ہجرت کا گیارہواں سال
سقیفہ بنی ساعدہ
اس کے بعد خبر پہنچی کہ سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار مجتمع ہیں اور وہ سب سعد بن عبادہ کی بیعت کیا چاہتے ہیں اور بعض انصار یہ بھی کہتے ہیں۔ منا امیر و من قریش امیر‘ (ایک ہم میں سے امیر ہو گا۔۱؎ ایک قریش میں سے امر ہو گا) یہ خبر سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر رضی اللہ عنہ معہ ایک گروہ مہاجرین کے اس نامناسب حالت کی اصلاح اور روک تھام کے لیے سقیفہ بنو ساعدہ کی طرف روانہ ہوئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ و عباس رضی اللہ عنہ و اسامہ رضی اللہ عنہ و فضل بن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے قریبی رشتہ داروں کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وصیت کے موافق تجہیز و تکفین کے اہتمام پر متعین فرما گئے‘ سیدنا علی نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو غسل دیا‘ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے دونوں لڑکے کروٹ بدلواتے جاتے اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ پانی ڈالتے جاتے تھے۔