دو شنبہ کو ہوئی اور آپ اگلے روز سہ شنبہ کو دفن کئے گئے‘ بعض ضعیف روایتوں میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سہ شنبہ اورچہار شنبہ کی درمیانی شب میں دفن کئے گئے‘ جو اسلامی حساب کے موافق چہار شنبہ کی شب تھی‘ تب بھی کسی حیرت اور تعجب کا مقام نہیں ہے‘ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے دفن میں اس طرح ۳۶ گھنٹہ کا فاصلہ زیادہ سے زیادہ مانا جا سکتا ہے‘ اور وہ جو اس حالت کے اعتبار سے جو اوپر مذکورہ ہوئی کچھ زیادہ نہیں ہے۔