خلافت راشدہ

کسی قوم قبیلہ یا خاندان سے خلافت کا تعلق

قرآن کریم میں صاف طور پر ارشاد الٰہی ہے کہ۔: {یٰٓــاََیُّہَا النَّاسُ اِِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ اِِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ} (الحجرات : ۴۹/۱۳) (اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہارے کنبے اور قبیلے اس لیے بنائے کہ ایک دوسرے کی تمیز ہو سکے‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں بہت بزرگ وہ ہے جو بہت متقی ہے‘ اللہ خوب جاننے والا اور خبردار ہے) اسلام نے دنیا میں لوگوں کے خاندانی مفاخر اور قومی بڑائیوں‘ اور فضیلتوں کو مٹا کر ایک ہی قوم بنانی چاہی ہے‘ {اِِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِِخْوَۃٌ} (الحجرات : ۴۹/۱۰) فرما کر تمام برادریوں کی ایک برادری اور تمام قوموں کی ایک قوم بنا دی ہے‘ اور اس قوم کا نام مسلمان یا مومن قوم ہے۔ ساری دنیا میں قومیں اور خاندان تعلیم اسلام کے موافق اگر ہو سکتے ہیں تو دو ہی ہو سکتے ہیں‘ ایک مومن و مسلم‘ دوسرے کافرو مشرک‘ توحید کے دائرہ میں داخل ہو کر تفریق قومی بے حقیقت سی ہو جاتی ہے‘ قوموں اور قبیلوں کی تفریق اس سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی کہ ہم ایک دوسرے میں تمیز کرنے اور ایک دوسرے کا پتہ دینے میں سہولت بہم پہنچا سکتے ہیں اور بس‘ عزت و تکریم اور حکومت و برتری خدائے تعالیٰ کی جانب سے ہمیشہ مستحق عزت اور مستحق تکریم لوگوں کو عطا ہوا کرتی ہے‘ خواہ وہ کسی قبیلہ اور کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں‘ استحقاق تکریم کے لیے تقوی اور ایمان شرط ہے‘ حکومت و خلافت کے لیے بھی خدائے تعالیٰ نے علم‘ صحت و قوت جسمانی (کیونکہ صحیح عقل ہمیشہ صحیح جسموں میں ہوتی ہے تقویٰ‘ عدل‘ اصلاح وغیرہ شرائط کو ضروری قرار دیا ہے‘ کسی قوم قبیلے کی شرط ہرگز نہیں لگائی۔ اسلام نے انصار کو مہاجرین کا بھائی بنا دیا‘ اسلام نے ابوجہل جیسے قریش کو باشندگان مدینہ کے نوجوانواں کا مقتول بنایا‘ اسلام نے بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو اشراف عرب پر فضیلت دی‘ اسلام نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا سردار اور مطالع بنا دیا‘ اسلام نے بادشاہ اور غلام کو پہلو بہ پہلو ایک صف میں کھڑا کیا۔ اسلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ اعلان کرایا کہ اگر فاطمہ رضی اللہ عنھا بنت رسول اللہ سے بھی خدانخواستہ چوری کا ارتکاب ہو گا اس کا ہاتھ بالکل اسی طرح کاٹا جائے گا جس طرح کسی دوسری چور عورت کا۔۱؎ اسلام ہی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ اعلان کرایا کہ لوگو! اگر تمہارے اوپر کوئی اونیٰ حبشی غلام بھی حکمران یعنی خلیفہ ہو جائے تو تم اس کی فرمانبرداری کرو‘ اسلام ہی نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اپنی زندگی کی آخری ساعتوں میں یہ کہلوایا کہ اگر آج ابو حذیفہ کا غلام سالم زندہ ہوتا تو میں اس کو اپنا جانشیں بنا دیتا۔ غرض یہ کہ اسلام نے خاندانی اور نسبی مفاخر کے بت کو پاش پاش اور ریزہ ریزہ کر دیا‘ یہ نہایت ہی عظیم اور گراں قدر خدمت تھی جو اسلام نے بنی نوع انسان کے لیے انجام دی‘ اور آج اسلام کو دنیا کے تمام مذاہب اور قوانین پر فخر حاصل ہے کہ کسی سے بھی خاندانی فخر و تکبر کا مہیب بت اپنی جگہ سے نہ ہلایا گیا‘ لیکن اسلام نے اس کو ریزہ ریزہ کر کے اس کا غبار ہوا میں اڑا دیا۔ کس قدر حیرت اور تعجب کا مقام ہے کہ آج بہت سے مسلمان جو اسلام اور آئین اسلام کی پابندی کا دعوی کرتے ہیں یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ اسلام نے حکم دیاتھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا حکم اور منشاء تھا کہ خلافت صرف قبائل قریش یا قبیلہ بنو ہاشم یا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اولاد علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ مخصوص و مختص رہے اور دوسرے قبیلے کا کوئی شخص کسی حالت میں بھی خلافت کا مستحق نہ ہو سکے‘ اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے خدائے تعالیٰ قرآن مجید میں اس کی صاف طور پر ہدایت فرماتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اس کے متعلق صاف صاف احکام صادر فرما جاتے‘ اگر یہ کہا جائے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے احکام نازل فرما دئیے تھے اور وہ احکام چالاکی سے غاصبان خلافت نے چھپا لیے تھے تو پھر خدائے تعالیٰ نعوذ باللہ جھوٹا ٹھہرتا ہے جس نے وعدہ فرمایا تھا کہ {اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ} (الحجر :۱۵/۹) اور نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی فرض تبلیغ کو ہرگز ہرگز پورے طور پر انجام نہیں دیا کہ حجۃ الوداع کے خطبہ میں بھی اپنے جانشیں اور خلافت کے بنو ہاشم میں مخصوص طور پر رہنے کی نسبت کچھ نہ فرمایا‘ حالانکہ اس خطبہ کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریباً سوا لاکھ آدمیوں کے مجمع میں اپنی تبلیغ کے مکمل کر دینے کا اعلان فرما دیا اور لوگوں سے اس کی تصدیق چاہی‘ پھر مرض الموت میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ذرا ذرا سی باتوں کے متعلق بھی جن کو ضروری سمجھا وصیت فرمائی‘ اگر کسی کا ایک درہم یا دینار آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر قرض تھا تو اس کو ادا فرمایا‘ لیکن خلافت کے متعلق اس عظیم الشان قرضہ خلافت کو ادا نہ فرمایا ! بات وہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم جانتے تھے کہ خلیفہ بنانے کا کام خدائے تعالیٰ کا ہے اور اس کام کے لیے اس نے نبی کو مطلق تکلیف نہیں دی‘ ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خدائے تعالیٰ سے علم پا کر اس بات کو ضرور معلوم کر لیا تھا کہ میرے بعد خدائے تعالیٰ کس کو خلیفہ بنانے والا ہے‘ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیماری میں سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو نمازوں کی امامت کے لیے اپنا قائم مقام بنایا اور وصیت میں مہاجرین کو فرمایا کہ تم انصار کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔ ۱؎ مہاجرین سے انصار کی اس طرح سفارش کرنا دلیل اس امر کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو علم ہو چکا تھا کہ میرے بعد خلافت انصار کو نہیں بلکہ مہاجرین کو ملنے والی ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ بھی فرمایا کہ الخلافۃ بعدی ثلاثون سنۃ ثم ملک بعد ذلک‘ ۲؎ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے خدائے تعالیٰ سے علم پا کر یہ بھی معلوم کیا الائمۃ من قریش (امام قریش میں سے ہوں گے) یہ سب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیش آئندہ واقعات کے متعلق پیش گوئیاں تھیں احکام نہ تھے‘ اب اگر کوئی شخص الخلافۃ بعدی ثلاثون سنۃ ثم ملک بعد ذلک (میرے بعد خلافت تیس سال رہے گی پھر سلطنت ہو جائے گی) کو حکم قرار دے تو ظاہر ہے کہ یہ ایک مغالطہ ہو گا جو وہ لوگوں کو دینا چاہتا ہے نہ کہ اصل حقیقت‘ بالکل یہی کیفیت الائمہ من قریش کی ہے‘ اس میں کیا شک و شبہ ہے کہ اس زمانہ میں قریش ہی کے اندر اعلیٰ قسم کا دماغ اور اعلیٰ درجہ کا علم و تقوی موجود تھا اور ان صفات حسنہ میں ان کو دوسروں پر فضیلت تھی اور خدائے تعالیٰ نے ان کو خلافت کے لیے منتخب فرمایا‘ پھر جب ان کی وہ حالت نہ رہی تو دوسرے لوگوں میں سے جو منصب خلافت کے متعلق بہترین معلوم ہوتے خدائے تعالیٰ نے ان کو خلافت و حکومت عطا فرمائی۔ بہرحال خلافت یا حکومت و سلطنت کسی خاندان کے لیے مخصوص نہیں ہے‘ یہ خدائے تعالیٰ کا ایک انعام ہے اور ہمیشہ ان لوگوں کو ملتا ہے جو اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کریں‘ جب وہ نااہل اور نالائق ہو جاتے ہیں تو خدائے تعالیٰ ان سے اس انعام کو چھین لیتا اور دوسروں کو عطا فرما دیتا ہے‘ اور یہی الٰہی انصاف سے ہم کو توقع ہونی چاہیے تھی۔